PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

زرعی شمسی توانائی (ایگری وولٹائکس)


بھارت کے کھیتوں کو توانائی سے روشناس کرانا، پائیدار مستقبل کی آبیاری کرنا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 NOV 2026 3:40PM by PIB Delhi

زراعت اور قابلِ تجدید توانائی کے امتزاج سے ایک ایسا اختراعی طریقہ سامنے آیا ہے جو زرعی زمین کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ زرعی شمسی توانائی (ایگری وولٹائکس) کے تحت ایک ہی زمین پر فصلیں اگانے کے ساتھ شمسی توانائی بھی پیدا کی جاتی ہے۔ اس سے کسانوں کو اپنی آمدنی کے ذرائع متنوع بنانے کے ساتھ ساتھ بھارت میں صاف ستھری توانائی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملتا ہے۔ غذائی اجناس کی پیداوار اور شمسی بجلی کو یکجا کرنے کا یہ طریقہ زمین کے مؤثر استعمال، کھیتی باڑی کو زیادہ مستحکم بنانے اور دیہی علاقوں میں پائیدار خوشحالی کے حصول کے لیے ایک امید افزا راستہ فراہم کرتا ہے۔

 

 

زرعی کھیتوں کے لیے شمسی توانائی اور صاف ستھرا مستقبل

بھارت کی معیشت میں زراعت کا اہم کردار ہے اور ملک کی تقریباً46.1 فیصد آبادی کے لیے یہ ذریعۂ معاش کا ایک اہم وسیلہ ہے۔ زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کی مجموعی قدرِ اضافی (جی وی اے) 26-2025 میں بڑھ کر 52.08 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ اس اہم شعبے کو مستحکم رکھنے کے لیے آبپاشی اور کھیتی باڑی کے دیگر کاموں کے لیے قابلِ اعتماد اور کم خرچ توانائی کی فراہمی ضروری ہے۔ شمسی توانائی ان روزمرہ ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت میں صاف ستھری توانائی کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں: بھارتی زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کا نیا دور

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image003_20261102174010_19657c.jpg

بھارت کی وسیع زرعی اراضی میں کھیتی باڑی کے ساتھ شمسی توانائی کے استعمال کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ 24-2023 کے اراضی کے استعمال سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق، ملک کا درج شدہ کل رقبہ 306.96 ملین ہیکٹر ہے، جس میں سے تقریباً55 فیصد حصہ زرعی زمین پر مشتمل ہے۔ ملک میں خالص زیرِ کاشت رقبہ 138.99 ملین ہیکٹر ہے، جبکہ مجموعی زیرِ فصل رقبہ 217.88 ملین ہیکٹر ہے۔ اراضی کا یہ وسیع ذخیرہ زرعی پیداوار کے ساتھ ساتھ شمسی بجلی پیدا کرنے کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ کسان شمسی توانائی کے ذریعے آبپاشی کے پمپ چلا سکتے ہیں، روایتی بجلی پر اپنا انحصار کم کر سکتے ہیں اور اضافی بجلی کو بجلی کے قومی نظام کو فروخت کرکے اضافی آمدنی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، شمسی توانائی سے چلنے والے آبپاشی پمپ دن کے وقت فصلوں کو پانی فراہم کر سکتے ہیں اور اس طرح ڈیزل سے چلنے والے پمپوں پر انحصار کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

زرعی شمسی توانائی کا نظام اس امتزاج کو مزید وسعت دیتا ہے، جس کے تحت ایک ہی زمین پر فصلوں کی کاشت اور شمسی بجلی کی پیداوار دونوں کو ممکن بنایا جاتا ہے۔ فصلوں کی قطاروں کے اوپر یا ان کے درمیان شمسی پینل نصب کرکے کھیتی باڑی جاری رکھنے کے ساتھ بجلی بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔ فصلوں کی نوعیت، شمسی پینلوں کی ساخت اور مقامی حالات کے مطابق ان سے حاصل ہونے والا جزوی سایہ زمین کی نمی کو برقرار رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس طریقے سے زمین کے استعمال کی افادیت بڑھائی جا سکتی ہے، کسانوں کی آمدنی کے ذرائع میں تنوع پیدا کیا جا سکتا ہے اور غذائی و توانائی کے تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ تحقیق، عملی تجربات اور پالیسی سازی کے ذریعے بھارت مختلف زرعی حالات کے مطابق زرعی شمسی توانائی کے نظام کو اپنانے کے امکانات تلاش کر رہا ہے۔ یہ طریقہ کسانوں کے ذرائع معاش کو بھارت کے وسیع تر قابلِ تجدید توانائی کے اہداف سے ہم آہنگ کرنے کا ایک امید افزا راستہ فراہم کرتا ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image004_20261102174024_eb8161.png\

