Infrastructure
روشنی کے میناروں سے نمایاں شناخت تک:
ہندوستان کے لائٹ ہاوسز کی بدلتی داستان
Posted On:
10 OCT 2026 3:17PM
نسلوں تک ہندوستان کے روشنی کے مینار ایسی جگہیں رہے ہیں جنہیں لوگ دور سے دیکھا کرتے تھے۔ سمندر کے کنارے قائم یہ مینار ساحل کے خطرناک حصوں کی نشاندہی کرتے اور اندھیرے میں جہازوں کو راستہ دکھاتے تھے۔ ان کی روشنیاں ملاحوں کے لیے تھیں، جبکہ ان کے بلند و بالا ڈھانچے ساحلی منظرنامے کا حصہ تھے۔
تقریباً11,000 کلومیٹر سے زیادہ طویل ساحلی پٹی اور 205روشنی کے میناروں کے ساتھ ہندوستان اب سمندری سفر کے ان تاریخی نگہبانوں کو ایک نئی شکل دے رہا ہے۔ آج روشنی کا مینار محض دور سے نظر آنے والی ایک نمایاں علامت نہیں رہا۔ اس کا بنیادی مقصد اب بھی وہی ہے، یعنی ہندوستان کے ساحل کے ساتھ جہازوں کی محفوظ آمد و رفت میں مدد کرنا۔ تاہم، اس دیرینہ ذمہ داری کے ساتھ ایک نیا باب بھی رقم ہو رہا ہے۔ روشنی کے میناروں کے مراکز کو جدید بنایا جا رہا ہے اور عوام کے لیے کھولا جا رہا ہے۔ ان سے وابستہ سمندری تاریخ کو عجائب گھروں میں جگہ دی جا رہی ہے، جبکہ ان کے آس پاس کے علاقوں کو راستوں، باغات، کھلے اسٹیجوں اور دیگر سہولتوں سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔ جدید نظاموں کے ذریعے اس بنیادی ڈھانچے کو بھی مضبوط بنایا جا رہا ہے جو ان میناروں کی روشنیوں کو مسلسل اور قابل اعتماد طریقے سے روشن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
روشنی کے میناروں کی سیاحت کے لیے آنے والوں کی تعداد 2014 میں تقریباً 4 لاکھ تھی جو 2024–25 میں بڑھ کر 18.63 لاکھ ہو گئی۔ ملک بھر میں 75 روشنی کے میناروں کو ان کی تاریخی اور تعمیراتی اہمیت محفوظ رکھنے کے لیے سیاحتی مقامات کے طور پر ترقی دی گئی ہے۔ ان میں گجرات کے منڈوی اور دوارکا کے روشنی کے مینار، کرناٹک کا تدری روشنی کا مینار، تمل ناڈو کا پامبن روشنی کا مینار اور کیرالہ کا وزینجم روشنی کا مینار شامل ہیں۔ روشنی کے میناروں اور بحری روشنیوں کے ڈائریکٹوریٹ جنرل(ڈی جی ایل ایل ) کے تحت آن لائن ٹکٹوں کا ایک پورٹل بھی شروع کیا گیا ہے، جس سے سیاحوں کے لیے ٹکٹ حاصل کرنے کی سہولت ایک مشترکہ برقی پلیٹ فارم پر فراہم کی گئی ہے۔ روشنی کے میناروں کی سیاحت میں بڑھتی ہوئی دلچسپی ہندوستان کے سمندری ورثے کو اجاگر کرنے کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔ ان پیش رفتوں سے قریبی ہوٹلوں، ریستورانوں، سیاحتی دوروں کا انتظام کرنے والوں، نقل و حمل کی خدمات فراہم کرنے والوں، مقامی دکان داروں اور دست کاروں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔

روشنی کا مینار آج بھی راستہ دکھا رہا ہے
