Infrastructure
گندے پانی سے پرے:استعمال شدہ پانی کو وسائل میں تبدیل کرنا
Posted On:
30 SEP 2026 12:16PM
تیزی سے بڑھتے شہروں میں پانی کی سائیکل ،پانی کے استعمال کے ساتھ ختم نہیں ہوتی۔ گھروں، کاروباری اداروں اور آس پڑوس سے نکلنے والے پانی کو بیکار نہیں ہونے دینا چاہئے۔ مناسب نظام کے ذریعے استعمال شدہ پانی کو جمع، صاف، دوبارہ قابلِ استعمال بنا کر پھر مفید مقاصد کے لیے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ یہی تبدیلی سووچھ بھارت مشن-اربن (ایس بی ایم-یو) کے تحت شہری صفائی کے ایک نئے طریقۂ کار کی تشکیل کر رہی ہے۔ اس کے مرکز میں استعمال شدہ پانی کا انتظام (یو ڈبلیو ایم) ہے، جس کا مقصد استعمال شدہ پانی کو صاف کرنا، بغیر صاف کیے گندے پانی کو آبی ذخائر تک پہنچنے سے روکنا اور اسے محفوظ طریقے سے دوبارہ استعمال کے قابل بنانا ہے۔ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پی) اس عمل میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں،جوگندے پانی کے انتظام کو قدرتی وسائل کے تحفظ اور اس کے آگے استعمال کے لیے پانی کے تحفظ کے مواقع میں تبدیل کردیتے ہیں ۔
اس نقطہ نظر کو واٹر پلس سرٹیفکیشن کے ذریعے مزید تقویت دی جا رہی ہے، جو گھریلو اور تجارتی اداروں سے نکلنے والے گندے پانی کے انتظام کے لیے شہروں کو رہنما اصول فراہم کرتا ہے۔ اس کے تحت ماحول میں خارج کیے جانے سے پہلے گندے پانی کا تسلی بخش معیار کے مطابق صاف ہونا ضروری ہے۔ توجہ صرف صفائی کے بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس بات پر بھی مرکوز ہے کہ شہر اپنے آبی وسائل کی منصوبہ بندی اور انتظام کس طرح کرتے ہیں۔ شہری مقامی اداروں کو گندے پانی کے دوبارہ استعمال کے لیے دیرپا ، شہر کی سطح کے منصوبے تیار کرنے کے لیے بااختیار بنایا جا رہا ہے۔ واضح طور پر متعین ذمہ داریاں اور تکنیکی ترقی شہروں کو صفائی کے نظام کی کارکردگی اور مؤثر طریقے سے کام کرنے میں مدد کررہی ہیں۔ کھلے میں رفع حاجت سے پاک (او ڈی ایف) ++ پروٹوکول بھی پورے سیوریج، بشمول فضلے کے کیچڑ اور سیپٹیج، کے محفوظ انتظام اور صفائی کا جائزہ لے کر اس طریقۂ کار کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔
یہ تمام اقدامات پائیدار صفائی ستھرائی اور ایک ایسی مدوّرمعیشت کی بنیاد رکھ رہے ہیں، جہاں استعمال شدہ پانی کو فضلے کے بجائے ایک وسائل کے طور پر منظم کیا جا سکے۔ سووچھ بھارت مشن 2.0 کے تحت چھوٹے شہروں میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس قائم کرنے کے لیے 11,785 کروڑ روپے کی لاگت والے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ ان منصوبوں سے روزانہ 4,900 ملین لیٹر (ایم ایل ڈی) اضافی صفائی کی گنجائش پیدا ہوگی، جس سے استعمال شدہ پانی کے مؤثر انتظام کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے کو وسعت ملے گی۔
جہاں استعمال شدہ پانی کو ملتی ہے نئی زندگی
