Economy

 کھادی اور دیہی صنعتیں: روایت سے کاروبار تک

Posted On: 13 OCT 2026 11:25AM

کسی زمانے میں گاؤں میں چلتا ہوا چرخہ قوم پرستی کی علامت ہوا کرتا تھا۔ آج یہی جذبہ دیہی کاروبار کے فروغ پاتے ہوئے نظام کے ذریعے ایک نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔ شہد، جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ مصنوعات، کیلے کے ریشے، کپڑے اور دیگر دیہی صنعتیں روایتی ہنرمندی کے لیے نئے امکانات پیدا کر رہی ہیں۔

خود انحصاری کا جذبہ آج بھی ’’ووکل فار لوکل‘‘ اور ’’آتم نربھر بھارت‘‘ کے تصور میں نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔ مالی وسائل، ٹیکنالوجی اور تربیت تک رسائی کے ذریعے روایتی ہنر اور مقامی وسائل کو نئی منڈیوں تک پہنچنے کے مواقع مل رہے ہیں۔

مقامی کاروبار اور صارفین کے درمیان یہ بڑھتا ہوا تعلق کھادی مہوتسو میں بھی نظر آتا ہے۔ کھادی مہوتسو ہر سال 2 اکتوبر سے 31 اکتوبر تک منایا جاتا ہے۔ اس مہم میں نوجوانوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، تاکہ ان میں کھادی اور ’’ووکل فار لوکل‘‘ کے تئیں بیداری پیدا کی جا سکے اور عوام کو کھادی اور مقامی مصنوعات خریدنے کی ترغیب دی جا سکے۔

اس تبدیلی میں کھادی اور دیہی صنعتوں کا کمیشن (کے وی آئی سی) مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ایک قانونی ادارہ ہے، جسے کھادی اور دیہی صنعتوں کے کمیشن کے قانون، 1956 کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت کمیشن کو دیہی صنعتوں کی منصوبہ بندی، فروغ، سہولت کاری، تنظیم اور معاونت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس کے دائرۂ کار میں تربیت، خام مال، مارکیٹنگ، تحقیق اور معیار میں بہتری سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔ یہ کمیشن ہنرمندی کے فروغ اور تحقیق میں بھی معاونت کرتا ہے، نیز کھادی اور دیہی صنعتوں سے متعلق تکنیکی معلومات اور سہولتیں فراہم کرتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261013111509_a19144.jpg

2025-26 میں کھادی اور دیہی صنعتوں کی مصنوعات کی فروخت بڑھ کر ریکارڈ 1.87 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جو مئی 2026 تک کی بلند ترین سطح ہے۔ 2013-14 کے مقابلے میں فروخت میں 501 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ پیداوار 380 فیصد بڑھ کر 1,25,296 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ اس شعبے میں روزگار کے مواقع میں بھی 56 فیصد اضافہ ہوا اور روزگار حاصل کرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 2.04 کروڑ ہو گئی۔ کاریگروں کو دی جانے والی اجرت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 2013-14 میں فی ہینک 4 روپے اجرت دی جاتی تھی، جو اب بڑھ کر 15 روپے فی ہینک ہو گئی ہے۔ اس طرح اجرت میں تقریباً 275 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔

ایک ہینک دھاگے کی لمبائی کے لحاظ سے 840 گز اور وزن کے لحاظ سے ایک پاؤنڈ کے برابر ہوتا ہے۔

دیہی کاروبار کو فروغ، ہر کاریگر کے ساتھ

ہنر سیکھنے سے لے کر منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے تک، مختلف اقدامات کے ذریعے کاریگروں اور دیہی صنعتوں کو مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

کھادی اور دیہی صنعتوں کے کمیشن (کے وی آئی سی) کے تحت 35 محکمانہ اور غیر محکمانہ تربیتی مراکز کا نیٹ ورک ہے۔ ان مراکز میں غذائی مصنوعات، بیکری، شہد کی مکھیوں کو پالنا، اگربتی سازی، موم بتیاں بنانے، موٹر کی مرمت اور دیگر کئی کاموں کی تربیت دی جاتی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران کے وی آئی سی کے مختلف تربیتی پروگراموں کے تحت 79,682 افراد نے تربیت حاصل کی۔