بھارت قابلِ تجدید توانائی سربراہ کانفرنس و نمائش (بھارت آر ای) 2026 کا انعقاد 2 سے 5 نومبر 2026 تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں کیا جا رہا ہے۔ اس کانفرنس کا موضوع ہے: ‘‘سرمایہ کاری کریں، اختراع کریں اور ترغیب دیں’’ (انویسٹ، انوویٹ، انسپائر) چار روزہ اس کانفرنس میں 130 سے زائد ممالک کے شرکاء شرکت کر رہے ہیں، جن میں40 سے زیادہ وزراء، پالیسی ساز، سرمایہ کار، مالیاتی ادارے اور صنعتی شعبے کے سرکردہ نمائندے شامل ہیں۔ 9 ممالک—آسٹریلیا، ڈنمارک، یورپی یونین، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، ناروے، سویڈن اور برطانیہ—ملکی شراکت داروں کے طور پر اس میں حصہ لے رہے ہیں۔ بھارت کی13 ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے بھی شرکت کر رہے ہیں اور قابلِ تجدید توانائی کے امکانات، سرمایہ کاری کے مواقع اور صاف ستھری ٹیکنالوجی پر مبنی پیداواری صلاحیتوں کو اجاگر کر رہے ہیں۔ اس کانفرنس میں شمسی اور ہوائی توانائی، سبز ہائیڈروجن، توانائی ذخیرہ کرنے، بجلی کے نظام میں انضمام، ملکی سطح پر سازوسامان کی تیاری، ڈیجیٹلائزیشن اور توانائی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال جیسے اہم موضوعات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ یہ کانفرنس صاف ستھری توانائی میں سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کے اشتراک اور صنعتی تعاون کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ اس میں وزارتی سطح کے مباحثے، اعلیٰ انتظامی سربراہان کی گول میز کانفرنسیں، سرمایہ کاروں کے ساتھ تبادلۂ خیال اور 400 سے زائد نمائش کنندگان پر مشتمل نمائش بھی شامل ہے۔ اس تقریب کے ساتھ بین الاقوامی شمسی اتحاد کی نویں اسمبلی اور سبز ہائیڈروجن پر چوتھی بین الاقوامی کانفرنس کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے، جس سے صاف ستھری توانائی کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو مزید تقویت ملے گی۔

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں: بھارت قابلِ تجدید توانائی سربراہ کانفرنس و نمائش 2026

 

 

زرعی شمسی توانائی: زراعت اور قابلِ تجدید توانائی کے درمیان ہم آہنگی

زرعی شمسی توانائی، جسے ایگری سولر یا دوہرے استعمال کی شمسی توانائی بھی کہا جاتا ہے، زمین کے بہتر اور مؤثر استعمال کو ممکن بناتی ہے، فصلوں کو سایہ فراہم کرتی ہے اور کسانوں کے لیے اضافی فوائد کے مواقع پیدا کرتی ہے۔

زرعی شمسی توانائی کے نظام کی ساخت اور طریقۂ کار

زرعی شمسی توانائی کا نظام مقامی زرعی حالات کے مطابق کھیتی باڑی کے بنیادی ڈھانچے اور شمسی توانائی کے آلات کو یکجا کرتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی چند اہم اجزا کے ذریعے کام کرتی ہے:

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image005_20261102174038_f963bf.jpg

