• Sitemap
  • Advance Search
Culture & Tourism

نیشنل فلم ایوارڈز

प्रविष्टि तिथि: 20 SEP 2026 12:49 AM

ہندوستانی سنیما کے جادو کو قوم کا خراجِ تحسین

 

نیشنل فلم ایوارڈز — ایک نظر میں

نیشنل فلم ایوارڈز سنیما کے شعبے میں بہترین کارکردگی کے لیے ملک کا سب سے باوقار اعزاز ہیں۔ 1954 میں قائم کیے گئے یہ ایوارڈز ہر سال وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے دیے جاتے ہیں۔ سات دہائیوں کے دوران ان ایوارڈز نے ہندوستانی فلم سازی میں نمایاں تخلیقی اور تکنیکی کامیابیوں کو تسلیم کیا ہے۔ یہ تین شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں، یعنی فیچر فلمیں، غیر فیچر فلمیں اور سنیما پر تحریر۔

72ویں نیشنل فلم ایوارڈز سال 2024 کے لیے ہندوستانی سنیما کی کامیابیوں کو اعزاز سے نوازتے ہیں۔ فاتحین کا اعلان 18 جولائی 2026 کو تینوں جیوریوں کے چیئرمینوں نے کیا۔ صدر جمہوریہ ہند 22 ستمبر 2026 کو گجرات کے ایکتا نگر (سابقہ کیوڈیا) میں ایوارڈز پیش کریں گے۔

یہ ایوارڈز ملک بھر میں فلم سازی کے بھرپور لسانی، ثقافتی اور علاقائی تنوع کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ بڑی تجارتی پروڈکشنز اور چھوٹی آزاد فلموں کو ایک ہی قومی پلیٹ فارم پر لاتے ہیں۔ یہی وسعت ان ایوارڈز کو فلم سازوں اور ناظرین، دونوں کے درمیان ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

ایک اہم پالیسی اقدام کے تحت وزارت نے ملک کے مختلف حصوں میں ایوارڈز کی تقریبات منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مستقبل کے ایڈیشن قومی دارالحکومت سے آگے بڑھ کر مختلف ریاستوں اور شہروں میں منعقد کیے جائیں گے۔ ایکتا نگر میں ہونے والی تقریب ملک بھر سے سنیما کے ٹیلنٹ کو ایک جگہ جمع کرے گی۔ یہ ’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘ کے جذبے کی عکاسی کرے گی۔

میراث اور ارتقاء — 1954 سے

ہندوستانی سنیما کا سفر 1913 میں دادا صاحب پھالکے کی فلم ’راجہ ہریش چندر‘ سے شروع ہوا۔ 1949 میں قائم کی گئی فلم انکوائری کمیٹی نے ’اسٹیٹ ایوارڈز فار فلمز‘ کے قیام کی سفارش کی۔ ان کا مقصد ہندوستانی سنیما میں فنکارانہ اور تکنیکی مہارت کو اعزاز دینا اور اس کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ یہ ایوارڈز 1954 میں قائم کیے گئے اور پہلے ایڈیشن میں 1953 میں بننے والی فلموں کو اعزاز سے نوازا گیا۔

نیشنل فلم ایوارڈز کا پہلا ایڈیشن

پہلے ایڈیشن میں تین زمروں کا احاطہ کیا گیا، یعنی فیچر فلمیں، دستاویزی فلمیں اور بچوں کی فلمیں۔ مراٹھی فلم ’شیامچی آئی‘ نے بہترین آل انڈیا فیچر فلم کے لیے صدر کا طلائی تمغہ جیتا۔ ’مہابلی پورم‘ نے بہترین دستاویزی فلم کے لیے صدر کا طلائی تمغہ حاصل کیا، جبکہ ’دو بیگھا زمین‘ کو میرٹ کا سرٹیفکیٹ (سندِ امتیاز)دیا گیا۔ سات اعزازات کے اس معمولی آغاز نے ہندوستانی سنیما کے لیے سات دہائیوں پر محیط قومی سطح پر اعتراف کا سفر شروع کیا۔

