Infrastructure

مصنوعی ذہانت سے الیکٹرک گاڑیوں تک: ٹیکنالوجی سے شہری صفائی کا بدلتا منظرنامہ

Posted On: 01 OCT 2026 1:06PM

مورخہ؍2 اکتوبر 2014 کو سوچھ بھارت مشن کا آغاز ایک سادہ خیال’ اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف رکھنا،عوامی مقامات پر کچرا پھینکنے سے گریز کرنا اور صفائی کو مشترکہ ذمہ داری بنانا‘ کے ساتھ ہوا تھا ۔ جو مہم جھاڑو، کچرے کے ڈبوں اور شہریوں کی شراکت سے شروع ہوئی تھی، وہ جلد ہی ایک عوامی تحریک بن گئی۔ آج یہی تحریک ٹیکنالوجی کی نئی نسل کو اپنا رہی ہے۔شہری صفائی کا نظام اب ڈیجیٹل، سینسر سے لیس اور برقی  سے آراستہ ہوتاجا رہا ہے۔ ڈیجیٹل ڈیش بورڈز خدمات کی نگرانی کو آسان بنا رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹ ان جگہوں میں داخل ہو رہے ہیں جو کارکنوں کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ الیکٹرک گاڑیاں کچرا جمع کرنے کے لیے صاف ستھری آمدورفت کو فروغ دے رہی ہیں۔ جھاڑو سے روبوٹ تک، ٹیکنالوجی سوچھتا کو مزید جدید اور مؤثر بنا رہی ہے، جس سے صاف ستھرے شہر، محفوظ کام کی جگہیں اور زیادہ مؤثر خدمات یقینی بنانے میں مدد مل رہی ہے۔

رائے پور کی ڈیجیٹل پیش رفت: ڈیش بورڈ نے قطار کی جگہ لی

اس سے قبل رائے پور کے رہائشیوں کو سیپٹک ٹینک کی صفائی کی خدمات حاصل کرنے کے لیے میونسپل دفتر جانا پڑتا تھا۔ نئے ڈیجیٹل نظام کے ذریعے رہائشی اب آن لائن غلاظت(گاد) نکاسی کے خدمات کی درخواست دے سکتے ہیں، جس سے دفتر جا کر درخواست دینے کی ضرورت کم ہوگئی ہے اور انتظار کا وقت بھی کم ہوا ہے۔

رائے پور میونسپل کارپوریشن نے یوپی وائی او جی (اربن پلیٹ فارم فار ڈلیوری آف آن لائن گورننس) پلیٹ فارم پر مبنی فیکل سلج مینجمنٹ (ایف ایس ایم) ڈیش بورڈ کا ایک پروٹوٹائپ متعارف کرایا ہے۔ رہائشی اس نظام کے ذریعے غلاظت(گاد)نکاسی کی خدمات کی بکنگ، ادائیگی اور پورے عمل کی ڈیجیٹل طور پر نگرانی کر سکتے ہیں۔ یہ پلیٹ فارم وزارت ہاؤسنگ و شہری امور (ایم او ایچ یو اے)، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اربن افیئرز (این آئی یو اے) اور نیشنل اربن ڈیجیٹل مشن (این یو ڈی ایم) سے وابستہ ہے۔

اس پورے عمل کو آسان بنایا گیا ہے۔ رہائشی اپنا موبائل نمبر یا پراپرٹی آئی ڈی درج کرتا ہے اور نظام خود بخود متعلقہ پتے کی نشاندہی کر لیتا ہے۔ ایک ہی صفحے پر موجود فارم کے ذریعے غلاظت نکاسی کی خدمت بُک کی جا سکتی ہے۔ تاہم، اصل تبدیلی اسکرین کے پیچھے ہونے والے عمل میں آتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261001130236_9fd209.jpg

درخواست درج ہونے کے بعد یہ نظام حقیقی وقت میں خدمت کی پیش رفت پر نظر رکھنے میں مدد  فراہم کرتا ہے۔ ’’ایک درخواست، ایک چکر‘‘ کا طریقہ بہتر منصوبہ بندی میں معاون ہے۔ کام مکمل کرنے کے بعد ڈرائیور تصاویر اپ لوڈ کرتے ہیں، جس سے خدمت کی ڈیجیٹل طور پر تصدیق ممکن ہوتی ہے۔ ڈیش بورڈ شہر کو گاڑیوں کی نگرانی کرنے اور وسائل کی زیادہ مؤثر انداز میں منصوبہ بندی کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔صفائی کارکنوں کے لیے بھی ٹیکنالوجی خطرناک کام سے نمٹنے کے طریقۂ کار میں تبدیلی لا رہی ہے۔ ڈیجیٹل نگرانی کے ذریعے سیور کی دستی صفائی سے مشینی صفائی کی جانب منتقلی میں مدد مل رہی ہے۔ اس سے انسانی جان کو لاحق خطرات کم ہوتے ہیں اور کام کے زیادہ محفوظ طریقوں کو فروغ ملتا ہے۔

