• Sitemap
  • Advance Search
Social Welfare

اکیڈمک بینک آف کریڈٹ اور اے پی اے اے آر

प्रविष्टि तिथि: 30 JUN 2026 14:25 PM

 

بھارت کے طویل مدتی  لرننگ  ایکو نظام کی تشکیل

 

اکیڈمک بینک آف کریڈٹ: ایک جائزہ

اکیڈمک بینک آف کریڈٹس(اے بی سی) وزارتِ تعلیم کی جانب سے متعارف کرایا گیا ایک انقلابی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جسے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے زیرِ انتظام رکھا گیا ہے۔ اس نظام کا مقصد ہر طالب علم کے تعلیمی سفر کو سہولت فراہم کرنا ہے، جس کے تحت طلبہ کو ایک ایسا ڈیجیٹل پلیٹ فارم مہیا کیا جاتا ہے جہاں وہ منظور شدہ تعلیمی اداروں سے حاصل کردہ اپنے تعلیمی کریڈٹس کو محفوظ، منظم، منتقل اور استعمال کر سکتے ہیں۔

اے پی اے اے آر (آٹومیٹڈ پرمیننٹ اکیڈمک اکاؤنٹ رجسٹری) آئی ڈی ایک منفرد 12 ہندسوں پر مشتمل طالب علم کا شناختی نمبر ہے جو اکیڈمک بینک آف کریڈٹس (اے بی سی) نظام سے منسلک ہوتا ہے۔ اسے “ون نیشن ، ون اسٹوڈنٹ آئی ڈی” اقدام کے تحت متعارف کرایا گیا ہے تاکہ ہر سیکھنے والے کے لیے ایک واحد تعلیمی شناخت قائم کی جا سکے۔ یہ ڈیجی لاکر کے ذریعے دستیاب ہوتا ہے اور طلبہ کے اسکول، اعلیٰ تعلیم، اسکل ڈیولپمنٹ اور دیگر تعلیمی پروگراموں کے ریکارڈوں  کو ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا کرتا ہے۔ اے پی اے اے آر آئی ڈی عام سروس سینٹر (سی ایس سی) کے ذریعے بھی بنائے جا سکتے ہیں، جس سے یہ دور دراز اور کم سہولت یافتہ علاقوں تک بھی قابل رسائی ہے۔ جون 2026 تک بھارت بھر میں 26.30 کروڑ تصدیق شدہ اے پی اے اے آر آئی ڈی جاری کی جا چکی ہیں۔ اکیڈمک بینک آف کریڈٹس اور اے پی اے اے آر آئی ڈی مل کر طلبہ کے تعلیمی سفر کو مختلف اداروں اور وقت کے ساتھ ایک مربوط اور مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

image002C8G8.jpg

اے بی سی کے مقاصد

اکیڈمک بینک آف کریڈٹ (اے بی سی) کا بنیادی مقصد ایک ایسا لچکدار اور طلبہ دوست تعلیمی نظام قائم کرنا ہے جس میں سیکھنے کی کامیابیوں کو تسلیم کیا جا سکے، محفوظ رکھا جا سکے اور فرد کی پوری زندگی میں استعمال کیا جا سکے۔ یہ نظام قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی )2020 اور نیشنل کریڈٹ فریم ورک (این سی آر ایف) کے وژن کی حمایت کرتا ہے، جس کے تحت کریڈٹس کی منتقلی، متعدد داخلہ و اخراج کے مواقع، اور مختلف اداروں و شعبوں میں سیکھنے کی شناخت کو ممکن بنایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی طالب علم اپنی تعلیم جزوی طور پر مکمل کرنے کے بعد درمیان میں چھوڑ دیتا ہے تو اس کے حاصل کردہ کریڈٹس اس ڈیٹا بینک میں محفوظ رہتے ہیں، اور وہ مستقبل میں دوبارہ تعلیم جاری رکھنے کی صورت میں ان کریڈٹس کو اپنی ڈگری یا تعلیم کی تکمیل کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