کینوس کو وسیع کرنا

1967 میں بننے والی فلموں کے لیے فنکاروں اور تکنیکی ماہرین کے لیے الگ سے ایوارڈز قائم کیے گئے۔ اتم کمار اور نرگس کو 1968 میں بالترتیب پہلے بہترین اداکار اور بہترین اداکارہ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس وقت بہترین اداکار کے ایوارڈ کو ’بھارت‘ اور بہترین اداکارہ کے ایوارڈ کو ’اروشی‘ کہا جاتا تھا۔ دادا صاحب پھالکے ایوارڈ 1969 میں قائم کیا گیا اور سب سے پہلے یہ ایوارڈ دیویکا رانی کو پیش کیا گیا۔ ہندوستانی سنیما کا دائرہ وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ نئے زمرے اور فنی و تکنیکی شعبے مسلسل ان ایوارڈز میں شامل کیے جاتے رہے۔

سال

سنگ میل

1913

دادا صاحب پھالکے نے راجہ ہریش چندر بنائی، جو ہندوستانی فلم سازی میں ایک سنگ میل ہے۔

1954

ایوارڈز کو فلموں کے ریاستی ایوارڈز( ’اسٹیٹ ایوارڈز فار فلمز‘) کے طور پر قائم کیا گیا۔ پہلا اعزاز 1953 کی فلموں کو دیا گیا۔

1967-68

فنکاروں اور تکنیکی ماہرین کے لیے ایوارڈز کا آغاز۔ اتم کمار اور نرگس نے بالترتیب بہترین اداکار اور بہترین اداکارہ کے پہلے اعزازات حاصل کیے۔

1969

دادا صاحب پھالکے ایوارڈ قائم کیا گیا۔ دیویکا رانی اس کی پہلی حقدار(یا وصول کنندہ) تھیں۔

1973

ڈائریکٹوریٹ آف فلم فیسٹیول ایوارڈز کا انتظام شروع کیا ۔

2022

ڈائریکٹوریٹ آف فلم فیسٹیولز کواین ایف ڈی سی میں ضم کر دیا گیا ، جو کہ موجودہ نافذ کرنے والا ادارہ ہے۔

2026

72 ویں ایوارڈز کا اعلان جولائی میں کیا  گیا ۔ یہ تقریب گجرات کے ایکتا نگر میں منعقد ہونے والی ہے۔

مقصد اور اہمیت

نیشنل فلم ایوارڈز کے مقاصد سرکاری ضوابط میں واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ ان کا مقصد جمالیاتی اور تکنیکی مہارت کے ساتھ ساتھ سماجی مطابقت رکھنے والی فلموں کی تیاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ یہ ایوارڈز ناظرین کو ملک کے مختلف خطوں کی ثقافتوں کو سمجھنے اور ان کی قدر کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس طرح یہ ایوارڈز قومی اتحاد اور سالمیت کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

یہ ایوارڈز ایک فن کے طور پر سنیما کے مطالعے اور اس کی تفہیم و قدر شناسی کی بھی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ کتابیں، مضامین اور فلمی جائزے وسیع تر قارئین تک اس فن کی تنقیدی تفہیم پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

پہچان کیوں اہمیت رکھتی ہے

قومی ایوارڈ اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ کسی فلم نے ملک کی جانب سے مقرر کردہ اعلیٰ ترین معیار پر پورا اترا ہے۔ یہ ناظرین کو ایسے کام کی جانب متوجہ کرتا ہے جو بصورت دیگر ناظرین کے ایک محدود حلقے تک ہی پہنچ پاتا۔ یہ اعزاز فلم ساز کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اور اس کے اگلے منصوبے کے لیے نئے مواقع کے دروازے کھولتا ہے۔

ایوارڈز کا ڈھانچہ

نیشنل فلم ایوارڈز تین حصوں میں دیے جاتے ہیں، جن کے ساتھ ایک تاحیات اعزاز بھی شامل ہے۔ فیچر فلم سیکشن مکمل طوالت کی فلموں کے لیے ہے، جبکہ غیر فیچر فلم سیکشن میں دستاویزی فلموں، مختصر فلموں، اینیمیشن اور دیگر متعلقہ اصناف کو شامل کیا جاتا ہے۔ ’سینما پر بہترین تحریر‘ کا سیکشن بہترین کتاب اور بہترین فلمی نقاد کو اعزاز دیتا ہے۔ دادا صاحب پھالکے ایوارڈ ہندوستانی سنیما کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔

سیکشن

زمرہ جات

میڈل

نقد انعام

فیچر فلمیں

(26 خصوصی تذکروں سمیت )

