• Sitemap
  • Advance Search
Rural Prosperity

جب  سوچھتا عوامی تحریک بن گئی

اجتماعی اقدامات اور رویوں میں تبدیلی سے دیہی صفائی ستھرائی میں نمایاں تبدیلی آئی

Posted On: 20 SEP 2026 11:58AM

کئی دہائیوں تک دیہی صفائی ستھرائی ملک بھر میں ترقی سے متعلق ایک مستقل مسئلہ بنی رہی۔ 2014 میں سوچھ ہندوستان مشن (ایس بی ایم) کے آغاز کے وقت صفائی ستھرائی کا دائرہ صرف 39 فیصد تھا۔ 2019 تک دیہی ہندوستان میں صفائی ستھرائی کی 100 فیصد کوریج حاصل کرلی گئی۔ 2014 سے 2019 کے درمیان 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 10.28 کروڑ سے زیادہ بیت الخلا تعمیر کیے گئے۔ اس کے بعد 2019 میں دیہی ہندوستان کو کھلے میں رفع حاجت سے پاک (او ڈی ایف) قرار دیا گیا۔اس حصولیابی نے ہندوستان میں صفائی ستھرائی کے منظرنامے کی نوعیت بدل دی۔ توجہ گھریلو بیت الخلا تک رسائی پر زور دینے سے ہٹ کر صفائی ستھرائی کے طریقوں کو پائیدار بنانے اور گاؤں کی سطح پر  فضلے کو ٹھکانے لگانے سے متعلق وسیع تر امور پر مرکوز ہوگئی۔ یہی سوچھ ہندوستان مشن۔گرامین کے دوسرے مرحلے کی توجہ کا مرکز  رہا۔ اس مرحلے میں او ڈی ایف کی حیثیت برقرار رکھنے اور ٹھوس و مائع  فضلہ کو ٹھکانے لگانے کے نظام کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جارہی ہے۔

اس توجہ کے اثرات اب ہندوستان کے گاؤں میں نمایاں طور پر نظر آرہے ہیں۔ او ڈی ایف پلس گاؤں نہ صرف کھلے میں رفع حاجت سے پاک حیثیت برقرار رکھتا ہے بلکہ ٹھوس اور مائع  فضلے کو موثر طریقے سے ٹھکانے لگاتاہے   جبکہ ظاہری  طور پرصفائی ستھرائی کو بھی برقرار ر کھتا ہے۔ او ڈی ایف پلس گاؤں کی حیثیت برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ان گاؤں کو پیش رفت کی تین سطحوں: خواہش مند‘، ’ترقی پذیر‘ اور ’مثالی‘ میں تقسیم کیا گیا ہے۔خواہش مند گاؤں ٹھوس یا مائع فضلےمیں سے کسی ایک کو ٹھکانے لگانے کا انتظام کرتے ہیں۔ ترقی پذیر گاؤں ٹھوس اور مائع دونوں طرح کے  فضلے کو ٹھکانے لگانے کا انتظام کرتے ہیں۔ مثالی گاؤں دونوں طرح کے  فضلے کو ٹھکانے لگانے کےانتظام کے علاوہ ظاہری طور پر صفائی ستھرائی کا بھی مظاہرہ کرتے ہیں اور او ڈی ایف پلس سے متعلق پیغامات آویزاں کرتے ہیں۔

 مورخہ 17 ستمبر 2026 تک ہندوستان میں 5.69 لاکھ او ڈی ایف پلس گاؤں کا ہدف حاصل کرلیا گیا ہے، جن میں سے 5.25 لاکھ گاؤں نے او ڈی ایف پلس مثالی گاؤں کا درجہ حاصل کرلیا ہے۔ اس کے علاوہ، 5.38 لاکھ گاؤں میں ٹھوس فضلے کو ٹھکانے لگانے کے انتظامات قائم کیے جاچکے ہیں، جبکہ 5.65 لاکھ گاؤں میں مائع فضلہ کے بندو بست کے نظام قائم کیے گئے ہیں۔ اس وقت 582 اضلاع میں 1,314 گوبر دھن بایو گیس پلانٹ کام کررہے ہیں۔ گھریلو سطح پر 12.22 کروڑ انفرادی بیت الخلا اور 98,273 بایو گیس پلانٹ تعمیر کیے جاچکے ہیں۔

