پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 NOV 2026 8:26AM by PIB Delhi
ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے علاوہ پنچایتی راج کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے 5 نومبر 2026 کو حیدرآباد میں ماہی پروری کی ترقی سے متعلق قومی بورڈ (این ایف ڈی بی) کے13ویں مجلسِ عاملہ کے اجلاس کی صدارت کی جس کا انعقاد پدم شری ڈاکٹر ایّپن کانفرنس ہال،این ایف ڈی بی ،حیدرآباد میں ہوا۔
اس اجلاس میں حکومتِ تلنگانہ کے مویشی پروری، ڈیری کی ترقی اور ماہی پروری کے وزیر جناب واکیتی سری ہری، حکومتِ اروناچل پردیش کے ماہی پروری کے وزیر جناب گیبریل ڈینوانگ وانگسو اور حکومتِ تریپورہ کے ماہی پروری کے وزیر جناب سدھانشو داس نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ماہی پروری محکموں کے نمائندے اور این ایف ڈی بی کی مجلسِ عاملہ کے 13 غیر سرکاری اراکین بھی اجلاس میں موجود تھے۔
اجلاس کے دوران ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے علاوہ پنچایتی راج کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے ماہی پروری کی ترقیاتی قومی بورڈ پر زور دیا کہ وہ ایک فعال ترقیاتی ادارے کے طور پر اپنا رول مزید مضبوط کرے، تاکہ مچھلی پالنے والے کسانوں تک سرکاری سہولتوں اور خدمات کی رسائی آخری سرے تک یقینی بنائی جا سکے اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ بہتر تال میل قائم ہو۔ انہوں نے ماہی پروری سے متعلق منصوبوں کو بروقت شروع کرنے اور مکمل کرنے نیز فنڈز کے مؤثر استعمال پر زور دیا، تاکہ ماہی گیروں کی آمدنی میں اضافہ اور ان کے ذریعہ معاش کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ مرکزی وزیر نے شمال مشرقی اور اندرونِ ملک واقع ریاستوں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ان کی پیداوار، رسد اور کھپت کے درمیان موجود فرق کو دور کرنے اور خود کفالت کی جانب پیش رفت کرنے کی ہدایت دی۔ سال 2019-20 میں مچھلی کی پیداوار 141.64 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 197.75 لاکھ ٹن ہونے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے پیداوار اور پیداواری صلاحیت میں مزید اضافے پر زور دیا اور کہا کہ بورڈ کی آئندہ سرگرمیوں اور اقدامات کے نتائج قابلِ پیمائش ہونے چاہئیں۔
ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کے محکمۂ ماہی پروری کے سکریٹری ڈاکٹر ابھیلاش لکھی نے آبی زراعت کے فروغ اور سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات کو مضبوط بنانے کے لیے محکمہ اور ریاستوں کی کوششوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان مصنوعات کی برآمدات کی مالیت فی الحال تقریباً 70 ہزار کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنانے کے لیے این ایف ڈی بی کی ڈیجیٹل موجودگی کو مستحکم کرنے اور متعلقہ فریقوں کی معاونت اور ان سے رائے حاصل کرنے کے طریقۂ کار کو آسان بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کوآپریٹیو اداروں، مچھلی کسان پیداواری تنظیموں (ایف ایف پی اوز)، نئے کاروباری اداروں اور نجی کاروباری افراد کے ذریعے نجی سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کی بھی اپیل کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پالیسیوں اور پروگراموں کے مؤثر نفاذ اور ان میں مسلسل بہتری کے لیے ریاستوں کے ساتھ باقاعدہ مشاورت اور متعلقہ فریقوں کی آرا کو اہم قرار دیا۔
ریاستوں کے ماہی پروری کے وزراء نے ماہی پروری کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور مچھلی منڈیوں اور مربوط آبی پارکوں کے قیام کے لیے مرکز سے مسلسل تعاون کی اپیل کی۔ انہوں نے ماہی پروری اور دیہی ترقی کے پروگراموں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے پر بھی زور دیا، تاکہ امرت سرووروں، آبی ذخائر اور دیگر آبی وسائل کو ماہی پروری کی ترقی کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔ وزراء نے ماہی گیروں، کاروباری افراد، خواتین، خود امدادی گروپوں اور سرکاری اہلکاروں کے لیے تربیت، صلاحیت سازی اور بین ریاستی و بین الاقوامی سطح پر تجربات سے استفادہ کرنے کے مواقع بڑھانے کی اپیل کی۔ اس کے علاوہ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت مستفیدین کی تربیت کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے غذائیت سے متعلق بیداری کی مہمات کے ذریعے مچھلی کے استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت بھی اجاگر کی۔
این ایف ڈی بی کے چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر بیجے کمار بہیرا نے ماہی پروری اور آبی زراعت کے شعبے میں بورڈ کی اہم سرگرمیوں، کامیابیوں اور جاری اقدامات کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے بورڈ کے ذریعے نافذ کی جانے والی مختلف سرگرمیوں، اسکیموں اور پروگراموں کے تحت ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کیا اور مجلسِ عاملہ کو اس شعبے کی ترقی کے لیے بورڈ کی جانب سے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔
اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مرکز، ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے، این ایف ڈی بی اور دیگر متعلقہ فریق مؤثر نفاذ، مرکز اور ریاستوں کے درمیان بہتر تال میل اور نتائج پر مبنی اقدامات کے ذریعے ماہی پروری اور آبی زراعت کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کام کرتے رہیں گے۔
******
) ش ح –ع ح –ف ر)
U.No. 2315