پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 NOV 2026 2:43PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے تقریباً 21,800 کروڑ روپے کے پونے میٹرو پروجیکٹوں کا افتتاح کیا اور سنگِ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے پونے اور مہاراشٹر کے عوام کو دیوالی کی دلی مبارک باد پیش کی اور کہا کہ جب روزمرہ زندگی میں عوامی سہولتوں کا اضافہ ہوتا ہے تو تہواروں کی خوشیاں دوچند ہوجاتی ہیں۔ انہوں نے دس سال قبل پونے میٹرو کے پہلے مرحلے کا سنگِ بنیاد رکھنے کے موقع کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ہنجواڑی سے شیواجی نگر تک کے کاریڈور کا افتتاح ایک بڑے آئی ٹی مرکز کو بہتر رابطہ سہولت فراہم کرے گا، جبکہ آج شروع کی گئی نئی میٹرو لائن شہر کے قدیم اور نئے علاقوں کو مزید بہتر انداز میں آپس میں جوڑے گی۔
پونے ، جس نے ہمیشہ ملک اور معاشرے کی رہنمائی کی ہے کو خیالات کا ایک تاریخی مرکز قرار دیتے ہوئے ، وزیر اعظم نے کہا کہ اب یہ شہر نوجوانوں کی امنگوں کے مرکز کے طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی، گاڑیوں کی صنعت، ادویہ سازی، نئے کاروباری اداروں، اختراع اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں وکست بھارت کی نئی توانائی کو آگے بڑھا رہا ہے۔ وزیر اعظم جناب مودی نے کہا کہ ’’ایسے حالات میں یہاں میٹرو رابطوں کو مستحکم بنانے سے پونے شہر کی ترقی کو نئی رفتار ملے گی۔‘‘
یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ پونے میٹرو کی توسیع اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وکست بھارت کے لیے جدید شہروں کو کس طرح تشکیل دیا جا رہا ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ اب شہری مراکز کی اہمیت کا اندازہ صرف صنعتوں، کھانوں یا مقامی مصنوعات جیسے روایتی پیمانوں سے نہیں لگایا جاتا، بلکہ ان کی مسابقتی صلاحیت اور زندگی گزارنے میں آسانی کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔ میٹرو نیٹ ورک ،سفر میں لگنے والے وقت کی بچت اور زیادہ سہولت فراہم کرکے ان دونوں پہلوؤں کو بہتر بناتے ہیں۔ انہوں نے اجاگر کیا کہ شہر کے وقت کی بچت سے اس کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں قومی معیشت کو بھی تیزی ملتی ہے۔ جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’اور جب معیشت ترقی کرتی ہے تو غریبوں اور متوسط طبقے، دونوں کو اس کا فائدہ پہنچتا ہے۔‘‘
اس موقع کو عوام دوست اور فعال طرزِ حکمرانی کی ایک بہترین مثال قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات کو اجاگر کیا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران بھارت کا میٹرو نیٹ ورک وسعت اختیار کرتے ہوئے تقریباً 1,200 کلومیٹر تک پہنچ گیا ہے، جو 26 شہروں میں ایک کروڑ سے زیادہ روزانہ سفر کرنے والوں کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔ وزیر اعظم جناب مودی نے کہا کہ ’’آج بھارت کے میٹرو نیٹ ورک کا شمار دنیا کے تین سب سے بڑے میٹرو نیٹ ورکس میں ہوتا ہے۔‘‘
یہ مشاہدہ کرتے ہوئے کہ مہاراشٹر میں بھی 2014 کے بعد سے ملک کی مجموعی تبدیلی کی عکاسی ہوتی ہے، وزیر اعظم نے بتایا کہ اس وقت ریاست میں صرف 10 سے 11 کلومیٹر طویل میٹرو لائنیں زیرِ استعمال تھیں، جبکہ اب تقریباً 175 کلومیٹر طویل میٹرو لائنیں خدمات انجام دے رہی ہیں اور 680 کلومیٹر سے زائد طویل میٹرو لائنوں کی تعمیر کا کام جاری ہے، جس پر 2.5 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’یہ رقم مزدوروں کی جیبوں میں پہنچ رہی ہے، اس سے انجینئروں کو روزگار مل رہا ہے اور دکانوں و کارخانوں میں بھی روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔‘‘