استعمال شدہ پانی کا انتظام روایتی صفائی اور نکاسی کے طریقوں سے آگے بڑھ رہا ہے۔ مختلف شہر اپنے بنیادی ڈھانچے، پانی کی ضروریات اور مقامی حالات کے مطابق مختلف طریقۂ کار اختیار کر رہے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں صاف کیے گئے پانی کو زراعت، باغبانی، صنعت، سڑکوں کی صفائی اور جھیلوں کی بحالی جیسے کاموں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ جے پور، اندور، سورت اور نوی ممبئی جیسے شہروں کے تجربات استعمال شدہ پانی کے مختلف استعمال کی چند نمایاں مثالیں پیش کرتے ہیں۔
جے پور: بڑے پیمانے پر پھر سے پانی کے استعمال کی انجینئرنگ

|
دہلواس پلانٹ میں پانی کی صفائی
|
جے پور میں 2020 سے 2023 کے دوران 22.50 ہیکٹر رقبے پر تعمیر کیا گیا دہلواس سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) راجستھان میں سیوریج کی صفائی کی سب سے زیادہ گنجائش رکھنے والا پلانٹ ہے، جس کی گنجائش 215 ایم ایل ڈی ہے۔ یہاں گندے پانی کو مؤثر طریقے سے صاف کرکے دوبارہ استعمال کے قابل وسائل میں تبدیل کیا جاتا ہے، جس سے مدوّر معیشت اور پانی کے تحفظ کے نقطہ نظر کو فروغ ملتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ یہ پلانٹ سپروائزری کنٹرول اینڈ ڈیٹا ایکوزیشن (اسکاڈا) نظام کے ذریعے مکمل طور پر خودکار ہے۔

|
پلانٹ سے صاف شدہ پانی دریائے درویہ وتی میں چھوڑا جا رہا ہے
|
جے پور کا سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ(ایس ٹی پی) اس وقت انتہائی مؤثر سیکوئنسنگ بیچ ری ایکٹر (ایس بی آر) سے آراستہ ہے۔ اس عمل میں گندے پانی کو کلورین ٹینک تک پہنچنے سے پہلے پارشل فلوم، پرائمری کلیریفائر اور بیسن سے گزارا جاتا ہے، جس کے بعد اسے صاف پانی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ ٹھوس فضلے کو پرائمری سلج تھکنرز اور اسکرو پریس مشینوں کے ذریعے الگ کیا جاتا ہے۔ ایس ٹی پی میں صفائی کے بعد گندا پانی ایک بار پھر قیمتی وسائل میں تبدیل ہو جاتا ہے اور اسے آب پاشی اور مختلف صنعتی عمل میں دوبارہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس عمل کو گندے پانی کی ری سائیکلنگ کہا جاتا ہے، جو معاشی اعتبار سے بھی ایک قابل عمل طریقہ ہے۔ فی الحال صاف کیے گئے پانی کا ایک حصہ قریبی کالونی کو باغبانی اور دیگر مقاصد کے لیے فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ باقی صاف پانی دریائے درویہ وتی میں چھوڑا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں کہ بغیر صاف کیے گندے پانی کو دریا میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ پلانٹ کے اطراف ایک سرسبز علاقہ بھی تیار کیا گیا ہے، جہاں 30,000 سے زائد پودے مقام کو سرسبز بنانے میں مدد کرتے ہیں ۔
اندور: واٹر پلس کے سفر میں پیش پیش
اندور میں استعمال شدہ پانی کے انتظام کی تبدیلی ایک عام مقصد: بغیر صاف کیے گندے پانی کو ماحول میں جانے سے روکنے کے ساتھ شروع ہوئی ۔ اس طریقۂ کار نے شہر کو واٹر پلس سرٹیفیکیشن حاصل کرنے والا پہلا شہر بننے میں مدد دی۔ شہر میں اختیار کیے گئے طریقوں نے یہ ثابت کیا کہ پائیدار صفائی ستھرائی اور استعمال شدہ پانی کا مؤثر انتظام شہری سطح پر کس طرح ممکن ہے۔ اس ماڈل نے کئی چھوٹے شہروں کو بھی اسی طرح کے طریقے اپنانے کی ترغیب دی ہے۔
