پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 NOV 2026 11:23AM by PIB Delhi
این وی ایس-03 مشن:این اے وی آئی سی (نیویک )کے افق کو وسعت دینا
انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے 30 اکتوبر 2026 کو رات 11:51 بجے ستیش دھون اسپیس سینٹر (ایس ڈی ایس سی)، سری ہری کوٹا سے جی ایس ایل وی-ایف 18/این وی ایس-03 مشن کو کامیابی کے ساتھ انجام دیا۔

جی ایس ایل وی-ایف 18 لانچ وہیکل نے نیویگیشن سیٹلائٹ این وی ایس-03 کو ایک درست جیوسنکرونس ٹرانسفر آربٹ (جی ٹی او) میں داخل کیا۔ اس کے بعد 31 اکتوبر 2026 کو شام 4:48 بجے مدار میں پہلی مشق کامیابی کے ساتھ مکمل کی گئی۔ مزید مداری مشقوں کے ذریعے سیٹلائٹ کو 111.75° مشرق میں واقع اس کے مقررہ جیوسنکرونس مداری مقام پر پہنچانے کا منصوبہ ہے۔
یہ سیٹلائٹ ہندوستان کے اگلی نسل کے پانچ نیویگیشن سیٹلائٹس کی سیریز کا تیسرا سیٹلائٹ ہے۔ اسے انڈین ریجنل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم، یعنی این اے وی آئی سی(نیویک) کو مزید مستحکم کرنے اور سیٹلائٹ پر مبنی نیویگیشن کے میدان میں ہندوستان کی صلاحیتوں کو وسعت دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
جیوسنکرونس یا جیو اسٹیشنری مدار میں بھیجے جانے والے خلائی جہاز کو عموماً پہلے ایک بیضوی جیوسنکرونس ٹرانسفر آربٹ (جی ٹی او) میں داخل کیا جاتا ہے۔ اس مدار میں ایک کم پیریجی (زمین سے قریب ترین نقطہ) اور ایک بلند اپجی (زمین سے سب سے دور نقطہ) ہوتا ہے۔
روایتی جی ٹی او میں اپجی زمین کی سطح سے تقریباً 35,786 کلومیٹر کی بلندی پر ہوتا ہے۔ اپجی کے قریب پہنچنے پر خلائی جہاز اپنے پیریجی کو بلند کرنے اور مدار کو دائرہ نما بنانے کے لیے اپنے آن بورڈ پروپلشن سسٹم کو فعال کرتا ہے۔ ہدف کے مدار کے مطابق اضافی مداری مشقوں کے ذریعے اس کے مداری جھکاؤ اور مقام میں بھی تبدیلی کی جا سکتی ہے۔
مدار کی بلندی بڑھانے کے لیے استعمال ہونے والے پروپلشن سسٹم کو عموماً اپجی موٹر کہا جاتا ہے۔ این وی ایس-03 کے معاملے میں، اس کے مائع اپجی موٹر (ایل اے ایم) کے ذریعے مدار کی بلندی بڑھانے کی مشق انجام دی گئی۔ اس موٹر میں کیمیائی راکٹ انجن کی ایک قسم استعمال کی جاتی ہے۔
مشن کی اہم جھلکیاں
کامیاب لانچ: جی ایس ایل وی-ایف 18 نے این وی ایس-03 کو اس کے مطلوبہ جیوسنکرونس ٹرانسفر آربٹ (جی ٹی او) میں داخل کیا۔ یہ ہندوستان کے سیٹلائٹ نیویگیشن بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں ایک اور اہم سنگ میل ہے۔
جی ایس ایل وی کی 20ویں پرواز: یہ مشن ہندوستان کے جیوسنکرونس سیٹلائٹ لانچ وہیکل کی 20ویں پرواز ہے۔ یہ اسٹریٹجک خلائی مشنوں کے لیے ہندوستان کے لانچ وہیکل کے مسلسل عملی استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔
اگلی نسل کی سیریز کا سیٹلائٹ: این وی ایس-03 دوسری نسل کےاین اے وی آئی سی سیٹلائٹس (این وی ایس-01 سے این وی ایس-05) کی سیریز کا تیسرا سیٹلائٹ ہے۔ ان سیٹلائٹس کو ہندوستان کے علاقائی نیویگیشن نظام کی کوریج، درستگی اور قابلِ اعتماد کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
سیٹلائٹ نیویگیشن نظام
سیٹلائٹ نیویگیشن نظام مصنوعی سیاروں کا ایک مجموعہ (جھرمٹ)ہے، جو مقام کے تعین، نیویگیشن اور وقت سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے۔ یہ سیٹلائٹ اپنے مقام اور درست وقت کی معلومات پر مشتمل سگنلز مسلسل نشر کرتے ہیں۔ اسمارٹ فون، گاڑیوں اور نیویگیشن آلات جیسے ریسیورز متعدد سیٹلائٹس سے موصول ہونے والے سگنلز کا استعمال کرتے ہوئے اپنے درست مقام، رفتار اور سمت کا تعین کرتے ہیں۔
یہ نظام متعدد ایپلی کیشنز میں معاون ہوتے ہیں، جن میں راستوں کی نیویگیشن، ہوائی جہازوں اور بحری جہازوں کی نگرانی، دقیق زراعت، آفات کا انتظام اور ٹیلی مواصلات شامل ہیں۔ اس کی مثالوں میں امریکہ کا گلوبل پوزیشننگ سسٹم (جی پی ایس) اور ہندوستان کااین اے وی آئی سی (نیویک )شامل ہیں۔
بہتر نیویگیشن سگنلز
این وی ایس-03، ایل 1، ایل 5 اور ایس فریکوئنسی بینڈز میں نیویگیشن پے لوڈز لے کر جاتا ہے۔ پہلے سے موجود ایل 5 اور ایس سگنلز کے ساتھ ایل 1 سگنل کی شمولیت سےاین اے وی آئی سی (نیویک ) کی صلاحیتوں اور مطابقت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ یہ ہندوستان کے زمینی خطے اور اس کی جغرافیائی حدود سے 1,500 کلومیٹر تک پھیلے ہوئے علاقے میں نیویگیشن کوریج فراہم کرنے میں معاون ہے۔
متعدد فریکوئنسی بینڈز کا استعمال ہم آہنگ ریسیورز کو مختلف تعدد پر منتقل ہونے والے سگنلز تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس سے مختلف ایپلی کیشنز اور عملی حالات کے مطابق ریسیورز تیار کرنے کے اختیارات بھی میسر آتے ہیں۔
نیویگیشن سگنلز اور ان کے فریکوئنسی بینڈز
نیویگیشن سگنلز ریڈیو فریکوئنسی سگنلز ہوتے ہیں، جو نیویگیشن سیٹلائٹس سے زمین پر موجود ریسیورز کو منتقل کیے جاتے ہیں۔ ان سگنلز میں درست وقت اور سیٹلائٹ کے مقام سے متعلق معلومات موجود ہوتی ہیں۔ ریسیورز ان معلومات کو اپنے مقام، رفتار اور وقت کا حساب لگانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
فریکوئنسی بینڈز ریڈیو تعدد کی مخصوص حدود ہیں، جنہیں ان سگنلز کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ سیٹلائٹ نیویگیشن نظام ریڈیو فریکوئنسی اسپیکٹرم کے مخصوص حصوں کا استعمال کرتے ہیں۔ مختلف بینڈز مختلف تعدد پر سگنلز کی ترسیل اور وصولی کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔
مقامی ٹیکنالوجی