نئے افتتاح شدہ میٹرو کاریڈور کی ایک اور نمایاں خصوصیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس میٹرو لائن کی تعمیر حکومت اور نجی شعبے کی مشترکہ کوششوں سے عوامی و نجی شراکت داری کے نمونے کے تحت کی گئی ہے۔ وزیر اعظم جناب مودی نے کہا کہ ’’ترقی کا یہ ایسا نمونہ ہے جس کی کامیابی ملک کی پیش رفت کو مزید رفتار عطا کرتی ہے۔‘‘
اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ بھارت کا ہر شہری اور ہر نوجوان لڑکا اور لڑکی ’ہم یہ کرکے دکھائیں گے‘ کے ملک گیر جذبے کے ساتھ وکست بھارت کی تعمیر کے لیے کوشاں ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران ملک نے اپنی توانائیاں دیہی سڑکوں، شاہراہوں، تیز رفتار شاہراہوں، نئی ریلوے لائنوں اور ان کی بجلی کاری، طویل سرنگوں اور بلند پلوں کی تعمیر پر مرکوز کی ہیں۔ جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’اب آنے والے برسوں میں ان کوششوں کے ساتھ ساتھ ملک اپنی توانائیاں اپنے شہروں کو دنیا کے بہترین شہروں میں شامل کرنے پر صرف کرے گا۔‘‘
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ شہر محض رہائشی مقامات نہیں بلکہ اقتصادی سرگرمیوں کے بڑے مراکز ہوتے ہیں اور سینکڑوں چھوٹے شہروں کو ترقی کے مراکز میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، وزیر اعظم نے اس سال فروری میں شہری چیلنج فنڈ کی منظوری کا ذکر کیا۔ اس فنڈ کے تحت ایک لاکھ کروڑ روپے کی مرکزی امداد فراہم کی جائے گی، جس کے ذریعے شہری ترقی میں لاکھوں کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو متحرک کیا جا سکے گا۔ انہوں نے مقامی بلدیاتی اداروں اور نجی شعبے کے شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ مشن کے انداز میں اس کوشش میں شامل ہوں۔ وزیر اعظم جناب مودی نے اعتماد ظاہر کیا کہ ’’مہاراشٹر اس شعبے میں اپنے رول کو مزید وسعت دے گا۔‘‘
بھارت کے حوالے سے عالمی سطح پر زیرِ بحث دو بڑی کامیابیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک نے عالمی سطح پر مشکل حالات کے باوجود دنیا کی تیز ترین ترقی کی شرح برقرار رکھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عالمی بینک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، محض 10 سے 12 برسوں میں 50 کروڑ شہریوں کو انتہائی غربت سے باہر نکالا گیا ہے، جبکہ اس سے پہلے کئی نسلیں محض نعروں تک محدود رہی تھیں۔ جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’پہلے غربت کے خلاف جنگ صرف نعروں تک محدود تھی، لیکن آج بھارت عملی طور پر غربت کو شکست دے رہا ہے۔‘‘
اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ دنیا کی تیز ترین ترقی کرنے والی معیشت اور غربت میں سب سے تیزی سے کمی لانے والے ملک کی حیثیت سے بھارت کی یہ دونوں کامیابیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ معیشت کی ترقی اور بجٹ کے حجم میں اضافے سے عوامی سرمایہ کاری کے لیے زیادہ وسائل دستیاب ہوتے ہیں، جبکہ پہلے جو رقم گھپلوں اور خرد برد کی نذر ہو جاتی تھی، اب وہ براہِ راست مستحقین تک پہنچ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سڑکوں، ریلوے، ہوائی اڈوں، میٹرو، بجلی، پانی اور گیس پائپ لائنوں پر سرکاری خزانے سے کی جانے والی سرمایہ کاری بیک وقت معیارِ زندگی کو بہتر بناتی ہے اور روزگار کے مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔ وزیر اعظم جناب مودی نے کہا کہ ’’یہ دونوں کامیابیاں ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔‘‘
غریبوں کے لیے مکانات، بیت الخلا، ہر گھر جل کے تحت نل کے ذریعے پانی کے کنکشن اور رسوئی گیس کے کنکشن جیسی فلاحی سہولتوں کے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ان بنیادی سہولتوں نے عوام کے خود اعتمادی میں اضافہ کیا ہے اور روزمرہ زندگی کا قیمتی وقت بھی بچایا ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’اس وقت کو اب خاندان کے لیے اضافی آمدنی کمانے میں استعمال کیا جا رہا ہے۔‘‘
