Rural Prosperity

صفائی سےپرے: سووچھتا کی تحریک کو نئی سمت دینے والی خواتین اور خواجہ سرا

Posted On: 30 SEP 2026 1:10PM

صاف ستھرا شہر اکثر اس بات سے پہچانا جاتا ہے کہ وہاں اب کیا نظر نہیں آتا۔ سڑکوں پر کچرا بکھرا ہوا نہیں ہوتا، نالیاں اب بند نہیں رہتیں اور ضرورت کے وقت صفائی ستھرائی کی سہولیات دستیاب ہوتی ہیں،لیکن اس نمایاں تبدیلی کے پس پردہ ایسی داستانیں بھی ہیں جنہیں سامنے لانا ضروری ہے۔ یہ ان خواتین کی داستانیں ہیں جو کچرے سے روزگار کے مواقع پیدا کر رہی ہیں، اپنے علاقوں میں صفائی کی کوششوں کی قیادت کر رہی ہیں اور روزمرہ کے مسائل کو مواقع میں تبدیل کر رہی ہیں۔ ان کے ساتھ خواجہ سرا برادری کے افراد بھی ہیں جو صفائی ستھرائی کی خدمات میں پیشہ ورانہ ذمہ داریاں سنبھال کر اپنی شناخت اور مقام بنا رہے ہیں۔ مختلف شہروں میں سووچھتا اب محض ایک عوامی خدمت نہیں رہی، بلکہ یہ عزت نفس، کاروباری سرگرمی، شمولیت اور مواقع کا ایک نیا میدان بن رہی ہے۔

شمولیت کا یہی جذبہ سووچھتا ہی سیوا 2026 کے ذریعے قومی سطح پر نمایاں ہوتا ہے، جس کا آغاز 17 ستمبر 2026 کو کیا گیا۔ ہر سال یہ مہم شہریوں، اداروں اور قیادت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتی ہے تاکہ سووچھتا کے لیے رضاکارانہ جذبے اور اجتماعی اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

’’سووچھتا میں سہبھاگ؛ سووچھ بھارت، وِکسِت بھارت‘‘ کے موضوع کے ساتھ سووچھتا ہی سیوا 2026 نے مشترکہ ذمہ داری کو صفائی کی اس تحریک کا بنیادی محور بنایا ہے۔ یہ اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ سووچھ اور وکست بھارت کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے حکومت کی تمام سطحوں اور پورے معاشرے کی مشترکہ کوشش ناگزیر ہے۔

اجتماعی شراکت داری کے اسی جذبے کی ایک بامعنی مثال اتر پردیش کے لونی میں دیکھنے کو ملتی ہے، جہاں کبھی جس چیز کو محض کچرا سمجھا جاتا تھا، وہ اب روزگار کا ذریعہ بن رہی ہے۔

جب کچرا روزگار کا ذریعہ بن جائے

گئوشالاؤں اور ڈیریوں کے آس پاس گائے کا گوبر اکثر کچرے کو ٹھکانے لگانے کا ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے، جس کے باعث نالیاں اور سیوریج کی گزرگاہیں(چینلز) بند ہونے لگتی ہیں۔ تاہم، اتر پردیش کے لونی کی کرشن وِہار کالونی میں خواتین کے ایک گروپ نے اس مسئلے کا ایک مختلف حل تلاش کیا۔ انہوں نے گائے کے گوبر سے اگربتیاں اور لوبان کی پیالیاں بنانا شروع کر دیں۔

محض 8 سے 10 خواتین کے ساتھ شروع ہونے والا یہ کام رفتہ رفتہ بہت سی مزید خواتین کے لیے روزگار کا ذریعہ بن گیا۔ لونی نگر پالیکا پریشد کی ایک خاتون افسر نے اس کام میں موجود امکانات کو محسوس کیا اور ان خواتین کو گئوشالا کے منتظمین سے جوڑنے میں مدد کی، تاکہ گائے کے گوبر کی مستقل فراہمی اور اس کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ ایک سادہ سا خیال آہستہ آہستہ عملی شکل اختیار کرنے لگا: جس چیز کو محض کچرا سمجھا جاتا ہے، اگر اسے دوبارہ کارآمد بنا کر ایک نئی زندگی دی جائے تو کیا ہوگا؟