  • بلند شمسی ڈھانچے: شمسی پینلوں کو براہِ راست زمین پر نصب کرنے کے بجائے ایسے بلند ڈھانچوں پر لگایا جاتا ہے کہ ان کے نیچے اگنے والی فصلوں تک دھوپ اور بارش پہنچ سکے۔ زراعت کے لیے نصب کیے جانے والے یہ بلند شمسی پینل کسانوں کو اپنے زرعی آلات اور مشینری باآسانی ان کے نیچے سے گزارنے اور استعمال کرنے کی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں۔
  • جزوی سایہ: شمسی پینل فصلوں کو سایہ فراہم کرتے ہیں، جس سے انہیں شدید گرمی سے بچانے اور زمین سے پانی کے بخارات بن کر اڑنے کے عمل کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس طرح پودوں کی نشوونما کے لیے نسبتاً ٹھنڈا اور سازگار ماحول میسر آتا ہے، خصوصاً گرم اور خشک علاقوں میں۔
  • زمین کی دوہری پیداواری صلاحیت: زرعی شمسی توانائی کا نظام فصلوں کی کاشت یا مویشی پالنے کے ساتھ شمسی بجلی کی پیداوار کو یکجا کرکے زمین کے بہتر استعمال کو ممکن بناتا ہے۔ اس سے کھیتی باڑی کے کاموں کے لیے بجلی فراہم ہوتی ہے اور اضافی بجلی کو قومی نظامِ ترسیل کو فروخت کرکے آمدنی کا ایک اور ذریعہ بھی پیدا ہوتا ہے۔

بھارت میں زرعی شمسی توانائی کے نظام کی ترقی

اگست 2025 تک بھارت میں زرعی شمسی توانائی کے 36 منصوبے فعال تھے، جن کی مجموعی تنصیبی صلاحیت37.54 میگاواٹ تھی، جبکہ مزید10 تجرباتی منصوبوں پر کام جاری تھا۔ یہ منصوبے مختلف زرعی آب و ہوا والے علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان میں بلند ڈھانچوں، پینلوں کے درمیان دستیاب جگہ کے استعمال اور شمسی پینلوں کو سورج کی سمت کے مطابق گھمانے والے نظام شامل ہیں۔ یہ تمام اقدامات زرعی پیداوار کے ساتھ شمسی توانائی کی پیداوار کو یکجا کرنے کے لیے بھارت کے بدلتے ہوئے طریقۂ کار کی عکاسی کرتے ہیں۔

بھارت میں زرعی شمسی توانائی کے امکانات

بھارت میں زرعی شمسی توانائی کے نظام کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ اندازوں کے مطابق، ملک میں اس نظام کے ذریعے شمسی توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت3,000 گیگاواٹ سے لے کر تقریباً14,000 گیگاواٹ تک ہو سکتی ہے، جو زراعت اور قابلِ تجدید توانائی کے امتزاج سے پیدا ہونے والے وسیع مواقع کو اجاگر کرتی ہے۔ زرعی شمسی توانائی کے نظام سے کسانوں کو اپنی آمدنی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں اس نظام کے ذریعے سالانہ آمدنی تقریباً 60 ہزار روپے فی ایکڑ سے بڑھ کر ایک لاکھ روپے سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image006_20261102174058_48a32b.png

زرعی شمسی توانائی کے نظام کی ترقی کے دائرے

  • زمین کی موزونیت: جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) پر مبنی قومی جائزے میں ماحولیاتی، زرعی اور تکنیکی معیارات کو مدنظر رکھتے ہوئے 4 کروڑ 73 لاکھ 50 ہزار ہیکٹر ایسی محدود زرعی زمین کی نشاندہی کی گئی ہے جو زرعی شمسی توانائی کے نظام (ایگری پی وی) کے لیے موزوں ہے۔ اس سے محتاط اندازے پر مبنی ایسی زرعی اراضی کی نشاندہی ہوتی ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
  • فصلوں کی موزونیت: پھل، سبزیاں، مصالحہ جات اور دواؤں میں استعمال ہونے والے پودے ایسی فصلیں ہیں جنہیں شمسی توانائی کے تنصیبات کے ساتھ کاشت کرنے کے لیے موزوں امکانات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
  • زیادہ امکانات والی ریاستیں: مہاراشٹر، راجستھان، آندھرا پردیش، مدھیہ پردیش، کرناٹک اور اتر پردیش میں زرعی شمسی توانائی کے نظام کی ترقی کے وسیع امکانات ہیں۔ ان ریاستوں میں سازگار زرعی اراضی کی دستیابی، شمسی توانائی کے وسائل اور زرعی موسمی حالات کے باعث بھارت میں اس نظام سے بجلی پیدا کرنے کی تخمینی مجموعی صلاحیت کا تقریباً 50 فیصد حصہ موجود ہے۔
  • درمیانے درجے کے امکانات: اوڈیشہ، تمل ناڈو، کیرالا، تلنگانہ، بہار اور مغربی بنگال میں بھی اس نظام کی ترقی کے مناسب امکانات پائے جاتے ہیں۔
  • جنوبی، مغربی اور وسطی بھارت کے علاقوں میں شمسی تابکاری، زمین کی دستیابی اور باغبانی کی سرگرمیوں کے زیادہ پھیلاؤ کا امتزاج بڑے پیمانے پر اس نظام کو فروغ دینے کے لیے سب سے زیادہ سازگار ہے۔