آج اندور کے دریاؤں اور قدرتی و مصنوعی برساتی نالوں میں بغیر صاف کیے گندے پانی کا بہاؤ نہیں ہوتا۔ 2020 تک شہر میں پہلے سے موجود 3 مرکزی ایس ٹی پی کے ساتھ 7 غیر مرکزی ایس ٹی پی بھی قائم کیے جا چکے تھے۔ شہر میں صاف کیے گئے گندے پانی کی منتقلی کے لیے 200 کلومیٹر سے زیادہ طویل پائپ لائن کا نیٹ ورک بھی بچھایا جا چکا تھا۔ اندور نے زیرزمین پانی اور سطحی پانی، دونوں کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کو مضبوط کیا۔ 2022 میں رہائشی اور غیر رہائشی علاقوں میں 1.25 لاکھ سے زیادہ بارش کے پانی کو جمع کرنے کے نظام نصب کیے گئے۔ یہ تنصیب صرف چار ماہ کی مدت میں مکمل کی گئی۔ اب صاف کیے گئے گندے پانی کو واٹر گارڈنز، سڑکوں کے کنارے پودے لگانے اور باغبانی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اسے سڑکوں کی دھلائی اور سیوریج کی صفائی کرنے والی مشینوں کو صاف کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

سورت: گندے پانی کو معاشی وسائل میں تبدیل کرنے کی پہل

|
سورت میں پانی کی صفائی کے پلانٹس
|
سورت نے گندے پانی کے دوبارہ استعمال کے تصور کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے اسے معاشی قدر رکھنے والے ایک وسائل کے طور پر اختیار کیا ہے۔ سورت میونسپل کارپوریشن نے مجموعی طور پر 116 ایم ایل ڈی کی نصب شدہ گنجائش والے چار اعلیٰ درجے کے ٹریٹمنٹ پلانٹس قائم کیے ہیں۔ ان پلانٹس کی مدد سے میٹھے پانی کے وسائل پر انحصار کم کرنے میں مدد ملی ہے۔ صاف کیے گئے گندے پانی کو شہر میں پینے کے علاوہ کئی دیگر مقاصد کے لیے دوبارہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان میں صنعتی استعمال، جھیلوں کی بحالی، زراعت، بڑے پیمانے پر شجرکاری، سیوریج کی صفائی وغیرہ شامل ہیں، جن کے لیے براہِ راست سروس لائنوں اور ٹینکر بھرنے کے مراکز کے ذریعے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ شہر میں سیوریج کی صفائی کے لیے 170 مشینیں موجود ہیں، جن میں جدید ترین روبوٹک ٹیکنالوجی پر مبنی آلات بھی شامل ہیں۔ ان مشینوں کا استعمال سیوریج نظام کی صفائی اور دیکھ بھال کے لیے کیا جاتا ہے۔
نوی ممبئی: شہری خدمات میں پانی کے دوبارہ استعمال کو بنیادی حیثیت

|
نوی ممبئی میں سیوریج کی صفائی
|
نوی ممبئی کے واٹر پلس سفر میں صفائی کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ صاف کیے گئے پانی
کے وسیع پیمانے پر دوبارہ استعمال کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ مہاراشٹر کا واحد شہر ہے جس نے فائیو اسٹار درجہ بندی اور واٹر پلس سرٹیفیکیشن حاصل کیا ہے۔ شہر نے سیوریج کی صفائی کی ٹیکنالوجی کو جدید بنایا اور اپنے ایس ٹی پی کو 30 لاکھ کی آبادی کے مطابق تیار کیا۔ توانائی کے اخراجات کم کرنے کے لیے پمپنگ اسٹیشنوں کو بھی جدید بنایا گیا۔ یہ اسٹیشن سیوریج کے ذریعے پیدا ہونے والے گندے پانی کو ایس ٹی پی تک پہنچاتے ہیں۔ سیوریج نیٹ ورک میں خرابی کے ممکنہ مقامات سے بچنے کے لیے پیشگی دیکھ بھال کا انتظام کیا گیا۔ نوی ممبئی نے سیوریج لائنوں اور سیپٹک ٹینکوں کی 100 فیصد مشینی صفائی کاہدف حاصل کر لیاگیا ہے۔ نوی ممبئی میونسپل کارپوریشن شہر بھر میں نصب لیول ٹرانسمیٹرز کے ذریعے تمام سیپٹک ٹینکوں کی مرکزی نگرانی کرتی ہے۔ صاف کیے گئے پانی کا 30 فیصد سے زیادہ حصہ شہر کے 30 سے زائد باغات میں دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے ٹھوس فضلے کی گاڑیوں، کمپیکٹرز اور شہری ٹرانسپورٹ کی بسوں کو دھونے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ آب پاشی کے چھڑکاؤ کے نظام اور سڑکوں کے ڈیوائیڈرز میں بھی صاف شدہ پانی استعمال کیا جاتا ہے، جس سے میٹھے پانی پر انحصار کم ہوتا ہے۔
