پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 NOV 2026 6:11PM by PIB Delhi
بھارت میں شہری ہوابازی اور نئے ضوابط کی ضرورت
شہری ہوابازی کے شعبے میں بھارت دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی کی منڈیوں میں شامل ہے۔ ہوائی سفر کے ذریعے بڑے شہروں، چھوٹے قصبوں اور دور دراز علاقوں کے درمیان رابطہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ بھارت میں ہوابازی کے نیٹ ورک کی توسیع کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں کام کرنے والے ہوائی اڈوں کی تعدادجو 2014 میں 74 تھی، اکتوبر 2026 تک بڑھ کر 166 ہو گئی ہے۔
اس شعبے کی ترقی کے ساتھ ضروری ہے کہ اس کے ضابطہ جاتی نظام کو بھی ہوائی جہازوں کی ٹیکنالوجی، آپریشن اور مالیاتی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق بہتر بنایا جائے اور حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے۔ اس ترقی کے لیے ایک واضح، جدید اور حفاظت پر مبنی قانونی نظام کی ضرورت ہے۔ بھارتی وایویان ادھینیم، 2024 اس جدید کاری کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس کے تحت حکومت نے بھارتی وایویان نییم، 2026 کو نوٹیفائی کیا ہے، جو کئی دہائیوں سے نافذ ایئرکرافٹ ضابطے، 1937 کی جگہ لے گا۔ یہ نئے ضوابط یکم جنوری 2027 سے نافذ ہوں گے۔ ان میں پہلے سے موجود ضروری حفاظتی شرائط کو برقرار رکھتے ہوئے ہوابازی کے شعبے میں ہونے والی نئی تبدیلیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ان نئے ضوابط کی اہم دفعات میں ہوائی جہازوں کے ڈیزائن اور سرٹیفکیشن کے لیے زیادہ واضح نظام شامل ہے۔ اس کے تحت ڈیزائن کی منظوری اور پرزے تیار کرنے کی اجازت دینے کا بھی انتظام کیا گیا ہے، جس سے ڈیزائن تیار کرنے والے ملک کے طور پر بھارت کی حیثیت مزید مضبوط ہوگی۔
ان ضوابط میں ہوائی جہاز کی جزوی ملکیت کا انتظام بھی شامل ہے، جس کے تحت ایک ہوائی جہاز کی مشترکہ ملکیت ممکن ہوگی، تاہم اس کے آپریشن اور دیکھ بھال کی ذمہ داری واضح طور پر متعین ہوگی۔اس کے ساتھ پروٹیکشن آف انٹرسٹس اِن ایئرکرافٹ آبجیکٹس ایکٹ، 2025 بھی اہم ہے، جس کے ذریعے بھارت میں ہوائی جہازوں کو لیز پر دینے کے معاملے میں کیپ ٹاؤن کنونشن کے نظام کو نافذ کیا گیا ہے۔ اس کے تحت اٹل ڈی رجسٹریشن اینڈ ایکسپورٹ ریکویسٹ آتھرائزیشن (آئی ڈی ای آر اے) کا طریقہ کار ہوائی جہاز کے رجسٹریشن ختم کرنے کے لیے ایک مقررہ مدت میں کارروائی کو یقینی بناتا ہے اور اہل ہوائی جہازوں کی برآمد میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس سے ہوائی جہاز خریدنے اور لیز پر لینے کی لاگت کم کرنے اور ہوائی کرایوں پر دباؤ گھٹانے میں مدد مل سکتی ہے۔ان ضوابط کا مقصد ایئرلائنز کو کاروباری معاملات میں لچک فراہم کرنے، کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے اور مسافروں کے مفادات کا تحفظ کرنے کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ اس کے تحت ہوائی کرایوں اور ان سے متعلق دیگر چارجز میں زیادہ شفافیت کو فروغ دے کر مسافروں کے مفادات کے تحفظ کے اقدامات کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ غیر معمولی حالات میں مرکزی حکومت کو مناسب اقدامات کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔
بھارتی وایویان نییم، 2026 میں 220 ضوابط شامل ہیں، جنہیں آٹھ ابواب اور چھ ضمیموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں ہوائی جہازوں کی رجسٹریشن، ان کی پرواز کے قابل ہونے کی تصدیق، متعلقہ عملے کو لائسنس جاری کرنے، ہوائی اڈوں کے انتظام، فضائی آمدورفت کی خدمات اور ہوائی جہازوں کے آپریشن سے متعلق امور شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان ضوابط میں نگرانی، حفاظتی انتظامات، قوانین پر عمل درآمد اور خلاف ورزیوں پر جرمانے سے متعلق شرائط بھی طے کی گئی ہیں۔یہ نئے ضوابط ایئرکرافٹ رولز، 1937 اور ایئرکرافٹ رولز، 1920 کے نویں حصہ کی جگہ لیں گے۔ اس کے علاوہ ریڈیو ٹیلی فون آپریٹر (محدود) سرٹیفکیٹ اور لائسنس رولز، 2025 کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے، تاہم اس کے لیے مقررہ خصوصی رعایتی دفعات برقرار رہیں گی۔