سوارنا کمل، رجت کمل

3,00,000 روپے اور 2,00,000 روپے

غیر فیچر فلمیں

(16 خصوصی تذکروں سمیت )

سوارنا کمل، رجت کمل

3,00,000 روپے اور 2,00,000 روپے

سنیما پر بہترین تحریر

2

سوارنا کمل

1,00,000 روپے

دادا صاحب پھالکے ایوارڈ

1

سوارنا کمل، شال

72ویں این ایف اے کے لیے 10,00,000 روپے

فیچر فلم سیکشن میں بہترین فیچر فلم، بہترین ہدایت کاری اور مرکزی کردار میں بہترین اداکار کے ایوارڈ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بہترین بچوں کی فلم، بہترین سنیماٹوگرافی، بہترین موسیقی کی ہدایت کاری اور بہترین کاسٹیوم ڈیزائن کے ایوارڈ بھی شامل ہیں۔ غیر فیچر فلم سیکشن میں بہترین دستاویزی فلم، بہترین مختصر فلم اور بہترین اینیمیشن فلم کے ایوارڈ شامل ہیں۔ اس میں بہترین آرٹس اینڈ کلچر فلم، بہترین بیانیہ یا وائس اوور اور بہترین اسکرپٹ کے ایوارڈ بھی شامل ہیں۔

ہر زبان کے لیے ایک مقام

بہترین فیچر فلم کا ایوارڈ آئین کے آٹھویں شیڈول میں درج ہر زبان میں بننے والی فلموں کو دیا جاتا ہے۔ آٹھویں شیڈول میں شامل نہ ہونے والی زبانوں میں بننے والی فلموں کو بھی ان کے لیے مخصوص الگ ایوارڈز کے ذریعے اعزاز سے نوازا جاتا ہے۔ 72ویں ایڈیشن میں اس شق کے تحت گڑھوالی زبان کی ’دھولی‘ اور تولو زبان کی ’آئی ایم بی یو‘ کو تسلیم کیا گیا۔

ایوارڈز کا انتخاب کیسے کیا جاتا ہے؟

گزشتہ کیلنڈر سال کے دوران سی بی ایف سی سے تصدیق شدہ فلموں کے لیے ہر سال اندراجات طلب کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد وزارت ایوارڈز کے تینوں حصوں میں سے ہر ایک کے لیے الگ الگ جیوری تشکیل دیتی ہے۔ جیوری کے ارکان کے طور پر سنیما، متعلقہ فنون اور ہیومینٹیز (علومِ انسانی) کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

فیچر فلموں کے لیے دو سطحی جائزہ

فیچر فلموں کا جائزہ 57ویں ایڈیشن کے بعد متعارف کرائے گئے دو سطحی عمل کے ذریعے لیا جاتا ہے۔ پانچ علاقائی پینل پہلے ملک کے مختلف حصوں سے موصول ہونے والی فلموں کو شارٹ لسٹ کرتے ہیں۔ اس کے بعد ایک مرکزی پینل فیچر فلم سیکشن کے ایوارڈز کے فاتحین کا فیصلہ کرتا ہے۔

غیر فیچر فلم سیکشن اور ’سینما پر بہترین تحریر‘ کے سیکشن کی اپنی الگ جیوریاں ہوتی ہیں۔ دادا صاحب پھالکے ایوارڈ کے لیے اندراجات طلب نہیں کیے جاتے، بلکہ اس کے لیے ایک مختلف طریقۂ کار اختیار کیا جاتا ہے۔ ممتاز فلمی شخصیات پر مشتمل ایک خصوصی طور پر تشکیل دی گئی کمیٹی ایوارڈ کے لیے کسی شخصیت کے نام کی سفارش کرتی ہے۔

72ویں ایڈیشن کی جیوریاں

جناب جے راج نے 72ویں نیشنل فلم ایوارڈز کے لیے فیچر فلم جیوری کی صدارت کی۔ جناب اسیم سنہانے اسی ایڈیشن کے لیے غیر فیچر فلم جیوری کی صدارت کی۔ جناب اے چندر شیکھر نے ’سینما پر بہترین تحریر‘ کی جیوری کی صدارت کی۔

