Rural Prosperity
پھینکی گئی چیزوں میں مقصد تلاش کرنا
باورچی خانے کے بچے کھچے مواد سے شہری جگہوں تک، کچرے کے بارے میں ازسرِنو غور کرنا
Posted On:
01 OCT 2026 1:43PM
سال2014 میں شروع کیا گیا سووچھ بھارت مشن (ایس بی ایم) اب صفائی ستھرائی، کچرے کے انتظام اور رویوں میں تبدیلی کے لیے ایک وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس مشن کے تحت 2017 میں ’سووچھتا ہی سیوا‘ (ایس ایچ ایس) کا آغاز سالانہ مہم کے طور پر کیا گیا، جس کے ذریعے صفائی ستھرائی کی اجتماعی سرگرمیوں میں شہریوں کی وسیع تر شمولیت کو فروغ دیا گیا۔ اس مہم کے دائرۂ کار میں پلاسٹک کے کچرے کا انتظام، ظاہری صفائی ستھرائی اور کچرے سے پاک عوامی مقامات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
اسی کے ساتھ ’ویسٹ ٹو ویلتھ‘ یعنی کچرے سے دولت کا تصور بھی پورے بھارت میں کچرے کو دیکھنے اور اس کے انتظام کے طریقۂ کار کو تبدیل کر رہا ہے۔ اس تصور کے تحت پھینک دی جانے والی اشیا کو ایک ایسے وسیلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جسے دوبارہ حاصل کیا جاسکتا ہے، دوبارہ استعمال کیا جاسکتا ہے اور اسے قدر و افادیت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ حکومت نے اس طریقۂ کار کو سرکلر اکانومی، وسائل کے مؤثر استعمال اور پائیدار کچرا انتظام سے جوڑا ہے۔ سووچھ بھارت مشن-اربن 2.0 کے تحت شہروں کو کچرے کو اس کے منبع پر الگ کرنے، کچرے کی پروسیسنگ اور اس سے دوبارہ قدر و افادیت حاصل کرنے کے نظام کو مضبوط بنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ یہ تبدیلی صرف بڑے کچرا پروسیسنگ پلانٹس تک محدود نہیں ہے، بلکہ گھروں، برادریوں اور مقامی اداروں میں بھی اس کے اثرات نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
کمپوسٹ بن نے تبدیلی کو گھر کی دہلیز تک پہنچایا


بہت سے بھارتی گھرانوں کے لیے باورچی خانے کے کچرے کو کھاد میں تبدیل کرنا کوئی نیا تصور نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جو آج کے کچرا انتظام کے نظام میں ایک بار پھر اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ آندھرا پردیش کے وجے واڑہ میں بزرگ شہری محترمہ کے. سبالکشمی نے دکھایا ہے کہ اس روایتی عادت کو گھر پر کس طرح اپنایا جاسکتا ہے۔ میونسپل کارپوریشن نے حال ہی میں ان کے تجربے کو عام کیا تاکہ مزید شہریوں کو گھر پر کچرے سے کھاد بنانے کے لیے ترغیب دی جاسکے۔ ان کے باورچی خانے سے پیدا ہونے والے گیلے کچرے کو کھاد میں تبدیل کرکے باغ میں استعمال کیا جاتا ہے، جس سے وہ چیز دوبارہ مٹی میں پہنچ جاتی ہے جسے بصورت دیگر پھینک دیا جاتا۔
اسی طرح کی ایک کوشش کووڈ-19 وبا کے دوران چندی گڑھ میں شروع ہوئی۔ وہاں کی رہائشی محترمہ کمل جیت کور دیول نے گھر میں باورچی خانے کے گیلے کچرے سے کھاد بنانا شروع کیا۔ گھر سے شروع ہونے والی یہ سرگرمی بتدریج بیداری پیدا کرنے کی مہم میں تبدیل ہوگئی، جس کے ذریعے دوسروں کو بھی گھر پر کچرے سے کھاد بنانے کے لیے ترغیب دی گئی۔ ان کی کوششوں سے شہریوں کو ایک صاف ستھرے اور سرسبز شہر کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب ملی ہے۔

