پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 NOV 2026 10:47AM by PIB Delhi
ہندوستان کی کیمیکل اور پیٹرو کیمیکل صنعت اپنی پیداواری بنیاد، سرمایہ کاری کی صلاحیت اور بین الاقوامی شرکت کو وسعت دے رہی ہے۔ مخصوص صنعتی پارکوں اور مربوط بنیادی ڈھانچے کے قیام کا مقصد پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانا اور سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔ تحقیق کے لیے مالی اعانت، خصوصی اداروں کا قیام اور ہنرمندی کے فروغ کے اقدامات جدید اطلاقی شعبوں کے لیے ضروری مہارتیں پیدا کر رہے ہیں۔ معیار سے متعلق ضوابط، کام کی جگہ پر تحفظ اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری کے اقدامات ذمہ دارانہ صنعتی طریقۂ کار کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہ تمام کوششیں اس شعبے کو قدر افزائی میں اضافے، تکنیکی صلاحیت کو فروغ دینے اور عالمی کیمیکل منڈیوں میں مضبوط مقام حاصل کرنے کے لیے تیار کر رہی ہیں۔
اسٹریٹجک اہمیت کا حامل شعبہ
ہندوستان کی کیمیکل اور پیٹرو کیمیکل صنعت مینوفیکچرنگ، زراعت اور صنعتی ترقی کا ایک اہم ستون ہے۔ اس کی مصنوعات دواسازی، ٹیکسٹائل، تعمیرات، آٹوموبائل، الیکٹرانکس اور اشیائے صرف سمیت مختلف شعبوں کی ضروریات پوری کرتی ہیں۔ ہندوستان دنیا میں کیمیکلز کا چھٹا سب سے بڑا اور ایشیا میں چوتھا سب سے بڑا پیدا کنندہ ملک ہے۔ اس شعبے کی موجودہ مالیت تقریباً 220 ارب امریکی ڈالر ہے، جس کے 2030 تک 300 ارب امریکی ڈالر اور 2040 تک ایک ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
ہندوستان مخصوص کیمیائی مصنوعات کے شعبےمیں بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہ رنگ ساز مادوں (ڈائز) کا دنیا میں دوسرا سب سے بڑا پیدا کنندہ اور برآمد کنندہ ہے، جبکہ زرعی کیمیکلز کا تیسرا سب سے بڑا عالمی برآمد کنندہ ہے۔ اس شعبے میں تقریباً 13,000 بڑی صنعتی اکائیاں اور 4.45 لاکھ خرد، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتیں (ایم ایس ایم ایز) شامل ہیں۔ متعدد اقدامات کے ذریعے کیمیائی مینوفیکچرنگ، تحقیق اور صنعتی بنیادی ڈھانچے کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ان میں مخصوص کیمیائی پارکوں کا قیام، مالی اعانت کے مواقع اور معیار و سرمایہ کاری کے فروغ کے اقدامات شامل ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد عالمی ویلیو چین میں ہندوستان کی شمولیت کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
انڈیا کیم 2026: صنعت، سرمایہ کاری اور عالمی منڈیوں کے درمیان روابط کا فروغ
14ویں انڈیا کیم 2026 کا انعقاد 22 سے 24 اکتوبر 2026 تک ممبئی میں کیا گیا۔ اس تین روزہ تقریب کا مقصد کیمیکلز اور پیٹرو کیمیکلز کے شعبے میں سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا تھا۔ اس کا موضوع ’’ایڈوانٹیج بھارت: ایک ابھرتا ہوا عالمی کیمیائی مرکز‘‘ تھا، جس میں ہندوستان کی صنعتی صلاحیتوں اور بین الاقوامی تعاون کے مواقع کو اجاگر کیا گیا۔