دور سے دیکھنے پر روشنی کا مینار شاید پہلے جیسا ہی نظر آئے، لیکن اس کی مانوس روشنی کے پیچھے کام کرنے والی ٹیکنالوجی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ ماضی میں جہاں ان میناروں میں آگ اور تیل کا استعمال ہوتا تھا، وہیں اب انہیں شمسی توانائی سے روشن کیا جاتا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ ملک کے تمام روشنی کے مینار شمسی توانائی سے چلتے ہیں، یوں قابل تجدید توانائی اس بنیادی ڈھانچے کا حصہ بن گئی ہے جو جہازوں کو راستہ دکھانے والی ان روشنیوں کو مسلسل روشن رکھتا ہے۔
اس تبدیلی کا اندازہ مختلف روشنی کے میناروں کی مثالوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ گجرات کے سمیانی جزیرے میں تیل سے جلنے والے چراغ کی جگہ شمسی توانائی سے چلنے والی برقی چمکتی روشنی نے لے لی ہے، جس کے بعد 2016میں وہاں ایل ای ڈی چراغ نصب کیا گیا۔ اسی طرح، جوڑیا میں شمسی توانائی سے چلنے والی چمکتی روشنی لگائی گئی، جسے بعد میں 2021میں زیادہ شدت والے ایل ای ڈی چراغ سے بدل دیا گیا۔ روشنی کے مینار اب ہندوستان کے وسیع تر سمندری معلوماتی نظام کا حصہ بن چکے ہیں۔ ساحلی علاقوں میں واقع روشنی کے میناروں پر خودکار شناختی نظام (اے آئی ایس) کے 87 ساحلی مراکز نصب کیے گئے ہیں۔ اس سے یہ یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے کہ ان میناروں کی روشنیاں قابل اعتماد رہیں، ضرورت کے مطابق کام کریں اور جہازوں کو محفوظ راستہ دکھانے کے لیے ہر وقت تیار ہوں۔ اے آئی ایس جہازوں اور ساحلی مراکز کے درمیان معلومات کی ترسیل کا ایک نظام ہے، جو سمندر میں زندگی کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی کنونشن (سولاس) کے مطابق کام کرتا ہے۔ یہ صورت حال سے آگاہی بڑھانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، جس سے جہاز رانی کی حفاظت اور بحری آمد و رفت کے انتظام کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
روشنی کے میناروں کے عجائب گھر: سمندری تاریخ کو قریب سے جاننے کا موقع
جہاں جدید ٹیکنالوجی روشنی کے میناروں کے عملی کردار کو مضبوط بنا رہی ہے، وہیں ان سے وابستہ تاریخی داستانوں کو بھی الگ مقام دیا جا رہا ہے۔ ہندوستان میں چنئی، مَہابلی پورم، الپّوزھا، کنّور، مُٹّم، دوارکا اور گوپ ناتھ میں روشنی کے میناروں کے لیے مخصوص عجائب گھر قائم کیے گئے ہیں۔

مہابلی پورم، جسے ماملاپورم بھی کہا جاتا ہے، ایک خاص تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کی تاریخ تمل ناڈو کے ساحل پر صدیوں سے جاری سمندری سرگرمیوں سے جڑی ہوئی ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں پلّوَ خاندان نے اسے جنوب مشرقی ایشیا اور بحیرۂ روم کے ممالک کے ساتھ سمندری تجارت کے لیے ایک اہم بندرگاہ کے طور پر فروغ دیا ۔ ماضی میں ساحل کے قریب آنے والے جہازوں کو راستہ دکھانے کے لیے لکڑیوں کی آگ جلائی جاتی تھی۔ یہاں پہلا باقاعدہ روشنی کا مینار 1887میں اولاّکَنیشور مندر کی چھت پر ق نصب کیا گیا، جہاں چوتھے درجے کے نوری عدسے اور چراغ کے اندر بتی والا چراغ نصب کیا گیا تھا۔ 2004 میں مرکزی روشنی اور ہنگامی روشنی کے نظام کو تبدیل کرکے 150 واٹ اور 230 وولٹ کے تین دھاتی ہیلائیڈ چراغوں کا مجموعہ نصب کیا گیا۔