اے بی سی اور اے پی اے اے آر طلبہ کو ان کی تعلیمی کامیابیوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں، اداروں کے درمیان کریڈٹس کی منتقلی کو آسان بناتے ہیں اور تعلیمی ریکارڈ کی دیکھ بھال میں شفافیت کو بہتر بناتے ہیں۔ یہ نظام اسکولوں، یونیورسٹیوں، اسکل اداروں اور دیگر تعلیمی شراکت داروں  کے ساتھ انضمام کو بھی فروغ دیتا ہے، جس سے ایک مربوط اور منسلک تعلیمی ماحولیاتی نظام تشکیل پاتا ہے۔

image003WJV3.png

 اے بی سی کیسے کام کرتا ہے

  • طلبہ اے بی سی پورٹل پر رجسٹریشن کرتے ہیں اور انہیں ایک منفرد اے بی سی آئی ڈی یا اے پی اے اے آر آئی ڈی جاری کی جاتی ہے جو آدھار اور ڈیجی لاکر اکاؤنٹ سے منسلک ہوتی ہے۔
  • اہل اعلیٰ تعلیمی اداروں (ایچ ای آئی ) سے تعلق رکھنے والے طلبہ اس اے بی سی سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
  • تعلیمی ادارے ہر طالب علم کے اکاؤنٹ کے مطابق براہِ راست اے بی سی پورٹل پر کریڈٹ ڈیٹا اپ لوڈ کرتے ہیں۔
  • طلبہ مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں (ایچ ای آئی) کے درمیان اپنے کریڈٹس کو جمع، منتقل اور استعمال کر سکتے ہیں بغیر اپنی تعلیمی پیش رفت کو متاثر کیے۔
  • کریڈٹس زیادہ سے زیادہ 7 سال تک یا متعلقہ تعلیمی شعبے کے مقررہ دورانیے تک قابلِ استعمال ہوتے ہیں۔ ایک بار استعمال  ہونے کے بعد ان کریڈٹس کو دوبارہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
  • کریڈٹ کے استعمال (ریڈمپشن) اور اسناد کے اجرا کا عمل تعلیمی ادارے نیشنل اکیڈمک ڈیپوزٹری (این اے ڈی) پلیٹ فارم کے ذریعے انجام دیتے ہیں۔
  • نیشنل اکیڈمک ڈیپوزٹری (این اے ڈی)، اکیڈمک بینک آف کریڈٹ (اے بی سی) کا بنیادی ستون ہے، جو تمام تعلیمی اسناد، اعزازات اور ریکارڈز کو محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرتا ہے۔

اکیڈمک بینک آف کریڈٹ: پیش رفت کی رپورٹ

اس اقدام نے پہلے ہی ملک بھر میں نمایاں وسعت اور کامیابی حاصل کر لی ہے۔ سال 2026 کے لیےیوجی سی نے تمام اعلیٰ تعلیمی اداروںکو ہدایت دی ہے کہ وہ 30 جون 2026 تک لازماً طلبہ کے کریڈٹس کا ڈیٹا اے بی سی پورٹل پر اپ لوڈ کریں۔

ادارے کی قسم

ادارے کی نوعیت

اے بی سی کے لیے رجسٹرڈ

جاری کردہ اے پی اے اے آر آئی ڈیز (کروڑ میں(

تعلیمی ریکارڈ

خودمختار کالج

خود مختار کالج

1262

0.33

1.27

قومی اہمیت کا ادارہ

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ایمس

10

0.00

0.00

آئی آئی آئی ٹی

25

0.00

0.02

آئی آئی ایم

21

0.00

0.02

آئی آئی ایس ای آر

7

0.00

0.01

آئی آئی تی

23

0.01

0.06

این آئی ڈی

5

0.00

0.00

این آئی ایف ٹی ایم

1

0.00

0.00

این آئی پی ای آر

6

0.00

0.00

این آئی ٹی

31

0.02

0.10

دیگر آئی این آئی

14

0.00

0.01

ایس پی اے

3

0.00

0.00

آزاد تعلیمی ادارے

آزاد تعلیمی ادارے

254

0.06

0.07

یونیورسٹی

 

 

 

سینٹرل یو نیورسٹی

57

0.49

1.65

ڈیِمڈ ٹو بی یونیورسٹی

140

0.15

0.98

پرائیویٹ یونیورسٹی

520

0.34

1.72

ریاستی یونیورسٹی

488

3.36

26.74

اسکل

اسکل

96

1.51

6.55

اسکولی تعلیم

اسکول

 

16.62

71.46

غیر احاطہ شدہ

 

 