گرمی کے مہینوں میں، جب اگربتیوں کی تیاری اپنے عروج پر ہوتی ہے، اس اقدام سے تقریباً 40 سے 50 خواتین کو روزگار ملتا ہے۔ ان خواتین کے لیے یہ کام محض ایک مصنوعات تیار کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ روزگار، عزتِ نفس اور اس اطمینان کا ذریعہ ہے کہ وہ کچرے کو ایک کارآمد چیز میں تبدیل کر رہی ہیں۔ نگر پالیکا پریشد کو بھی ان مصنوعات کی فروخت سے 25 فیصد تک آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ اس طرح کچرے کے مینجمنٹ، مقامی کاروبار اور بلدیاتی آمدنی کے درمیان ایک مؤثر ربط قائم ہوتا ہے۔

ان مصنوعات میں ازسرِنو استعمال کی پوری داستان پوشیدہ ہے۔ روایتی طور پر اگربتی جیسی مصنوعات تیار کرنے کے لیے لکڑی کا برادہ بنیادی خام مال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ خشک گوبر کے پاؤڈر کو تقریباً 30 سے 35 فیصد مقدار میں ملانے سے لکڑی کے برادے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔ یوں یہ طریقہ ایک ایسا ماحولیاتی طور پر پائیدار حل بن کر سامنے آیا ہے، جو وسائل کے بہتر استعمال کے ساتھ ساتھ سووچھتا کو بھی فروغ دیتا ہے۔

ایک کالونی سے شروع ہونے والا یہ کام اب بہت دور تک پہنچ چکا ہے۔ یہ مصنوعات ملک کے کئی حصوں، جن میں دہلی، ممبئی، پنجاب، گجرات اور حیدرآباد شامل ہیں، بھیجی جاتی ہیں۔ کووِڈ کے دور میں یہ مصنوعات معروف برانڈز کے لیے بھی تیار کی گئیں اور ان کے آرڈر ماریشس اور جنوبی افریقہ تک پہنچے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image003_20260930131501_286e3d.jpg

اور یہ خواتین یہیں رکنے والی نہیں ہیں۔ گائے کے گوبر سے ایندھن کے طور پر استعمال ہونے والی جلنے والی لکڑی تیار کرنے کے منصوبوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جسے شمشان گھاٹوں، ہون اور دیگر مذہبی و سماجی سرگرمیوں میں استعمال کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ گائے کے گوبر سے پھولوں کے گملے تیار کرنے کے امکانات بھی تلاش کیے جا رہے ہیں، جنہیں استعمال کے بعد کھاد کے طور پر دوبارہ مٹی میں شامل کیا جا سکے گا۔

یہاں صفائی کا تصور محض کچرا ہٹانے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس سوچ کا نام ہے کہ یہ کچرا مزید کس کارآمد چیز میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

کچرا جمع کرنے والوں سے کچرے کے مؤثر منتظمین تک

اسی جذبے کی ایک اور مثال بہار کے پٹنہ میں دیکھنے کو ملتی ہے، جہاں خواتین پرانے تصورات کو بدلتے ہوئے صفائی کو ایک نئی اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی شکل دے رہی ہیں۔ شہر میں قائم پنک میٹریل ریکوری فیسلٹی (ایم آر ایف) میں خواتین کچرا مینجمنٹ کے پورے عمل میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ مرکز بنیادی طور پر خواتین کے ذریعے چلایا جاتا ہے اور اس کی نگرانی بھی ایک خاتون سپروائزر کرتی ہیں۔ یہاں خشک اور تر کچرے  کی چھٹائی اور پروسیسنگ کی جاتی ہے۔ یہ سینٹر روزانہ 2 ٹن خشک اور 1.5 ٹن تر کچرے کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پنک ایم آر ایف کا تصور کچرا مینجمنٹ کے شعبے میں خواتین کے لیے روزگار اور ترقی کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کے دوران سامنے آیا۔ منصوبے کی ٹیم نے پنک ایم آر ایف قائم کرنے کی تجویز کے ساتھ پٹنہ میونسپل کارپوریشن (پی ایم سی) سے رابطہ کیا۔ پی ایم سی نے اس خیال کی حمایت کی اور محض تین ماہ میں یہ مرکز قائم کر دیا گیا۔ اس کا منفرد رنگ اور ڈیزائن بھی مقامی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا، جس سے اس اقدام کے بارے میں بیداری پیدا کرنے میں مدد ملی۔