گوبر دھن (نامیاتی حیاتیاتی زرعی وسائل سے اثاثہ پیدا کرنا)

سوچھ ہندوستان مشن-گرامین(ایس بی ایم-جی) کے دوسرے مرحلے کے تحت ایک اہم جامع پہل، جس کے ذریعے مویشیوں کے گوبر، زرعی فصلوں کی باقیات اور نامیاتی فضلہ کو بایو گیس، کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی) اور نامیاتی کھاد یا بایو سلری میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

بیت الخلا کی تعمیر سے لے کر رویوں میں تبدیلی تک

قومی سطح کے یہ اعداد و شمار انفرادی اور اجتماعی سطح پر رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں، کیونکہ پائیدار تبدیلی روزمرہ کے رویوں سے شروع ہوتی ہے۔ بیت الخلا کا مقصد اسی وقت موثر ثابت ہوتا ہے جب  کنبے اسے استعمال کرنے، صاف رکھنے اور اس کی سہولت کو برقرار رکھنے کا انتخاب کریں۔ اسی طرح فضلہ کا مؤثر انتظام بھی انفرادی  کنبوں کے فیصلوں اور معمولات سے شروع ہوتا ہے۔اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے، سوچھ ہندوستان مشن-گرامین(ایس بی ایم-جی) نے او ڈی ایف کے نتائج کو برقرار رکھنے کے لیے رویوں میں تبدیلی سے متعلق تشہیر (بی سی سی) کو مرکزی حیثیت دی ہے۔ کنبوں کو بیت الخلا کے محفوظ استعمال اور فضلہ کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کے طریقے اپنانے، صفائی ستھرائی کی موزوں ٹیکنالوجی کو سمجھنے اور کھاد کےگڑھوں یا بایو گیس پلانٹ کے ذریعے گیلے فضلہ کا انتظام کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔توجہ روزمرہ کی حفظان صحت سے متعلق معمولات پر بھی مرکوز ہے، جن میں ہاتھ دھونا، پانی کو محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنا، صفائی ستھرائی کی سہولیات کو برقرار رکھنا اور عوامی مقامات پر  گندگی پھیلانے اور تھوکنے سے گریز کرنا شامل ہے۔ اس طرح صفائی ستھرائی محض بنیادی ڈھانچے کی فراہمی تک محدود نہیں رہتی، بلکہ روزمرہ کے ایسے معمولات کا مجموعہ بن جاتی ہے جنہیں گھرانوں میں اپنایا جاتا ہے، برادریوں کے ذریعے تقویت ملتی ہے اور اجتماعی رویوں کے ذریعے برقرار رکھا جاتا ہے۔

جب خواتین تبدیلی کی محرک  بن گئیں

خواتین اس تبدیلی کے عمل میں مرکزی کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ صفائی ستھرائی کا براہ راست تعلق خواتین کی نجی زندگی، تحفظ، وقار اور صحت سے ہے۔ وہ محض ان اقدامات کی مستفیدین نہیں ہیں بلکہ ترقی کے عمل میں فعال شراکت دار اور سماجی تبدیلی کی محرک بھی ہیں۔سوچھ ہندوستان مشن-گرامین(ایس بی ایم –جی) کی رہنما ہدایات میں سوچھاگرہی کے طور پر خواتین کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے۔ ان ہدایات میں دین دیال انتودیہ یوجنا-قومی دیہی روزگار مشن (ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) کے تحت  اپنی مدد آپ گروپ (ایس ایچ جی) کو بھی رویوں میں تبدیلی سے متعلق تشہیر کے اہم پلیٹ فارم کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔سوچھاگرہی کنبوں اور برادریوں کے ساتھ قریبی تعاون کرتے ہوئے کنبوں کو بیت الخلا کے استعمال کو اپنانے اور برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ گھر گھر رابطہ مہم، بیداری کی سرگرمیاں اور صفائی ستھرائی کی تصدیق کا کام بھی انجام دیتی ہیں۔ عوام پر مبنی اس  شراکت داری کے ذریعے وہ صفائی ستھرائی سے متعلق اقدامات کو روزمرہ کے پائیدار معمولات میں تبدیل کرنے میں مدد کرتی ہیں۔

