فیکٹ چیک یونٹ
پریس انفارمیشن بیورو
اکثر پوچھے گئے سوالات(ایف اے کیوز)
1. پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ کاقیام کب عمل میں آیا ؟
یونٹ نے نومبر 2019 میں اپنا کام شروع کیا۔
2. فیکٹ چیک یونٹ کا مقصد کیا ہے؟
فیکٹ چیک یونٹ کا مقصد جعلی خبروں اور غلط معلومات کے تیار کرنے والوں اور پھیلانے والوں کے خلاف مزاحمت کار کے طور پر کام کرنا ہے اور لوگوں کو حقائق کی جانچ کے لیے حکومت ہند سے متعلق مشکوک اور قابل اعتراض معلومات کی اطلاع دینے کا آسان راستہ فراہم کرنا ہے۔
3. صارفین اپنی فیکٹ چیک شکایات کہاں جمع کرا سکتے ہیں؟
واٹس ایپ ہاٹ لائن -918799711259 +ای میل آئی ڈی - سوشل میڈیا[at]pib[dot]gov[dot]in
ویب سائٹ پورٹل - https://factcheck.pib.gov.in
4. پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ میں کس قسم کی شکایات داخل کرائی جا سکتی ہیں؟
پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ صرف حکومت ہند، اس کی وزارتوں، محکموں، پبلک سیکٹر کے اداروں وغیرہ سے متعلق شکایات کا ازالہ کرتا ہے۔ کوئی بھی معاملہ جو مرکزی حکومت سے متعلق نہیں ہے اسے یونٹ کے ذریعے تشخیص/حقائق کی جانچ کے لیے نہیں لیا جاتا ہے۔
5. کیا پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ صرف سوشل میڈیا سے متعلق شکایات قبول کرتا ہے؟
نہیں، یہ یونٹ پلیٹ فارم سے قطع نظر، حکومت ہند سے متعلق کسی بھی معلومات کی حقیقت پسندانہ صداقت کی جانچ کرتا ہے۔
6. کیا پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ حقائق کی جانچ کے لیے کوئی فیس وصول کرتا ہے؟
حقائق کی جانچ کے لیے پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ کی طرف سے کوئی فیس نہیں لی جاتی ہے۔
7. پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ کن پلیٹ فارموں پر موجود ہے؟
پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ درج ذیل پلیٹ فارموں پر موجود ہے، حقائق کی جانچ کی گئی تمام معلومات ان پلیٹ فارموں پررکھتا ہے۔
- ٹویٹر
- فیس بک
- کوو
- انسٹاگرام اور
- ٹیلی گرام
8. آج تک پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ کے ذریعے کیے گئے تمام حقائق کی جانچ سے متعلق معلومات میں کہاں سے حاصل کر سکتا ہوں؟
پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ کے ذریعے کیے گئے تمام حقائق کی جانچ سے متعلق معلومات اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مل سکتی ہے، یعنی،
ٹویٹر - @PIBFactCheck
فیس بک - /PIBFactCheck
کوو- @PIBFactCheck
انسٹاگرام - @PIBFactCheck
ٹیلی گرام۔ - PIB_FactCheck
9. حقائق کی جانچ کے لیے کس طریقہ کار کی پیروی کی جاتی ہے؟
کسی بھی موصول ہونے والی معلومات کا جائزہ لینے کے لیے ایک دو اقدامات پر مبنی عمل شروع کیا جاتا ہے۔
- موصول ہونے والی شکایات کی تحقیق مستند سرکاری ذرائع جیسے ویب سائٹس، پریس ریلیز، سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس وغیرہ سے متعلق ہونے کے حوالے سے کی جاتی ہے۔
- فیکٹ چیک یونٹ پھر متعلقہ وزارت سے شکایات کی جانچ کرتا ہے اور سوشل میڈیا کے لیے موزوں مواد تیار کرتا ہے۔
10. پی آئی بی فیکٹ چیک کس فیکٹ ماڈل کی پیروی کرتا ہے؟
حقائق کی جانچ پڑتال کا عمل جس فیکٹ ماڈل پر مبنی ہے، وہ ہے - تلاش ، تشخیص ، تخلیق اور ہدف ۔
تلاش: پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ حقائق کی جانچ پڑتال پر از خودنوٹس لیتا ہے، اسی کے ساتھ ساتھ درج ذیل پر شکایات وصول کرتا ہے۔
واٹس ایپ ہاٹ لائن -8799711259 91+ای میل آئی ڈی - سوشل میڈیا[at]pib[dot]gov[dot]in
ویب سائٹ پورٹل - https://factcheck.pib.gov.in/