موجودہ روشنی کا مینار پتھروں کی چنائی سے تعمیر کردہ 26 میٹر بلند گول برج ہے۔ اس کی عمارت بھی اس تاریخی ورثے کے ساتھ مسلسل ترقی کرتی رہی ہے جسے یہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ 2020 میں اس کی مرکزی روشنی کو جدید بنا کر 236 واٹ کی ایل ای ڈی روشنیوں کے مجموعے سے لیس کیا گیا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا نظام تھا۔ اس طرح یہاں زندہ تاریخی ورثے اور جدید ٹیکنالوجی کا امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس مینار کے عجائب گھر میں دلچسپ نمائشوں اور نایاب تاریخی اشیا کے ذریعے روشنی کے میناروں کی تاریخ پیش کی گئی ہے۔ یہاں قائم قومی ورثہ اور سمندری عجائب گھر اس مقام کی تاریخ کو سیاحوں کے تجربے کا حصہ بناتا ہے۔ عجائب گھروں کے ذریعے تاریخی ورثے کو اجاگر کرنے کا یہی تصور بڑے منصوبوں میں بھی اپنایا جا رہا ہے۔
گجرات کے لوتھل میں قومی سمندری ورثہ کمپلیکس (این ایم ایچ سی) کے تحت 77 میٹر بلند روشنی کے مینار کا عجائب گھر قائم کیا جائے گا۔ منصوبے کے مطابق یہ دنیا کا سب سے بلند روشنی کے مینار کا عجائب گھر اور دنیا کے سب سے بڑے سمندری عجائب گھروں میں سے ایک ہوگا۔ اس پر 266.11 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔ قومی سمندری ورثہ کمپلیکس ملک کے اہم ترین ثقافتی اور سمندری منصوبوں میں سے ایک ہے۔ اس کا مقصد پانچ ہزار سال سے زیادہ عرصے پر محیط ہندوستان کے سمندری ورثے کو پھر سے زندہ کرنا اور اسے نمایاں طور پر پیش کرنا ہے۔ اس کمپلیکس میں 5ڈی گنبد تھیٹر، ساحلی ریاستوں کا پویلین، میوزیوٹل، ایک ماحول دوست تفریحی مقام اور ہندوستانی بحری یونیورسٹی(آئی ایم یو)کے اشتراک سے قائم کیا جانے والا سمندری تحقیقاتی ادارہ (ایم آر آئی) بھی شامل ہوگا۔
روشنی کے مینار کا یہ عجائب گھر پورے کمپلیکس کے دلکش اور دور تک پھیلے ہوئے نظارے پیش کرکے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرے گا۔ اس کا نقشہ مہابلی پورم کے روشنی کے مینار سے متاثر ہوکر تیار کیا گیا ہے، جو ہندوستان کے قدیم ترین روشنی کے میناروں میں سے ایک ہے۔ عجائب گھر میں پتھر کا وسیع پیمانے پر استعمال کرتے ہوئے اس کی منفرد تعمیراتی شناخت برقرار رکھی جائے گی۔ احتیاط سے تیار کردہ مجازی حقیقت(وی آر)کے تجربات کے ذریعے سیاحوں کو ہندوستان کی وسیع ساحلی پٹی پر قائم روشنی کے میناروں کی تاریخ کی جھلکیاں دکھائی جائیں گی۔ جدید ترین صوتی و نوری شو میں نقشہ بندی کی ٹیکنالوجی کے ذریعے روشنی کے مینار کو روشن کیا جائے گا۔
لوتھل خود ملک کے اہم ترین آثار قدیمہ کے مقامات میں سے ایک ہے، جس کا تعلق قدیم سمندری تجارت سے ہے۔ اس نوعیت کا عجائب گھر سمندری سفر کی قدیم روایات کو جہازوں کی رہنمائی کے جدید ذرائع کی ترقی سے جوڑتا ہے۔ ہندوستان کے مشرقی ساحل پر بھی اس سلسلے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ وشاکھاپٹنم میں پرانے روشنی کے مینار کے علاقے میں ایک نیا عجائب گھر قائم کرنے کا منصوبہ ہے، جس کے لیے 3,156 مربع میٹر زمین مختص کی گئی ہے۔
