وزارت اطلاعات ونشریات
azadi ka amrit mahotsav

پی آئی بی ناگپور کے زیراہتمام ’نکسل مکت بھارت‘ پر وارتالاپ میں گڑھ چرولی میں سلامتی، ترقی اور عوامی شمولیت پر زور

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 NOV 2026 7:02PM by PIB Delhi

نکسلیوں سے پاک ہندوستان کی تعمیر کے لئے حفاظتی کارروائیاں، ترقیاتی اقدامات اور بازآبادکاری کلیدی اہمیت کے حامل ہیں: جناب سندیپ پاٹل، اسپیشل انسپکٹر جنرل آف پولیس، ناگپور رینج

ناگپور/گڑھ چرولی،  4 نومبر2026

پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی)، ناگپور نے گڑھ چرولی پولیس کے اشتراک سے 4 نومبر 2026 کو گڑھ چرولی کے پولیس ہیڈکوارٹرز میں واقع اکلویہ ہال میں ’ نکسل مکت بھارت‘کے موضوع پر ایک روزہ وارتالاپ میڈیا ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ اس ورکشاپ میں ضلع گڑھ چرولی کے متعدد صحافیوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر سینئر پولیس  افسران، موضوع کے ماہرین اور ذرائع ابلاغ کے نمائندے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے، جہاں خطے میں سلامتی اور ترقی کے بدلتے ہوئے منظرنامہ اور ملک میں بائیں بازو کی انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

پروگرام کا آغاز معزز مہمانوں کے استقبال کے ساتھ ہوا، جس کے بعد پی آئی بی ناگپور کے میڈیا اینڈ کمیونیکیشن آفیسر جناب سوربھ کھیڈکے نے تعارفی کلمات پیش کیے۔ انہوں نے حکومت اور ذرائع ابلاغ کے درمیان تبادلۂ خیال کے ایک پلیٹ فارم کے طور پر وارتالاپ کی اہمیت کو اجاگر کیا اور سرکاری اقدامات اور خطے میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں درست معلومات عام کرنے میں علاقائی صحافیوں کے کردار پر زور دیا۔

 پروگرام  سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے اسپیشل انسپکٹر جنرل آف پولیس، اینٹی نکسل آپریشنز (اے این او)، ناگپور رینج، جناب سندیپ پاٹل نے شہری ماؤ ازم اور اس کے وسیع تر اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ مسلسل کوششوں، پرعزم حفاظتی کارروائیوں اور قومی اہمیت کی متعدد کارروائیوں کے ذریعے گڑھ چرولی نے ماؤ نوازوں سے متاثرہ خطے سے نکسلیوں سے پاک ضلع کی شکل اختیار کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گڑھ چرولی کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ سکیورٹی فورسز، مؤثر پولیسنگ اور ترقیاتی اقدامات پر مشتمل مربوط حکمت عملی کس طرح دیرپا تبدیلی لا سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ ’نکسل مکت بھارت‘ کے قومی مقصد کے حصول کی کوششوں میں گڑھ چرولی اب ایک مثال بن کر  سب سے آگے ہے۔

انہوں نے منظم ماؤ نواز نیٹ ورکس کی جانب سے آئینی جمہوریت کو درپیش چیلنجوں کو اجاگر کیا اور وضاحت کی کہ ماؤ نواز تحریک محض دور دراز علاقوں میں مسلح سرگرمیوں تک محدود نہیں ہے۔

انہوں نے ماؤ نواز چیلنج کے وسیع تر پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی، جن میں اس کی تنظیمی ساخت، نظریاتی اثر و رسوخ اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں سے باہر سرگرم نیٹ ورکس شامل ہیں۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی اہمیت پر بھی زور دیا، جس میں حفاظتی اقدامات کے ساتھ ترقیاتی سرگرمیوں اور عوامی بیداری کو بھی شامل کیا جائے۔

جناب پاٹل نے اس بات پر زور دیا کہ بائیں بازو کی انتہا پسندی سے نمٹنے کی حکمت عملی صرف حفاظتی کارروائیوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس میں جمہوری اداروں کو مستحکم کرنے، بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور حکومت کی فلاحی اسکیموں کی مؤثر عمل آوری کو یقینی بنانے کی کوششیں بھی شامل ہونی چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حقیقی انقلاب وہ ہے جو ہندوستان کے آئین کے ذریعے برپا کیا جائے۔ انہوں نے یہ بات بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے نام سے منسوب کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

اجلاس سے پالیسی تجزیہ کار جناب پی  وائی رمنا نے ’ماؤ نواز معیشت‘ کے موضوع پر خطاب کیا، جس میں انہوں نے بائیں بازو کی انتہا پسندی کے معاشی و اقصادی پہلوؤں اور مقامی وسائل و اقتصادی سرگرمیوں کے ساتھ اس کے روابط کی وضاحت کی۔ اس مباحثہ میں معدنی دولت، مقامی اقتصادی ڈھانچوں اور ماؤ نواز سرگرمیوں سے وابستہ مالیاتی نیٹ ورکس کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

