بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کی وزارت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 NOV 2026 1:37PM by PIB Delhi
خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے جاری یشسوِنی مہم کے ایک حصے کے طور پر، حکومتِ ہند کی چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کی وزارت نے 4 نومبر 2026 کو نئی دہلی کے کرتویہ بھون-3 میں ’’خواتین کی قیادت والے چھوٹے، بہت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی معاونت کے لیے خود کفیل بھارت (ایس آر آئی) فنڈ سے متعلق بیداری ورکشاپ‘‘ کا انعقاد کیا۔ اس تقریب کی صدارت ایم ایس ایم ای کی وزارت کے سکریٹری جناب بھرت کھیڑا نے کی۔
اس ورکشاپ میں ملک بھر سے 60 سے زائد خواتین کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ ان کے علاوہ وزارتِ ایم ایس ایم ای کے سینئر افسران، صنعتی انجمنوں کے نمائندے، این ایس آئی سی وینچر کیپٹل فنڈ لمیٹڈ (این وی سی ایف ایل)، ایس بی آئی وینچرز لمیٹڈ (ایس وی ایل)، ایس آر آئی فنڈ کے تحت قائم ذیلی فنڈز، نیتی آیوگ کے ویمن انٹرپرینیورشپ پلیٹ فارم (ڈبلیو ای پی) اور اٹل انکیوبیشن سینٹر، ایل ای اے پی خواتین کاروباری مرکز کے نمائندے بھی اس موقع پر موجود تھے۔
وزارتِ ایم ایس ایم ای کے ایڈیشنل سکریٹری اور ترقیاتی کمشنر ڈاکٹر رجنیش نے ایس آر آئی فنڈ کے سفر کا اجمالی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس فنڈ کا تصور روایتی قرضوں سے آگے بڑھ کر چھوٹے، بہت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو ایکویٹی کی صورت میں مالی معاونت فراہم کرنے کے مقصد سے پیش کیا گیا تھا۔ اس کے لیے حکومتِ ہند نے 10,000 کروڑ روپے مختص کیے تھے اور توقع کی گئی تھی کہ نجی سرمایہ کار اس رقم سے چار گنا زیادہ سرمایہ فراہم کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی معاملات میں ایس آر آئی فنڈ سے وابستہ سرمایہ حاصل کرنے والے کاروباری اداروں کے کاروبار میں دو سے تین سال کے اندر تین سے چار گنا اضافہ ہوا ہے اور انہوں نے نجی ذرائع سے مزید سرمایہ بھی حاصل کیا ہے۔ انہوں نے ورکشاپ میں موجود صنعتی انجمنوں کے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اراکین تک اس فنڈ سے متعلق معلومات پہنچائیں۔

اپنے افتتاحی خطاب میں جناب بھرت کھیڑا نے بتایا کہ 30 اکتوبر 2026 کو اُدیم اور اُدیم اسسٹ پورٹل پر رجسٹریشن کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کر گئی تھی، جس سے کاروباری اداروں کو باضابطہ نظام میں شامل کرنے کے سلسلے میں موجود خلا کو پُر کرنے میں مدد ملی ہے۔ ان میں سے 37.6 فیصد کاروباری اداروں کی ملکیت خواتین کے پاس ہے اور اب ہمارا ہدف اس تناسب کو بڑھا کر 50 فیصد تک پہنچانا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری اداروں کے باضابطہ نظام میں شامل ہونے کے بعد وزارت کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے کہ وہ چھوٹے، بہت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو وسعت دینے میں مدد فراہم کرے، جس کے لیے ترقیاتی سرمایہ نہایت اہم ہے۔