بھارتی وایویان نییم، 2026 کی اہم دفعات
ان ضوابط میں ہوائی جہازوں کے ڈیزائن اور عملے کو لائسنس جاری کرنے سے لے کر ہوائی اڈوں اور روزمرہ کی پروازوں کے انتظام تک شہری ہوابازی کے تمام اہم پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان کی اہم دفعات درج ذیل ہیں:
عمومی حفاظت اور عوامی نظم و ضبط
ان ضوابط میں ہوائی جہازوں کے استعمال، رجسٹریشن، شناخت اور محفوظ طریقے سے چلانے کے لیے ضروری شرائط طے کی گئی ہیں۔
- ہوائی جہازوں کے رجسٹریشن: تمام ہوائی جہازوں کا رجسٹریشن لازمی ہوگا اور ان پر مقررہ قومی شناخت اور رجسٹریشن کے نشانات نمایاں طور پر درج ہونے چاہئیں۔
- ہوائی جہازوں کے دستاویزات: ہر ہوائی جہاز میں رجسٹریشن کا درست سرٹیفکیٹ، پرواز کے قابل ہونے کا سرٹیفکیٹ اور آپریشن سے متعلق دیگر مقررہ دستاویزات موجود ہونا ضروری ہے۔
- ممنوعہ اشیا: اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور فوجی سازوسامان لے جانے کے لیے مقررہ اجازت حاصل کرنا لازمی ہوگا۔
- محدود اور ممنوعہ علاقے: مخصوص قرار دیے گئے علاقوں میں ہوائی جہازوں کی پرواز اور دیگر سرگرمیاں مقررہ ضوابط کے تحت ہوں گی۔
- تصویرکشی اور ویڈیو سازی: ہوائی اڈوں پر یا دورانِ پرواز ہوائی جہاز سے تصویریں لینے اور ویڈیو بنانے کے لیے مقررہ اجازت حاصل کرنا ضروری ہوگا۔
- پرواز کا تحفظ: ان ضوابط میں محفوظ پرواز، خطرناک انداز میں طیارہ اڑانے، ہنگامی حالات، خطرے میں گھرے ہوائی جہازوں اور ہوابازی کے مقررہ قوانین پر عمل کرنے سے متعلق شرائط شامل ہیں۔
- ہوائی جہازوں کی سلامتی: ان میں عملے کے ارکان پر حملے، ان کے کام میں غیر قانونی مداخلت، غیر قانونی سرگرمیوں اور ہوائی جہاز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے طرزِ عمل سے متعلق دفعات شامل ہیں۔
- دیگر آپریشنل پابندیاں: ان ضوابط میں ہوائی جہازوں میں ایندھن بھرنے، دورانِ پرواز اشیا گرانے، پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگانے، جانوروں کی نقل و حمل اور دیگر ضابطوں کے تحت آنے والی سرگرمیوں سے متعلق شرائط بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شور سے متعلق پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں، جن کے تحت بھارت کی فضائی حدود میں ایسی شہری پروازیں ممنوع ہوں گی جن سے آواز کی رفتار سے زیادہ تیز پرواز کے باعث صوتی دھماکے (سونک بومس) پیدا ہوتے ہیں۔
ہوائی جہازوں کا ڈیزائن، تیاری اور پرواز کے قابل ہونے کی تصدیق
ان ضوابط میں ہوائی جہازوں اور ہوابازی سے متعلق دیگر مصنوعات کے ڈیزائن اور سرٹیفکیشن کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس میں بھارت میں تیار کیے جانے والے ہوائی جہاز بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ان کی تیاری، پرواز کے قابل ہونے کی تصدیق اور دیکھ بھال سے متعلق شرائط بھی طے کی گئی ہیں۔
- ڈیزائن کی منظوری (ٹائپ سرٹیفکیشن): شہری ہوابازی کے ڈائریکٹوریٹ جنرل (ڈی جی سی اے) کو ایسے ہوائی جہازوں، انجنوں اور پروپیلرس کے لیے ڈیزائن کی منظوری کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اختیار ہوگا جن کا ڈیزائن تیار کرنے والا ملک بھارت ہے۔ مقررہ شرائط کے تحت بیرونِ ملک جاری کیے گئے ایسے سرٹیفکیٹس کی توثیق یا منظوری بھی دی جا سکے گی۔