انہوں نے مقامی برادریوں اور ترقی پر ایسی سرگرمیوں کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے تنازع کے معاشی و اقتصادی پہلوؤں کو سمجھنے کی اہمیت پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ اس اجلاس میں بائیں بازو کی انتہا پسندی کے معاشی پہلوؤں پر ذرائع ابلاغ کی جانب سے باخبر اور متوازن رپورٹنگ کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔

بائیں بازو کی انتہا پسندی سے نمٹنے میں گڑھ چرولی کا سفر

عملی کارروائیوں کا جائزہ پیش کرتے ہوئے گڑھ چرولی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جناب ایم رمیش نے بائیں بازو کی انتہا پسندی سے نمٹنے میں ضلع کے سفر اور گزشتہ برسوں کے دوران سلامتی کی صورت حال میں آنے والی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے مسلسل حفاظتی کارروائیوں، بہتر انٹیلی جنس معلومات کے حصول اور مربوط اقدامات کے ذریعے ماؤ نواز سرگرمیوں پر قابو پانے میں حاصل ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے گزشتہ چند برسوں کے دوران اہم عملی پیش رفت کا بھی ذکر کیا، جس میں ماؤ نواز کیڈرز کے خلاف بڑی کارروائیاں اور خودسپردگی کرنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شامل ہے۔

انہوں نے ضلع میں بدلتی ہوئی سلامتی کی صورت حال اور سکیورٹی فورسز کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والی پیش رفت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ماؤ نواز تنظیموں میں نئی بھرتیوں کی روک تھام اور کیڈرز کو خودسپردگی کرکے سماج کے مرکزی دھارے میں واپس آنے کی ترغیب دینے پر بھی زور دیا گیا۔

عملی کارروائیوں سے متعلق مباحثے میں انسداد شورش کی صلاحیتوں، بین الریاستی تال میل، حفاظتی بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے اور انٹیلی جنس و نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کی اہمیت پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ماؤ نواز سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے میں سی-60 جیسی خصوصی فورسز کے کردار پر بھی گفتگو ہوئی۔

سینئر صحافی جناب کارتک لوکھنڈے نے ماؤ ازم کے بعد کی صورت حال اور بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں میں بدلتے ہوئے حالات پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس اجلاس میں ایسے علاقوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو دستاویزی شکل دینے اور ترقی سے متعلق تبدیلیوں اور زمینی حقائق کو عوام کے سامنے لانے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

اظہار تشکر کے کلمات پیش کرتے ہوئے ناگپور رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس جناب یوگیش کمار، آئی پی ایس نے گڑھ چرولی کو ماؤ نوازوں سے متاثرہ خطے سے نکسلیوں سے پاک ضلع بنانے کی جانب ہونے والی پیش رفت کا ایک دہائی سے زائد عرصے تک مشاہدہ کرنے کے اپنے تجربات بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ اس سفر کی سب سے بڑی کامیابی مقامی لوگوں کا حکومت اور سماج کے مرکزی دھارے پر اعتماد بحال کرنا ہے۔ انہوں نے ان متعدد پولیس اہلکاروں اور کمانڈوز کی لگن، بہادری اور عظیم قربانیوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا، جنہوں نے گڑھ چرولی کو نکسلیوں سے پاک بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نظام پر عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنا بدستور ایک اہم ترجیح رہے گا۔

جناب کارتک مدھیرا، ایڈیشنل ایس پی (آپریشنز)، گڑھ چرولی اور جناب گوکل راج جی، ایڈیشنل ایس پی (انتظامیہ)، گڑھ چرولی کے علاوہ پولیس کے دیگر سینئر  افسران  بھی اس پروگرام میں نمایاں طور پر موجود تھے۔

اس وارتالاپ میں بدلتے ہوئے سماجی اور معاشی حالات، حفاظتی کارروائیوں کے اثرات اور متاثرہ برادریوں کی بازآبادکاری سے متعلق رپورٹنگ میں علاقائی ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری کو اجاگر کیا گیا۔ اس کے علاوہ متوازن اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، جس میں خطے کو درپیش چیلنجوں کے ساتھ ساتھ وہاں ہونے والی پیش رفت کی بھی عکاسی ہو۔

 

وارتالاپ ورکشاپ نے صحافیوں کو سلامتی، معاشی اور ترقیاتی پہلوؤں کے حوالے سے ’نکسل مکت بھارت‘ کے اقدام پر سینئر پولیس افسران اور موضوع کے ماہرین کے ساتھ تبادلۂ خیال کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اس میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے سلامتی، بہتر حکمرانی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، فلاحی اسکیموں کی مؤثر عمل آوری، بازآبادکاری اور عوامی شمولیت پر مشتمل ایک جامع حکمت عملی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ اس پروگرام کے ذریعے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو حکومت کی پالیسیوں، پروگراموں اور کامیابیوں سے متعلق معلومات عام کرنے میں پی آئی بی کے کردار سے بھی واقف کرایا گیا، جبکہ باخبر، درست اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ ورکشاپ کا اختتام شرکاء صحافیوں سے تبادلۂ خیال اور ان کی آرا و تجاویز حاصل کرنے کے ساتھ ہوا۔

*****

ش ح – ظ الف –ع د

UR No. 7254


(ریلیز آئی ڈی: 2332865) وزیٹر کاؤنٹر : 3
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi , हिन्दी , Tamil