تصویر 2:  اپنی مدد آپ گروپ(ایس ایچ جی ) کی خواتین پلاسٹک فضلہ جمع کرتے ہوئے

تصویر 1: سوچھاگرہی عوامی حفظان صحت کو فروغ دیتے ہوئے

خواتین کی اجتماعی کوششوں نے صفائی ستھرائی سے متعلق بیداری کو مسلسل اجتماعی اقدامات میں تبدیل کرنے میں مدد کی ہے۔ مغربی بنگال کے ہاوڑہ میں  اپنی مدد آپ گروپوں( ایس ایچ جی) نے گنگا سے متصل 18 گرام پنچایتوں میں پلاسٹک ہٹانے کے پروگرام میں معاونت کی، جس کے تحت 18 دنوں کے اندر 9.32 ٹن پلاسٹک فضلہ جمع کیا گیا۔ اس پہل کے ذریعے اپنی مدد آپ گروپوں کی فیڈریشن کے توسط سے پلاسٹک جمع کرنے کا ایک باقاعدہ نظام بھی قائم کیا گیا۔ اس کے تحت منتخب نمائندوں، پنچایت کے اہلکاروں، سماج کے لوگوں اور بازار کے دکانداروں کو ایک ساتھ لاکر فضلہ  کو ٹھکانے لگانے  کےسلسلے میں اجتماعی کارروائی کو مضبوط بنایا گیا۔

خواتین صفائی ستھرائی کے کارکنوں، کاروباری افراد اور مقامی خدمات فراہم کرنے والوں کے طور پر بھی سامنے آئی ہیں۔ اتر پردیش کے گورکھپور میں  اپنی مدد آپ گروپوں ( ایس ایچ جی)سے وابستہ تقریباً ایک درجن خواتین وسائل کی بازیابی کے مرکز کا انتظام کرتی ہیں، جہاں وہ گھریلو  فضلہ جمع کرکے اسے گیلے اور خشک فضلہ میں الگ کرتی ہیں۔ گیلے فضلہ کو کینچوؤں سے تیار کی جانے والی نامیاتی کھادمیں تبدیل کیا جاتا ہے، جبکہ خشک فضلہ کو فروخت کے لیے بھیجا جاتا ہے، جس سے خواتین کو اجرت اور اضافی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ مدھیہ پردیش کے بھوپال میں کلسٹر سطح کی فیڈریشن ایک مٹیریل ریکوری سہولت چلا رہی ہے۔ اس سہولت پر جمع کیے جانے والے پلاسٹک فضلہ کی خرید و فروخت کے لیے سوچھ  بھارت مشن-گرامین کے ساتھ مفاہمت نامے کے ذریعے تعاون فراہم کیا گیا ہے۔ صفائی ستھرائی کے شعبے میں خواتین کی شرکت سے متعلق بیداری اور فعلیت سے آگے بڑھ کر عمل درآمد، فضلہ کے انتظام، روزگار اور آمدنی پیدا کرنے اور مقامی سطح پر فیصلہ سازی تک وسیع ہوگئی ہے۔