کھادی کے شعبے میں تقریباً پانچ لاکھ کاریگروں میں 80 فیصد سے زیادہ خواتین ہیں۔ 2025-26 میں کے وی آئی سی کے مختلف پروگراموں کے تحت 47,382 خواتین نے تربیت حاصل کی، جو تربیت حاصل کرنے والے تمام افراد کا تقریباً 59 فیصد ہے۔

تربیت کے ساتھ ساتھ اوزاروں کی کٹس اور آلات کی تقسیم، مارکیٹنگ میں معاونت اور دیگر اقدامات کے ذریعے بھی کاریگروں اور دیہی صنعتوں کو مدد فراہم کی جاتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261013111536_d85a61.pnghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image005_20261013111550_d0a683.png

مارچ 2008 سے وزیر اعظم کے روزگار پیدا کرنے کے پروگرام (پی ایم ای جی پی) کے ذریعے کھادی اور دیہی صنعتوں کے کمیشن (کے وی آئی سی) نے تقریباً 97.95 لاکھ لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کیے ہیں۔

اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے والوں میں جناب جتیندر بیتھا بھی شامل ہیں، جنہوں نے 2020 میں بہار میں بیکری مصنوعات تیار کرنے کی ایک یونٹ قائم کی۔ ان کے کاروبار کا سالانہ کاروبار 72 لاکھ روپے ہے اور اس وقت مقامی برادری کے 20 افراد کو روزگار حاصل ہے۔

 

اس معاونت میں کاروبار کے لیے مالی وسائل کے ساتھ پیداوار کے لیے درکار اوزار اور ٹیکنالوجی کی فراہمی بھی شامل ہے۔

گرام ادیوگ وکاس یوجنا کے تحت کاریگروں کو جدید مشینیں، اوزاروں کی کٹس اور آلات فراہم کرکے بااختیار بنایا جاتا ہے۔ 2025-26 کے دوران اس طرح کی 37,769 مشینیں، اوزاروں کی کٹس اور آلات تقسیم کیے گئے۔ اس اسکیم کے تحت کے وی آئی سی اب تک 3.23 لاکھ سے زیادہ مشینیں، اوزاروں کی کٹس اور آلات تقسیم کر چکا ہے (مئی 2026 تک)۔

ان کوششوں کے ساتھ ایسے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں، جو اس وسیع تر نظام کو مضبوط بناتے ہیں جس کے تحت کھادی کے ادارے اور کاریگر کام کرتے ہیں۔

کھادی وکاس یوجنا کے ذریعے کھادی کے اداروں کو مصنوعات بہتر بنانے، ان کی قدر میں اضافہ کرنے اور منڈی کی بدلتی ہوئی مانگ کے مطابق خود کو ڈھالنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے تحت ترمیم شدہ مارکیٹ ڈیولپمنٹ اسسٹنس کے ذریعے مصنوعات کی قدر میں اضافے اور منڈی کی ضروریات کے مطابق قیمتیں مقرر کرنے میں زیادہ لچک فراہم کی جاتی ہے۔ 2024-25 کے دوران 1,097 کھادی اداروں کو 245 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے، جس سے 1,45,484 کاریگروں کو فائدہ پہنچا۔

سستے قرض تک رسائی سے بھی معاونت میں اضافہ ہوتا ہے۔ سود رعایت کی اہلیت کے سرٹیفکیٹ اسکیم کے تحت اہل کھادی اداروں کو سالانہ 4 فیصد کی رعایتی شرح سود پر قرض حاصل کرنے کی سہولت دی جاتی ہے۔

کاریگروں کے لیے کام کرنے کی جگہ بھی اہمیت رکھتی ہے۔ ورک شیڈ اسکیم کے تحت پیداوار کے لیے بہتر جگہیں اور زیادہ سازگار ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ 2025-26 کے دوران دسمبر 2025 تک اس اسکیم کے تحت 1,309 کاریگروں کو فائدہ پہنچا۔