گزشتہ ماہ حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے 25 سال مکمل کرنے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکمرانی کا بنیادی منتر یہ رہا ہے کہ غریبوں کو بااختیار بنانے سے انہیں غربت پر قابو پانے کا حوصلہ ملتا ہے۔ انہوں نے گجرات کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے غریب کلیان میلوں کے آغاز کو یاد کیا، جن کا مقصد سرکاری اسکیموں کے فوائد مستحقین تک پہنچانا اور انہیں اسٹیج پر مدعو کرکے غربت کے خلاف عہد دلانا تھا۔ وزیر اعظم جناب مودی نے کہا کہ ’’وہ غربت کو شکست دینے کا عزم لے کر واپس لوٹتے تھے اور اس تقریب سے خود اعتمادی کا جذبہ لے کر جاتے تھے۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت شروع کیا گیا مشن ’بااختیار بنانے کی طاقت‘ کے اصول پر مبنی حقیقی خوش حکمرانی کے طور پر بلا تعطل جاری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تبدیلی اچانک رونما نہیں ہوئی بلکہ برسوں کی مسلسل، سوچے سمجھے اور منصوبہ بند اقدامات کا نتیجہ ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’اسی کا نتیجہ ہے کہ 50 کروڑ بھارتیوں نے غربت کو شکست دی ہے۔‘‘
یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ غربت میں کمی کا فائدہ صرف غربت سے باہر نکلنے والے خاندانوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے ملک کو پہنچتا ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے قومی معیشت کو نئی زندگی ملتی ہے اور ایک نیا متوسط طبقہ وجود میں آتا ہے۔ اس کی قوتِ خرید بازار میں طلب کو بڑھاتی ہے اور دکانوں سے لے کر کارخانوں تک ترقی کے نئے امکانات پیدا کرتی ہے۔ وزیر اعظم جناب مودی نے کہا کہ ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت میں غربت میں کمی ملک کی معیشت کو نئی بلندیوں تک لے جا رہی ہے۔‘‘
وکست بھارت کے سفر میں کسانوں کے اہم کردار اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے حکومت کی مسلسل کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حالیہ برسوں میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی قیادت میں آبی تحفظ کے لیے بڑے پیمانے پر کیے گئے کاموں کے باوجود، خراب موسم اور قدرتی آفات کے باعث مہاراشٹر کے کسان خاندانوں کو اس وقت شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خشک سالی کی صورتِ حال سے اپنی واقفیت، ریاستی حکومت کی جانب سے پیشگی امداد کی فراہمی اور پی ایم کسان کی رقم منتقل کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت کی جانب سے مکمل حساسیت اور یکجہتی کا اظہار کیا اور ریاست کے کسانوں کو یقین دلایا۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’آپ بالکل فکر نہ کریں، ہم سب کسانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘
تہوار کے اس موسم میں شہریوں کو اپنی سماجی ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں خشک سالی سے متاثرہ لوگوں، کسان خاندانوں اور دیگر پریشانیوں میں گھرے افراد کو بھی یاد رکھنا چاہیے، تاکہ ان کے گھروں میں بھی دیوالی کی خوشیاں پہنچ سکیں۔ انہوں نے ملک کے عوام پر زور دیا کہ وہ اس آفت پر قابو پانے کے لیے متحد ہوکر ساتھ کھڑے ہوں۔ وزیر اعظم جناب مودی نے کہا کہ ’’ہم سب مل کر ہی اس آفت کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔‘‘
میٹرو پروجیکٹوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اجتماعی اور متحدہ کوشش، یعنی ’سب کا پریاس‘، وکست بھارت کی بنیاد ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’اسی جذبے کے ساتھ ہمیں ملک کی ترقی کے لیے مسلسل سرگرم رہنا ہے۔‘‘
****
ش ح۔ م ع۔ خ م
U.NO.0000