پوسٹ کرنے کی تاریخ:
02 NOV 2026 4:37PM by PIB Delhi
ماہرینِ فلکیات نے 24 سال کے دوران کیے گئے ایکس رے مشاہدات کا جائزہ لے کر این جی سی 4490 یو ایل ایکس-8کے بدلتے ہوئے ایکس رے رویّے سے متعلق معمے کو حل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ قریبی کہکشاؤں میں واقع ایک انتہائی روشن ایکس رے منبع ہے۔ اس تحقیق سے یو ایل ایکس کو توانائی فراہم کرنے والے انتہائی کثیف اجرام کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ ایسے غیر معمولی ماحول میں ان اجرام کی نشوونما کا سراغ لگانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
انتہائی روشن ایکس رے ذرائع (الٹرا لومینس ایکس رے سورسز-یو ایل ایکس) قریبی کہکشاؤں میں پائے جانے والے روشن ترین ایکس رے خارج کرنے والے ذرائع میں شامل ہیں۔ ان کے علاوہ کہکشاؤں کے مراکز میں موجود فوق العادہ کمیت(سپرمیسیو) کے بلیک ہولز بھی ایکس رے خارج کرتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یو ایل ایکس میں یا تو نیوٹران ستارے ہوتے ہیں یا بلیک ہولز، جو اپنے قریبی ساتھی ستارے سے مادہ اپنی جانب کھینچتے ہیں۔ جب یہ مادہ ان اجرام کی جانب گرتا ہے تو گرم ہو کر شدید ایکس رے خارج کرنے لگتا ہے۔ یو ایل ایکس کی چمک اس حد سے بھی زیادہ دکھائی دیتی ہے جس کی پیش گوئی کششِ ثقل کے مادے کو اندر کی جانب کھینچنے اور تابکاری کے اسے باہر کی جانب دھکیلنے کے درمیان سادہ توازن کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اس حد کو ’ایڈنگٹن حد‘ (ایڈنگٹن لمٹ) کہا جاتا ہے، جسے عموماً اس بات کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے کہ مادہ جذب کرنے والا کوئی جرم(آبجیکٹ) زیادہ سے زیادہ کتنی روشنی خارج کر سکتا ہے۔
یو ایل ایکس کو توانائی فراہم کرنے والے کثیف جرم کی نوعیت کا تعین کرنا اس لیے انتہائی اہم ہے کہ اس سے ایڈنگٹن حد سے تجاوز کرنے والے مادے کے انضمام، گیس کے طاقت ور اخراج اور ایسے غیر معمولی ماحول میں کثیف اجرام کی نشوونما سے متعلق طبیعیات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
ہندوستانی ادارۂ فلکی طبیعیات (انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹروفیزکس- آئی آئی اے) اور رمن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، جو دونوں محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے خودمختار ادارے ہیں، کے سائنس دانوں پر مشتمل ایک تحقیقی ٹیم نے دیگر اداروں کے اشتراک سے طیفی(اسپکٹرل) تبدیلیوں کے طویل مدتی شواہد دریافت کیے ہیں۔ یہ تبدیلیاں کثیف جرم کے گرد مادے کے انضمام کی بدلتی ہوئی کیفیت کی نشاندہی کرتی ہیں۔
تحقیق کے نتائج اس بات کے مضبوط شواہد فراہم کرتے ہیں کہ یو ایل ایکس-8 کو ایک ایسا بلیک ہول توانائی فراہم کر رہا ہے جو روایتی ایڈنگٹن حد سے زیادہ شرح پر مادہ جذب کر رہا ہے۔ یہ تحقیق کائنات کے بعض روشن ترین ایکس رے ذرائع کی نوعیت کا پتا لگانے میں مختلف خلائی مشنوں کے ذریعے طویل عرصے تک کی جانے والی نگرانی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