جب انفرادی کوششوں سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس جانب راغب کیا جانے لگا تو اس تصور نے منظم اجتماعی تعلیم و تربیت میں بھی جگہ بنالی۔ تلنگانہ کے سدی پیٹ میں کچرا انتظام کے لیے وقف سیکھنے کا مرکز ’سووچھ باڑی‘ نوجوانوں کو گھر پر کھاد بنانے سے لے کر برادری کی سطح پر کھاد تیار کرنے تک، کچرے کے مؤثر انتظام کے عملی طریقوں سے براہِ راست واقفیت فراہم کر رہا ہے۔ اسی طریقۂ کار کو آگے بڑھاتے ہوئے 141 میونسپل علاقوں میں ایسے ہی مراکز قائم کرنے کا منصوبہ ہے، تاکہ ذمہ دارانہ کچرا انتظام کے بارے میں بیداری اور عملی تربیت لوگوں کی برادریوں کے مزید قریب پہنچائی جاسکے۔
اس طرح ایک چھوٹے سے کمپوسٹ بن سے شروع ہونے والی کوشش وسیع تر اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ اس سے پودوں کو نئی زندگی ملتی ہے اور ساتھ ہی گیلے کچرے کی روزمرہ پیدا ہونے والی مقدار کو لینڈ فل تک پہنچنے سے روکا جاسکتا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کچرے کا انتظام اسی جگہ سے شروع کیا جاسکتا ہے جہاں کچرا پیدا ہوتا ہے۔
جب ایک خودرو گھاس موقع میں بدل جائے

گھریلو کچرے سے آگے بڑھتے ہوئے، برادریاں اب ایسے مواد کے بھی نئے استعمال تلاش کر رہی ہیں جن کا انتظام طویل عرصے سے مشکل رہا ہے۔ آسام کے موری گاؤں ضلع کے بورچیلا گاؤں میں اسی طریقۂ کار کو ایک ایسے پودے کے لیے اپنایا جا رہا ہے جو آبی ذخائر کے آس پاس رہنے والی برادریوں کے لیے مسلسل ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ واٹر ہائسنتھ، جسے مقامی طور پر ’پانی میٹیکا‘ کہا جاتا ہے، ایک تیزی سے پھیلنے والا آبی پودا ہے جو آبی ذخائر کی سطح پر بہت تیزی سے پھیل جاتا ہے۔ اگرچہ یہ پودا دیکھنے میں خوب صورت لگتا ہے، لیکن اب یہ ایک نقصان دہ خودرو گھاس بن چکا ہے جو دریاؤں، تالابوں اور جھیلوں جیسے میٹھے پانی کے ذخائر میں بڑی تعداد میں پھیل جاتا ہے۔ اس کی بے تحاشا افزائش سے ماہی گیری، آمدورفت اور تفریح جیسی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور یہ آبی ذخائر کم کارآمد رہ جاتے ہیں۔
تاہم، بورچیلا گاؤں کی خواتین نے واٹر ہائسنتھ کو ایک موقع میں تبدیل کرنے کا نیا طریقہ تلاش کیا ہے۔ آبی ذخائر میں اسے محض ایک غیر ضروری پودے کے طور پر دیکھنے کے بجائے، انہوں نے اسے دستکاری کی اشیا میں تبدیل کرنا شروع کردیا ہے۔ آسام اسٹیٹ رورل لائیولی ہُڈس مشن کے تعاون سے شروع کیے گئے اس اقدام نے حصہ لینے والی خواتین کے لیے آمدنی کا ایک اضافی ذریعہ پیدا کیا ہے۔ اس کام کے ذریعے ہر خاتون ماہانہ کم از کم 10,000 روپے کما رہی ہے۔ اس طرح جو چیز کبھی آبی ذخائر کے لیے ایک مسئلہ سمجھی جاتی تھی، وہ اب روزگار اور کاروبار کے لیے ایک وسیلے میں تبدیل ہو رہی ہے۔ یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ وسائل کی بازیابی کا دائرہ صرف کچرے کے انتظام تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ذریعے قدر پیدا کرنے اور روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ ایسے اقدامات ان مواد کو مفید مصنوعات میں تبدیل کرکے جو بصورت دیگر بوجھ بنے رہتے، مقامی کاروبار کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ وسائل کے زیادہ پائیدار استعمال میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔
ناریل کے کچرے کو نیا بازار مل گیا
دیہی روزگار کے ایک ذریعے میں تبدیل ہونے والے ایک نقصان دہ آبی پودے کے بعد اب توجہ ایسے ایک اور مواد کی جانب مرکوز ہوتی ہے جو شہری کچرے کے بوجھ میں اضافہ کر رہا ہے۔ پٹنہ میں ناریل کے چھلکوں، ریشوں اور دیگر باقیات کو دوبارہ حاصل کرکے کارآمد مصنوعات تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ شہر میں روزانہ تقریباً 25 سے 30 میٹرک ٹن ناریل کے چھلکے پیدا ہوتے ہیں، جو پہلے لینڈ فل سائٹس تک پہنچنے والے کچرے کی مقدار میں اضافہ کرتے تھے۔ اس کچرے کے انتظام کے لیے پٹنہ میونسپل کارپوریشن نے داناپور علاقے میں ایک پروسیسنگ مرکز قائم کیا ہے، جہاں پھینک دی جانے والی ناریل کی باقیات کو مفید وسائل میں تبدیل کرنے کا راستہ ہموار کیا جا رہا ہے۔