جب روشنی کا مینار جشن کا مرکز بن جائے
اس تبدیلی کے نتیجے میں ایک ایسی سرگرمی بھی سامنے آئی ہے جو عام طور پر کسی روایتی ترقیاتی منصوبے کا حصہ نہیں ہوتی، یعنی خود روشنی کے مینار کے گرد ایک میلے کا انعقاد۔ اس میلے کا پہلا ایڈیشن 2023میں گوا کے قلعہ آگوڈا میں منعقد ہوا۔ دوسرا ایڈیشن 2024 میں اڈیشہ کے پوری شہر منتقل ہوا، جبکہ تیسرا ایڈیشن 2026 میں وشاکھاپٹنم میں منعقد کیا گیا۔ ان میلوں میں روشنی کے میناروں کو ایک وسیع ثقافتی تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔ ہندوستان کے پہلے روشنی کے مینار میلے میں ثقافتی نمائشوں، سمندری تاریخ پر نشستوں، کلاسیکی فنون کی پیش کشوں، معروف گلوکاروں کی موسیقی کی محفلوں اور ساحلی علاقوں کے روایتی کھانوں کے ذریعے سمندری ورثے کو زندہ کیا گیا۔


گوا میں ’دی انڈین لائٹ ہاؤس فیسٹول‘
میلے کے دوسرے ایڈیشن میں عوامی شرکت کے تصور پر خاص زور دیا گیا۔ پوری میں منعقدہ اس پروگرام میں روشنی کے میناروں کے ورثے کو ریت کے فن، کشتیوں پر نقش و نگاری، یوگا اور لوک رقص و موسیقی کے ساتھ جوڑا گیا۔ اس تقریب میں اڈیشہ کے ان پانچ روشنی کے میناروں کو بھی نمایاں کیا گیا جنہیں سیاحتی مقامات کے طور پر ترقی دی گئی ہے۔ یہ گوپال پور، پوری، چندر بھاگا، پارادیپ اور فالس پوائنٹ ہیں۔ حکومت نے روشنی کے میناروں کے مقامات کے تحفظ، نگہداشت اور فروغ کے لیے ساحلی برادریوں کو شامل کرنے کے منصوبوں کا اعلان بھی کیا۔
وشاکھاپٹنم میں منعقدہ ہندوستانی روشنی کے مینار میلہ کے تیسرے ایڈیشن (3.0) کے دوران روشنی کا مینار ساحلی شناخت کے ایک اور وسیع جشن کا مرکز بن گیا تھا۔ مقامی دست کاری، ساحلی کھانوں اور رات کے وقت روشنیوں کے اہتمام نے پروگرام کو رنگا رنگ بنا دیا، جبکہ خاندانوں، نوجوانوں، فن کاروں، کاروباری افراد، طلبا اور سیاحوں نے اپنی شرکت سے تقریبات کو رونق بخشی۔ ان کی پُرجوش شرکت نے اس جشن کو مزید دل چسپ، سب کو ساتھ لے کر چلنے والا اور روشنی کے مینار کے آس پاس آباد برادریوں سے گہرا تعلق رکھنے والا بنا دیا۔
گوا کے آگوڈا میں اس نئے تصور کو ایک منفرد جدید شکل دی گئی ہے۔ یہاں تاریخی روشنی کے مینار پر روشنی اور آواز کے ساتھ نقشہ بندی پر مبنی ایک شو شروع کیا گیا ہے، جس میں خود مینار کی عمارت کو پردے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اس تاریخی مقام کے گرد ایک نئی داستان پیش کی جاتی ہے۔

آگوڈا لائٹ ہاؤس
روشنی کے میناروں کے لئے ایک نئی راہ