اسکول سے گھر تک رویوں میں تبدیلی

خواتین کی اجتماعی کوششوں کے علاوہ، اسکول بھی صفائی ستھرائی سے متعلق بیداری کو روزمرہ کے معمولات میں تبدیل کرنے کے لیے ایک اہم ادارے کے طور پر کام کرتے ہیں۔ وہ ایک ایسا منظم ماحول فراہم کرتے ہیں جہاں بچے حفظان صحت، صفائی ستھرائی اور فضلہ کو ٹھکانے لگانے سے متعلق عادات پیدا کرسکتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے گھروالوں اور معاشرے کے معمولات پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔ سوچھ ہندوستان مشن-گرامین (این بی ایم-جی)کے دوسرے مرحلے میں صفائی ستھرائی کے نتائج کو برقرار رکھنے کے لیے اسکولوں کو اہم اداروں کے طور پر واضح طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس میں قابل استعمال صفائی ستھرائی کی سہولیات اور حیاتیاتی طور پر گلنے والے فضلہ اور مائع فضلہ کے  بندو بست کی گنجائش رکھی گئی ہے۔جھارکھنڈ کے چاندِل میں ایک اسکول نے ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک پر پابندی عائد کی اور گرے واٹر یعنی باورچی خانوں اور غسل خانوں سے نکلنے والے گھریلو گندے پانی کے انتظام کے لیے ایک سوک پٹ(جذب کرنے والے گڑھے) تعمیر کیا۔ اساتذہ بھی ذاتی حفظان صحت اور بلوغت سے متعلق مسائل پر طلبہ سے باقاعدگی سے بات چیت کرتے ہیں۔ ایسی کوششیں رویوں میں تبدیلی کے دو طرفہ عمل کو فروغ دیتی ہیں۔ بچے اسکول میں صفائی ستھرائی سے متعلق عادات سیکھتے اور اپناتے ہیں اور ان عادات کو اپنے گھروں تک لے جاتے ہیں، جبکہ خاندان بھی صفائی ستھرائی اور فضلہ کے ذمہ دارانہ بندو بست کی وسیع تر ثقافت کا حصہ بن جاتے ہیں۔

بچوں کا کردار بھی صفائی ستھرائی کے لیے نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی ایک وسیع تر تحریک تک وسعت پارہا ہے۔ سوچھتا ہی سیوا 2026 میں رویوں میں مستقل تبدیلی کے مرکز میں طلبہ اور نوجوانوں کو رکھا گیا ہے۔ اسکولوں اور تعلیمی اداروں کو صفائی ستھرائی کو ایک سنسکار یعنی اچھی عادت اور اقدار کے طور پر فروغ دینے کی جگہوں کے طور پر تیار کیا جارہا ہے۔ سرگرمیوں میں سوچھتا گیان یاترا، اسکول سمواد اور فضلہ کو اس کے ماخذ پر الگ کرنے کے عملی مظاہرے شامل ہیں۔ طلبہ سوچھتا ایوم جل سمواد میں بھی شرکت کریں گے اور ٹھوس فضلہ کو ٹھکانے لگانے سے متعلق قواعد 2026 کے بارے میں معلومات حاصل کریں گے۔ اس طریقہ کار کے ذریعے اسکول سے گھر تک رویوں میں تبدیلی کا سلسلہ مزید وسیع ہوکر اسکول سے  معاشرے تک ایک اجتماعی تحریک کی شکل اختیار کرتا ہے۔