پٹنہ میں ناریل کے کچرے کی پروسیسنگ کا پلانٹ
یہ قدم سووچھ بھارت مشن کے تحت فروغ دیے جانے والے کچرا انتظام کے منظم طریقۂ کار کی عکاسی کرتا ہے، جس میں کچرے کو محض ٹھکانے لگانے والی چیز کے بجائے ایک وسیلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس مرکز میں ناریل کے کچرے سے مفید اجزا کو الگ کرکے ایسی مصنوعات میں تبدیل کیا جائے گا جنہیں زراعت، باغبانی اور دیگر تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ اس پلانٹ کی ابتدائی پروسیسنگ صلاحیت 10 ٹن یومیہ ہے۔ اسے متعدد شفٹوں میں چلانے اور اس کی صلاحیت بڑھا کر 30 ٹن یومیہ کرنے کا منصوبہ ہے۔

ناریل کے کچرے کے ریشوں سے تیار کردہ رسیاں
ناریل کے کچرے کے مختلف اجزا کو دوبارہ حاصل کرکے مفید مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ گیلے باقی ماندہ مواد کو اعلیٰ معیار کی نامیاتی کھاد میں تبدیل کیا جاتا ہے، جبکہ ناریل کے ریشوں سے کوئر کی رسیاں تیار کی جاتی ہیں، جنہیں تعمیرات، پیکیجنگ، چٹائیوں اور دستکاری کی اشیا میں استعمال کیا جاتا ہے۔ کوکوپیٹ بھی ایک قیمتی پیداوار ہے، جسے زراعت اور باغبانی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ نرسریوں اور چھتوں پر بنائے جانے والے باغات میں اسے پودے اگانے کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔
ان مواد کو دوبارہ حاصل کرکے پروسیس کرنے سے ٹھکانے لگانے کے لیے درکار ناریل کے کچرے کی مقدار کم ہوتی ہے اور کچرے سے تیار ہونے والی مصنوعات دوبارہ مفید استعمال میں لائی جاتی ہیں۔ یہ طریقۂ کار سرکلر اکانومی کے اصولوں کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر روزگار اور معاش کے مواقع بھی پیدا کرتا ہے۔
جب کچرا عوامی جگہ میں بدل جائے

