پوسٹ کرنے کی تاریخ:
02 NOV 2026 9:22PM by PIB Delhi
وزارت دیہی ترقی (ایم او آر ڈی) نے قومی ہاؤسنگ بینک (این ایچ بی) کے اشتراک سے ’’پی ایم اے وائی-جی اصلاحاتی سمواد‘‘ کے عنوان سے ایک روزہ مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا، جس میں پی ایم اے وائی-جی کے تحت دیہی رہائش کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس اجلاس میں وزارت دیہی ترقی، قومی ہاؤسنگ بینک، ریاستی محکمۂ دیہی ترقی، عالمی بینک، بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن، سا-دھن، ٹی سی آئی ایس، ہیبی ٹیٹ فار ہیومینٹی انٹرنیشنل اور قرض فراہم کرنے والے اداروں، بشمول ہاؤسنگ فنانس کمپنیاں (ایچ ایف سی)، علاقائی دیہی بینک (آر آر بی)، چھوٹے مالیاتی بینک (ایس ایف بی) اور بہت چھوٹے مالیاتی ادارے (ایم ایف آئی) نے شرکت کی۔
دیہی قرضوں کے بارے میں روایتی تصور سے ہٹ کر اس اجلاس میں قرض فراہم کرنے والے اداروں نے پی ایم اے وائی-جی کے مستفیدکنبوں کو ایک امید افزا اور بڑی حد تک غیر مستفید طبقے کے طور پر پیش کیا، جس کی جانب اب تک خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اسکیم کے تحت مستفیدین کی تصدیق کی جاتی ہے، حکومت کی مالی امداد سے مکانات کی تعمیر کی لاگت کا ایک بڑا حصہ پورا ہو جاتا ہے اور پی ایم اے وائی-جی کے برقی نظام پر تعمیراتی کام کی پیش رفت کا مختلف مراحل میں جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس سے قرض فراہم کرنے کی لاگت اور خطرات میں کمی آتی ہے۔ قرض فراہم کرنے والے اداروں نے مخصوص نوعیت کی قرض اسکیمیں تیار کرنے اور اس سلسلے میں ضروری اصلاحات کو ممکن بنانے کے لیے وزارت، این ایچ بی اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
صبح کے اجلاس میں حکومت مہاراشٹر کے ڈائریکٹر (دیہی رہائش) ڈاکٹر راجارام دیگھے نے شرکاء کا خیرمقدم کیا۔ قومی ہاؤسنگ بینک (این ایچ بی) کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب سنجے شکلا نے دیہی خاندانوں کو اپنے مکانات کی تعمیر مکمل کرنے میں مدد دینے کے لیے کفایتی ادارہ جاتی قرضوں کی ضرورت پر زور دیا۔ وزارت دیہی ترقی کے سینئر اقتصادی مشیر (دیہی رہائش) جناب پیوش سریواستو نے کلیدی خطاب پیش کیا اور دن بھر ہونے والے مباحثوں کی سمت متعین کی۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم اے وائی-جی دنیا کی سب سے بڑی رہائشی اسکیم ہے اور دیہی رہائش کے شعبے میں اس کی حصولیابیاں کافی حد تک اطمینان بخش ہیں۔ تاہم، انہوں نے سب کے لیے مکانات کے قومی ہدف کے حصول کی خاطر مزید مربوط کوششوں پر زور دیا اور کہا کہ اس میں ادارہ جاتی مالیات ایک مؤثر معاون قوت ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد قومی ہاؤسنگ بینک، عالمی بینک، سا-دھن اور ٹی سی آئی ایس ہیبی ٹیٹ فار ہیومینٹی انٹرنیشنل نے دیہی رہائشی مالیات کے حوالے سے عالمی اور زمینی سطح کے تجربات اور نقطۂ نظر پیش کیے۔
پی ایم اے وائی-جی کے لیے ادارہ جاتی قرض کیوں اہم ہے؟
پی ایم اے وائی-جی کا مقصد مارچ 2029 تک 4.95 کروڑ پکے مکانات کی تعمیر مکمل کرنا ہے۔ دیہی علاقوں میں ایک مکان کی تعمیر پر آنے والی لاگت اکثر اس اسکیم کے تحت ملنے والی مالی امداد سے زیادہ ہوتی ہے۔ باقی رقم کا انتظام کرنے میں دشواری کے باعث تعمیراتی کام میں تاخیر ہو سکتی ہے اور خاندان زیادہ شرح سود پر غیر سرکاری قرض دہندگان سے قرض لینے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب، آخری صف کےمستفید تک رسائی رکھنے والے قرض فراہم کرنے والے اداروں کو مالی وسائل کی کمی، قرض کی واپسی سے متعلق خدشات اور دیہی مکانات کے لیے معیاری قرض مصنوعات کی عدم دستیابی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اس مشاورتی اجلاس میں درج ذیل امور پر غور و خوض کیا گیا:
-
کن کن طبقات کے دیہی کنبوں کو ذمہ دارانہ انداز میں قرض فراہم کیا جا سکتا ہے، نیز قرض کی رقم اور اس کی واپسی کی شرائط ان کی موسمی حالات پر مبنی آمدنی کے مطابق کس طرح طے کی جا سکتی ہیں؛