جناب کھیڑا نے بتایا کہ ایس آر آئی فنڈ کے تحت 10,000 کروڑ روپے کے مجموعی فنڈ میں سے 8,305 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے وعدے کیے جا چکے ہیں، جبکہ نجی وینچر کیپٹل اور پرائیویٹ ایکویٹی فنڈز سے تقریباً 48,000 کروڑ روپے کا سرمایہ حاصل کیا گیا ہے۔ اب تک 72 ذیلی فنڈز (ڈاٹر فنڈز) کو فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے اور 824 چھوٹے، بہت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں میں 21,330 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے، جن میں سے تقریباً 74 فیصد بہت چھوٹے کاروباری ادارے ہیں۔ معاونت حاصل کرنے والے کاروباری اداروں میں سے 77 ترقی کرکے اگلے بڑے زمرے میں شامل ہو چکے ہیں، چھ اسٹاک ایکسچینج میں درج ہو چکے ہیں اور 32 اداروں سے منافع کے ساتھ سرمایہ نکالنے کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ذیلی فنڈز سرمایہ کاری کے فیصلے تجارتی بنیادوں پر کرتے ہیں، جس میں کاروبار کی قابلِ عمل حیثیت، گزشتہ تین برسوں کے دوران اس کی ترقی کی رفتار اور مثبت نقد بہاؤ پر مبنی کاروباری منصوبے کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ حکومت ان فنڈز کے روزمرہ امور سے خود کو الگ رکھتی ہے اور ذیلی فنڈز کے سرمایہ کاری سے متعلق فیصلوں میں کوئی کردار ادا نہیں کرتی۔
سکریٹری موصوف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قرض اور ایکویٹی سرمایہ کاری دونوں کو ساتھ ساتھ فروغ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چھوٹے، بہت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے قرض کی مجموعی رقم 2014 میں تقریباً 10 لاکھ کروڑ روپے تھی، جو بڑھ کر 40 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ اس شعبے کے غیر فعال اثاثوں (این پی اے) کی شرح گھٹ کر تقریباً 3.5 فیصد رہ گئی ہے۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ مرکزی بجٹ 2026-27 میں بہت چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے ایس آر آئی فنڈ کو اضافی 2,000 کروڑ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں شروع کیے گئے 10,000 کروڑ روپے کے ایس ایم ای گروتھ فنڈ کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی، جو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں میں براہِ راست سرمایہ کاری کرے گا۔ انہوں نے کاروباری افراد کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے مالیاتی ریکارڈ درست طریقے سے مرتب رکھیں اور مناسب قانونی ڈھانچہ اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایکویٹی سرمایہ شامل کرنے سے کسی کاروباری ادارے کے لیے قرض حاصل کرنے کے امکانات بھی بہتر ہوتے ہیں۔
پہلے اجلاس میں، جس کا عنوان ’’خواتین کی قیادت والے چھوٹے، بہت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کا ترقیاتی سفر—ترقیاتی سرمائے کی اہمیت‘‘ تھا، صنعتی انجمنوں کے نمائندوں نے خواتین کاروباری افراد کے ساتھ کام کرنے کے اپنے تجربات پیش کیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ابتدائی مرحلے میں کام کرنے والے خواتین کی قیادت والے بہت سے کاروباری اداروں کو نسبتاً کم رقم کی سرمایہ کاری، دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں میں سرمایہ کاری کے لیے تیاری کے پروگراموں، حسابات اور کاروباری قدر کے تعین میں معاونت اور ایسی لچکدار سہولتوں کی ضرورت ہے جو ان خواتین کاروباری افراد کے لیے موزوں ہوں جن کے پاس ضمانت کے لیے اثاثے یا طویل عرصے کا مالیاتی ریکارڈ موجود نہیں ہوتا۔ انہوں نے اس ضرورت پر بھی زور دیا کہ سرمائے کو منڈی تک رسائی سے مربوط کیا جائے، جس میں گورنمنٹ ای مارکیٹ پلیس (جی ای ایم)، او این ڈی سی اور برآمدات کے ذریعے منڈی تک رسائی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے ایسے ورکشاپس کے باقاعدگی سے انعقاد کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