- پرواز کی حفاظت سے متعلق ہدایات: اگر کسی ہوائی جہاز یا اس کے کسی حصے میں کوئی ایسی خرابی یا خامی پائی جاتی ہے جس سے حفاظت کو خطرہ ہو اور اسی ڈیزائن کے دیگر ہوائی جہاز بھی متاثر ہو سکتے ہوں تو ڈی جی سی اے ضروری ہدایات جاری کر سکتا ہے۔ عام طور پر ان ہدایات کے مسودے ڈی جی سی اے کی ویب سائٹ پر 30 دن کے لیے جاری کیے جائیں گے، تاکہ لوگ ان پر اپنے اعتراضات اور تجاویز پیش کر سکیں۔ تاہم، اس سلسلے میں بعض مخصوص استثنائی صورتیں بھی ہوں گی۔
- بھارتی تکنیکی معیارات سے متعلق احکامات: قواعد 27 سے 33 کے دائرے میں نہ آنے والے ہوائی جہازوں کے پرزوں کے لیے ڈی جی سی اے کے مقرر کردہ تکنیکی معیارات پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔
- پرزوں کا ڈیزائن اور تیاری: ڈی جی سی اے کو ایسے پرزوں کے ڈیزائن اور تیاری کی اجازت دینے کا اختیار ہوگا جو پرواز کی حفاظت سے متعلق مقررہ شرائط پوری کرتے ہوں۔
- پرواز کے قابل ہونے کا سرٹیفکیٹ: ان ضوابط میں پرواز کے قابل ہونے کے سرٹیفکیٹ، خصوصی سرٹیفکیٹ اور اس کی جانچ کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے متعلق دفعات شامل ہیں۔
- شور سے متعلق سرٹیفکیٹ: ڈی جی سی اے مقررہ شرائط کے مطابق ہوائی جہازوں کے شور سے متعلق سرٹیفکیٹ جاری کر سکتا ہے۔
- معائنہ اور دیکھ بھال: ان ضوابط میں ہوائی جہازوں کے معائنے، مقررہ وقفوں پر ان کی مکمل جانچ، تبدیلیوں، مرمت اور دیکھ بھال کی تصدیق سے متعلق امور کو منظم کیا گیا ہے۔
- دیکھ بھال کا ریکارڈ: ہوائی جہازوں، انجنوں، پروپیلرس اور دیگر مقررہ حصوں سے متعلق لاگ بُک اور ریکارڈ رکھنا لازمی ہوگا۔
- منظور شدہ ادارے: ڈی جی سی اے مقررہ شرائط اور نگرانی کے تحت ہوائی جہازوں کے ڈیزائن، تیاری، دیکھ بھال اور ان سے متعلق دیگر کام کرنے والے اداروں کو منظوری دے سکتا ہے۔
- غیر ملکی ادارے: مقررہ شرائط کے تحت ڈی جی سی اے بیرونِ ملک سے منظور شدہ ان اداروں کو بھی قبول کر سکتا ہے جو ہوائی جہازوں، انجنوں اور پرزوں کی دیکھ بھال کا کام کرتے ہیں۔
ان ضوابط میں ہوائی جہازوں کے آلات، ریڈیو کے نظام، وزن اور توازن، خراب پرزوں اور دیکھ بھال کی تصدیق سے متعلق ضروری شرائط بھی طے کی گئی ہیں۔
ہوائی جہازوں کی رجسٹریشن اور شناخت
ان ضوابط میں ہوائی جہازوں کی رجسٹریشن، ان کی شناخت، ملکیت میں تبدیلی اور رجسٹریشن کے ریکارڈ کو برقرار رکھنے سے متعلق شرائط طے کی گئی ہیں۔
- رجسٹریشن کی اقسام: مقررہ شرائط کے مطابق ملکیت، شہریت، کاروباری رجسٹریشن اور لیز سے متعلق معیار کی بنیاد پر ہوائی جہازوں کی رجسٹریشن زمرہ اے یا زمرہ بی کے تحت کی جا سکے گی۔
- رجسٹریشن سرٹیفکیٹس: ان دفعات میں رجسٹریشن کے لیے درخواست دینے اور سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا طریقہ کار شامل ہے۔ اس میں ان ہوائی جہازوں کے لیے عارضی سرٹیفکیٹ کا انتظام بھی ہے جو فضائی راستے سے بھارت لائے جاتے ہیں۔
- ملکیت میں تبدیلی: ہوائی جہاز کی ملکیت یا اسے لیز پر دینے والے ادارے میں تبدیلی کی اطلاع فوری طور پر دینا لازمی ہوگا۔ رجسٹریشن سے متعلق تمام شرائط پوری ہونے تک اس ہوائی جہاز کی مزید پروازوں پر پابندی رہے گی، البتہ ڈی جی سی اے تحریری اجازت دے سکتا ہے۔
- رجسٹریشن کی منسوخی: مقررہ حالات میں ہوائی جہاز کا رجسٹریشن منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ آئی ڈی ای آر اے کے حامل افراد کی جانب سے رجسٹریشن منسوخ کرنے کے لیے دی گئی اہل درخواستوں پر مقررہ شرائط کے مطابق پانچ کام کے دنوں کے اندر کارروائی کرنا لازمی ہوگا۔
- برآمد اور ہوائی جہازوں کا رجسٹر: ان ضوابط میں مقررہ طریقہ کار کے تحت رجسٹریشن منسوخ ہونے کے بعد ہوائی جہازوں کی برآمد میں سہولت فراہم کی گئی ہے۔ ڈی جی سی اے بھارت میں رجسٹرڈ ہوائی جہازوں کا ریکارڈ رکھے گا، جسے مقررہ شرائط کے تحت عوام دیکھ سکیں گے۔
