Infrastructure
آگاہی سے ذمہ داری تک
دریاؤں کے تحفظ کے لئے عوامی تحریک کی تشکیل
Posted On:
01 SEP 2026 5:09PM
صدیوں سے گنگا ہندوستان کی تہذیب، ثقافت اور روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ رہی ہے۔
اس نے نسل در نسل آبادیوں کی پرورش کی، لوگوں کے روزگار کے ذرائع کو سہارا دیا اور روایات کو فروغ دیا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتے ہوئے شہروں، آلودگی اور غیر منصوبہ بند شہری توسیع نے دریا پر بڑھتا ہوا دباؤ ڈالا۔ اس صورتحال نے دریا کی ماحولیاتی صحت کو بہتر بنانے اور لوگوں کے ساتھ اس کے تعلق کو مضبوط کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔لہٰذا گنگا کی بحالی کے لیے صرف اس کے پانی کی صفائی کافی نہیں، بلکہ اس کے تحفظ کے لیے ایک وسیع تر نقطۂ نظر کی ضرورت ہے۔ یہی وسیع تر تصور نمامی گنگے پروگرام (این جی پی) کی بنیاد ہے جس کا آغاز 2014 میں کیا گیا تھا۔
یہ پروگرام گنگا اور اس کی معاون ندیوں کے لیے ایک مربوط تحفظاتی مشن ہے، اس کے تحت آلودگی میں کمی، تحفظ اور دریاؤں کی بحالی کو ایک ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ نمامی گنگے پروگرام کے تحت سیوریج ٹریٹمنٹ، دریا کے کناروں کو فروغ، شجرکاری اور دیگر اقدامات کیے جاتے ہیں۔ سائنسی نگرانی اور عوامی آگاہی اس مربوط کوشش کو مزید مؤثر بناتے ہیں۔ تاہم، دیرپا تبدیلی ایک ایسے شراکت دار کے بغیر ممکن نہیں جس کے بغیر کوئی بھی پروگرام کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہ شراکت دار خود عوام اور مقامی برادری ہے۔ اسی یقین سے جن گنگانے جنم لیا، جو نمامی گنگے پروگرام میں عوامی شرکت کا ایک اہم ستون ہے۔ جن بھاگیداری کے تصور سے متاثر ہو کر، یہ اقدام دریاؤں کے تحفظ کے عمل میں لوگوں کو مرکزنگاہ بناتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نمامی گنگے کی کہانی عوام کی کہانی بن جاتی ہے-ایک ایسی کہانی جو آگاہی سے شرکت اور بالآخر ذمہ داری اور اپنائیت کی طرف بڑھتی ہے۔
دریا کے ساتھ متحد: عوامی شراکت داری کی کہانیوں کا جشن
دریا لوگوں کو ماحولیاتی اقدامات سے کہیں آگے بڑھ کر بھی ایک دوسرے سے جوڑ سکتا ہے۔ اس کے کنارے ایسی جگہیں بن جاتی ہیں جہاں قبائل ایک دوسرے سے ملتی ہیں، اجتماعی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں اور دریا کے ساتھ اپنے مشترکہ تعلق کو مناتی ہیں۔جن گنگا صفائی مہمات، شجرکاری مہمات اور تعلیمی اقدامات کے ذریعے ایسے مواقع فراہم کرتا ہے۔ یہ سرگرمیاں دریا کے تحفظ کو کسی ایک فرد کی الگ تھلگ ذمہ داری کے بجائے ایک اجتماعی تجربے اور مشترکہ ذمہ داری میں تبدیل کر دیتی ہیں۔
این جی پی کے تحت عوامی شراکت داری کی واضح ترین مثالوں میں سے ایک دریا کی صفائی ہے۔ گنگا سوچھتا پکھواڑہ اس پیغام کو عام کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ہر سال 16 سے 31 مارچ تک منائے جانے والے اس پندرہ روزہ پروگرام کے ذریعے گنگا کے مرکزی طاس سے وابستہ پانچ اہم ریاستوں میں ہزاروں افراد تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔ ان ریاستوں میں اتراکھنڈ، اتر پردیش، بہار، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال شامل ہیں۔ اس کے علاوہ قومی دارالحکومت علاقہ دہلی اور گنگا کی معاون ندیوں کے کنارے واقع قصبے بھی اس پروگرام کا حصہ ہیں۔طلبہ، رضاکار، کمیونٹی گروپس اور دیگر متعلقہ فریق باہمی رابطے کے ساتھ مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، جس سے دریا کے تحفظ کے لیے عوامی شمولیت اور اجتماعی ذمہ داری کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے۔
اس تسلسل کو دہلی میں دریائے جمنا کے کنارے باقاعدگی سے منعقد ہونے والی ہفتہ وار صفائی مہمات کے ذریعے مزید مستحکم کیا جا رہا ہے۔ یہ مہمات براہ راست دریا کے صاف ستھرے حصوں اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔مجموعی طور پر، ایسی کوششیں دریا کے تحفظ کو صرف مخصوص مواقع تک محدود سرگرمی کے بجائے روزمرہ کی شہری ذمہ داری اور باقاعدہ اجتماعی عمل بنانے میں مدد دے رہی ہیں۔