این وی ایس-03 میں حاصل شدہ جوہری گھڑیوں کے ساتھ ایک مقامی طور پر تیار کردہ جوہری گھڑی بھی نصب ہے۔ یہ گھڑیاں نیویگیشن سگنلز تیار کرنے کے لیے انتہائی درست وقت کا حوالہ فراہم کرتی ہیں۔ سگنلز کے سفر کا وقت معلوم کرنے اور صارف کے مقام کا حساب لگانے کے لیے درست وقت کا تعین ضروری ہے۔
وسیع تر ایپلی کیشنز
این وی ایس-03 ہندوستان کی خودمختار مقام کے تعین، نیویگیشن اور وقت (پی این ٹی) کی صلاحیتوں کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ صلاحیتیں نقل و حمل، سمندری کارروائیوں، ہوا بازی، آفات کے انتظام، دقیق زراعت اور اسٹریٹجک خدمات سمیت مختلف شعبوں میں ایپلی کیشنز کی معاونت کرتی ہیں۔ ہندوستان کی خلائی خودمختاری کو مضبوط بنانے کے بارے میں مزید پڑھیں۔
جیوسنکرونس سیٹلائٹ لانچ وہیکل (جی ایس ایل وی)
جیوسنکرونس سیٹلائٹ لانچ وہیکل (جی ایس ایل وی) تین مراحل پر مشتمل ایک لانچ وہیکل ہے، جسے انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے سیٹلائٹس کو جیوسنکرونس ٹرانسفر آربٹ (جی ٹی او) اور لو ارتھ آربٹ (ایل ای او) میں داخل کرنے کے لیے تیار کیا ہے۔
جی ایس ایل وی کی وہ خصوصیت جو اسے دیگر لانچ وہیکلز سے ممتاز کرتی ہے، اس کا آخری مرحلہ ہے، جس میں مقامی طور پر تیار کردہ کریوجینک اپر اسٹیج استعمال کیا جاتا ہے۔ مزید برآں، جی ایس ایل وی میں استعمال ہونے والے بوسٹر مائع ایندھن سے چلتے ہیں اور انہیں ایل-40 کہا جاتا ہے۔ ان میں نائٹروجن ٹیٹرا آکسائڈ (این₂او₄) اور یو ایچ 25 کا ہائپرگولک امتزاج استعمال کیا جاتا ہے۔ یو ایچ 25، 75 فیصد غیر متناسب ڈائیمیتھل ہائیڈرازین (یو ڈی ایم ایچ) اور 25 فیصد ہائیڈرازین ہائیڈریٹ کا مرکب ہے۔
جی ٹی او کے بارے میں مزید پڑھیں۔
جی ایس ایل وی-ایف 18 تقریباً 50 میٹر طویل ہے اور اس کا وزن لانچ کے وقت تقریباً 420 ٹن ہوتا ہے۔ اس میں 3.4 میٹر قطر کا دھاتی پے لوڈ فیئرنگ نصب ہے۔ اس نے تقریباً 2,250 کلوگرام وزنی نیویگیشن سیٹلائٹ این وی ایس-03 کو کامیابی کے ساتھ مدار میں پہنچایا۔
کریوجینک اپر اسٹیج
کریوجینک اپر اسٹیج لانچ وہیکل کا آخری مرحلہ ہوتا ہے، جو سیٹلائٹس کو ان کے مطلوبہ مدار میں داخل کرنے کے لیے درکار اعلیٰ کارکردگی فراہم کرتا ہے۔
جی ایس ایل وی میں استعمال ہونے والا اسرو کا مقامی کریوجینک اپر اسٹیج مائع ہائیڈروجن (ایل ایچ₂) کو ایندھن اور مائع آکسیجن (ایل او ایکس) کو آکسیڈائزر کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ دونوں کو انتہائی کم درجہ حرارت پر محفوظ رکھا جاتا ہے۔
اس نے جی ایس ایل وی کی ابتدائی پروازوں میں استعمال ہونے والے روس سے فراہم کردہ مرحلے کی جگہ لے لی، جس سے جدید لانچ وہیکل ٹیکنالوجی کے میدان میں ہندوستان کی خود انحصاری کو تقویت ملی۔
این اے وی آئی سی (نیویک) کو سمجھنا: ہندوستان کا مقامی نیویگیشن نظام