- رجسٹریشن کے نشانات: ہر ہوائی جہاز پر قومی شناختی نشان ’’وی ٹی‘‘ درج کرنا لازمی ہوگا، جس کے بعد ایک خطِ رابط (-) اور تین بڑے انگریزی حروف درج کیے جائیں گے۔ رجسٹریشن کے نشانات کو مقررہ مدت کے لیے محفوظ رکھنے کی سہولت بھی ہوگی۔
- اسٹیٹ نشانات اور قومی پرچم: غیر سرکاری ہوائی جہازوں پر وہ نشانات استعمال نہیں کیے جا سکیں گے جو صرف سرکاری ہوائی جہازوں کے لیے مخصوص ہیں۔ قومی پرچم بھارت کے پرچم سے متعلق ضابطے کے مطابق لگایا جا سکے گا۔
- موڈ-ایس ایڈریس: ڈی جی سی اے ان ہوائی جہازوں کو موڈ-ایس ایڈریس جاری کر سکتا ہے جن میں موڈ-ایس ٹرانسپونڈر نصب ہو اور جو بھارت میں رجسٹرڈ ہوں یا جن کی رجسٹریشن کی درخواست دی گئی ہو۔ اس کے لیے مقررہ شرائط پوری کرنا ضروری ہوگا۔
ان ضوابط میں بین الاقوامی ہوابازی کے متعلقہ معاہدوں اور انتظامات کے تحت ہوائی جہازوں کی رجسٹریشن اور رجسٹریشن منسوخ کرنے سے متعلق امور بھی شامل ہیں۔
عملے کے لیے لائسنس اور اہلیت
ان ضوابط میں لائسنس، خصوصی اجازت ناموں اور سرٹیفکیٹس کی 23 اقسام مقرر کی گئی ہیں۔ ان کے تحت ہوابازی کے شعبے میں کام کرنے والے عملے کے لیے تعلیمی قابلیت، طبی طور پر صحت مند ہونا، تربیت، تجربہ اور کام کرنے کی صلاحیت سے متعلق شرائط طے کی گئی ہیں۔ اہم دفعات میں عملے کے چار گروپ شامل ہیں:
1۔ پائلٹ اور فلائٹ انجینئرس
- زیرِ تربیت پائلٹ، نجی پائلٹ، کمرشل پائلٹ اور ایئرلائن ٹرانسپورٹ پائلٹ کے ساتھ فلائٹ انجینئرز اور فلائٹ نیویگیٹرز کے لیے لائسنس کی شرائط۔
- کم از کم عمر اور تعلیمی قابلیت۔
- طبی طور پر صحت مند ہونے کے معیار اور وقتاً فوقتاً طبی جانچ۔
- پرواز کا کم از کم تجربہ، امتحانات اور کام کرنے کی صلاحیت کا جائزہ۔
- ہوائی جہاز کی مخصوص اقسام کے لیے اجازت، لائسنس کی مدت اور اس کی تجدید۔
- بیرونِ ملک جاری کیے گئے لائسنس کی توثیق۔
- پرواز کے عملے کی لاگ بُک اور پرواز کے وقت کا ریکارڈ رکھنا۔
2۔ ہوائی جہازوں کے رکھ رکھاؤ سے متعلق انجینئرز
- لائسنس، اہلیت اور کام کرنے کی اجازت سے متعلق شرائط۔
- بیرونِ ملک جاری کیے گئے ہوائی جہازوں کے رکھ کھاؤ سے متعلق انجینئرز کے لائسنس کی توثیق۔
- دیکھ بھال کرنے والے عملے کی لاگ بُک اور تجربے کا ریکارڈ رکھنا۔
3۔ فضائی ٹریفک کنٹرولرز
- لائسنس اور متعلقہ یونٹ کے لیے مخصوص اجازت ناموں کی شرائط۔
- تربیت، تجربہ اور کام کرنے کی صلاحیت کا جائزہ۔
- طبی طور پر صحت مند ہونے کی شرط اور وقتاً فوقتاً طبی جانچ۔
- لائسنس کی مدت، اس کی توثیق اور تجدید۔
- مخصوص لائسنس اور اجازت ناموں کے تحت کام کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر 60 سال مقرر کی گئی ہے۔
- تجربے کا ریکارڈ برقرار رکھنا اور کام کرنے کی صلاحیت کے مقررہ معیار پر عمل کرنا۔
4۔ ریڈیو ٹیلی فون آپریٹرز
- ہوائی جہازوں کے ریڈیو ٹیلی فون آلات چلانے سے متعلق شرائط۔
- محدود ریڈیو ٹیلی فون آپریشن کے لیے اہلیت، امتحانات اور لائسنس جاری کرنے کا طریقہ کار۔
- متعلقہ سرٹیفکیٹس اور لائسنس کی منظوری اور تجدید۔
ان ضوابط کے پہلے شیڈول میں ہوابازی کے عملے کے لائسنس سے متعلق شرائط بیان کی گئی ہیں، جب کہ دوسرے شیڈول میں فضائی ٹریفک خدمات کے عملے کے لیے لائسنس اور اہلیت سے متعلق شرائط مقرر کی گئی ہیں۔
کیبن کریو (طیارے کے اندر خدمات انجام دینے والا عملہ) سے متعلق شرائط