-
قرض فراہم کرنے میں درپیش رکاوٹیں، جن میں دستاویزات کی تکمیل، قرض لینے والے کی مالی حیثیت کا جائزہ لینے سے لے کر لین دین کے اخراجات تک کے مسائل شامل ہیں؛
-
پی ایم اے وائی-جی کے اعداد و شمار، تعمیراتی کام کے مختلف مراحل کی نگرانی اور دین دیال انتودیہ یوجنا-قومی دیہی روزگار مشن (ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) کے تحت اپنی مدد آپ گروپوں (ایس ایچ جی) کے نیٹ ورک کے ذریعے ان رکاوٹوں کو کس طرح کم کیا جا سکتا ہے؛ اور
-
مرکزی حکومت، ریاستی حکومتوں اور این ایچ بی کی جانب سے درکار تعاون، جس میں دیہی رہائش کے لیے قومی ہاؤسنگ بینک کی مجوزہ ری فائنانس سہولت بھی شامل ہے۔
قرض فراہم کرنے والے اداروں اور ریاستی حکومتوں کے تین مشترکہ گروپوں نے اپنے غور و خوض کے بعد مرتب کردہ سفارشات مکمل اجلاس میں پیش کیں، جس کے بعد کھلی بحث کا اہتمام کیا گیا۔
غور و خوض کے اہم نتائج
اس اجلاس کا ایک اہم نتیجہ یہ سامنے آیا کہ ہاؤسنگ فائنانس کمپنیوں (ایچ ایف سی)، چھوٹے مالیاتی بینکوں (ایس ایف بی) اوربہت چھوٹے مالیاتی اداروں (ایم ایف آئی) نے اسکیم کے تحت ملنے والی امداد کے علاوہ پی ایم اے وائی-جی کے مستفیدین کو قرض فراہم کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ قرض فراہم کرنے والے اداروں نے زمین کی ملکیت کے غیر واضح دستاویزات، الاٹ شدہ جائیدادوں کو رہن رکھنے پر پابندیاں، موسمی آمدنی، لین دین کے زیادہ اخراجات اور قرض کی واپسی سے متعلق خدشات کو اس راہ میں حائل اہم رکاوٹیں قرار دیا۔ اس دلچسپی کو بڑے پیمانے پر قرضوں کی فراہمی میں تبدیل کرنے کے لیے شرکاء نے درج ذیل سفارشات پیش کیں:
-
2 سے 5 لاکھ روپے تک کے دیہی رہائش کے لیے مخصوص قرض فراہم کیے جائیں اور ان کی واپسی کی شرائط مستفیدین کی موسمی حالات پر مبنی آمدنی کے مطابق طے کی جائیں؛
-
ایسے تجارتی طور پر قابل عمل نمونے کو آزمائشی بنیاد پر شروع کیا جائے، جس کی سرپرستی ممکنہ طور پر قومی ہاؤسنگ بینک کی معاونت سے قائم کسی ادارے کے ذریعے کی جائے؛
-
حکومت کی پشت پناہی سے جزوی ضمانت کا نظام کے ذریعے قرض کی ضمانت کی مدد دی جائے؛
-
شرح سود میں رعایت کے ذریعے سستی شرح پر قرضوں کی فراہمی، رعایتی مالی وسائل اور قومی ہاؤسنگ بینک کی ری فائنانس سہولت ؛
-
ریاستی حکومتوں کی جانب سے زمین اور جائیداد سے متعلق اصلاحاتبشمول الاٹ شدہ جائیدادوں کو رہن رکھنے کی اجازت دینے اور اسٹامپ ڈیوٹی میں رعایت؛
-
غیر فعال قرضوں (این پی اے) اور قرضوں کے لیے مالیاتی احتیاطی التزامات سمیت دیہی قرض داروں کے لیے موزوں ضابطہ جاتی نظام؛ اور
-
گرام پنچایتوں،ڈی اے وائی-این آر ایل ایم کے اپنی مدد آپ گروپوں (ایس ایچ جی) اور لوک او ایس پلیٹ فارم کے ذریعے برادری پر مبنی آخری سطح تک رسائی کا نظام۔
پی ایم اے وائی-جی کی پیش رفت کا جائزہ
اس ورکشاپ میں مہاراشٹر، راجستھان، مدھیہ پردیش، آسام اور کیرالہ میں پی ایم اے وائی-جی کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ، پی ایف ایم ایس کے ساتھ ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں ریاستوں کو درپیش ایس این اے اسپرش سے متعلق مخصوص موضوعات ومسائل کے حل پر غور کیا گیا۔
آئندہ کا لائحہ عمل
قرض فراہم کرنے والے اداروں کی جانب سے ظاہر کی گئی دلچسپی اس سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے کہ سرکاری مالی امداد کے ساتھ ادارہ جاتی قرضوں کو بھی مربوط کیا جائے، تاکہ پی ایم اے وائی-جی کے تحت مستفید ہونے والے کنبے مہنگے غیر رسمی قرضوں کے بوجھ کے بغیر معیاری مکانات کی تعمیر مکمل کر سکیں۔ وزارت، اس مشاورتی اجلاس میں سامنے آنے والی تجاویز کا جائزہ لے گی اور قومی ہاؤسنگ بینک، ریاستی حکومتوں، قرض فراہم کرنے والے اداروں اور علمی و تحقیقی شراکت داروں کے ساتھ مشاورت سے انہیں آگے بڑھائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح –م ش-ع ن)
U. No. 7136