زرعی شمسی توانائی کے نظام کی ترقی کے لیے حکومتی اقدامات

حکومتِ ہند نے ملک بھر میں زرعی شمسی توانائی کے نظام کو فروغ دینے اور اس کے دائرۂ کار کو وسعت دینے کے لیے پالیسی سازی، تحقیق، ٹیکنالوجی کی ترقی اور عملی نفاذ کے شعبوں میں متعدد اقدامات کیے ہیں۔

  • پردھان منتری کسان اُورجا سرکشا ایوم اُتھان مہا ابھیان (پی ایم کُسم): فروری 2019 میں شروع کی گئی اس اسکیم کا مقصد زراعت میں شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دینا، ڈیزل پر انحصار کم کرنا اور کسانوں کے لیے آمدنی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس اسکیم کے تحت تقریباً 34,422 کروڑ روپے کی مرکزی مالی امداد کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ لامرکزیت پر مبنی شمسی بجلی کی پیداوار اور زرعی پمپوں کو شمسی توانائی سے چلانے کی سہولت بھی فراہم کرتی ہے، جس سے کھیتی باڑی کے ساتھ شمسی توانائی کو مربوط کرنے کے نئے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔پی ایم کُسم اسکیم
  • زرعی شمسی توانائی کا مرکزِ امتیاز: نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سولر انرجی نے انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کے انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے زرعی شمسی توانائی کے شعبے میں تحقیق، عملی مظاہرے اور تربیت و صلاحیت سازی کے لیے ایک مرکزِ امتیاز قائم کیا ہے۔ اس مرکز کے تحت کئی تجرباتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں، جن میں انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں قائم کیا گیا100 کلوواٹ کا زرعی شمسی توانائی کا نظام بھی شامل ہے۔

 

 

بھارت کا زرعی شمسی توانائی اتحاد

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image007_20261102174106_44a0e5.jpg

 

انڈیا ایگری وولٹائکس الائنس (آئی اے اے)، جس کی سرپرستی نیشنل سولر انرجی فیڈریشن آف انڈیا (این ایس ای ایف آئی) کر رہی ہے، ایک ایسا مشترکہ پلیٹ فارم ہے جو شمسی توانائی کی پیداوار اور زراعت کے لیے زمین کے دوہرے استعمال کو فروغ دیتا ہے۔ 2023 میں قائم ہونے کے بعد سے اس اتحاد کے ارکان کی تعداد بڑھ کر 40 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ حکومتی وزارتوں اور صنعتی شعبے کے متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر پالیسی سازی میں تعاون، تحقیق اور زمینی سطح پر عملی اقدامات کے ذریعے زرعی شمسی توانائی کے نظام کو فروغ دینے کے لیے کام کرتا ہے۔ یہ اتحاد معلوماتی و تحقیقی وسائل تیار کرتا ہے، تجرباتی منصوبوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور ایسے کاروباری نمونوں کو فروغ دیتا ہے جنہیں بڑے پیمانے پر اپنایا جا سکے۔ ان کوششوں کا مقصد زمین کی پیداواری صلاحیت بڑھانا، کسانوں کی آمدنی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا اور دیہی علاقوں میں توانائی تک رسائی کو مزید مستحکم بنانا ہے۔