بھارت میں رجسٹرڈ اور مسافروں کو عوامی نقل و حمل کی سہولت فراہم کرنے والے ہوائی جہازوں میں نشستوں کی گنجائش کے مطابق مقررہ تعداد میں کیبن کریو (طیارے کے اندر خدمات انجام دینے والے عملے) کا ہونا ضروری ہے۔ اگر طیارہ بنانے والی کمپنی نے اس سے زیادہ تعداد مقرر کی ہے تو عملے کی وہی تعداد رکھنا لازمی ہوگا۔ عملے کے تمام ارکان کے لیے منظور شدہ حفاظتی تربیت اور وقتاً فوقتاً تازہ تربیتی کورس مکمل کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، عملے کا کوئی بھی رکن تین سے زیادہ قسم کے طیاروں میں خدمات انجام نہیں دے سکے گا۔ ان ضوابط کے مطابق، 10 سے 50 نشستوں والے ہوائی جہازوں اور 20 سے 50 نشستوں والے ہیلی کاپٹروں میں کم از کم ایک کیبن کریو رکن ہونا ضروری ہے۔ 50 سے زیادہ نشستوں والے طیاروں میں کم از کم دو ارکان ہونے چاہئیں، جبکہ 99 سے زیادہ نشستوں کی صورت میں ہر 50 نشستوں یا اس کے کسی بھی حصے کے لیے ایک اضافی رکن رکھنا لازمی ہوگا۔
ہوائی اڈے اور زمینی بنیادی ڈھانچہ
ان ضوابط میں ہوائی اڈوں کی سہولتوں، حفاظت اور انتظامی امور سے متعلق شرائط مقرر کی گئی ہیں۔ ان کی اہم دفعات درج ذیل ہیں:
- روشنی سے متعلق حفاظتی انتظامات: ہوابازی کے لیے استعمال ہونے والی روشنیوں کے لیے منظوری لینا ضروری ہوگا۔ ہوائی اڈوں سے پانچ سمندری میل کے دائرے میں ایسی روشنیوں کے استعمال پر پابندی ہوگی جو پائلٹوں کو غلط فہمی میں مبتلا کر سکتی ہیں۔ اسی طرح، ہوائی اڈے سے دس سمندری میل کے دائرے میں لیزر کے استعمال کے لیے ہوائی اڈے کے منتظم سے تحریری اجازت لینا ضروری ہوگا۔
- ہوائی اڈے کا لائسنس: ہوائی اڈوں کو عوامی یا نجی استعمال کے لیے لائسنس دیا جا سکے گا۔ لائسنس کے لیے اہل درخواست گزاروں میں بھارتی شہری، مقررہ شرائط پر پورا اترنے والی کمپنیاں، سرکاری ادارے، رجسٹرڈ سوسائٹیاں اور ٹرسٹ شامل ہوں گے۔
- ہوائی اڈے کا انتظامی کتابچہ: لائسنس حاصل کرنے والوں کے لیے ہوائی اڈے کا انتظامی کتابچہ تیار رکھنا اور اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہوگا کہ ہوائی اڈہ طیاروں کی محفوظ پرواز اور آمد و رفت کے لیے موزوں حالت میں رہے۔
- سہولتوں میں تبدیلی: طیاروں کی حفاظت پر اثر انداز ہونے والے رن وے، عمارتوں یا دیگر ڈھانچوں میں کسی بھی تبدیلی کے لیے شہری ہوابازی کے ڈائریکٹوریٹ جنرل (ڈی جی سی اے) سے پیشگی منظوری لینا ضروری ہوگا۔
- معائنہ اور رسائی: ڈی جی سی اے کے مجاز اہلکاروں کو ہوائی اڈے کی سہولتوں، آلات، ریکارڈ اور حفاظتی انتظامی نظام کا معائنہ کرنے کے لیے بلا روک ٹوک رسائی حاصل ہوگی۔
- محصولات اور فیس: ہوائی اڈوں کے محصولات اور فیس کے نرخ ضابطوں کے تحت مقرر کیے جائیں گے۔ بھارتی طیاروں اور دیگر معاہدہ کرنے والے ممالک کے طیاروں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے گا۔ مقررہ شرحوں کے مطابق مسافروں سے خدمات کی فیس اور ہوائی اڈے کی ترقی کے لیے فیس بھی وصول کی جا سکے گی۔
- داخلے اور آمد و رفت کے مخصوص علاقے: ہوائی اڈے کے مخصوص ٹرمینل علاقوں میں داخلے کے لیے داخلہ ٹکٹ یا مجاز اجازت نامہ ضروری ہوگا، تاہم مقررہ استثنائی صورتیں اس سے مستثنیٰ ہوں گی۔ ہوائی اڈے کے ان حصوں میں داخلے کے لیے بھی اجازت لینا ضروری ہوگا جہاں طیاروں کی آمد و رفت ہوتی ہے۔
- جنگلی جانوروں سے لاحق خطرات کی روک تھام: ہوائی اڈوں سے دس کلومیٹر کے دائرے میں جانور ذبح کرنے، کچرا پھینکنے اور ایسی سرگرمیوں پر پابندی ہوگی جن سے جنگلی جانور وہاں آ سکتے ہیں۔ تاہم، مقررہ استثنائی صورتوں میں اس کی اجازت ہوگی۔
- زمینی خدمات: ہوائی کمپنیاں مقررہ شرائط کے مطابق اہل زمینی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کی خدمات حاصل کر سکتی ہیں۔ اس کے لیے ضروری منظوری، حفاظتی جانچ اور سلامتی سے متعلق شرائط پوری کرنا لازمی ہوگا۔

فضائی رہنمائی کی خدمات
ان ضوابط کے تحت فضائی رہنمائی کی خدمات کے لیے ایک باقاعدہ نظام قائم کیا گیا ہے، جس میں فضائی ٹریفک کے انتظام اور اس سے متعلق تکنیکی خدمات شامل ہیں۔ ان کی اہم دفعات درج ذیل ہیں:
- فضائی ٹریفک کا انتظام: فضائی ٹریفک کی محفوظ، مؤثر اور مسلسل خدمات فراہم کرنا، فضائی حدود کا انتظام کرنا اور فضائی ٹریفک کنٹرول کرنے والے عملے کے کام کے اوقات اور کم از کم آرام کے دورانیے سے متعلق شرائط طے کرنا۔
- مواصلات، رہنمائی اور نگرانی: مخصوص سہولتوں کی منظوری اور ان کی دیکھ بھال کو یقینی بنانا۔ اس کے ساتھ آواز کے ذریعے ہونے والی گفتگو، پیغامات، اشاروں اور اعداد و شمار کا ریکارڈ محفوظ رکھنا۔
- موسمیاتی خدمات: ہوابازی کے لیے موسم سے متعلق معلومات فراہم کرنا۔ ان معلومات کا ریکارڈ کم از کم 30 دن تک محفوظ رکھنا اور ضرورت پڑنے پر پوچھ گچھ اور تحقیقات کے لیے دستیاب کرانا۔
- آلات کی مدد سے پرواز کے طریقۂ کار کی تیاری: آلات کی مدد سے پرواز کے طریقۂ کار ڈی جی سی اے کے منظور شدہ معیار کے مطابق تیار کیے جائیں گے۔ ان کی اشاعت، تبدیلی یا منسوخی کے لیے ڈی جی سی اے سے پیشگی منظوری لینا ضروری ہوگا۔
- تلاش اور بچاؤ: تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں کو مربوط انداز میں انجام دینے کے لیے پڑوسی ممالک کے ساتھ معاہدے کرنا اور امدادی رابطہ مراکز کے درمیان تعاون کو یقینی بنانا۔
تیسری فہرست میں ہوابازی کے مواصلاتی نظام کی سہولتوں اور ان سے متعلق انتظامی کتابچوں کے لیے ضروری شرائط بیان کی گئی ہیں۔
ایئرکرافٹ آپریشنز
ان ضوابط میں شیڈولڈ اور غیر شیڈولڈ فضائی نقل و حمل کی خدمات، نجی طیاروں اور ہوابازی کی خصوصی سرگرمیوں کے لیے ضروری شرائط مقرر کی گئی ہیں۔ ان کی اہم دفعات درج ذیل ہیں:
- پرواز کے اجازت نامے اور پاسپورٹ: بھارت میں رجسٹرڈ طیاروں کو بین الاقوامی پروازوں کے لیے مقررہ اجازت نامے حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ ہوائی جہاز کے ذریعے بھارت آنے والے افراد کے پاس امیگریشن کے نافذالعمل ضوابط کے مطابق درست پاسپورٹ ہونا لازمی ہے۔
- عملے کی تھکن اور جسمانی و ذہنی صحت: ان ضوابط میں پرواز اور ڈیوٹی کے اوقات کی حد، آرام کے کم از کم دورانیے اور تھکن سے بچاؤ کے انتظامات شامل ہیں۔ عملے کے ارکان کے لیے پرواز سے پہلے 12 گھنٹے کے دوران یا پرواز کی ڈیوٹی کے وقت شراب یا مخصوص نشہ آور اشیا کا استعمال ممنوع ہوگا۔
- طیارے میں حفاظت اور نظم و ضبط: طیارے کے کمانڈر پائلٹ کو طیارے کے بارے میں حتمی اختیار حاصل ہوگا۔ اندرونِ ملک فضائی نقل و حمل کی خدمات کے دوران شراب پینے پر پابندی ہوگی۔ طیارے میں سگریٹ نوشی اور بعض دیگر سرگرمیوں پر بھی مقررہ پابندیاں عائد ہوں گی۔
- فضائی آپریٹر کے سرٹیفکیٹ: باقاعدہ فضائی نقل و حمل کی خدمات کے لیے مقررہ اجازت نامے اور سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ اس سلسلے میں ملکیت، انتظامی اختیار، حفاظت اور سلامتی سے متعلق تمام قابلِ اطلاق شرائط پوری کرنا لازمی ہوگا۔
- چارٹر پروازیں، فضائی کام اور غیر ملکی ہوائی کمپنیاں: غیر شیڈولڈ فضائی نقل و حمل اور ہوابازی سے متعلق خصوصی کاموں کے لیے مقررہ اجازت نامے یا منظوری حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ غیر ملکی ہوائی کمپنیوں کو بھی متعلقہ اجازت ناموں، معاہدوں اور آپریشن سے متعلق شرائط کی پابندی کرنا ہوگی۔
- ہوائی کرایے اور محصولات: ہوائی کمپنیوں کو آپریشن کی لاگت سمیت مختلف عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کرایے مقرر کرنے اور انہیں برقی ذرائع سے شائع کرنے ہوں گے۔ باقاعدہ پروازیں چلانے والی کمپنیوں کو نگرانی کے لیے اپنے کرایوں کی تفصیلات ڈی جی سی اے کو پیش کرنا ہوں گی۔ ٹکٹوں کی بکنگ کرنے والی ویب سائٹس اور ٹکٹوں پر قابلِ ادائیگی کل رقم کے ساتھ کرایے، ٹیکس، فیس اور دیگر اخراجات کی الگ الگ تفصیلات دینا ضروری ہوگا۔ غیر معمولی حالات میں مرکزی حکومت عوامی مفاد میں متناسب اور محدود مدت کے لیے ضروری ہدایات جاری کر سکتی ہے۔