یہ تصور ’کچرے کے بدلے نقد رقم‘ ( کیش فار ویسٹ )کی پہل کے ذریعے عوام تک پہنچتا ہے۔ شہری اپنا خشک کچرا لا سکتے ہیں اور مقررہ نرخوں کے مطابق اس کے عوض رقم حاصل کر سکتے ہیں۔ کچرے کی قدر بڑھتی ہے، شہریوں کو اس کام میں حصہ لینے کی ترغیب ملتی ہے اور شہر کو  اپنی صفائی کی مہم میں مزید معاون ہاتھ میسر آتے ہیں۔

پٹنہ کی سووچھتا کی یہ داستان اس کے بعد ایک دلچسپ موڑ لیتی ہے۔ پرانی اور ناقابل استعمال گاڑیوں کو موبائل پنک ٹوائلٹس کی شکل دے کر انہیں دوبارہ کارآمد بنایا گیا ہے۔ جو گاڑیاں کبھی محض ناکارہ سامان بن کر رہ گئی تھیں، وہ اب صفائی ستھرائی کی ایک اہم ضرورت پوری کر رہی ہیں۔ یہ تین آر – ریڈیوس ، ری یوز اینڈ ری سائیکل یعنی کم کرنا، دوبارہ استعمال کرنا اور دوبارہ قابل استعمال بنانا (ری سائیکل کرنا) کے تصور کی ایک عملی مثال ہے، جو سڑکوں پر واضح طور پر نظر آتی ہے۔

پنک ایم آر ایف اور موبائل پنک ٹوائلٹس مل کر سماجی انصاف، ماحولیاتی بیداری اور معاشی مواقع کی عکاسی کرتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر، یہ دونوں اقدامات ایک سادہ مگر معنی خیز پیغام دیتے ہیں: جب سووچھتا کے عمل میں خواتین کو مناسب موقع اور جگہ دی جاتی ہے تو وہ محض اس نظام کا حصہ نہیں بنتیں، بلکہ اسے نئی شکل دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image004_20260930131541_04b8fd.jpg

 

صفائی کا پیغام اپنی برادریوں تک پہنچانے والی خواتین

خواتین اور سووچھتا کی داستان صرف اس کچرے تک محدود نہیں جسے وہ سنبھالتی ہیں۔ یہ ان برادریوں اور محلّوں تک پھیلتی ہے جن سے وہ جڑتی ہیں اور جن پر ان کی کوششوں کا اثر پڑتا ہے۔ بھوپال میں 250 خواتین پر مشتمل برانڈ ایمبیسیڈرز کا ایک گروپ میونسپل کارپوریشن کے ساتھ مل کر صفائی اور کچرا بندوبست کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس گروپ کی خواتین نے 25 وارڈوں میں ’برتن بینک‘ بھی قائم کیے ہیں، جن کا مقصد ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک کے استعمال کو ختم کرنا ہے۔ یہ بینک اجتماعی تقریبات اور دیگر پروگراموں کے لیے دوبارہ استعمال کیے جا سکنے والے برتنوں کے سیٹ فراہم کرتے ہیں، جس سے مقامی تقریبات کو صفر کچرے کے اصولوں کے مطابق منعقد کرنے میں مدد ملتی ہے۔