یہ یونٹ مختلف وزارتوں اور محکموں سے موصول ہونے والی فیکٹ چیک کی درخواستوں کی بھی چھان بین کرتا ہے۔
تشخیص: یونٹ موصول ہونے والی معلومات کو یہ معلوم کرنے کے بعد الگ کرتا ہے کہ آیا یہ فیکٹ چیک یونٹ کے دائرہ کار میں آتی ہے۔ متعلقہ شکایات پر حقائق کی جانچ پڑتال میں کارآمد مختلف وسائل کا استعمال کرتے ہوئے تحقیق کی جاتی ہے اور صرف سرکاری ویب سائٹس، نوٹسز، سرکلرز، دستاویزات اور ای گزٹ پر دستیاب مستند سرکاری اوپن سورس معلومات کے ذریعے تصدیق کی جاتی ہے۔
شکایت جمع کرانے کے بعد ایک خودکار طور پر تیارکردہ جواب شکایت کنندہ کو واٹس ایپ یا ای میل پر بھیجا جاتا ہے۔
تخلیق: مجاز ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کی صداقت کی تصدیق کرنے کے بعد، فیکٹ چیک یونٹ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیلانے کے لیے موزوں تخلیقی مواد کے ذریعے آگاہی پیدا کرنے کے لیے معلومات، تعلیم اور مواصلات (آئی ای سی) کی حکمت عملی کا استعمال کرتا ہے۔
ہدف: پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ اپنے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر مواد پوسٹ کرتا ہے، جو درج ذیل ہیں:
ٹویٹر - @PIBFactCheck
انسٹاگرام - /PIBFactCheck
کُوو- @PIBFactCheck
ٹیلیگرام - t.me/PIB_FactCheck
فیس بک - /PIBFactCheck
مزید برآں، مواد کو دوسرے تصدیق شدہ سرکاری ہینڈلز سے دوبارہ پوسٹ کیا جا سکتا ہے جس میں حکومت ہند سے متعلق کسی بھی معلومات کی حقیقت کی جانچ پڑتال کی گئی ہو۔ کوئی ذاتی ہینڈل دوبارہ پوسٹ نہیں کیا جائے گا۔

11. کیا یونٹ اپنے کام کے لیے حقائق کی جانچ کرنے والی نجی تنظیموں کی مدد لیتا ہے؟
نہیں، یہ یونٹ صرف حکومت ہند سے متعلق شکایات اٹھاتا ہے اور اپنے کام کے لیے کسی نجی ادارے تک نہیں پہنچتا۔
12. پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ کا دفتر کہاں واقع ہے؟
نیشنل میڈیا سینٹر، رائےسینا روڈ، نئی دہلی
13. کیاپی ا ٓئی بی فیکٹ چیک یونٹ سوشل میڈیا پر لوگوں کی طرف سے ظاہر کی گئی رائے کو بھی حقائق کی جانچ پڑتال کے عمل سے گزارتا ہے؟
نہیں، پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ صرف حکومت ہند کی پالیسیوں، اسکیموں، رہنما خطوط، اقدامات وغیرہ سے متعلق حقائق کی صداقت کا جائزہ لیتا/تصدیق کرتا ہے۔
14. کیا پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ نجی اداروں کی طرف سے شائع ہونے والی خبروں اور تحقیق پر انحصار کرتا ہے؟
پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ صرف معلومات کے سرکاری ذرائع پر انحصار کرتا ہے۔ پرائیویٹ اداروں کی طرف سے شائع ہونے والی خبروں اور دیگر معلومات کو حکومت ہند کے کاروبار سے متعلق معلومات کے کسی حصےکی تصدیق/تشخیص کے عمل میں استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔
15. سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور تصاویر کی تصدیق کے لیے پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ کون سے تکنیکی وسائل استعمال کرتا ہے؟
پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ ۔ یہ شناخت کرنے کے لیے کہ آیا سوشل میڈیا پر کسی وائرل تصویر یا ویڈیو کو مختلف سیاق و سباق میں دوبارہ گردش کرنے کی نیت سے سامعین کو حکومت ہند کے کام کرنے کے بارے میں گمراہ کرنا ہے، مختلف تکنیکی وسائل کا استعمال کرتا ہے جیسے کہ ریورس امیج سرچ، ویڈیو تجزیہ وغیرہ ۔
16. کیا فیکٹ چیک یونٹ اس شخص کی شناخت ظاہر کرتا ہے جو تصدیق کے لیے استفسار کرتا ہے؟
نہیں، تصدیق کے لیے استفسار کرنے والے افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی جاتی ہے اور نہ ہی فیکٹ چیک جاری کرتے وقت ان کا اشتراک کیا جاتا ہے۔