5,000 سے زیادہ زائرین کی شرکت کے ساتھ اس تقریب میں مختلف ممالک کے نمائندوں کے فورمز، سی ای او فورم اور مختلف شعبوں سے متعلق گول میز کانفرنسوں کے ذریعے صنعت کے سرکردہ رہنماؤں اور کاروباری اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا۔ نمائش میں جدید ٹیکنالوجی، آلات اور سرمایہ کاری کے مواقع پیش کیے گئے، جبکہ پہلی بار منعقد ہونے والے انڈیا کیم یوتھ انوویشن چیلنج کے ذریعے طلبہ کو عملی اور تحقیق پر مبنی حل تیار کرنے کی ترغیب دی گئی۔
مینوفیکچرنگ کی صلاحیت اور صنعتی بنیادی ڈھانچے کو مستحکم بنانا
ملکی مینوفیکچرنگ کو مستحکم بنانے کے لیے سرمایہ کاری، صنعتی بنیادی ڈھانچے اور سازگار پالیسی ماحول کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کیمیکلز کے بیشتر شعبوں میں خودکار طریقۂ کار کے تحت 100 فیصد براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی اجازت دیتا ہے۔ اس طریقۂ کار کے تحت ہندوستان سے باہر مقیم کسی شخص کو سرمایہ کاری کے لیے حکومت سے پیشگی منظوری حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
2014 سے 2026 کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد 1,04,895 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جو 2004 سے 2014 کے دوران درج کی گئی 45,240 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے دوگنی سے بھی زیادہ ہے۔
بڑے کیمیکلز اور پیٹرو کیمیکلز کی پیداوار 2015-16 میں 45,638 ہزار میٹرک ٹن (ایم ٹی) سے بڑھ کر 2024-25 میں 58,617 ہزار میٹرک ٹن ہو گئی۔ یہ پیش رفت صنعتی پیداواری صلاحیت میں اضافے، خصوصی مینوفیکچرنگ مراکز کی ترقی اور پورے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی عکاسی کرتی ہے۔
پیٹرولیم، کیمیکلز اور پیٹرو کیمیکلز سرمایہ کاری کے علاقے
پیٹرولیم، کیمیکلز اور پیٹرو کیمیکلز سرمایہ کاری کے علاقے (پی سی پی آئی آر) قائم کرنے کا مقصد اس شعبے کو مربوط انداز میں فروغ دینا ہے۔ پی سی پی آئی آر ایک مخصوص سرمایہ کاری کا علاقہ ہوتا ہے، جس کا رقبہ تقریباً 250 مربع کلومیٹر ہوتا ہے۔ اس کے کل رقبے کا تقریباً 40 فیصد حصہ صنعتی عمل کاری کی سرگرمیوں کے لیے مختص ہوتا ہے۔ یہ علاقے مشترکہ بنیادی ڈھانچے، بنیادی سہولیات اور معاون خدمات پر مشتمل کلسٹر پر مبنی نظام کے تحت کام کرتے ہیں۔ ان سہولیات میں سڑکیں، ریل نیٹ ورک، بندرگاہیں، مشترکہ گندے پانی کی صفائی کے پلانٹ، نکاسیٔ آب کے پلانٹ، پانی کی فراہمی اور بھاپ پیدا کرنےکے یونٹ شامل ہیں۔ یہ بنیادی ڈھانچہ صنعتوں کے قیام اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے ایک سازگار اور مسابقتی ماحول فراہم کرتا ہے۔
ہندوستان میں اس وقت تین پی سی پی آئی آر فعال ہیں: گجرات میں داہیج، آندھرا پردیش میں وشاکھاپٹنم-کاکیناڈا اور اڈیشہ میں پارادیپ۔
ان تینوں علاقوں نے مجموعی طور پر 3.4 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو راغب کیا ہے۔ ان کے ذریعے 3.7 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور 2,200 سے زیادہ کیمیائی مینوفیکچرنگ یونٹس کے قیام میں مدد ملی ہے۔ یہ مربوط صنعتی نظام مزید سرمایہ کاری اور قدر افزائی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
بھاویا رسائن: مخصوص کیمیائی پارکوں کا قیام