ان اقدامات سے کاریگروں کو کام کے بہتر حالات اور پیداوار کے لیے درکار وسائل تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

دیہی کاروبار سے وسیع تر منڈیوں تک

دیہی صنعتوں میں روایتی ہنر اور مقامی وسائل کو ٹیکنالوجی، تربیت اور منڈیوں سے روابط کی مدد سے نئے کاروباروں اور مصنوعات میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ تحقیق اور ترقی کی کوششوں سے پیداواری صلاحیت، معیار اور مسابقت کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

جناب ایس پی سنگھ نے پی ایم ای جی پی اسکیم کے تحت کھادی اور دیہی صنعتوں کے کمیشن کی معاونت سے شہد اور بسکٹ کے کاروبار کو فروغ دیا۔ پنجاب میں قائم ان کے کاروبار سے اب تقریباً 200 کارکنوں کو روزگار مل رہا ہے اور ان کی مصنوعات بین الاقوامی منڈیوں میں برآمد کی جاتی ہیں۔ شہد اور بسکٹ ان کی اہم مصنوعات میں شامل ہیں، جبکہ امریکہ ان کی برآمدات کی ایک بڑی منڈی ہے۔

2010 میں معاونت حاصل کرنے کے بعد اس کاروبار نے بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت کے ذریعے بتدریج اپنی برآمدات کو وسعت دی۔ کھادی اور دیہی صنعتوں کے کمیشن نے دبئی، امریکہ اور مشرق وسطیٰ میں منعقدہ نمائشوں میں شرکت کے لیے سہولت فراہم کی، جس سے اس کاروبار کو بیرون ملک خریداروں سے رابطہ قائم کرنے میں مدد ملی۔ آج یہ کاروبار 36 ممالک کو مصنوعات برآمد کرتا ہے اور یورپی منڈیوں میں شہد کی برآمدات بڑھانے کے لیے  پنجاب  کےراج پورہ میں دوسرایونٹ قائم کر رہا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image006_20261013111619_a0a877.png

جناب بی سندرراج کے لیے قدرتی خوشبو والے ایک پودے نے دیہی کاروبار کی بنیاد فراہم کی۔ وہ اپنی اگربتی یونٹ کے ذریعے اگربتیاں، جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ مصنوعات، ویٹیور اگربتی اور ویٹیور سمبرانی تیار کرتے ہیں۔ 2024-25 کے دوران گرام ادیوگ وکاس یوجنا (جی وی وائی) کے تحت ملنے والی معاونت سے انہوں نے اپنی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنایا اور مصنوعات کی اقسام میں اضافہ کیا۔ اس سے انہیں مقامی طور پر دستیاب وسائل سے زیادہ قدر والی مختلف مصنوعات تیار کرنے کا موقع ملا۔ ان کا کاروبار اس بات کی مثال ہے کہ کھادی اور دیہی صنعتوں کے کمیشن کی معاونت سے روایتی علم اور مقامی وسائل کو دیہی صنعتوں کی ایسی مصنوعات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جنہیں منڈی میں فروخت کیا جا سکے۔

ہماچل پردیش کے ضلع سولن کے گاؤں جٹی مجرا میں جناب ساحل چودھری مونو کارٹن تیار کرنے کی ایک یونٹ چلاتے ہیں۔ یہ کاروبار علاقے میں تعمیرات اور پیکنگ کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ 25 لاکھ روپے کی منصوبہ جاتی لاگت سے قائم یہ اکائی کھادی اور دیہی صنعتوں کے کمیشن کی معاونت سے چلنے والی پی ایم ای جی پی اسکیم کے تحت کام کرتی ہے۔

اس کاروبار کا سالانہ کاروبار اب تقریباً 45 لاکھ روپے ہے اور اس سے 23 افراد کو روزگار ملتا ہے۔ مالی معاونت سے چودھری کے کاروباری خیال کو ایک فعال پیداواری اکائی میں تبدیل کرنے میں مدد ملی۔ ان کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ مقامی سطح پر کاروبار کس طرح خود انحصاری، روزگار اور آتم نربھر بھارت کے وسیع تر تصور کو آگے بڑھانے میں تعاون کر سکتا ہے۔