تروپتی: صاف شدہ پانی سے آمدنی کا ماڈل
تروپتی نے تھوکی وکم میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کوچلانے کے لیے آپریشن کے لیے خود کفیل اور پائیدار ماڈل تیار کیا ہے۔ شہر کو واٹر پلس بھی قرار دیا جا چکا ہے۔ 19 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے اس ایس ٹی پی کی نصب شدہ گنجائش 50 ایم ایل ڈی ہے۔ یہ پلانٹ شہر کے 1,04,057کنبوں کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ صاف کیے گئے پانی میں سے 24 ایم ایل ڈی مختلف مقاصد کے لیے دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ پلانٹ استعمال شدہ پانی کو صاف کرکے سری کالا ہستی لمیٹڈکو5 ایم ایل ڈی پانی فروخت کرتا ہے۔ اس سے پلانٹ کو ماہانہ 6 لاکھ روپے کی خالص آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ مزید 18 ایم ایل ڈی استعمال شدہ پانی کو صاف کرکے کسانوں کو زراعت کے لیے مفت پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ شہری مقامی ادارہ اس پانی کے ایک حصے کو سڑکوں اور گلیوں کی صفائی کے لیے بھی دوبارہ استعمال کرتا ہے۔ شہر بھر میں سڑکوں کے درمیانی حصوں، پارکوں اور باغات کی آب پاشی کے لیے بھی صاف شدہ پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اقدامات صاف شدہ پانی کے زیادہ سے زیادہ دوبارہ استعمال کو یقینی بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ تروپتی کا یہ طریقۂ کار سیوریج کے پانی کے دوبارہ استعمال کو پائیدار ایس ٹی پی کو چلانے کے لیے آمدنی پیدا کرنے والے ماڈل کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔

|
تروپتی میں پانی کی صفائی کا پلانٹ
|
شہری پانی کے انتظام کی صورت حال میں تبدیلی
استعمال شدہ پانی کے انتظام پر بڑھتی ہوئی توجہ سے شہروں کا اپنی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کا تصور بدل رہا ہے ۔ پانی کی صفائی اب صرف آلودگی کو روکنے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا مقصد پانی کو دوبارہ استعمال کے قابل بنانا بھی ہے۔ صاف کیے گئے پانی کے نئے استعمالات سامنے آ رہے ہیں، جن میں آب پاشی، صنعت، باغبانی اور روزمرہ کی شہری خدمات شامل ہیں۔ جیسے جیسے مزید شہر پانی کی صفائی کی صلاحیت کو مضبوط کر رہے ہیں اور دوبارہ استعمال کے نظام تیار کر رہے ہیں، شہری پانی کا انتظام زیادہ مدور طریقوں اور وسائل کے مؤثر استعمال پر مبنی ہوتا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلی صفائی ستھرائی کے زیادہ بہتر نظام قائم کرنے کے ساتھ ساتھ دستیاب پانی کے ہر وسائل کے بہتر استعمال میں بھی مدد دیتی ہے۔
حوالہ جات
مکانات اور شہری امور کی وزارت
پی ڈی ایف ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔
*******
) ش ح – م ش -ت ا )
U.No.4350
(Features ID: 160257)
आगंतुक पटल : 4
Provide suggestions / comments