روایتی سوچھتا کے دائرے سے آگے بڑھنے کے اقدامات

دلچسپ بات یہ ہے کہ بچے سوچھ ہندوستان مشن-گرامین( ایس بی ایم-جی) کو روایتی صفائی ستھرائی سے آگے لے جارہے ہیں۔ جھارکھنڈ میں بچوں کی کابینہ کے ارکان نے ماہواری کے دوران حفظان صحت کے انتظام (ایم ایچ ایم) سے متعلق سرگرمیوں کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ ایک اسکول میں طالبات سینیٹری پیڈز کا اسٹاک رجسٹر برقرار رکھتی ہیں، جبکہ بچوں کی کابینہ کے ارکان ان کی باقاعدہ دستیابی یقینی بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ، جھیکپانی میں بچوں کی کابینہ کی وزرا نے اسکول انتظامیہ کے سامنے ماہواری سے متعلق حفظان صحت کی ایک  لیباریٹری قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔  اس کے علاوہ اسکول کے فنڈز اور بیرونی وسائل کی معاونت سے یہ لیباریٹری قائم کی گئی۔

جب ایک  گاؤں نے خود ذمہ داری سنبھالی

جیسے جیسے صفائی ستھرائی کے معمولات کنبوں اور اسکولوں میں گہری پکڑ بناتے جا رہے ہیں، انہیں اجتماعی سطح پر برقرار رکھنے کے لیے اجتماعی نظام اور اداروں کی ضرورت بھی بڑھتی جاتی ہے۔ گھریلو فضلہ کو جمع کرنا، الگ کرنا اور اس کا مناسب انتظام کرنا ضروری ہے؛ گرے واٹر( باورچی خانوں اور غسل خانوں سے نکلنے والا پانی) کے لیے مناسب نکاسی اور  ٹھکانے لگانے کا نظام  درکار ہے؛ اور عوامی مقامات کی باقاعدگی سے دیکھ بھال ضروری ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں گرام پنچایت مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ سوچھ ہندوستان مشن-گرامین کے تحت گرام پنچایتیں گاؤں کی سطح پر صفائی ستھرائی کی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کی ذمہ دار ہیں۔ ان کا کردار بنیادی ڈھانچے کی فراہمی سے آگے بڑھ کر  معاشرے کو متحرک کرنے، صفائی ستھرائی سے متعلق ضرورت پیدا کرنے، حفظان صحت کو فروغ دینے، معلومات، تعلیم اور تشہیر (آئی ای سی) اور صلاحیت سازی تک پھیلا ہوا ہے۔ اس طرح گرام پنچایت ایک ایسا ادارہ جاتی نظام فراہم کرتی ہے جو انفرادی معمولات کو اجتماعی صفائی ستھرائی کے نتائج سے جوڑتا ہے۔

 

گاؤں کی پانی اور صفائی ستھرائی کمیٹیاں (وی ڈبلیو ایس سیز) بھی گاؤں کی سطح کے اس ادارہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔ یہ کمیٹیاں گاؤں کی منصوبہ بندی، عوامی شمولیت، عمل درآمد، نگرانی اور رویوں میں تبدیلی کے لیے معاونت فراہم کرتی ہیں۔ اجتماعی ذمہ داری کے ایسے اثرات ہریانہ کی گڈلی گرام پنچایت میں واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں، جس نے ایک منظم طریقہ کار پر مبنی اجتماعی عمل کے ذریعے او ڈی ایف پلس مثالی گاؤں کا درجہ حاصل کیا۔ سرپنچ کانتا کنور نے صفائی ستھرائی کمیٹی کے ساتھ مل کر اجتماعی اور الگ الگ بیت الخلا، پورے گاؤں میں نکاسی آب کا نظام اور پانچ تالابوں کے ذریعے گرے واٹر  کو ٹھکانے لگانے  کا انتظام قائم کیا۔ گاؤں نے گوبر دھن بایو گیس پلانٹ بھی اپنائے، جن کے ذریعے گائے کے گوبر کو کھاد اور بایو گیس میں تبدیل کیا جاتا ہے اور اس سے حاصل ہونے والی سلری کو زراعت میں استعمال کیا جاتا ہے۔ عوامی  جلسوں، میٹنگوں اور اعلانات کے ذریعے ان معمولات کو مزید مضبوط کیا گیا۔ گڈلی اس بات کی مثال پیش کرتا ہے کہ مقامی اداروں اور اجتماعی اقدامات کی معاونت سے انفرادی صفائی ستھرائی کے معمولات کس طرح پورے گاؤں پر محیط صفائی ستھرائی کے نظام میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔

لوگ قیادت کرتے ہیں، ادارے اسے پائیدار بناتے ہیں

لوگوں کی قیادت میں چلنے والی صفائی ستھرائی کی تحریک کو سرکاری اداروں کی جانب سے مالی اعانت، مختلف منصوبوں کے باہمی اشتراک اور صلاحیت سازی کے ذریعے تعاون حاصل ہے۔ سوچھ ہندوستان مشن-گرامین کے لیے وسائل سرکاری بجٹ، مالیاتی کمیشن کی گرانٹس، روزگار کے لیے وکست  بھارت اور اجیویکا  گارنٹی مشن (گرامین) کے فنڈز اور آمدنی پیدا کرنے کے دیگر ذرائع سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ دین دیال انتودیہ یوجنا-قومی دیہی روزگار مشن ( ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے  اپنی مدد آپ  گروپوں اور کلسٹر سطح کی فیڈریشنوں( سی ایل ایف) کو شامل کیا جاتا ہے، جبکہ ہنرمندی کے فروغ کے اقدامات فیلڈ سطح پر کام کرنے والے عملے کی صلاحیتوں کو مضبوط بناتے ہیں اور جل جیون مشن گرے واٹر کے انتظام میں معاونت فراہم کرتا ہے۔یہ کثیر سطحی ادارہ جاتی نظام اجتماعی اقدامات کو سرکاری معاونت سے جوڑتا ہے: گرام پنچایتیں عمل درآمد کی قیادت کرتی ہیں، بلاک سطح کے ادارے رہنمائی اور مسلسل معاونت فراہم کرتے ہیں، ضلعی سطح کے ادارے تکنیکی معاونت فراہم کرتے ہیں، جبکہ ریاستیں اور مرکز مالی  معاونت، مختلف منصوبوں کے باہمی اشتراک اور اقدامات کو بڑے پیمانے پر وسعت دینے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

صفائی ستھرائی ایک اجتماعی معمول بن گئی

جن بھاگیداری صفائی ستھرائی کو مشترکہ اجتماعی ذمہ داری کے طور پر مزید مضبوط بناتی ہے۔ صفائی ستھرائی کی مہمات میں پنچایت نمائندوں،  اپنی مددد آپ گروپوں، نوجوانوں، اسکولوں اور مقامی لوگوں کو ایک ساتھ لایا جاتا ہے، تاکہ اجتماعی ذمہ داری کے جذبے کو باقاعدہ عملی اقدامات میں تبدیل کیا جاسکے۔ کرناٹک کی سوچھ سنیوار ایسی ہی ایک مثال ہے۔ ہر مہم سے قبل پنچایت نمائندے گاؤں  کے لوگوں ، نوجوانوں کے گروپوں، باہمی امداد کے اداروں اور اپنی مدد آپ گروپوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں۔ ہر ماہ کے پہلے ہفتے کے روز لوگوں، اسکولوں، آنگن واڑی مراکز، اسپتالوں، دفاتر، آبی ذرائع، مندروں اور دیگر عوامی مقامات پر صفائی ستھرائی کی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔ ان سرگرمیوں میں شرمدان، فضلہ کو الگ کرنا، نالیوں کی صفائی، کھاد کے گڑھوں کے لیے مقامات کی نشاندہی اور دیواروں پر تحریروں کے ذریعے صفائی ستھرائی کے پیغامات کو مزید پھیلانا شامل ہے۔