این اے وی آئی سی (نیویک ) ہندوستان کا علاقائی سیٹلائٹ نیویگیشن نظام ہے، جسے انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے تیار کیا ہے۔
اسے ابتدا میں انڈین ریجنل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم (آئی آر این ایس ایس) کے نام سے جانا جاتا تھا۔
یہ نظام صارفین کو مقام کے تعین، نیویگیشن اور وقت (پی این ٹی) سے متعلق خدمات فراہم کرتا ہے۔
این اے وی آئی سی کو ابتدا میں سات سیٹلائٹس کے مجموعے پر مشتمل نظام کے طور پر تیار کیا گیا تھا، جسے چوبیس گھنٹے کام کرنے والے زمینی اسٹیشنوں کے نیٹ ورک کی معاونت حاصل تھی۔ اس کا مداری ڈھانچہ جیو اسٹیشنری مدار میں تین اور مائل جیوسنکرونس مدار میں چار مصنوعی سیاروں پر مشتمل ہے۔ این وی ایس سیریز کے سیٹلائٹس کو موجودہ سیٹلائٹ نیٹ ورک کو وسعت دینے اور نیویگیشن خدمات کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے تعینات کیا جا رہا ہے۔
این اے وی آئی سی ہندوستانی سرزمین اور اس کی جغرافیائی حدود سے تقریباً 1,500 کلومیٹر تک پھیلے ہوئے علاقے کا احاطہ کرتا ہے۔
این وی ایس سیریز، پہلے سے موجود ایل 5 اور ایس بینڈ سگنلز کے ساتھ ایل 1 سگنل بھی شامل کرتی ہے۔
نیویگیشن خدمات کی دو اقسام
این اے وی آئی سی شہری اور مجاز اسٹریٹجک صارفین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دو قسم کی نیویگیشن خدمات فراہم کرتا ہے۔
معیاری پوزیشننگ سروس (ایس پی ایس): یہ ایک کھلی نیویگیشن سروس ہے، جو شہری صارفین کے لیے دستیاب ہے۔این اے وی آئی سی کے ایس پی ایس سگنلز دیگر عالمی نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹمز (جی این ایس ایس) کے سگنلز، مثلاً جی پی ایس (امریکہ)، گلوناس (روس)، گیلیلیو (یورپی یونین) اور بیدو (چین) کے ساتھ باہمی مطابقت رکھتے ہیں۔
محدود سروس (آر ایس): یہ ایک خفیہ کردہ نیویگیشن سروس ہے، جو خصوصی طور پر مجاز اسٹریٹجک صارفین کے لیے دستیاب ہے۔
اگلی نسل کے نیویگیشن سیٹلائٹس کی سیریز میں پیش رفت
پانچ سیٹلائٹس پر مشتمل این وی ایس سیریز کواین اے وی آئی سی کے سیٹلائٹ نیٹ ورک (جھرمٹ ) کو وسعت دینے اور مقامی نیویگیشن خدمات کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اب تک این وی ایس-01، این وی ایس-02 اور این وی ایس-03 لانچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ این وی ایس-04 اور این وی ایس-05 منصوبہ بندی کے مراحل میں ہیں۔ اسرواین اے وی آئی سی خدمات کی کوریج، قابلِ اعتماد کارکردگی اور دستیابی کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ہندوستان کے خلائی سفر کے بارے میں مزید پڑھیں۔
این وی ایس-01 — اگلی نسل کی سیریز کا پہلا سیٹلائٹ
- جی ایس ایل وی کی 15ویں پرواز، جی ایس ایل وی-ایف 12 نے این وی ایس-01 کو جیوسنکرونس ٹرانسفر آربٹ میں داخل کیا۔
- این وی ایس-01 کو 29 مئی 2023 کو لانچ کیا گیا تھا۔ یہ دوسری نسل کےاین اے وی آئی سی سیٹلائٹس کی سیریز کا پہلا سیٹلائٹ ہے۔ اسے پہلے سے موجوداین اے وی آئی سی خدمات کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
- یہ ایل 1، ایل 5 اور ایس بینڈز میں نیویگیشن پے لوڈ لے کر جاتا ہے۔
- اس کا وزن لانچ کے وقت تقریباً 2,232 کلوگرام تھا۔
- این وی ایس-01 کی متوقع مشن مدت 12 سال ہے۔
- اس میں مقامی طور پر تیار کردہ روبیڈیم ایٹمک گھڑی نصب ہے، جسے اسپیس ایپلی کیشنز سینٹر، احمد آباد نے تیار کیا ہے۔
این وی ایس-02 — سیریز کا دوسرا سیٹلائٹ
- این وی ایس-02 کو 29 جنوری 2025 کو جی ایس ایل وی-ایف 15 کے ذریعے لانچ کیا گیا تھا۔
- اس میں ایل 1، ایل 5 اور ایس بینڈ نیویگیشن پے لوڈز کے علاوہ سی بینڈ رینج پے لوڈ بھی نصب ہے۔
- این وی ایس-02 کا وزن لانچ کے وقت 2,250 کلوگرام تھا۔
- یہ درست وقت کے تعین کے لیے مقامی طور پر تیار کردہ اور حاصل شدہ جوہری گھڑیوں کا مجموعہ استعمال کرتا ہے۔
- لانچ کے بعد آکسیڈائزر والوز نہ کھلنے کے باعث سیٹلائٹ کے مدار کو بلند نہیں کیا جا سکا۔ نتیجتاً، سیٹلائٹ اپنے مطلوبہ مداری مقام تک نہیں پہنچ سکا۔
این وی ایس-04 اور این وی ایس-05 — آئندہ لانچ کیے جانے والے سیٹلائٹس
این وی ایس-04 اور این وی ایس-05 دوسری نسل کےاین اے وی آئی سی سیٹلائٹس کی سیریز کے منصوبہ بند چوتھے اور پانچویں سیٹلائٹس ہیں۔
پہلے کے این وی ایس سیٹلائٹس کی طرح، ان سے بھی توقع ہے کہ وہ ایل 5 اور ایس بینڈز کے ساتھ ایل 1 سگنل لے کر جائیں گے۔ دونوں سیٹلائٹس سے توقع ہے کہ وہ این اے وی آئی سی کی نیویگیشن صلاحیتوں کو مزید بہتر بنائیں گے
ہندوستان کی خلائی خودمختاری کی جانب ایک اور قدم
اگلی نسل کےاین اے وی آئی سی سیٹلائٹس کی کامیاب تیاری اور تعیناتی جدید خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں آتم نربھر بھارت کی جانب ہندوستان کے سفر کا ایک اور اہم سنگ میل ہے۔
مقامی سیٹلائٹ نیویگیشن صلاحیتوں کو مضبوط بنا کر ہندوستان آزادانہ طور پر قابلِ اعتماد مقام کے تعین، نیویگیشن اور وقت (پی این ٹی) کی خدمات فراہم کرنے کی اپنی صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت اہم ایپلی کیشنز کے لیے غیر ملکی سیٹلائٹ نیویگیشن نظاموں پر انحصار کم کرتی ہے۔
اس سے اسٹریٹجک خلائی بنیادی ڈھانچے کی تیاری، ترقی اور عملی استعمال کے میدان میں ہندوستان کی تکنیکی صلاحیت بھی مضبوط ہوتی ہے۔ یہ کوششیں ہندوستان کی خلائی خودمختاری، تکنیکی خود انحصاری اور عالمی خلائی شعبے میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کو مزید تقویت دیتی ہیں۔
حوالہ جات:
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
***
UR-7046
(ش ح۔اس ک )