- طیاروں کی ملکیت اور درآمد: ان ضوابط میں طیاروں کی درآمد، مشترکہ ملکیت کے انتظامات اور نجی طیاروں کے استعمال کو باقاعدہ بنایا گیا ہے۔ ضوابط میں اجازت دی گئی صورتوں کے علاوہ نجی طیاروں کو کرایے یا معاوضے کے عوض استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ ان ضوابط میں طیاروں کی مشترکہ ملکیت کو تسلیم کیا گیا ہے، جس کے تحت کئی افراد مل کر کسی طیارے میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ ایسے انتظامات میں طیارے کے آپریشن اور دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی واضح کرنا ضروری ہوگا۔
- انجینئرنگ، معائنہ اور انتظامی کتابچے: طیاروں کے مالکان اور آپریٹروں کو دیکھ بھال، معائنے، ریکارڈ رکھنے اور انتظامی کتابچوں سے متعلق قابلِ اطلاق شرائط کی پابندی کرنا ہوگی۔
- علاقائی فضائی رابطہ فنڈ: مرکزی حکومت علاقائی فضائی رابطے کو فروغ دینے کے لیے ایک فنڈ قائم کر سکتی ہے، جس کے ذریعے ایسی فضائی خدمات کو مالی مدد دی جا سکے گی جن کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اضافی تعاون درکار ہو۔ اس مقصد کے لیے اندرونِ ملک چلنے والی باقاعدہ پروازوں پر محصول بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔ ریاستی حکومتیں اور دیگر مقررہ ذرائع بھی اس فنڈ میں تعاون کر سکتے ہیں۔
- فیس اور محصولات: ان ضوابط کے تحت ہوابازی کی سلامتی سے متعلق فیس وصول کرنے اور ضابطہ جاتی اجازت ناموں، منظوریوں اور دیگر خدمات کے لیے فیس مقرر کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
ضابطہ جاتی نگرانی، حفاظتی جانچ اور نفاذ
ان ضوابط کے تحت ہوابازی کے شعبے کی نگرانی، فضائی سلامتی کے انتظام، قواعد کی پابندی اور ان پر عمل درآمد کے لیے ضروری شرائط مقرر کی گئی ہیں۔ ان کی اہم دفعات درج ذیل ہیں:
بین الاقوامی معیار: ڈی جی سی اے، ایکٹ اور ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے، شکاگو کنونشن اور اس کے ضمیموں کے مطابق معیار اور طریقۂ کار مقرر کر سکتا ہے۔
- ریاستی فضائی سلامتی پروگرام: ڈی جی سی اے کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ فضائی سلامتی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف تقاضوں اور سرگرمیوں پر مشتمل ایک مربوط پروگرام تیار کرے اور اس کی نگرانی کرے۔
- ضابطہ جاتی ہدایات: ڈی جی سی اے، ہوابازوں کے لیے نوٹس (این او ٹی اے ایمس)، ہوابازی سے متعلق معلوماتی اشاعتوں، معلوماتی سرکلرز اور شہری ہوابازی کے تقاضوں (سی اے آرس) کے ذریعے ہدایات جاری کر سکتا ہے۔
- متعلقہ فریقوں سے مشاورت: سی اے آرس کے مسودے عام طور پر ڈی جی سی اے کی ویب سائٹ پر 30 دن کے لیے شائع کیے جائیں گے، تاکہ متعلقہ فریق ان پر اپنے اعتراضات اور تجاویز پیش کر سکیں۔ تاہم، عوامی مفاد میں تحریری حکم کے ذریعے اس مدت کو کم کیا جا سکتا ہے یا مشاورت سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے۔
- حفاظتی انتظامی نظام: مخصوص طیاروں کے آپریٹروں، ہوائی اڈوں، طیاروں کے ڈیزائن اور تیاری سے متعلق اداروں، دیکھ بھال کرنے والے اداروں، تربیتی اداروں اور فضائی ٹریفک کی خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے حفاظتی انتظامی نظام برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔
- حفاظتی رپورٹنگ: ڈی جی سی اے کے لیے لازمی اور رضاکارانہ، دونوں طرح کے حفاظتی رپورٹنگ نظام قائم کرنا ضروری ہوگا۔ رضاکارانہ نظام میں رپورٹ پیش کرنے والے افراد کو سزا نہیں دی جائے گی اور ان کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
- معائنہ اور رسائی: ڈی جی سی اے کے مجاز اہلکار طیاروں اور ہوابازی کی سہولتوں کا معائنہ کر سکیں گے۔ اس میں بغیر پیشگی اطلاع کے معائنہ بھی شامل ہے۔ انہیں مقررہ ضوابط کے مطابق متعلقہ مقامات تک رسائی حاصل ہوگی۔