 

 

ریاستی سطح پر کیے جانے والے اقدامات

کئی ریاستیں اپنے مخصوص علاقائی حالات اور ضروریات کے مطابق مختلف اسکیموں کے ذریعے زراعت میں شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دے رہی ہیں۔

  • مکھیہ منتری سور کرشی واہنی یوجنا 2.0، مہاراشٹر: اس اسکیم کے تحت تقریباً 35 ہزار ایکڑ سرکاری اور نجی اراضی پر 16 ہزار میگاواٹ شمسی توانائی کے منصوبوں کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کا ہدف ہے، تاکہ زرعی صارفین کو بجلی کی فراہمی میں مدد مل سکے۔
  • کسان سوریودے یوجنا، گجرات: اس اسکیم کا مقصد کسانوں کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے شمسی توانائی کے استعمال کو وسعت دینا ہے۔ اس کے تحت زرعی سرگرمیوں کے لیے دن کے وقت بجلی فراہم کرنے کا منصوبہ ہے، جس کے مطابق مرحلہ وار شمسی اور توانائی کے دیگر غیر روایتی ذرائع سے بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں کو شروع کرکے روزانہ صبح 5 بجے سے رات 9 بجے تک، یعنی16 گھنٹے بجلی فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
  • سوریہ رائتھا اسکیم، کرناٹک: اس اسکیم کے تحت شمسی توانائی سے چلنے والے آبپاشی پمپوں کو فروغ دیا جا رہا ہے اور کسانوں کو اضافی بجلی فروخت کرکے آمدنی حاصل کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ شمسی پمپوں کے ذریعے کسان اپنی فصلوں کی آبپاشی کے لیے بجلی حاصل کر سکتے ہیں اور اس طرح ڈیزل سے چلنے والے پمپوں پر انحصار بھی کم کر سکتے ہیں۔

حکومتِ ہند، ریاستی حکومتوں کے اشتراک سے، پالیسی اقدامات اور مخصوص پروگراموں کے ذریعے زراعت میں شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے۔ ان کوششوں سے بھارت میں زرعی شمسی توانائی کے نظام کی ترقی کی راہیں ہموار ہو رہی ہیں اور ایک ہی جگہ شمسی بجلی کی پیداوار اور زرعی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

زراعت اور صاف ستھری توانائی کے امتزاج سے خوشحالی کی نئی راہیں

زرعی شمسی توانائی کا نظام بھارت کو ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ زرعی روزگار اور کسانوں کے معاش کو مضبوط بنانے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔ غذائی اجناس کی پیداوار کو قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار کے ساتھ یکجا کرکے یہ زمین کے زیادہ مؤثر استعمال، موزوں حالات میں پانی کے تحفظ اور مالی استحکام کو مزید مستحکم بنانے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ حکومتِ ہند کے اقدامات، جن میں پی ایم کُسم اور زرعی شمسی توانائی کے نظام کو وسعت دینے کے لیے مجوزہ اقدامات شامل ہیں، دیہی ترقی کو صاف ستھری توانائی کے اہداف سے جوڑنے کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس نظام کے نفاذ میں وسعت کے ساتھ، زرعی پیداوار اور توانائی کی ضروریات کے درمیان توازن قائم رکھنے کے لیے مقامی حالات کے مطابق موزوں نظاموں کی تیاری، سائنسی تحقیق اور کسانوں کی شمولیت ناگزیر ہوگی۔ یہ طریقۂ کار بھارت کے ‏زیادہ مالی استحکام اور پائیدار مستقبل کی تعمیر میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

حوالہ جات

وزارتِ نئی اور قابلِ تجدید توانائی

محکمۂ زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود

حکومت مہاراشٹر

حکومت گجرات

حکومت کرناٹک

دی انرجی اینڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ (ٹی ای آر آئی)

انڈیا ایگری وولٹیکس الائنس

انڈیا برانڈ ایکویٹی فاؤنڈیشن

امریکی محکمہ توانائی

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

********

) ش ح ۔ا ک۔ش ت)

U.No. 7096


(ریلیز آئی ڈی: 2331769) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , Bengali , Bengali-TR , Gujarati