اس طرح جو چیز بظاہر ایک سادہ ڈیش بورڈ نظر آتی ہے، وہ محض کاغذی کارروائی کا متبادل نہیں ہے۔ یہ شہری، خدمت فراہم کرنے والے اور میونسپل نظام کو ایک ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے جوڑتا ہے۔ رائے پور میں ’’درخواست‘‘ سے ’’خدمت‘‘ تک کا سفر ایک ایسے ڈیجیٹل عمل میں تبدیل ہو رہا ہے جس کی ہر مرحلے پر نگرانی کی جا سکتی ہے۔

جی-اسپائیڈر: نہر کے اندر اب روبوٹ نے کمان سنبھالی

ترواننت پورم کے وسط میں واقع امیئژانچن کینال تھمپانور ریلوے کے احاطے کے نیچے سے گزرتی ہے۔ اس کا ڈھکا ہوا حصہ انتہائی کم عمودی گنجائش، مسلسل پانی کے بہاؤ اور کارکنوں کے لیے محفوظ داخلے کے راستوں کی عدم موجودگی کے باعث صفائی کے لیے انتہائی مشکل ہے۔ چنانچہ اس محدود جگہ میں روایتی طریقوں سے صفائی کرنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔

ترواننت پورم میونسپل کارپوریشن نے اس مشکل مقام کی صفائی کے لیے ایک روبوٹ متعارف کرایا ہے۔ شہر میں جی-اسپائیڈر، مصنوعی ذہانت سے چلنے والا نالے کی صفائی کا نظام نصب کیا گیا ہے، جسے ٹیکنوپارک میں قائم جین روبوٹک انوویشنز نے تیار کیا ہے۔ یہی کمپنی روبوٹک صفائی کارکن بینڈی کوٹ تیار کرنے کے لیے بھی جانی جاتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261001130243_a84343.jpg

یہ روبوٹ مشینی بصارت اور سینسر سے حاصل ہونے والی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے جمع شدہ کچرے کی نشاندہی، جانچ اور صفائی کرتا ہے۔ یہ حقیقی وقت میں کچرے کی مختلف اقسام، پانی کے بہاؤ کی صورتحال اور ساختی رکاوٹوں کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ہے۔ اس کا پانچ سطح کے آزادی والا میکانزم حیاتیاتی ساخت کی نقل پر مبنی پنجے کا استعمال کرتے ہوئے مختلف اقسام کے بے ترتیب کچرے کو اٹھاتا ہے۔ اس کے بعد نکالے گئے کچرے کو براہ راست کچرا جمع کرنے والی گاڑیوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔

اس کی اہمیت محض خودکاری تک محدود نہیں ہے۔ جی-اسپائیڈر زہریلی گیسوں، آلودہ پانی اور خطرناک کچرے سے صفائی کارکنوں کے براہ راست رابطے کو کم کرکے ان کے تحفظ کو بہتر بناتا ہے۔ یہ پانی کی بلند سطح اور مسلسل بہاؤ کی صورتحال میں بھی کام کر سکتا ہے، جس سے مقررہ نظام الاوقات کے مطابق اور منظم طریقے سے نالے اور نہر کی صفائی میں مدد ملتی ہے۔

اس طرح جی-اسپائیڈر محض صفائی کرنے والی مشین نہیں ہے۔ اس کی تنصیب سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی ایسے ماحول میں صفائی کے کام کو ممکن بنا سکتی ہے ،جہاں انسانوں کا داخل ہونا ان کے تحفظ کے لیے سنگین خطرات کا باعث بنتا ہے۔ یہ ماڈل وسیع تر امکانات کی جانب بھی اشارہ کرتا ہے۔ ترواننت پورم میں جی-اسپائیڈر کی تنصیب سے ایسے دیگر خطرناک نالوں اور  پانی کی نکاسی  کے نیٹ ورک کے لیے بھی قابلِ توسیع اور قابلِ تکرار طریقۂ کار کی مثال سامنے آتی ہے۔

کچرا جمع کرنے والی گاڑیوں کی برقی ٹیکنالوجی  میں تبدیلی:

روزانہ کچرا جمع کرنے والی گاڑی بھی صاف ستھرے شہروں کی جانب منتقلی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ آندھرا پردیش کے گنٹور، چنئی اور اندور شہروں میں گھر گھر کچرا جمع کرنے کے عمل میں الیکٹرک گاڑیوں کو شامل کیا جا رہا ہے، جس سے صاف ستھری نقل و حرکت اورکچرے کے جدید اور مؤثر انتظام، دونوں کو فروغ مل رہا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image005_20261001130258_ca9b29.jpg

گنٹور شہر میں 200 سے زیادہ الیکٹرک آٹو رکشا نے پورے شہر میں گھر گھر کچرا جمع کرنے کے عمل کو ماحول دوست بنا دیا ہے۔ ہر گاڑی میں جی پی ایس ٹریکنگ کی سہولت موجود ہے، جس سے کچرا جمع کرنے کی کارروائیوں کی حقیقی وقت میں نگرانی ممکن ہوتی ہے۔ اس اقدام سے سالانہ 71,000 لیٹر سے زیادہ ڈیزل کی ضرورت ختم ہو گئی ہے اور اندازہ ہے کہ ایک دہائی کے دوران گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 21,000 ٹن کی کمی آئے گی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image006_20261001130315_caab0a.jpg