3.39

0.00

مجموعی تعداد

 

2963

26.29

110.65

اے بی سی اور اے پی اے اے آر میں ڈیٹا سیکیورٹی کا انتظام

پلیٹ فارم ڈیٹا کی رازداری اور سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط حفاظتی پروٹوکول اور خفیہ کاری کے معیارات کو اپناتے ہیں ۔  رسائی کی تصدیق اے پی اے اے آر آئی ڈی اور آدھار سے منسلک ڈیجی لاکر اسناد کے ذریعے کی جاتی ہے ، جو تمام مربوط نظاموں اور ادارہ جاتی فریم ورک میں ہموار رسائی کو برقرار رکھتے ہوئے صارف کی معلومات کی حفاظت کرتی ہے ۔

image004SOGT.png

اہم خصوصیات اور نتائج

تعلیمی نقل و حرکت: طلبہ مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں (ایچ ای آئی) میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں اور اپنے کریڈٹس کو مختلف پروگراموں اور اداروں کے درمیان بغیر کسی رکاوٹ کے منتقل کر سکتے ہیں۔

اے بی سی طلبہ کو رضامندی پر مبنی دستاویزات کے تبادلے کا ایک مربوط نظام فراہم کرتا ہے، جو تصدیق کے عمل کو آسان بناتا ہے اور کارروائی میں لگنے والے وقت کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے۔

متعدد داخلہ و اخراج : اے بی سی، قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی ) 2020 کے تحت متعدد داخلہ و اخراج کے نظام کو ممکن بناتا ہے۔ اس کے تحت ایک سال کی تعلیم مکمل کرنے پر سرٹیفکیٹ، دو سال بعد ڈپلومہ، جبکہ تین یا چار سال بعد ڈگری حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس وقت 153 جامعات متعدد داخلہ کے اختیارات فراہم کر رہی ہیں، جن سے 31,156 انڈرگریجویٹ اور 5,583 پوسٹ گریجویٹ طلبہ مستفید ہو رہے ہیں۔

طلبہ کسی بھی وقت اور کسی بھی مقام سے اپنی ڈیجیٹل اسناد  تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

اس نظام سے تعلیم ادھوری چھوڑنے کی شرح میں کمی اور مسلسل سیکھنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔

اے بی سی رسمی، غیر رسمی اور تجرباتی تعلیم کے درمیان موجود خلا کو کم کر رہا ہے۔

اس اقدام کے تحت طلبہ کے لیے متعدد خصوصی فوائد بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ اے پی اے اے آر آئی ڈی کی تصدیق کے بعد 13 سے 30 سال عمر کے طلبہ خصوصی سفری سہولیات حاصل کر سکتے ہیں، جن میں بنیادی ہوائی کرایے پر 10 فیصد تک رعایت اور اضافی 10 کلوگرام سامان لے جانے کی سہولت شامل ہے۔

سویم (ایس  ڈبلیو اے وائی اے ایم) سے انضمام: طلبہ ایس  ڈبلیو اے وائی اے ایم آن لائن پلیٹ فارم سے اپنی ڈگری کے لیے زیادہ سے زیادہ 40 فیصد کریڈٹس حاصل کر سکتے ہیں۔ تقریباً 388 جامعات نے اس ضابطے کو اختیار کر لیا ہے، جس سے معیاری تعلیم تک رسائی مزید وسیع ہوئی ہے۔

نیشنل کریڈٹ فریم ورک (این سی آر ایف): اے بی سی، نیشنل کریڈٹ فریم ورک سے ہم آہنگ ہے، جو تعلیمی، پیشہ ورانہ اور تجرباتی تعلیم کا احاطہ کرتا ہے۔ 2026 تک بھارت کی 170 یونیورسٹیاں این سی آر ایف کو اپنا چکی ہیں۔

اے بی سی کا ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ

اے بی سی ڈیجیٹل انڈیا پروگرام کے تحت تعلیم کے لیے ہندوستان کے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) کا ایک اہم جزو ہے ۔

این اے ڈی اور ڈیجی لاکر کے ساتھ انضمام طلبہ کو اپنے تصدیق شدہ تعلیمی ریکارڈ تک کسی بھی وقت محفوظ رسائی فراہم کرتا ہے۔