جولائی 2026 میں منظور کی گئی بھارت اَودیوگک وکاس یوجنا رسائن (بھاویا رسائن) اسکیم کا مقصد تین مخصوص کیمیائی پارک قائم کرنا ہے۔ ہر پارک کم از کم 8 مربع کلومیٹر (2,000 ایکڑ) رقبے پر محیط ہوگا۔ مرکزی حکومت ہر پارک کے لیے 1,000 کروڑ روپے تک کی مالی امداد فراہم کرے گی، جس کے لیے متعلقہ ریاستی حکومت کو کم از کم 500 کروڑ روپے کا تعاون دینا ہوگا۔
اس اسکیم پر مجموعی طور پر 3,030 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ اس میں سے 3,000 کروڑ روپے مشترکہ بنیادی ڈھانچے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مختص ہیں، جبکہ 30 کروڑ روپے انتظامی اخراجات کے لیے رکھے گئے ہیں۔ یہ اسکیم مالی سال 2026-27 سے 2030-31 تک پانچ سال کی مدت میں نافذ کی جائے گی۔
یہ پارک کیمیائی صنعتوں کو ’پلگ اینڈ پلے‘ طرز کا بنیادی ڈھانچہ فراہم کریں گے، جس سے وسائل کے بہتر استعمال اور رسد و ترسیل کے اخراجات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ یہ ماحول دوست صنعتی نظام کے ذریعے پائیدار صنعتی ترقی کو بھی فروغ دیں گے۔ ان میں مشترکہ گندے پانی کی صفائی کے پلانٹ، ذخیرہ اور تلف کرنے کی سہولیات اور مضر فضلے کے انتظام سے متعلق بنیادی ڈھانچہ جیسی مشترکہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ توقع ہے کہ اس اسکیم سے سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا، ملکی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور عالمی منڈی میں ہندوستان کی مسابقتی پوزیشن مستحکم ہوگی۔
پلاسٹک پارک: ثانوی پروسیسنگ کی صنعت کو مستحکم بنانا
پلاسٹک پارکوں کے قیام کی اسکیم کا مقصد ہندوستان کی ثانوی پلاسٹک پروسیسنگ کی صنعت کو فروغ دینا ہے۔ اس کے تحت ملکی سطح پر پلاسٹک کی مصنوعات تیار کرنے والی صنعتوں میں پولیمر (پیٹرو کیمیکل مصنوعات) جذب کرنے کی صلاحیت اور قدر افزائی میں اضافہ کرنے پر توجہ دی جاتی ہے۔
پلاسٹک پارک مخصوص صنعتی علاقے ہوتے ہیں، جو پلاسٹک سے متعلق کاروباری سرگرمیوں اور صنعتوں کے لیے مختص کیے جاتے ہیں۔ ان کا مقصد پلاسٹک پروسیسنگ کی صنعت کی صلاحیت کو مستحکم کرنا اور مختلف صنعتی سرگرمیوں کو ایک مربوط نظام کے تحت فروغ دینا ہے۔ اس سے سرمایہ کاری، پیداوار اور برآمدات میں اضافے کے ساتھ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔
اس اسکیم کے تحت حکومت کسی بھی منصوبے کی مجموعی لاگت کا 50 فیصد تک مالی تعاون فراہم کرتی ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ حد فی منصوبہ 40 کروڑ روپے ہے۔ منصوبے کی بقیہ لاگت ریاستی حکومت یا اس کی متعلقہ ایجنسیوں، نیز مستفید ہونے والی صنعتوں وغیرہ کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔
یہ پارک فضلے کے انتظام اور ری سائیکلنگ کے اقدامات کے ذریعے ماحول دوست اور پائیدار صنعتی ترقی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ اس طرح یہ پلاسٹک کے فضلے کے مؤثر انتظام اور کیمیائی صنعت کو مستحکم بنانے کی ہندوستان کی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہیں۔
ہندوستان بھر میں اب تک 10 پلاسٹک پارکوں کو منظوری دی جا چکی ہے۔ ان میں سے 4 میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا کام 100 فیصد مکمل ہو چکا ہے، جن میں سے 3 پارک مالی سال 2025-26 کے دوران مکمل کیے گئے۔
تحقیق، اختراع اور ہنرمندی کا فروغ