60 ارکان پر مشتمل ’سووچھتا کٹی گروپ‘ نے باہمی اتحاد کو عملی اقدام میں تبدیل کرنے کا ایک اور راستہ تلاش کیا ہے۔ ہر خاتون ہر ماہ 100 روپے کا تعاون کرتی ہے، جس سے کمیونٹی کی صفائی سے متعلق سرگرمیوں کے لیے مشترکہ فنڈ قائم ہوتا ہے۔ بہت سے ہاتھوں سے کیے گئے چھوٹے چھوٹے تعاون جب یکجا ہوتے ہیں تو صاف ستھرے محلے کے لیے ایک مضبوط اجتماعی عزم میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image005_20260930131616_149e3b.jpg

اتراکھنڈ میں اسی جذبے نے ’بینی سینا‘ یعنی ’بہنوں کی فوج‘ کا روپ اختیار کر لیا ہے۔ 57 گروپوں میں شامل 570 خواتین اپنے اپنے وارڈوں میں صفائی سے متعلق سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہیں۔ وہ شہریوں سے رابطہ کرتی ہیں، شکایات متعلقہ حکام تک پہنچانے میں مدد کرتی ہیں، بیداری پروگرام منعقد کرتی ہیں اور میونسپل انتظامیہ اور صفائی کارکنوں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے میں معاونت کرتی ہیں۔ ان کی سرگرمیاں وہیں انجام پاتی ہیں جہاں کسی شہر کی صفائی کی حقیقی بنیاد پڑتی ہے۔ یہ محلّوں، باہمی گفتگو اور ان چھوٹے چھوٹے لمحات میں اپنا اثر دکھاتی ہیں، جب کوئی شخص صفائی اور اپنے اردگرد کے ماحول کی ذمہ داری لینے کا فیصلہ کرتا ہے۔

شیلانگ میں ’آئیِنہِشکیم سیلف ہیلپ گروپ‘ نے کچرے کو روزگار کے ایک نئے ذریعے میں تبدیل کرنے کی راہ تلاش کی ہے۔ اس گروپ کی خواتین گھروں سے تر کچرا جمع کرتی ہیں اور حیاتیاتی طور پر قابل تحلیل کچرے کو کھاد میں تبدیل کرتی ہیں۔ ماضی میں کچرا چننے کے کام سے وابستہ یہ خواتین ایک بحالی پروگرام کے تحت تربیت حاصل کرنے کے بعد کھاد تیار کرنے کے کام کو اپنی روزی روٹی کا نیا ذریعہ بنانے میں کامیاب ہوئیں۔ ان کے اتحاد اور باہمی تعاون کی وجہ سے انہیں محبت سے ’میری میڈنز آف مارٹن‘ کا نام دیا گیا۔

اپنی روزمرہ کی کوششوں کے ذریعے یہ خواتین سووچھتا کو محض ایک ذمہ داری کے بجائے باہمی تعاون، احساس ذمہ داری اور دیکھ بھال کی مشترکہ ثقافت میں تبدیل کر رہی ہیں۔

جب شمولیت صفائی ستھرائی کی تصویر بدل دیتی ہے

اوڈیشہ میں خواجہ سرا افراد شہری صفائی ستھرائی کے ایسے اہم رول سنبھال رہے ہیں، جو انہیں شہری صفائی کے نظام کے مرکز میں لے آئے ہیں۔ اس تبدیلی کا آغاز کٹک سے ہوا، جہاں میونسپل کارپوریشن نے خواجہ سرا افراد کو ایک سیلف ہیلپ گروپ کی شکل میں منظم کیا۔ انہیں تربیت دی گئی اور سیپٹیج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے آپریشن اور دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی گئی۔

یہ ایک اہم تبدیلی تھی۔ وہ برادری جسے اکثر رسمی روزگار اور دیگر مواقع سے محرومی کا سامنا رہا ہے، اب صفائی ستھرائی کی ایک تکنیکی تنصیب کی ذمہ داری سنبھال رہی تھی۔