این ای جی ڈی (الیکٹرانکس اور آئی ٹی کی وزارت) نے نومبر 2024 میں اپنی ڈیجیٹل انڈیا 'آسک آور ایکسپرٹس' سیریز میں اے بی سی-این اے ڈی کو نمایاں طور پر پیش  کیا ۔

اے بی سی انضمام کے لیے سمرتھ ای آر پی (نمایاں ، کلاؤڈ پر مبنی ای-گورننس پلیٹ فارم) کی تعیناتی طلباء اور یونیورسٹی انتظامیہ کے لیے ایک معیاری  اوریکساں  گیٹ وے فراہم کرتی ہے ۔

دور دراز گاوں میں قائم کامن سروس سینٹرز (سی ایس سی) اب اے بی سی اور اے پی اے اے آر کی رجسٹریشن کے مقامی مراکز کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، جس سے ڈیجیٹل خلیج کو کم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

قابلِ اعتماد ڈیجیٹل تعلیمی ایکو نظام کی جانب

اے بی سی اور اے پی اے اے آر  مل کر تعلیمی ریکارڈز کے لیے ایک قابلِ اعتماد ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام تشکیل دے رہے ہیں، جس سے ہر طالب علم کے لیے تعلیم زیادہ لچکدار، شفاف اور قابلِ رسائی بن رہی ہے۔ کریڈٹس کی بلا رکاوٹ منتقلی، تعلیمی ریکارڈز کے محفوظ انتظام اور تاحیات تعلیم کی سہولت فراہم کرکے یہ اقدامات مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام کی مضبوط بنیاد رکھ رہے ہیں۔

جوں جوں یہ پلیٹ فارم مزید وسعت اختیار کر رہے ہیں، نئی ٹیکنالوجیز ڈیجیٹل تعلیمی اسناد کی سلامتی اور صداقت کو مزید مستحکم بنانے کے نئے مواقع فراہم کر رہی ہیں۔ اسی تناظر میں بھارت پرمان چین ایک مؤثر اگلا قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ اسے ڈیجیٹل انڈیا کارپوریشن نے تیار کیا ہے، اور یہ بھارت کا خودمختار بلاک چین پلیٹ فارم ہے، جو بڑے پیمانے پر محفوظ، قابلِ تصدیق اور چھیڑ چھاڑ سے محفوظ  ڈیجیٹل اسناد کی فراہمی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

بھارت پرمان چین کو ڈیجیٹل انڈیا کارپوریشن کے زیرِ انتظام بلاک چین بنیادی ڈھانچے کے ذریعے تیزی سے نافذ کیا جا سکتا ہے، جبکہ تعلیمی اداروں کے پاس زیادہ خودمختاری اور لچک کے لیے اپنے مخصوص بلاک چین نوڈز چلانے کا اختیار بھی موجود ہے۔ یہ پلیٹ فارم اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ تعلیمی ڈیٹا بھارت کے خودمختار ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے اندر محفوظ رہے اورڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ کے تقاضوں کے مکمل مطابق ہو۔

حوالہ جات

 Ministry of Education

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/NEP_Final_English_0.pdf

https://www.abc.gov.in/about-us

https://www.abc.gov.in

https://www.abc.gov.in/faq

https://apaar.education.gov.in/

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2003802&lang=2&reg=48&utm

https://www.facebook.com/photo/?fbid=1452271933596230&set=a.358256662997768

 

Ministry of Electronics and IT

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2072877&reg=48&lang=2

 

Ministry of Finance

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2219936&reg=3&lang=1

 

University Grants Commission

https://www.ugc.gov.in/pdfnews/5572622_Academic-Bank-of-Credits-Regulation.pdf

https://www.ugc.gov.in/pdfnews/9363820_Academic-Bank-of-Credits-(ABC).pdf

https://www.ugc.gov.in/pdfnews/9028476_Report-of-National-Credit-Framework.pdf

PIB Backgrounder

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2025/jul/doc2025729593701.pdf
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=154950&ModuleId=3&reg=3&lang=1

 

براہ کرم پی ڈی ایف دیکھیں

********

) ش ح ۔ ش آ۔خ م)

U.No. 9338

 

 

(तथ्य सामग्री आईडी: 150652) आगंतुक पटल : 2


Provide suggestions / comments
इस विश्लेषक को इन भाषाओं में पढ़ें : English , हिन्दी