صنعتوں میں کیمیائی مصنوعات کے استعمال کا دائرہ وسیع ہونے کے ساتھ خصوصی علم اور تکنیکی مہارت کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔ متعدد اقدامات کے ذریعے شعبہ جاتی تحقیق، خصوصی تکنیکی تعلیم اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ ہنرمندی کے فروغ پر توجہ دی جا رہی ہے۔
کیمیائی صنعت کے فروغ اور ترقی کی اسکیم
کیمیائی صنعت کے فروغ اور ترقی کی اسکیم (سی پی ڈی ایس) علم کی تخلیق، اس کی ترسیل ور تحقیق کے فروغ کے ذریعے کیمیکل اور پیٹرو کیمیکل صنعت کی ترقی میں معاونت کرتی ہے۔ اس کے تحت اس شعبے سے متعلق مخصوص علم پیدا کرنے کے لیے مطالعات، سروے، معلوماتی ڈیٹا بیس اور تشہیری مواد کی تیاری میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔ یہ اسکیم تحقیق اور اختراع کی حوصلہ افزائی بھی کرتی ہے اور اس شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ اس کے تحت تنظیموں، صنعتی انجمنوں اور دیگر اداروں کو ورکشاپس، سیمیناروں، مطالعات اور متعلقہ سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے عمومی امدادی گرانٹس فراہم کی جاتی ہے۔
2016 سے سرکاری شعبے کا ادارہ ایچ آئی ایل (انڈیا) لمیٹڈ، سی پی ڈی ایس کے تحت کسانوں کے لیے تربیتی پروگرام منعقد کر رہا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف پیسٹی سائیڈ فارمولیشن ٹیکنالوجی (آئی پی ایف ٹی) نے بھی 2022-23 سے ان پروگراموں کا انعقاد شروع کیا۔ ان پروگراموں کے ذریعے کیڑے مار ادویات کے محفوظ اور مناسب استعمال کو فروغ دینے کے ساتھ مربوط طریقۂ انسدادِ حشرات کے طریقوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
ان طریقوں کا مقصد اناج، خوردنی تیل، پھلوں اور سبزیوں میں کیڑے مار ادویات کی باقیات کی مقدار کو کم کرنا ہے۔ اگست 2026 تک ملک بھر میں 250 سے زیادہ تربیتی پروگراموں کے ذریعے ایک لاکھ سے زیادہ کسان مستفید ہو چکے ہیں۔
تحقیق، ترقی اور اختراع کی اسکیم
نومبر 2025 میں شروع کی گئی تحقیق، ترقی اور اختراع (آر ڈی آئی) اسکیم کے تحت تحقیق اور اختراع کے شعبے میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے کا فنڈ مختص کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھنے والے منصوبوں کے لیے سازگار شرائط پر طویل مدتی مالی اعانت اور دوبارہ مالی اعانت فراہم کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کے عمل میں تیزی لانا، صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانا اور اہم و ابھرتے ہوئے تکنیکی شعبوں میں خود انحصاری کو فروغ دینا ہے۔
8 اکتوبر 2026 سے ایڈوانسڈ کیمیکلز، پیٹرو کیمیکلز اور میٹریل ٹیکنالوجیز کو بھی اس اسکیم کے تحت مالی اعانت کے اہل ایک اضافی تکنیکی شعبے کے طور پر شامل کر لیا گیا ہے۔ اس شمولیت سے شعبہ جاتی تحقیق اور اختراع کو تقویت ملے گی اور جدید صنعتی استعمال کے لیے مقامی ٹیکنالوجیز کی تیاری میں مدد ملے گی۔
سی آئی پی ای ٹی: تکنیکی تعلیم، ہنرمندی اور صنعتی معاونت
سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف پیٹروکیمیکلز انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (سی آئی پی ای ٹی) مرکزی حکومت سے مالی اعانت حاصل کرنے والا ایک تکنیکی اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہے۔ یہ ہندوستان کی پیٹرو کیمیکل اور متعلقہ صنعتوں کے فروغ کے لیے ہنرمندی کی ترقی، تکنیکی معاونت، تعلیمی سرگرمیوں اور تحقیق (ایس ٹی اے آر) کے شعبوں میں خدمات انجام دیتا ہے۔