جیسے جیسے برادریاں اور قبائل دریا کے صاف ستھرے حصوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں، ان کی توجہ دریا کے کناروں کی جانب بھی بڑھتی ہے۔ چنانچہ شجرکاری نمامی گنگے کے تحت عوامی شراکت داری کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔صحت مند نباتاتی پوشش دریا کے کناروں کو مستحکم رکھنے اور مٹی کے کٹاؤ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ ماحولیاتی فوائد دریاؤں اور ان کے گردونواح میں موجود قدرتی مسکنوں کی لچک اور پائیداری کو مضبوط بناتے ہیں۔
اس کوشش کو مزید تقویت دینے والی ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم نے شجرکاری کی سرگرمیوں میں عوامی شمولیت کو مزید گہرا کیا ہے۔ یہ مہم لوگوں کو اپنی ماؤں سے محبت اور عقیدت کے اظہار کے طور پر درخت لگانے کی ترغیب دیتی ہے۔یہ مہم ذاتی جذبات کو ماحول کے تحفظ کی اجتماعی ذمہ داری سے جوڑتی ہے۔ اس مضبوط تعلق نے افراد، خاندانوں اور برادریوں کو نئے عزم اور مقصد کے ساتھ ان سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی ہے۔یہی جذبہ عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر بھی نظر آتا ہے، جب شہری ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک ساتھ آتے ہیں۔ شجرکاری مہمات، آگاہی کی سرگرمیوں اور کمیونٹی اقدامات کے ذریعے یہ موقع ماحول کے تحفظ میں عوامی شرکت کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

کسی بھی تحریک کی مضبوطی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب اس کی اقدار اگلی نسل تک پہنچتی ہیں۔ اسی لیے جن گنگا میں نوجوانوں کی شمولیت کو ایک اہم مقام حاصل ہے۔اسکول، کالج اور یونیورسیٹیاں اب ماحولیاتی تعلیم اور تخلیقی اظہار کے لیے مختلف مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ اسٹوڈنٹس مضامین، مصوری، پوسٹرز، مباحثوں اور باہمی آگاہی پر مبنی پروگراموں کے ذریعے دریاؤں سے متعلق موضوعات کو دریافت کرتے ہیں اور ان پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔

تجرباتی سرگرمیاں اسٹوڈنٹس کو کلاس روم میں حاصل ہونے والے علم کو حقیقی دنیا میں درپیش ماحولیاتی چیلنجز سے جوڑنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ یونیورسٹی گنگا کلبز لیکچرز، مطالعاتی دوروں، رضاکارانہ خدمات اور عوامی رابطہ مہمات کے ذریعہ اس شمولیت کو مزید وسعت دیتے ہیں۔ایکو کلبز، این سی سی یونٹس اور تعلیمی ادارے بھی مسلسل عوامی شرکت کے لیے اضافی پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ تمام کوششیں ایسے باشعور اور باخبر نوجوان شہریوں کی تربیت میں مدد دیتی ہیں جو نصابی کتابوں اور کلاس رومز سے آگے بڑھ کر دریاؤں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہوں۔

نمامی گنگے پروگرام نے دریا کے تحفظ کو سال بھر منائے جانے والے مختلف سالانہ مواقع اور تقریبات کا حصہ بنا دیا ہے۔ یہ مواقع لوگوں کو پورے سال دریاؤں سے اپنے تعلق کو برقرار رکھنے اور ان کے تحفظ سے جڑے رہنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ان میں گنگا اتسو عوامی شمولیت کے لیے ایک نمایاں اور اہم پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا ہے۔ یہ تقریب گنگا کو ہندوستان کی قومی دریا کی حیثیت دئیے جانے کی یاد میں منعقد کی جاتی ہے۔ اس موقع پر ثقافتی پرفارمنس، نمائشیں، فنون لطیفہ کے مقابلے اور عوامی مکالمے منعقد کیے جاتے ہیں، جو لوگوں کو شرکت اور اجتماعی اظہار کے لیے مواقع فراہم کرتے ہیں۔دیگر تقریبات، جن میں سوچھتا ہی سیوا اور عالمی یوم یوگا شامل ہیں، بھی عوامی شمولیت کے مواقع کو مزید وسعت دیتی ہیں۔ یہ تمام سرگرمیاں لوگوں اور دریاؤں کے درمیان موجود دیرینہ ثقافتی تعلق کو مزید مضبوط اور مستحکم کرتی ہیں۔