- ریکارڈ کی درستگی: لاگ بُک میں غلط یا جعلی اندراج کرنا اور کسی دوسرے شخص کو اپنا لائسنس یا منظوری استعمال کرنے دینا ممنوع ہوگا۔ ضرورت پڑنے پر مقررہ دستاویزات معائنے کے لیے پیش کرنا بھی لازمی ہوگا۔
- لائسنس اور منظوریوں کی معطلی یا پابندی: مقررہ حالات میں، جن میں ضوابط کی خلاف ورزی اور حفاظتی خدشات کا دور نہ ہونا شامل ہے، لائسنس، سرٹیفکیٹ، اجازت نامے اور منظوری معطل یا منسوخ کیے جا سکتے ہیں یا ان پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
- اختیارات کی تفویض اور استثنیٰ: مرکزی حکومت، بھارتی وایویان ادھینیم، 2024 کے مطابق، مخصوص اختیارات کسی دوسرے ادارے کو سونپ سکتی ہے اور بعض معاملات میں ضوابط سے استثنیٰ بھی دے سکتی ہے۔
جرائم، سزائیں اور اپیلیں
مذکورہ ضوابط میں حکومت نے کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے اور ایسے ضابطہ جاتی نظام کو فروغ دینے پر اپنی مسلسل توجہ برقرار رکھی ہے، جس میں قواعد کی پابندی کو اہمیت دی گئی ہے اور خلاف ورزیوں کے معاملے میں مناسب اور متناسب کارروائی کی گنجائش رکھی گئی ہے، جبکہ ہوابازی کے حفاظتی معیار کو سختی سے برقرار رکھا گیا ہے۔ ان ضوابط میں 21 ایسے جرائم مقرر کیے گئے ہیں جن پر دو سال تک قید، ایک کروڑ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، 18 ایسے جرائم بھی شامل ہیں جن کے معاملے میں مقررہ شرائط کے تحت جرمانہ ادا کرکے کارروائی ختم کی جا سکتی ہے۔ اس سے ضابطہ جاتی خلاف ورزیوں کو جرم قرار دینے کے بجائے مناسب اور متوازن طریقۂ کار اپنانے کی حکمت عملی ظاہر ہوتی ہے۔ ان ضوابط میں سزا کا دس درجوں پر مشتمل نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت خلاف ورزی کی نوعیت، خلاف ورزی کرنے والے کی قسم اور اس کے حجم کے مطابق 10 ہزار روپے سے ایک کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ مزیدیہ کہ، اپیل دائر کرنے، اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دینے اور وجوہات کے ساتھ احکامات جاری کرنے کی دفعات سے قانونی کارروائی میں انصاف اور شفافیت کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ اس طرح حکومت نے حفاظت اور جواب دہی سے سمجھوتہ کیے بغیر ضابطہ جاتی تقاضوں کو آسان بنانے کے اپنے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔
بھارتی ہوابازی میں حفاظت اور معیار کو فروغ
بھارتی وایویان نییم، 2026 کے ذریعے شہری ہوابازی کے اہم پہلوؤں کو ایک جدید ضابطہ جاتی نظام کے تحت یکجا کیا گیا ہے۔ اس میں طیاروں کی پرواز کے قابل ہونے کی تصدیق اور دیکھ بھال، عملے کی اہلیت، ہوائی اڈوں کی حفاظت، فضائی رہنمائی کی خدمات اور پروازوں کے انتظامات شامل ہیں۔ حفاظتی انتظامی نظام، عملے کی تھکن سے بچاؤ، حفاظتی امور کی لازمی اور رضاکارانہ رپورٹنگ اور ضابطہ جاتی نگرانی سے متعلق دفعات کے ذریعے آپریشن کے دوران پیدا ہونے والے خطرات کی نشاندہی اور ان سے نمٹنے کے نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ ان ضوابط میں مختلف درجوں کے جرمانوں، قواعد پر عمل درآمد کے اقدامات اور اپیلوں کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے، جس سے جواب دہی اور ضابطہ جاتی کارروائی میں انصاف کو فروغ حاصل ہو گا۔ مجموعی طور پر، ان دفعات کا مقصد محفوظ اور قابلِ اعتماد فضائی سفر کو فروغ دینا، مسافروں کا اعتماد بڑھانا اور بھارت کے شہری ہوابازی کے شعبے کی مسلسل ترقی میں تعاون دینا ہے۔
حوالہ جات
شہری ہوابازی کی وزارت
پی ڈی ایف کے لیے یہاں کلک کریں۔
بھارتی وایویان نییم، 2026: بھارتی فضائی حدود کے لیے ایک جدید ضابطہ جاتی نظام
*****
ش ح۔ ش م ۔ ج
uno-7257