سی آئی پی ای ٹی نے اپنے متعدد مراکز اور تجربہ گاہوں کے ذریعے اپنے دائرۂ کار کو وسعت دی ہے۔ ان میں سینٹر فار اسکلنگ اینڈ ٹیکنیکل سپورٹ (سی ایس ٹی ایس)، پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ سینٹر (پی ڈبلیو ایم سی) اور اسکول آف ایڈوانسڈ ریسرچ اِن پیٹروکیمیکلز (ایس اے آر پی) شامل ہیں۔ دیگر اہم سہولیات میں ایڈوانسڈ ریسرچ اسکول فار ٹیکنالوجی اینڈ پروڈکٹ سیمولیشن (اے آر ایس ٹی پی ایس) اور ایڈوانسڈ پولیمر ڈیزائن اینڈ ڈیولپمنٹ ریسرچ لیبارٹری (اے پی ڈی ڈی آر ایل) شامل ہیں۔
سی آئی پی ای ٹی کا نیٹ ورک اب 51 مراکز پر مشتمل ہے، جن میں سے 19 مراکز 2014 کے بعد قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تین مراکز خصوصی طور پر پلاسٹک کے فضلے کے انتظام کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔
ادارے نے اب تک تقریباً 6.72 لاکھ ہنرمند افراد کو تربیت فراہم کی ہے، جن میں سے 5.21 لاکھ سے زیادہ افراد کو 2014 سے 2024 کے دوران تربیت دی گئی۔ اس کے علاوہ، اسی مدت میں ادارے نے تکنیکی معاونت سے متعلق 8.53 لاکھ اسائنمنٹس بھی مکمل کیے۔
اعلیٰ تحقیقی و اختراعی مراکز (سینٹرز آف ایکسی لینس)
موجودہ ٹیکنالوجیز کو مزید ترقی دینے، تحقیق کو مستحکم بنانے اور نئی صنعتی ایپلی کیشنز کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے اعلیٰ تحقیقی و اختراعی مراکزقائم کیے گئے ہیں۔ ان 18 مراکز نے اب تک 85 پیٹنٹ کے لیے درخواستیں دائر کی ہیں، 600 سے زیادہ تحقیقی مقالے شائع کیے ہیں اور 105 نئی ٹیکنالوجیز اور مصنوعات تیار کی ہیں۔ یہ کامیابیاں مقامی تکنیکی صلاحیتوں کی تعمیر اور صنعتی اختراع کے فروغ میں تحقیقی اداروں کے اہم کردار کو اجاگر کرتی ہیں۔
معیار، تحفظ اور کیمیکلز کا ذمہ دارانہ استعمال
کیمیکل اور پیٹرو کیمیکل شعبے کی ذمہ دارانہ ترقی کے لیے معیار کے ضوابط اور کام کی جگہ پر تحفظ کے اقدامات نہایت اہم ہیں۔ ضابطہ جاتی اقدامات مصنوعات کے معیار کو یقینی بنانے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ مخصوص تربیتی پروگرام صنعتی کارکنوں کو خطرناک کیمیکلز کو محفوظ طریقے سے استعمال کرنے اور ان سے نمٹنے کے لیے تیار کرتے ہیں۔
معیار سے متعلق ضوابط اور ان پر عمل درآمد کے احکامات
صارفین کے تحفظ، معیاری مینوفیکچرنگ کے فروغ اور غیر معیاری درآمدات کی روک تھام کے لیے معیار سے متعلق ضوابط اور ان پر عمل درآمد کے احکامات (کیو سی اوز) جاری کیے گئے ہیں۔ اگست 2026 تک 37 کیو سی اوز نافذ العمل ہیں، جن کے تحت مخصوص کیمیکلز اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کے لیے مقررہ معیارات پر عمل درآمد لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ان احکامات کے تحت ملکی مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کے لیے بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) کے مقرر کردہ معیار اور تکنیکی ضوابط کی پابندی کرنا ضروری ہے۔
کام کی جگہ پر تحفظ اور خطرناک کیمیکلز کا انتظام