تمل ناڈو کے شہر چنئی نے روزانہ کچرا جمع کرنے کے نظام میں براہِ راست برقی نقل و حرکت کو شامل کیا ہے۔ گریٹر چنئی کارپوریشن نے شہر کے تمام 15 زونز میں گھر گھر کچرا جمع کرنے کے لیے 5,478 بیٹری سے چلنے والے ای رکشوں کو خدمات میں شامل کیا ہے۔ یہ گاڑیاں روزانہ تقریباً 40 کلومیٹر کا سفر کرتی ہیں اور ڈیزل سے چلنے والی کچرا جمع کرنے والی گاڑیوں کی جگہ ای رکشا استعمال کیے جا رہے ہیں، جس سے آلودگی کم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ یہ گاڑیوں کا بیڑہ روزانہ تقریباً 41 ٹن کاربن اخراج کم کرتا ہے، جو سالانہ 15,160 ٹن اخراج میں کمی کے برابر ہے۔

لیکن یہ تبدیلی صرف ماحول دوست گاڑیوں تک محدود نہیں ہے۔ ہر ای رکشا میں گیلے، خشک اور خطرناک کچرے کے لیے الگ الگ ڈبے موجود ہیں، جس سے کچرے کی علیحدگی کو کچرا جمع کرنے کے عمل کا ہی حصہ بنا دیا گیا ہے۔ گاڑیوں کا یہ بیڑہ اب 24,621 سڑکوں اور 21 لاکھ سے زیادہ گھرانوں کو اپنی خدمات فراہم کر رہا ہے، جبکہ گاڑیوں میں نصب آڈیو نظام محلوں میں کچرے کو الگ الگ کرنے سے متعلق پیغامات بھی نشر کرتا ہے۔ اس اقدام سے 6,000 سے زیادہ افراد کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔

مدھیہ پردیش کے شہر اندور نے کچرا جمع کرنے کے عمل کو قابلِ تجدید توانائی سے جوڑ کر برقی منتقلی کو ایک قدم اور آگے بڑھایا ہے۔ شہر کے مرکزی علاقوں میں گھر گھر کچرا جمع کرنے کے لیے 100 الیکٹرک گاڑیاں  استعمال میں لائی   گئی ہیں۔ مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (آئی سی سی سی) کے ذریعے حقیقی وقت میں جی پی ایس ٹریکنگ سے نگرانی اور خدمات میں شفافیت کو یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے۔ اس اقدام سے سالانہ کاربن کے اخراج میں تقریباً 24,918 ٹن کمی آنے اور ایندھن و دیکھ بھال کے اخراجات میں ہر سال تقریباً 5.97 کروڑ روپے کی بچت متوقع ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image007_20261001130329_a3bfc5.jpg

شہر میں 20 شمسی چارجنگ اسٹیشن بھی قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے ہر اسٹیشن 10 کلوواٹ کے شمسی پینل سے لیس ہے۔ یہ تمام اسٹیشن مل کر روزانہ 800 سے 1,000 یونٹ صاف توانائی پیدا کر سکتے ہیں اور روزانہ 80 سے 100 گاڑیوں کو چارج کر سکتے ہیں۔ ان شہروں میں کچرا جمع کرنے والی گاڑی اب محض نقل و حمل کا ذریعہ نہیں رہی ہے۔ یہ شہری صفائی کے نظام کا ایک زیادہ صاف ستھرا، مربوط اور تیزی سے مؤثر ہوتا ہوا حصہ بن رہی ہے۔

اگلا مرحلہ: مزید ذہین، محفوظ اور مؤثر صفائی

ٹیکنالوجی شہری صفائی کے نظام کو مزید بہتر سمجھ کےصاف کرنے، زیادہ محفوظ طریقے سے کام کرنے اور مسائل کا تیزی سے حل فراہم کے لیے نئے وسائل فراہم کر رہی ہے۔ ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹس سے لے کر برقی کچرا جمع کرنے والی گاڑیوں تک، یہ اختراعات ٹیکنالوجی کو روزمرہ کی صفائی کے عمل کے مزید قریب لا رہی ہیں۔ اگلا مرحلہ ان اختراعات کو مزید شہروں تک پہنچانے، انہیں روزمرہ کے نظام کا حصہ بنانے اور شہری صفائی کو مزید صاف ستھرا، محفوظ اور مؤثر بنانے کا ہے۔

 

حوالہ

ہاؤسنگ و شہری امورکی وزارت

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

*******

ش ح۔ م ع ن-ت ع

(U: 4449)

(Features ID: 160278) आगंतुक पटल : 10
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Malayalam , English , हिन्दी , Bengali , Telugu