سوچھتا ہی سیوا: عوامی شرکت کو عوامی تحریک میں تبدیل کرنا

2017 میں شروع کی گئی سوچھتا ہی سیوا (ایس ایچ ایس) صفائی ستھرائی میں شہریوں کی شرکت کو فروغ دینے والی ایک سالانہ مہم ہے۔ اس مہم کے ذریعے سرکاری اداروں، مقامی اداروں، تنظیموں اور شہریوں کو صفائی ستھرائی کی مشترکہ ذمہ داری کے لیے ایک پلیٹ فارم پر لایا جاتا ہے۔ یہ مہم روزمرہ زندگی میں صفائی ستھرائی کو معمول بنانے کی ترغیب دے کر جن بھاگیداری کے طریقہ کار کو مزید مضبوط بناتی ہے۔سوچھتا ہی سیوا 2025 میں 18.06 کروڑ سے زیادہ شہریوں نے شرکت کی۔ سوچھتا ہی سیوا 2026 کا آغاز 17 ستمبر سے ہوگا۔ اس کا موضوع‘‘ سوچھتا میں سہ بھاگ صفائی؛ سوچھ  بھارت، وکست  بھارت‘‘ ہے۔ یکم اکتوبر کو ’’ایک دن، ایک گھنٹہ، ایک ساتھ‘‘ کے تحت شہری اجتماعی شرمدان کریں گے۔ 2 اکتوبر کو گاؤں میں خصوصی گرام سبھائیں اور صفائی ستھرائی سے متعلق بیداری پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ یہ مہم صاف ستھرے عوامی مقامات اور مسلسل صفائی ستھرائی کے لیے اجتماعی اقدامات کو بھی فروغ دے گی۔

صفائی ستھرائی سے تشکیل پاتی ایک نئی معیشت

جیسے جیسے اجتماعی صفائی ستھرائی کے نظام تشکیل پاتے ہیں، ویسے ویسے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے بیتول میں ببیتا دھروے نے گھریلو فضلے جمع کرنے کے ذریعے روزگار کا موقع حاصل کیا۔ 2021 میں اپنے دونوں والدین کو کھونے کے بعد انہوں نے گرام پنچایت سے رابطہ کیا اور فضلہ جمع کرنے کے لیے ای رکشا چلانے کی اجازت طلب کی۔ ابتدا میں لوگوں کی مخالفت کے باوجود انہوں نے گاڑی چلانا سیکھا اور ضلع کی پہلی خاتون ای رکشا فضلہ جمع کرنے والی کارکن بن گئیں۔ اس طرح وہ اپنے گاؤں میں رہتے ہوئے روزگار کمانے کے قابل ہوئیں۔ بیتول میں اب تقریباً 100 گرام پنچایتیں فضلہ جمع کرنے والی گاڑیوں کا استعمال کررہی ہیں۔ یہ پہل ظاہر کرتی ہے کہ صفائی ستھرائی کے نظام کس طرح گاؤں کی صفائی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مقامی روزگار کے مواقع بھی پیدا کرسکتے ہیں۔صفائی ستھرائی سے روزگار کی صلاحیت صرف فضلہ کے انتظام تک محدود نہیں بلکہ صفائی ستھرائی کے بنیادی ڈھانچے کو برقرار رکھنے کے لیے درکار ہنر اور خدمات تک بھی پھیلی ہوئی ہے۔ مغربی بنگال کے نادیہ میں بیت الخلا کی تعمیر میں اضافے کے باعث تربیت یافتہ راج مستریوں کی مانگ بڑھی، جس کے نتیجے میں راج مستریوں کی تربیت کے دو ادارے قائم کیے گئے۔ تقریباً 2,400 مردوں اور خواتین کو بیت الخلا کی تعمیر کی تربیت دی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صفائی ستھرائی تعمیرات، فضلہ جمع کرنے، ان کے  نقل و حمل، فضلہ کی پروسیسنگ اور دیکھ بھال سمیت مقامی سطح پر روزگار کے ایک وسیع نظام کو فروغ دے سکتی ہے۔