دوسرے اجلاس میں، جس کا موضوع ’’ایس آر آئی فنڈ کا جائزہ اور ذیلی فنڈز (ڈاٹر فنڈز) کا کردار‘‘ تھا، وزارتِ ایم ایس ایم ای کے ایڈیشنل ڈیولپمنٹ کمشنر جناب پروین کمار نے فنڈ کے ڈھانچے کی وضاحت کی۔ انہوں نے بتایا کہ بنیادی فنڈ (مدر فنڈ) صرف ذیلی فنڈز کے ذریعے سرمایہ کاری کرتا ہے، جبکہ ذیلی فنڈز چھوٹے، بہت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں میں سرمایہ لگاتے ہیں۔ نیشنل اسمال انڈسٹریز کارپوریشن (این ایس آئی سی) کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر جناب سبھرانشو شیکھر آچاریہ نے چھوٹے، بہت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے نظام میں موجود خامیوں پر روشنی ڈالی اور کاروباری افراد کو ایکویٹی فنڈنگ کے فوائد سے آگاہ کیا۔ ایس آر آئی فنڈ کے سرمایہ کاری منتظم، ایس بی آئی وینچرز لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر جناب پریم پربھاکر نے کہا کہ ترقی کی خواہش رکھنے والے کاروباری اداروں کے لیے ایکویٹی سرمایہ تزویراتی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس کے لیے ضمانتی اثاثوں کی ضرورت نہیں ہوتی اور سرمایہ کار متعلقہ شعبے کے بارے میں رہنمائی اور مسلسل معاونت بھی فراہم کرتے ہیں۔ ذیلی فنڈز کے نمائندوں نے سرمایہ کاری کے معیار کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے لیے مضبوط منڈی، اہل ٹیم، توسیع کی صلاحیت رکھنے والا کاروباری نمونہ، آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے، کارپوریٹ نظم و نسق کے تقاضوں کو پورا کرنے کی تیاری، بشمول پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کا ڈھانچہ، اور سرمائے کے استعمال کا واضح منصوبہ ضروری ہے۔ انہوں نے کاروباری افراد کو ایکویٹی فنڈنگ حاصل کرنے کے عمومی مراحل سے بھی آگاہ کیا، جن میں ابتدائی جانچ پڑتال سے لے کر تفصیلی چھان بین اور دستاویزات کی تیاری تک کے مراحل شامل ہیں۔
تیسرے اجلاس میں کاروباری نظام کے شراکت داروں کے ذریعے دستیاب معاونت پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اٹل انکیوبیشن سینٹر، الیپ ویمن انٹرپرینیورز ہب اور نیتی آیوگ کے ویمن انٹرپرینیورشپ پلیٹ فارم (ڈبلیو ای پی) کے نمائندوں نے خواتین کاروباری افراد کے لیے دستیاب مختلف سہولتوں اور معاونت کے بارے میں بتایا۔ ان میں کاروباری اداروں کی نشونما و ترقی کے لیے رہنمائی، مشاورت، منڈی تک رسائی، سرکاری اسکیموں سے متعلق معلومات کی فراہمی اور ضابطہ جاتی تقاضوں کی تکمیل میں معاونت شامل ہیں۔ اس ورکشاپ کے تصوراتی خاکے کی تیاری، منصوبہ بندی اور انعقاد کے لیے کاروباری نظام کے شراکت دار مائیکرو سیو کنسلٹنگ (ایم ایس سی) نے تکنیکی معاونت فراہم کی۔

آخری اجلاس سوال و جواب کے ایک باہمی تبادلۂ خیال پر مشتمل تھا، جس میں شرکاء نے ذیلی فنڈز سے رابطہ کرنے، واحد ملکیت کے تحت چلنے والے کاروباری اداروں کو سرمایہ کاری کے لیے تیار کرنے، مخصوص شعبوں کے لیے قائم فنڈز اور ٹیکنالوجی و بنیادی ڈھانچے سے متعلق معاونت جیسے موضوعات پر گفتگو کی۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ ایس آر آئی فنڈ کے خصوصی مقصد کے لیے قائم ادارے، این ایس آئی سی وینچر کیپٹل فنڈ لمیٹڈ کی ویب سائٹ پر 72 ذیلی فنڈز کی تفصیلات، بشمول ان کی ترجیحی شعبہ جات اور رابطے کی معلومات، دستیاب ہیں۔ ورکشاپ کا اختتام وزارتِ ایم ایس ایم ای کی جانب سے اس یقین دہانی کے ساتھ ہوا کہ وہ مستقبل میں بھی یشسوِنی مہم کے ذریعے خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کو مسلسل فروغ اور معاونت فراہم کرتی رہے گی۔
****
ش ح۔ا ک۔ف ر
U- 7266