اہلیت — مختصر طور پر

فلموں کا ایوارڈ کے متعلقہ سال کے دوران سی بی ایف سی سے تصدیق شدہ ہونا اور ان میں انگریزی سب ٹائٹلز شامل ہونا ضروری ہے۔ فیچر فلم کا دورانیہ 72 منٹ سے زیادہ ہونا چاہیے۔ پہلے سے جمع کرائے گئے ڈب شدہ، دوبارہ بنائے گئے یا دوبارہ ترمیم شدہ ورژن اہل نہیں ہوتے۔

پورے ہندوستانی سنیما میں پہچان

نیشنل فلم ایوارڈز ملک کے مختلف حصوں میں بننے والی فلموں کا احاطہ کرتے ہیں۔ 72ویں ایڈیشن میں مراٹھی، سنتھالی، تمل، ملیالم، تیلگو اور کنڑ زبانوں کی فلموں کو اعزاز سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ تولو اور گڑھوالی سمیت کئی دیگر زبانوں کی فلموں کو بھی تسلیم کیا گیا۔ پہلی بار کسی سنتھالی فلم کو غیر فیچر فلم سیکشن میں اعزاز سے نوازا گیا۔

شری روی راج مرمو کی ہدایت کاری میں بننے والی ’انجین‘ نے ہدایت کار کی بہترین پہلی فلم کا ایوارڈ جیتا۔ اس نوعیت کا یہ پہلا اعزاز ہندوستانی سنیما کے نقشے کو مزید وسیع کرتا ہے۔

تازہ ترین ایڈیشن — اہم جھلکیاں

72ویں نیشنل فلم ایوارڈز میں سال 2024 کے دوران سی بی ایف سی سے تصدیق شدہ ہندوستانی فلموں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ’آرٹیکل 370‘ نے اس ایڈیشن میں بہترین فیچر فلم کا ایوارڈ جیتا۔ یامی گوتم نے اسی فلم کے لیے مرکزی کردار میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ حاصل کیا۔ مموٹی اور کارتک آریان نے مشترکہ طور پر مرکزی کردار میں بہترین اداکار کا ایوارڈ حاصل کیا۔ مموٹی کو ’برامایوگم‘ اور کارتک آریان کو ’چندو چیمپیئن‘ کے لیے یہ ایوارڈ دیا گیا۔

شری راجکمار پیریاسامی نے تمل فلم ’امرن‘ کے لیے بہترین ہدایت کاری کا ایوارڈ جیتا۔ ’کلکی 2898 اے ڈی‘ کو صحت مند تفریح فراہم کرنے والی بہترین مقبول فلم قرار دیا گیا۔ جناب رندیپ ہوڈا نے ’سوتنتریا ویر ساورکر‘ کے لیے ہدایت کار کی بہترین پہلی فلم کا ایوارڈ حاصل کیا۔ ’بھنگار‘ کو بہترین غیر فیچر فلم اور ’رام نامی‘ کو بہترین دستاویزی فلم قرار دیا گیا۔

موجودہ ایوارڈ یافتگان — 72ویں نیشنل فلم ایوارڈز

ذیل کے جدول میں 72ویں نیشنل فلم ایوارڈز کے اہم ایوارڈز پیش کیے گئے ہیں۔ زبانوں کے ایوارڈز، تکنیکی شعبوں کے ایوارڈز اور خصوصی تذکرےمکمل فہرست میں الگ سے درج کیے گئے ہیں۔

ایوارڈ

فلم (زبان)

ایوارڈ یافتہ

بہترین فیچر فلم

آرٹیکل 370 (ہندی)

پروڈیوسرز: جیو اسٹوڈیوز اور بی 62 اسٹوڈیوز؛ ہدایت کار: آدتیہ سہاس جمبھالے

بہترین ہدایت کاری

امران (تمل)

راجکمار پیریاسمی۔

مرکزی کردار میں بہترین اداکار

برمایوگم (ملیالم)؛ چندو چیمپئن (ہندی)

مموٹی اور کارتک آریان (مشترکہ)

مرکزی کردار میں بہترین اداکارہ

آرٹیکل 370 (ہندی)

یامی گوتم

معاون کردار میں بہترین اداکار

بھکشک (ہندی)

سنجے مشرا

معاون کردار میں بہترین اداکارہ

مہاراجہ (تامل)؛ متھیا (کنڑ)

سچنا نامی داس اور روپاشری ورکاڈی (مشترکہ)

ہدایت کار کی بہترین پہلی فلم

سواتنتریہ ویر ساورکر (ہندی)