بڑے صنعتی حادثات کے خطرے سے دوچار (ایم اے ایچ) صنعتی اکائیوں کے کارکنوں کے لیے وکست بھارت@2047 ایکشن پلان کے تحت ملک گیر تربیتی پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا محور ’’کام کی جگہ پر خطرناک کیمیکلز کی محفوظ طریقے سے ہینڈلنگ اور ان سے وابستہ خطرات میں کمی لانا‘‘ ہے۔ اسے پانچ سال کے عرصے میں تمام 2,393 ایم اے ایچ صنعتی اکائیوں کا احاطہ کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ ہر تربیتی پروگرام میں 50 صنعتی اکائیوں کے 100 شرکاء حصہ لیتے ہیں، یعنی ہر اکائی سے دو ملازمین کو تربیت دی جاتی ہے۔
اگست 2026 تک ملک بھر میں ایسے 21 تربیتی پروگرام منعقد کیے جا چکے ہیں۔ ان میں 1,376 صنعتی اکائیوں نے شرکت کی اور مجموعی طور پر 2,441 اہلکاروں کو تربیت دی گئی۔ اس اقدام کا مقصد کام کی جگہ پر ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کی تیاری کو بہتر بنانا اور خطرناک کیمیکلز کے انتظام کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔
ایک مربوط اور مسابقتی صنعت کی جانب
ہندوستان کی کیمیکل اور پیٹرو کیمیکل صنعت مینوفیکچرنگ کی سرگرمیوں، صنعتی استعمالات اور بعد از پروسیسنگ تیار ہونے والی مصنوعات کی وسیع اقسام پر مشتمل ہے۔ اس شعبے کی ترقی کے لیے پیداواری صلاحیت میں اضافہ، مخصوص صنعتی سہولیات کا قیام اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی ضروری ہے۔
مینوفیکچرنگ کے ساتھ ساتھ تحقیقی اقدامات اور تکنیکی ادارے علم کے فروغ، ٹیکنالوجی کی ترقی اور افرادی قوت کی تربیت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ معیار سے متعلق ضوابط اور خطرناک کیمیائی مادّوں کے انتظام کے اقدامات، مصنوعات کے لیے مقررہ ضوابط کی تعمیل، کام کی جگہ پر تحفظ اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری کو یقینی بنانے میں معاون ہیں۔
انڈیا کیم 2026 نے ملک میں ہونے والی ان پیش رفتوں کو بین الاقوامی شرکت، صنعتی شراکت داری اور باہمی تعاون کے مواقع سے مربوط کیا۔ یہ تمام کوششیں اس شعبے کی صنعتی ترقی اور عالمی منڈیوں میں ہندوستان کے بڑھتے ہوئے کردار کو مستحکم بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی عکاسی کرتی ہیں۔
حوالہ جات
کیمیکلز اور کھادوں کی وزارت، حکومت ہند: محکمۂ کیمیکلز اور پیٹرو کیمیکلز
https://chemicals.gov.in/
https://chemicals.gov.in/sites/default/files/Reports/annual_report_2025-26_Eng_1.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2246357®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2325901®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2294832®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2323590®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2120876®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2220980®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2288866&lang=1®=48
https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2327972®=48&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2326667®=6&lang=1
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
Please See PDF
***
UR-7372
(ش ح۔اس ک )