یہ تصور اب ہندوستان کے ساحلی علاقوں میں قائم روشنی کے میناروں تک محدود نہیں رہا۔ اب اسے نئے مقامات تک وسعت دی جا رہی ہے، جبکہ موجودہ روشنی کے میناروں کو بھی عوامی زندگی میں زیادہ اہم کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ مزید 25 روشنی کے میناروں کو سیاحتی مقامات کے طور پر ترقی دینے کی تجویز ہے، جس سے سیاحوں کے لئے پہلے ہی کھولے جا چکے 75مقامات کے دائرے میں مزید اضافہ ہوگا۔ دریائے برہم پتر کے کنارے پانڈو، بوگی بیل، سل گھاٹ اور بسوناتھ گھاٹ میں چار روشنی کے مینار قائم کیے جا رہے ہیں۔ یہ اندرون ملک آبی گزرگاہ پر ہندوستان کا پہلا روشنی کے میناروں کا بنیادی ڈھانچہ ہوگا، جس پر مجموعی طور پر تقریباً 84 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ ہر مینار 20 میٹر بلند ہوگا۔ شمسی توانائی اور موسم کی نگرانی کرنے والے حسّاس آلات سے جہازوں کی رہنمائی کے اس بنیادی ڈھانچے میں جدید سہولتیں شامل ہوں گی۔
تاہم، ان روشنی کے میناروں کو محض جہازوں کی رہنمائی کے لیے نہیں بنایا جا رہا ہے۔ ہر مقام پر ایک عجائب گھر، کھلا تھیٹر، کھانے پینے کی جگہ، بچوں کے کھیلنے کا علاقہ، یادگاری اشیا کی دکان اور خوب صورتی سے آراستہ عوامی مقامات بھی ہوں گے۔ اس کے پیچھے تصور سادہ مگر اہم ہے: روشنی کا مینار اب صرف ایسی علامت نہیں رہے گا جو دور سے جہازوں کو راستہ دکھائے، بلکہ یہ ایک ایسی جگہ بھی بن سکتا ہے جو لوگوں کو پانی، اس کی تاریخ اور اس سے وابستہ بدلتے امکانات کے قریب لائے۔ نسلوں سے ساحلی علاقوں میں قائم بلند میناروں سے لے کر دریائے برہم پتر کے کنارے ابھرنے والی نئی روشنیوں تک، ہندوستان کے روشنی کے میناروں کی داستان اب نئے اور ان دیکھے راستوں پر آگے بڑھ رہی ہے۔ ان کی روشنی بدستور اپنا مقصد پورا کرتی رہے گی، جبکہ خود روشنی کا مینار بھی ایک سیاحتی مقام کی حیثیت اختیار کرلے گا۔
حوالہ جات
Ministry of Ports, Shipping and Waterways
https://dgll.nic.in/DGLL-light-house-location/about-chennai/mahabalipuram-lighthouse
https://dgll.nic.in/about-DGLL/Service-reminders/nais
https://www.dgll.nic.in/DGLL-light-house-location/about-vts-gandhi-dham/samiyani-island-lighthouse-station
https://nmhc.in/about-us/
https://www.dgll.nic.in/DGLL-light-house-location/about-vts-gandhi-dham/jodiya-lighthouse
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2066548®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2297603®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2213361&lang=1®=3
https://x.com/shipmin_india/status/2009198735956566313
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2063453&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2200943&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2235574®=3&lang=1
Ministry of Culture
https://culture.gov.in/photo-gallery/mamallapuram-lighthouse
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے کلک کریں
PIB Research
*****
ش ح-ظ الف- ش ب ن
UR No. 5000
(Features ID: 160422)
आगंतुक पटल : 11
Provide suggestions / comments