بعد ازاں یہ ماڈل پورے اوڈیشہ میں پھیل گیا۔ شہری مقامی اداروں نے فیکل سلج اور سیپٹیج مینجمنٹ (ایف ایس ایس ایم) اور ٹھوس کچرے کے انتظام کے شعبوں میں سیلف ہیلپ گروپوں کے ساتھ شراکت داری شروع کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image006_20260930131703_cbaac1.jpg

بھونیشور میں سوِکروتی سیلف ہیلپ گروپ نے باسوآگھائی میں قائم 75 کے ایل ڈی گنجائش والے فیکل سلج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایف ایس ٹی پی) کے آپریشن اور دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالی۔ ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل گروپ کے ارکان کو بنیادی معلومات کے ساتھ تکنیکی اور انتظامی تربیت بھی دی گئی۔

سوِکروتی کی صدر میگھنا ساہو کے لیے یہ تبدیلی ذاتی طور پر بھی بہت اہم ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’اب ہم فخر کے ساتھ اپنی شناخت کو قبول کر سکتے ہیں اور پیشہ ورانہ شعبے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘‘ وہ اس فخر کا اظہار کرتی ہیں جو اس وقت محسوس ہوتا ہے جب ان کے گروپ کی ارکان قومی اور بین الاقوامی اداروں سے آنے والے طلبہ اور دیگر زائرین کو اپنے کام کے بارے میں بتاتی ہیں۔ اس کی اہمیت صرف ملازمت تک محدود نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ یہ ملازمت کیا کچھ ممکن بناتی ہے: پیشہ ورانہ شناخت، خود اعتمادی اور معاشرے میں پہچان۔

بھونیشور میونسپل کارپوریشن نے صفائی ستھرائی کے لیے استعمال ہونے والی سات سیسپول گاڑیوں کے آپریشن اور دیکھ بھال کے کام میں بھی خواجہ سرا گروپوں کو شامل کیا ہے۔ ڈرائیوروں اور معاونین کو کم از کم مقررہ اجرت پر کام پر رکھا جائے گا۔ انہیں صحت، حفظانِ صحت، ذاتی حفاظتی سازوسامان اور سیپٹیج نکالنے کے مقررہ طریقۂ کار سے متعلق تربیت بھی دی جائے گی۔ خواجہ سرا افراد کے لیے روزگار کے مواقع وسیع کرنے کے لیے اوڈیشہ کی اس پیش قدمی کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا ہے۔ اس اقدام نے دوسروں کے لیے بھی ایک نئی راہ ہموار کی ہے اور یہ دکھایا ہے کہ شمولیتی شرکت کس طرح بہتر صفائی ستھرائی کی بنیاد بن سکتی ہے۔

سووچھتا کا گہرا مفہوم

یہ داستانیں ظاہر کرتی ہیں کہ سووچھتا محض صاف ستھرا ماحول بنانے تک محدود نہیں۔ یہ روزگار، شمولیت اور معاشرے میں شناخت و پہچان کے نئے دروازے بھی کھول سکتی ہے۔ حقیقی تبدیلی صرف اس بات میں نہیں کہ کچرے کے ساتھ کیا ہوتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ اسے سنبھالنے والے لوگوں کے لیے کیا کچھ ممکن ہو جاتا ہے۔ جب وہ لوگ، جو کبھی معاشرے کے حاشیے پر دھکیل دیے گئے تھے، سووچھتا کے مرکز میں اپنا مقام بناتے ہیں تو صفائی کا مفہوم بھی مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی مشترکہ کوشش بن جاتی ہے جس کی بنیاد عزت نفس، مواقع اور معاشرے سے وابستگی کے احساس پر قائم ہوتی ہے۔

حوالہ جات

جل شکتی کی وزارت

https://www.pib.gov.in/newsite/erelcontent.aspx?lang=2&reg=48&relid=294881

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

پی آئی بی ریسرچ

******

(Features ID: 160256) आगंतुक पटल : 4
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी