پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 NOV 2026 11:46AM by PIB Delhi
مرکزی وزیر محترم جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ 2 سے 3 نومبر 2026 کے دوران سکم کے گنگٹوک اور منگن اضلاع کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کے دوران مرکزی وزیر ماہی پروری کی ترقی سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیں گے، نامیاتی طریقے سے مچھلی کی پرورش کے لیے معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) کا اجرا کریں گے، پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت 375 لاکھ روپے کے منصوبوں کا افتتاح کریں گے اور مچھلی پالنے والوں سے تبادلۂ خیال کریں گے۔ یہ دورہ شمال مشرقی خطے میں مرکزی وزرا کے وقتاً فوقتاً دوروں کے لیے وضع کردہ منظم طریقۂ کار کے تحت کیا جا رہا ہے، جسے وزیر اعظم محترم کی رہنمائی میں ترقیاتی پروگراموں کے مؤثر نفاذ میں مدد دینے اور زمینی سطح سے معلومات حاصل کرنے کے مقصد سے شروع کیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر مچھلی پالنے والوں میں کسان کریڈٹ کارڈ تقسیم کریں گے اور مکھیہ منتری متسیہ اتپادن یوجنا (ایم ایم ایم یو وائی) کے تحت مچھلی پالنے والوں کو چیک بھی فراہم کریں گے۔
مرکزی وزیر منگشیلا میں لائیو فش وینڈنگ سینٹر کے دورے کے دوران مچھلی پالنے والوں کی امدادی کوآپریٹو سوسائٹی سے بھی تبادلۂ خیال کریں گے، تاکہ مچھلی کی مارکیٹنگ اور امدادی سرگرمیوں سے متعلق زمینی سطح کی ضروریات کو سمجھ سکیں۔ اس کے علاوہ وہ ڈی اے سی، منگن میں ماہی پروری کی ترقی اور پی ایم ایم ایس وائی کے تحت جاری اقدامات کا جائزہ لیں گے اور نفاذ سے متعلق مسائل پر ماہی پروری کے شعبے سے وابستہ افراد سے آرا حاصل کریں گے۔ ان سرگرمیوں سے سکم میں ماہی پروری کی ترقی سے متعلق ضروریات کا جائزہ لینے میں مدد ملے گی، بالخصوص دور دراز اور جغرافیائی اعتبار سے دشوار گزار علاقوں میں۔
اس دورے میں حکومتِ سکم، ضلع انتظامیہ منگن کے سینئر افسران کے ساتھ حکومتِ ہند کے محکمۂ ماہی پروری، متعلقہ مرکزی وزارتوں، ماہی پروری سے متعلق آئی سی اے آر اداروں، مچھلی پالنے والوں، ماہی پروری کی امدادی کوآپریٹو سوسائٹیوں اور ماہی پروری سے وابستہ کسان پروڈیوسر تنظیموں کے نمائندے بھی شرکت کریں گے۔
شمال مشرقی خطہ، جہاں میٹھے پانی کے وافر وسائل، آبی ماحولیاتی نظام کے تنوع اور حیاتیاتی گوناگونی کی بھرپور دولت موجود ہے، پائیدار اور اعلیٰ قدر والی ماہی پروری اور آبی زراعت کی ترقی کے وسیع امکانات رکھتا ہے۔ سرٹیفکیشن، مضبوط نظامِ سراغ رسانی، پیداوار کو یکجا کرنے، پروسیسنگ اور قدر افزائی کے ذریعے ان قدرتی فوائد سے استفادہ کرنے کے ساتھ عالمی برآمدی منڈیوں کے تقاضوں سے ہم آہنگی پیدا کرکے برآمدات کی تیاری کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے اور اس خطے کو تصدیق شدہ نامیاتی اور اعلیٰ معیار کی ماہی گیری مصنوعات کے مرکز کے طور پر فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اس سے ملکی اور بیرونِ ملک منڈیوں تک رسائی آسان ہوگی، مچھلی پالنے والوں کو اپنی پیداوار کی بہتر قیمت ملے گی اور ماہی پروری کی پوری ویلیو چین سے وابستہ افراد کے ذریعۂ معاش کو تقویت ملے گی۔
حکومت نے ماہی پروری کی پوری ویلیو چین کی مربوط ترقی کے لیے کلسٹر پر مبنی طریقۂ کار اختیار کیا ہے، جس کے تحت مخصوص جغرافیائی علاقوں میں پیداوار، پروسیسنگ، قدر افزائی اور مارکیٹنگ کو یکجا کیا جا رہا ہے۔ پی ایم ایم ایس وائی کے تحت ملک بھر میں ماہی پروری کے 34 پیداواری اور پروسیسنگ کلسٹروں کو نوٹیفائی کیا گیا ہے، جن میں سکم اور میگھالیہ کے نامیاتی ماہی پروری کلسٹر بھی شامل ہیں۔ یہ طریقۂ کار پیداوار کو یکجا کرنے، قدر افزائی اور منڈیوں سے مضبوط روابط قائم کرنے کے لیے ایک لائحۂ عمل فراہم کرتا ہے، جس سے مخصوص خصوصیات کی حامل اور اعلیٰ قدر والی ماہی گیری مصنوعات کو بہتر منڈیوں تک رسائی اور مناسب قیمت حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔
توقع ہے کہ یہ دورہ سکم اور وسیع تر شمال مشرقی خطے میں جدید، پائیدار اور منڈیوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ ماہی پروری کے نظام کی ترقی کو مزید تقویت فراہم کرے گا۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی، نامیاتی ماہی پروری، سرٹیفکیشن اور سراغ رسانی کے نظام، قدر افزائی اور منڈیوں سے مضبوط روابط قائم کرنے کے ذریعے یہ اقدامات مچھلی پالنے والوں کی آمدنی میں اضافے، روزگار اور ذریعۂ معاش کے بہتر مواقع پیدا کرنے اور اعلیٰ معیار کی ملکی و بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-7034