رندیپ ہوڈا

بھرپور اور صحت مند تفریح فراہم کرنے والی بہترین مقبول فلم

کالکی 2898 اے ڈی (تیلگو)

پروڈیوسر: وجیانتی موویز؛ ہدایت کار: ناگ اشون سنگیریڈی

قومی، سماجی اور ماحولیاتی اقدار کو فروغ دینے والی بہترین فیچر فلم

کیپٹن ملر (تامل)

پروڈیوسر: ستھیا جیوتھی فلمز؛ ہدایت کار: ارون ماتیسوارن

بچوں کی بہترین فلم

35 - چننا کتھا کدو (تیلگو)

پروڈیوسرز: ایس اوریجنلز اور والٹیر پروڈکشنز؛ ہدایت کار: نندا کشور ایمانی۔

بہترین میوزک ڈائریکشن (بہترین موسیقی کی ہدایت کاری)

آرٹیکل 370 (ہندی)؛ امران (تمل)

شاشوت سچدیو (گیت)؛ جی وی پرکاش کمار (بیک گراؤنڈ میوزک)

بہترین غیر فیچر فلم

بھنگار (مراٹھی اور انگریزی)

پروڈیوسر اور ہدایت کار: سمیرا رائے

ہدایت کار کی بہترین پہلی فلم (غیر فیچر)

اینجن (سنتھالی)

ہدایت کار: روی راج مرمو

بہترین دستاویزی فلم

رام نامی     (ہندی)

پروڈیوسر: بی بی پی اسٹوڈیو ورچوئل بھارت پرائیویٹ۔ لمیٹڈ؛ ہدایت کار: بھرت بالا گنپتی

بہترین ہدایت کاری (غیر فیچر)

ایکتا کا مجسمہ - ایکتا کا پرتیک (ہندی)

آنند ایل رائے

سنیما پر بہترین کتاب

نانِرُوودے نِمَگاگی، نادِرُوودے نَنَگاگی (کنّڑ)

مصنف: کینچانورو پردیپ کمار شیٹی؛ ناشر: مرر پُستکا

بہترین فلم نقاد

ہندی

سنجیو شریواستو

ایوارڈ یافتگان اور جیوریوں کی مکمل فہرست ملاحظہ کریں

دادا صاحب پھالکے ایوارڈ

دادا صاحب پھالکے ایوارڈ ہندوستانی سنیما کے شعبے میں سب سے بڑا اعزاز ہے۔ یہ ایوارڈ 1969 میں قائم کیا گیا تھا اور سب سے پہلے اسے دیویکا رانی کو پیش کیا گیا۔ یہ ایوارڈ دادا صاحب پھالکے کی یاد میں دیا جاتا ہے، جنہوں نے 1913 میں ’راجہ ہریش چندر‘ کی ہدایت کاری کی تھی۔ اس ایوارڈ کے ذریعے ہندوستانی سنیما کی ترقی اور فروغ میں غیر معمولی خدمات انجام دینے والی شخصیات کو اعزاز سے نوازا جاتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

دادا صاحب پھالکے کے نام سے معروف دھنڈی راج گووند پھالکے (1870-1944) نے 1913 میں ’راجہ ہریش چندر‘ کی ہدایت کاری کی، جو ہندوستان کی پہلی مکمل طوالت کی فیچر فلم تھی۔ انہوں نے 94 فیچر فلمیں اور 27 مختصر فلمیں بنائیں۔ ’فادر آف انڈین سنیما‘ یعنی (ہندوستانی سنیما کے بابائے فلم )کے طور پر معروف دادا صاحب پھالکے کی یاد میں حکومت ہند نے 1969 میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ قائم کیا۔

دادا صاحب پھالکے ایوارڈ 2024

2024 کا دادا صاحب پھالکے ایوارڈ شری اننت ناگ کو دیا جائے گا۔ حکومت ہند نے 16 ستمبر 2026 کو اس فیصلے کا اعلان کیا۔ وہ 4 ستمبر 1948 کو کرناٹک میں پیدا ہوئے اور انہوں نے 1970 کی دہائی کے اوائل میں اداکاری کا آغاز کیا۔ انہوں نے کنڑ فیچر فلم ’سنکلپ‘ سے اداکاری کا آغاز کیا اور ’انکور‘ کے ذریعے ہندی سنیما میں قدم رکھا۔