’ویسٹ ٹو ویلتھ‘ یعنی کچرے سے دولت کا تصور اس بات کو بھی تبدیل کر رہا ہے کہ شہر پھینک دی جانے والی اشیا کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ کباڑ کو صرف کچرا سمجھنے کے بجائے، شہر اب اسے عوامی مقامات اور اجتماعی سہولتوں میں دوبارہ استعمال کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت ’ویسٹ ٹو ونڈر پارکس‘ قائم کیے جا رہے ہیں، جہاں پھینک دی جانے والی اشیا کو عوامی مقامات اور تفریحی مقامات کا حصہ بناکر انہیں ایک نیا مقصد دیا جاتا ہے۔ یہ طریقۂ کار سرکلر اکانومی کے اصولوں کی عکاسی کرتا ہے، جس میں اشیا کے استعمال کو جاری رکھنے کے لیے انہیں کم سے کم استعمال کرنے، دوبارہ استعمال کرنے، مرمت کرنے اور ری سائیکل کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
چنڈی گڑھ اس طریقۂ کار کی ابتدائی مثال پیش کرتا ہے۔ یہاں کا راک گارڈن صنعتی اور گھریلو کچرے سے تیار کیا گیا تھا، جو اس بات کی مثال ہے کہ پھینک دی جانے والی اشیا کو تخلیقی انداز میں دوبارہ عوامی جگہ کے طور پر کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔ شہر میں 1.75 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ’ویسٹ ٹو ونڈر پارک‘ بھی تیار کیا گیا ہے۔ اس پارک میں مختلف ڈھانچے لوہے کی چادروں، سلاخوں، پنکھوں اور گاڑیوں کے پرزوں جیسے پھینکے گئے مواد سے تیار کیے گئے ہیں۔

دہلی نے بھی اپنے ’ویسٹ ٹو ونڈر پارک‘ کے ذریعے اسی طریقۂ کار کو اپنایا ہے، جہاں لینڈ فل سائٹس سے حاصل کیے گئے صنعتی کچرے، کباڑ دھات اور پھینکے گئے گاڑیوں کے پرزوں کو دوبارہ استعمال کرکے مختلف نقلیں اور دیگر ڈھانچے تیار کیے گئے ہیں۔ تفریح اور شہری خوب صورتی میں اضافے کے علاوہ، ایسی جگہیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ پھینکے گئے مواد کو مفید اور عوامی استعمال کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ بھی بنایا جاسکتا ہے۔ شہری خوب صورتی میں اضافے کے ساتھ ساتھ، اس پارک میں صاف توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس میں سولر ٹریز اور چھتوں پر نصب شمسی پینل شامل ہیں، جن کی مجموعی صلاحیت 50 کلو واٹ ہے۔ اس سے پیدا ہونے والی بجلی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو فراہم کی جاسکتی ہے، جس سے آمدنی حاصل کرنے کا ایک اضافی ذریعہ پیدا ہوتا ہے اور ساتھ ہی کچرے اور قابل تجدید توانائی کے مفید استعمال کو بھی فروغ ملتا ہے۔
کچرے سے وسیلے تک
یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ پھینکے گئے مواد کو براہِ راست آخری مرحلے پر ٹھکانے لگانے کے بجائے دوبارہ حاصل کرکے، نئے مقصد کے لیے استعمال کرکے اور مفید کاموں میں دوبارہ شامل کیا جاسکتا ہے۔ جو مواد بصورت دیگر کچرے کے بوجھ میں اضافہ کرتے، انہیں عوامی مقامات، تخلیقی تفریحی مراکز اور بعض صورتوں میں اقتصادی قدر پیدا کرنے والے وسائل میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
ویسٹ ٹو ویلتھ کا تصور سوچ میں تبدیلی سے شروع ہوتا ہے؛ یعنی کچرے کو ایسی چیز سمجھنے کے بجائے جسے پھینک دینا ہے، اس کی صلاحیت کو ایک وسیلے کے طور پر تسلیم کرنا۔ مناسب طریقے سے کچرے کو الگ کرنے، قابلِ استعمال مواد کو دوبارہ حاصل کرنے اور اس کی پروسیسنگ کے ذریعے پھینکے گئے مواد کو مفید مصنوعات میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس سے صاف ستھری برادریوں، وسائل کے مؤثر استعمال اور سرکلر اکانومی کی جانب منتقلی کو فروغ ملتا ہے۔
حوالہ جات
وزارتِ ہاؤسنگ و شہری امور
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2067772&lang=2®=3
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2210020&lang=1®=6
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2075883&lang=2®=3
پی آئی بی بیک گراؤنڈر
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=160036&ModuleId=3®=48&lang=1
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں.docx
*****
(ش ح ۔ ض ر۔م ذ)
UR.No. 4438
(Features ID: 160280)
आगंतुक पटल : 10
Provide suggestions / comments