دیہی کاروبار کے لیے نئی منڈیوں کے دروازے کھولنا

کھادی اور دیہی صنعتوں کے کمیشن نے صارفین تک رسائی کے لیے ڈیجیٹل اور روایتی ذرائع کو وسعت دی ہے۔ اس کا آن لائن کھادی انڈیا اسٹور (www\.khadiindia.gov.in) موجود ہے، جہاں کپڑوں اور ملبوسات، راشن، خوب صورتی سے متعلق مصنوعات، ضروری تیل، عطر اور اگربتیوں سمیت مختلف مصنوعات دستیاب ہیں۔

کھادی انڈیا برانڈ کی تشہیر اور مارکیٹنگ کے لیے مخصوص اقدامات کے ذریعے فروغ دیا جاتا ہے۔ ان کوششوں سے روایتی مصنوعات کو آج کے صارفین سے جوڑنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کا مارکیٹنگ نیٹ ورک ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ اس میں کھادی انڈیا کے 8 محکمانہ فروخت مراکز اور کھادی و دیہی صنعتوں کے کمیشن کی 15 شاخیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کھادی کے ادارے ملک بھر میں مزید 8,035 فروخت مراکز چلاتے ہیں۔

قومی، زونل، ریاستی اور ضلع سطح پر منعقد ہونے والی نمائشیں بھی منڈیوں تک رسائی کے اضافی مواقع فراہم کرتی ہیں۔ کھادی اور دیہی صنعتوں کا کمیشن ملکی اور بین الاقوامی تجارتی میلوں میں شرکت کو بھی فروغ دیتا ہے۔

کھادی: ایک عالمی داستان رقم کرتے ہوئے

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image007_20261013111640_672db5.png

کھادی فیشن کی دنیا میں نئے انداز میں اپنی پہچان بنا رہی ہے۔ اس کی منفرد دستکاری کو نیوزی لینڈ فیشن ویک 2026 اور لکمی فیشن ویک 2025 جیسے پلیٹ فارموں پر پیش کیا گیا۔ ان تقریبات میں روایتی دستکاری کی تکنیکوں کو جدید ڈیزائنوں کے ساتھ یکجا کرکے کھادی کو ایک منفرد اور عصری شناخت دی گئی۔.

From Heritage to Opportunity

ورثے سے مواقع تک

کھادی اور دیہی صنعتوں کی ترقی پیداوار اور فروخت میں اضافے، روزگار کے بڑھتے ہوئے مواقع، کاریگروں کی اجرت میں اضافے اور دیہی علاقوں میں نئے کاروباروں کے قیام سے ظاہر ہوتی ہے۔ روایتی ہنر جب ٹیکنالوجی، مالی وسائل اور منڈیوں سے جڑتے ہیں تو یہ شعبہ پورے ہندوستان کے دیہی علاقوں میں کاروبار کے نئے امکانات پیدا کرتا رہتا ہے۔

References

Ministry of Micro, Small and Medium Enterprise

https://www.msme.gov.in/static/uploads/2026/05/1bfda06b460e72543530b40817573495.pdf?_gl=1*ijpb14*_ga*ODgwMjkyOTQyLjE3ODI2NTg1OTM.*_ga_4858QHF08F*czE3ODI5NzE5MzUkbzIkZzEkdDE3ODI5NzIzNzgkajUzJGwwJGgw

https://www.kvic.gov.in/kvicres/aboutkvic.php

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2265369&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2307332&reg=3&lang=1

https://x.com/kvicindia/

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2224092&reg=3&lang=1

Others

https://www.coek.in/events

https://innovateindia.mygov.in/khadi-mahotsav/

https://www.facebook.com/kvicindia/posts/from-a-young-entrepreneur-in-himachal-pradesh-to-a-thriving-business-ownersahil-/1519536520217135/

https://www.youtube.com/watch?v=QzwX93saslI

Click here for pdf file.

 

***

ش ح۔ع ح۔ ف ر

U-5071 

(Features ID: 160441) आगंतुक पटल : 15
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Tamil , English , हिन्दी , Bengali , Telugu