دریاؤں کے ساتھ گہرا تعلق اکثر صرف آگاہی سے نہیں بلکہ براہ راست تجربے کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔ نمامی گنگے پروگرام نے دریا کے تحفظ کے جذبے کو عوامی زندگی کا حصہ بنانے کے لیے متعدد اختراعی اقدامات متعارف کرائے ہیں۔اس کی ایک نمایاں مثال بارڈر سکیورٹی فورس(بی ایس ایف) کی خواتین پر مشتمل دریائی رافٹنگ مہم تھی، جو دریائے گنگا کے ساتھ منعقد کی گئی۔ اس سفر میں گنگا کے بالائی علاقوں سے لے کر سمندر تک کا فاصلہ طے کیا گیا، جس نے حوصلے، باہمی تعاون اور ماحولیاتی عزم کی شاندار مثال پیش کی۔اس مہم نے گنگا کو محض ایک قدرتی وسیلے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے دریا کے طور پر پیش کیا جو لوگوں کی زندگیوں اور جذبات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ طلبہ، مقامی باشندوں اور نوجوان رضاکاروں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں نے مکالمے، خیالات کے تبادلے اور عوامی شمولیت کے لیے نئے مواقع پیدا کیے۔

گنگا کے طاس کے مختلف علاقوں میں گنگا پرہری ایسے پرعزم کمیونٹی رضاکاروں کے طور پر ابھرے ہیں جو مقامی سطح پر دریائے گنگا کے تحفظ کی کوششوں میں معاونت کر رہے ہیں۔ وہ مقامی باشندوں کے ساتھ مل کر ماحولیاتی آگاہی پھیلانے، ذمہ دارانہ طرز عمل کی حوصلہ افزائی کرنے اور مقامی حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں۔گنگا سیوا دوت ان کوششوں کو مزید تقویت دیتے ہیں اور اسکولوں، اداروں اور محلّوں تک عوامی رابطے کو وسعت دیتے ہیں۔ آگاہی مہمات اور مقامی اقدامات کے ذریعے وہ دریا کے تحفظ کو روزمرہ کی اجتماعی زندگی کے مزید قریب لانے میں مدد کرتے ہیں۔
آبی حیات کا تحفظ، قدرتی مسکنوں کی بحالی اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنا بھی لوگوں کے دریا کے ساتھ تعلق کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ یہ تمام رضاکارانہ نیٹ ورک مل کر جن بھاگیداری (عوامی شراکت داری) کے جذبے کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں شہری خود قیادت کرتے ہوئے دریا کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی کوششیں ظاہر کرتی ہیں کہ باشعور اور باخبر برادریاں اور قبائل کس طرح دریاؤں اور ان کے اردگرد کے ماحولیاتی نظام کی دیرپا محافظ بن سکتی ہیں۔


دریاؤں کی نگہداشت کا کلچر تشکیل دینا
دریا کی بحالی کی سب سے پائیدار میراث صرف ایک صحت مند دریا نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک مضبوط اور گہرا تعلق بھی ہے۔ بنیادی ڈھانچہ دریا کی صحت بحال کر سکتا ہے، سائنسی اقدامات ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور ٹیکنالوجی نگرانی اور انتظام کو بہتر بنا سکتی ہے۔ تاہم، دریاؤں کا طویل مدتی مستقبل ایک ایسی چیز پر منحصر ہے جسے صرف انجینئرنگ کے ذریعے پیدا نہیں کیا جا سکتا۔جن گنگا کے ذریعے نمامی گنگے پروگرام نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہر کوشش ایک بڑی اور وسیع تر تبدیلی میں اپنا حصہ ڈالتی ہے۔ یہ محض ایک ماحولیاتی مشن سے کہیں بڑھ کر ہے۔ جن بھاگیداری کے ویژن سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ اجتماعی اقدام کس طرح پائیدار ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
حوالہ جات
*****
ش ح-ظ الف -ا ش ق
UR No. 2910
(Features ID: 159815)
आगंतुक पटल : 3
Provide suggestions / comments