شکل: این جی سی85/ 4490 کی غلط رنگوں(فالس کلر) پر مشتمل ایکس رے تصاویر۔ بائیں جانب: چندرا کے مشاہدات سے تیار کردہ تصویر۔ دائیں جانب: ایکس ایم ایم-نیوٹن کے ذریعے ای پی آئی سی-پی این اور ایم او ایس 2/1 کے مشاہدات سے تیار کردہ تصویر۔
آئی آئی اے کے فیکلٹی رکن اور اس تحقیقی مطالعے کے شریک مصنف ارو بیری نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے باہم تعامل کرنے والی کہکشاؤں کے جوڑے این جی سی4485/ 4490میں واقع یو ایل ایکس-8 کے آرکائیو میں محفوظ اور حالیہ مشاہدات کا تجزیہ کیا۔ یہ مشاہدات 2000 سے 2024 کے درمیان چندرا، ایکس ایم ایم-نیوٹن اور سوئفٹ نامی خلائی ایکس رے دوربینوں کے ذریعے حاصل کیے گئے تھے۔ اس طرح ہمیں اس منبع کا اب تک کے طویل ترین ایکس رے مطالعات میں سے ایک کرنے کا موقع ملا۔‘‘
اس مطالعے سے انکشاف ہوا کہ 24 سالہ مشاہداتی مدت کے دوران یو ایل ایکس-8 ایک غیر معمولی طور پر روشن ایکس رے منبع بنا رہا، اگرچہ وقت کے ساتھ اس کی چمک میں نمایاں اتار چڑھاؤ آتا رہا۔ ان تبدیلیوں کے باوجود، اس منبع میں مادے کے انضمام کی مختلف حالتوں کے درمیان اچانک اور ڈرامائی تبدیلیوں کے کوئی شواہد نہیں ملے، جیسا کہ بلیک ہولز پر مشتمل کئی ایکس رے بائنری نظاموں میں عموماً دیکھا جاتا ہے۔
اس کے بجائے، اس سے خارج ہونے والی ایکس رے شعاعوں کی خصوصیات مسلسل فعال انتہائی روشن مادہ انضمام کے بہاؤ سے مطابقت رکھتی رہیں۔ تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ یو ایل ایکس-8 کو غالباً ایک ستاروی کمیت (اسٹیلر-ماس)کا بلیک ہول توانائی فراہم کر رہا ہے، جو ایڈنگٹن حد کے برابر یا اس کے قریب شرح سے مادہ جذب کر رہا ہے۔ اس طرح یہ نظام اس بات کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک اہم تجربہ گاہ فراہم کرتا ہے کہ کثیف اجرام کس طرح مادے کے انتہائی بلند انضمامی عمل کو برقرار رکھ سکتے ہیں اور توانائی کی بے پناہ مقدار پیدا کر سکتے ہیں۔
مستقبل کی رصدگاہیں، مثلاً یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) کا نیو ایتھینامشن اور ہندوستان کا مجوزہ اگلی نسل کا ٹائمنگ اور اسپیکٹرواسکوپی مشن ایکس سیٹ، یو ایل ایکس کے مطالعے کے لیے بہتر حساسیت اور مسلسل نگرانی کی جدید صلاحیتیں فراہم کریں گے۔ طویل مدتی مشاہدات کا سلسلہ جاری رکھنے سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ یہ غیر معمولی نظام کس طرح ارتقا پذیر ہوتے ہیں اور ایڈنگٹن حد سے تجاوز کرنے والے مادے کے انضمام کی طبیعیات نیز قریبی کائنات کے بعض روشن ترین ایکس رے ذرائع کی نوعیت کے بارے میں مزید گہری معلومات حاصل ہو سکیں گی۔
یہ تحقیقی مطالعہ ترنگ وششٹ (آئی آئی ایس ای آر موہالی کے طالب علم)، ارو بیری (انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹروفزکس) اور آئی یو سی اے اے اور رمن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے محققین نے مشترکہ طور پر تصنیف کیا ہے۔ یہ مطالعہ ماہنامہ نوٹسز آف دی رائل آسٹرونومیکل جرنل میں شائع ہوا ہے۔
اشاعت کا لنک :https://academic.oup.com/mnras/article/549/3/stag976/8691580?login=false
******
( ش ح ۔ م م ۔ م ا )
UR.No-7104