انہوں نے چھ ہندوستانی زبانوں میں 300 سے زیادہ فلموں میں مختلف النوع کردار ادا کیے ہیں۔ ان کے کام میں بے حد مقبول ٹیلی ویژن سیریز ’مالگڈی ڈیز‘ بھی شامل ہے۔ انہوں نے پانچ فلم فیئر ایوارڈز اور پانچ کرناٹک اسٹیٹ بیسٹ ایکٹر ایوارڈز حاصل کیے ہیں۔ حکومت ہند نے انہیں 2025 میں پدم بھوشن سے نوازا۔ ان کا فلمی سفر پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے اور انہوں نے فنکاروں کی کئی نسلوں کو متاثر کیا ہے۔

حالیہ ایوارڈ یافتگان

جناب موہن لال کو سال 2023 کا دادا صاحب پھالکے ایوارڈ دیا گیا۔ جناب متھن چکرورتی کو سال 2022 کا ایوارڈ دیا گیا، جبکہ محترمہ وہیدہ رحمان کو سال 2021 کا ایوارڈ دیا گیا۔ ہر ایوارڈ متعلقہ سال کے نیشنل فلم ایوارڈز کی تقریب میں پیش کیا جاتا ہے۔

ہندوستانی سنیما: ثقافت، شناخت اور اثر

سنیما ہندوستان کی سب سے زیادہ اظہار پذیر فنون میں سے ایک اور اس کے طاقتور ترین ثقافتی اثاثوں میں سے ایک ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات اسے تخلیقی صلاحیت، ثقافت اور اختراع کے فروغ کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیتی ہے۔ فنکارانہ اظہار کے علاوہ یہ ایک وسیع تخلیقی معیشت کو بھی سہارا دیتا ہے۔ ہندوستان کا میڈیا اور تفریحی شعبہ اب دنیا کا پانچواں سب سے بڑا شعبہ ہے، جسے 20 سے 25 لاکھ ڈیجیٹل تخلیق کاروں کی حمایت حاصل ہے، جبکہ اینیمیشن اور وی ایف ایکس خدمات میں 40 سے 60 فیصد تک لاگت کا فائدہ حاصل ہے۔ ہندوستانی فلمیں زبانوں اور خطوں کی سرحدوں سے آگے بڑھ کر ملک کی نرم طاقت کو عالمی ناظرین تک پہنچاتی ہیں اور روزگار و معاش کے مواقع پیدا کرتے ہوئے ثقافتی ورثے کو تقویت دیتی ہیں۔

ہندوستانی سنیما میں مسلسل تعاون

ہندوستانی سنیما آج پہلے سے کہیں زیادہ زبانوں اور فارمیٹس میں ناظرین تک پہنچ رہا ہے۔ نیشنل فلم ایوارڈز سنیما میں بہترین کارکردگی کے لیے فنی قدر و معیار کا ایک اہم قومی پیمانہ ہیں۔ یہ ایوارڈز محض تجارتی پیمانے کے بجائے فنّی مہارت، جرات اور  واضح نقطۂ نظر کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔

ایکتا نگر میں ایوارڈز منعقد کرنے کا اقدام انہیں قومی دارالحکومت سے باہر کے ناظرین کے مزید قریب لے جاتا ہے۔ مستقبل کے ایڈیشن ملک کی مختلف ریاستوں اور شہروں میں منعقد کیے جائیں گے۔ بڑے اسٹوڈیوز سے دور پروان چڑھنے والی فلمی ثقافتوں کو بھی اب قومی سطح پر اپنی صلاحیتیں پیش کرنے کا موقع ملے گا۔

72واں ایڈیشن پہلے ہی اس عزم کو کئی طریقوں سے ظاہر کرتا ہے۔ ایک سنتھالی فلم پہلی بار اعزاز یافتگان کی فہرست میں شامل ہوئی ہے۔ کنڑ سنیما کے ایک تجربہ کار فنکار کو اس شعبے کا سب سے بڑا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ اس طرح یہ ایوارڈز فن اور قوم، دونوں کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

حوالہ جات
وزارت اطلاعات و نشریات (ایم آئی بی)

وزارت تجارت و صنعت (محکمہ تجارت)

  پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں:

***

(ش ح۔اس ک  )

UR-3774

(तथ्य सामग्री आईडी: 151028) आगंतुक पटल : 4


Provide suggestions / comments
इस विश्लेषक को इन भाषाओं में पढ़ें : English , हिन्दी , Bengali