 ایس بی ایم -جی فضلہ کو وسائل میں تبدیل کررہا ہے

جیسے جیسے صفائی ستھرائی کے نظام وسعت پارہے ہیں، ویسے ویسے معاشرے کی قیادت میں ہونے والی کوششوں کے لیے مناسب بنیادی ڈھانچے اور تکنیکی معاونت کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔ گجرات کا ویدانچا اس بات کی مثال پیش کرتا ہے کہ کس طرح  لوگوں کی ضرورت مقامی سطح پر تیار کیے گئے گندے پانی کے انتظام کے نظام میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ یہاں گرے واٹر کے نکاسی کا نظام مقامی زمین اور پانی کے بہاؤ کے طریقوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا، جبکہ مقامی ٹھیکیداروں نے اس کے نفاذ میں معاونت فراہم کی۔

تصویر 3: ویدانچا میں گرے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ

اس کے چلانے اور دیکھ بھال کے لیے بھی مقامی سطح پر انتظام کیا گیا۔ گرام پنچایت کے ارکان، آپریٹروں اور اس میں حصہ لینے والے شہریوں کو بھی اس نظام کے انتظام کی تربیت دی گئی۔ یہ نظام روزانہ 200 کلو لیٹر گرے واٹر کو ٹھکانے لگانے کا کام کرتا ہے، جبکہ صاف کیے گئے پانی کو آب پاشی اور زیر زمین پانی کی سطح  بحال کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ گرام پنچایت کو کمپوسٹ اور صاف کیے گئے پانی کے دوبارہ استعمال سے سالانہ تقریباً 2.5 لاکھ روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس پہل سے عوامی صحت میں بھی بہتری آئی ہے، جس میں پانی سے پھیلنے والی بیماریوں اور مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے پھیلاؤ میں کمی بھی شامل ہے۔ یہ  مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ صفائی ستھرائی کا دائرہ فضلہ کو ٹھکانے لگانے اور وسائل کی بازیابی سے آگے بڑھ کر ماحولیاتی پائیداری اور مقامی سطح پر قدر پیدا کرنے تک وسیع ہوسکتا ہے۔

لہذا، دیہی صفائی ستھرائی کا حتمی مقصد رویوں میں پائیدار تبدیلی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔ او ڈی ایف پلس گاؤں کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف او ڈی ایف کی حیثیت برقرار رکھے بلکہ ٹھوس اور مائع فضلہ کو ٹھکانے بھی لگائے اور صاف ستھرا ماحول برقرار رکھے۔ اس طرح ہندوستان کا صفائی ستھرائی کا سفر رسائی سے استعمال اور استعمال سے پائیداری کی جانب آگے بڑھا ہے۔

سوچھ ہندوستان کی پائیدار کامیابی کا پیمانہ صرف تعمیر کیے گئے بنیادی ڈھانچے میں نہیں بلکہ اس بات میں بھی ہے کہ صفائی ستھرائی لوگوں اور معاشرے کے ذریعے روزمرہ کے معمول کے طور پر کس حد تک برقرار رہتی ہے۔ ’’صاف ستھرے گاؤں   لوگوں کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کے ذریعے تعمیر کیے جاتے ہیں۔

حوالہ جات

جل شکتی کی وزارت

پائیدار

https://gobardhan.sbm.gov.in/

https://sbm.gov.in/SBMGDashboard/StatesDashboard.aspx

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1820414&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/newsite/PrintRelease.aspx?relid=151337&reg=48&lang=2

https://swachhbharatmission.ddws.gov.in/sites/default/files/Technical-Notes/Voices-from-the-States-29-April-2023.pdf

https://swachhbharatmission.ddws.gov.in/sites/default/files/Guidelines/SBMG%20Phase-II%20Operational%20Guidelines.pdf

PIB Backgrounders

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2191618&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=160036&ModuleId=3&reg=3&lang=1

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

****

ش ح۔  م ش ۔ ش ب ن

U.NO.3827

(Features ID: 160054) आगंतुक पटल : 8
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Malayalam