پوسٹ کرنے کی تاریخ:
31 OCT 2026 1:32PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 31 اکتوبر 2026: لوک سبھا کے اسپیکر جناب اوم برلا نے آج شتابدی سماروہ 2026 کے موقع پر معزز روحانی شخصیات آچاریہ شری رام شرما جی اور ماتا بھگوتی دیوی جی کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ہندوستان کی روحانی نشاۃ ثانیہ، سماجی تبدیلی اور قومی تعمیر میں ان کی بیش بہا خدمات کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ صد سالہ تقریبات محض ماضی کو یاد کرنے کا موقع نہیں ہیں بلکہ ایک ایسی تخلیقی تحریک کا جشن ہیں جس نے ملک بھر میں بے شمار لوگوں کی زندگیوں کو تبدیل کیا ہے۔
نئی دہلی میں گایتری پریوار کے زیر اہتمام صد سالہ تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے جناب برلا نے آچاریہ شری رام شرما جی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آچاریہ جی نے ’اکھنڈ جیوتی‘ کے ذریعے ملک بھر میں روحانیت کا نور پھیلایا اور لوگوں کو انفرادی ترقی، خاندانی ترقی، سماجی ترقی اور قومی تعمیر کے اصولوں سے تحریک دی۔ ان کا حوصلہ افزا عزم، ’’ہم بدلیں گے، تو زمانہ بدلے گا‘‘ ہندوستان اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ایک رہنما اصول بن گیا ہے۔ گایتری منتر اور یگیہ کے ذریعے آچاریہ جی نے لوگوں کو روحانی شعور سے جوڑا اور باطنی پاکیزگی اور روحانی بیداری کی راہ ہموار کی۔
گایتری پریوار کے ساتھ اپنے ذاتی تعلق کو یاد کرتے ہوئے جناب برلا نے کہا کہ انہوں نے دور دراز کے دیہات اور بستیوں میں بھی آچاریہ جی کے روحانی فلسفے کے تبدیلی لانے والے اثرات کا مشاہدہ کیا ہے، جہاں اس نے لوگوں کو مشکل حالات، توہم پرستی اور نقصان دہ سماجی رسم و رواج پر قابو پانے میں مدد دی۔ اس تحریک نے نہ صرف لوگوں کی سماجی زندگی میں تبدیلی پیدا کی بلکہ ان کی ذاتی نشوونما، کردار سازی اور معاشرے اور قوم کے تئیں ذمہ داری کے گہرے احساس کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
ماتا بھگوتی دیوی جی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لوک سبھا کے اسپیکر نے ان کی غیر معمولی زندگی کا ذکر کیا، جو ممتا، رحم دلی، مجاہدۂ نفس، لگن اور خدمت سے عبارت تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خدمات روحانی بیداری سے کہیں بڑھ کر تھیں، کیونکہ انہوں نے ایسے وقت میں سماجی تبدیلی اور خواتین کو بااختیار بنانے کی ایک اہم تحریک کی قیادت کی جب ملک بھر میں خواتین کو متعدد سماجی چیلنجوں اور پابندیوں پر مبنی رسم و رواج کا سامنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ماتا جی نے خواتین کو تعلیم حاصل کرنے، خود اعتمادی پیدا کرنے اور خود کفیل بننے کی ترغیب دی۔ ان کی زندگی اور تعلیمات نے یہ ثابت کیا کہ گھرانے میں عورت کی شخصیت کی نشوونما پورے خاندان اور معاشرے کی ترقی کی بنیاد رکھتی ہے۔ ان کی ممتا بھری شفقت اور مشفقانہ رہنمائی نے بے شمار خواتین کی زندگیوں کو تبدیل کیا اور ان کی سماجی و روحانی خودمختاری کو نئی تحریک دی۔ انہوں نے کہا کہ روحانی شعور اور ہندوستانی اقدار پر مبنی ماحول مثبت رویوں کو فروغ دینے، خاندانوں کو مضبوط بنانے اور ایک ترقی پسند معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
جناب برلا نے ہندوستان کے روحانی ورثے، ثقافتی دانش اور اقدار پر مبنی فلسفے کو دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچانے کے لیے گایتری پریوار کی مسلسل کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کئی ممالک میں اپنے کام کے ذریعے موجودہ دور کی ضروریات کے مطابق انفرادی، خاندانی اور سماجی ترقی کے اصولوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے روحانیت، ثقافت اور ہندوستانی اقدار پر مبنی تعلیم کے لیے ادارے کے عزم کی بھی تعریف کی۔
آچاریہ جی کے قائم کردہ یونیورسٹی کا ذکر کرتے ہوئے لوک سبھا کے اسپیکر نے کہا کہ تعلیم کے ابتدائی مراحل ہی سے روحانیت، ثقافتی اقدار اور کردار سازی پر اس کا زور قابل ستائش ہے۔
انہوں نے اقدار پر مبنی تعلیم، خواتین میں بیداری اور انہیں بااختیار بنانے نیز سماجی اصلاح کے لیے ادارے کے اقدامات کی تعریف کی۔ انہوں نے ڈاکٹر چنمیہ پانڈیا کی بھی تعریف کی، جو ہندوستان کی روحانی روایات اور ثقافتی اقدار کو دنیا تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت سے بھی روشناس کرا رہے ہیں۔ عصرِ حاضر کی دنیا میں روحانیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جناب برلا نے کہا کہ ایسے وقت میں جب کئی ممالک میں لوگ ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا سامنا کر رہے ہیں، باطنی سکون، روحانی قوت اور بامقصد زندگی کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گایتری پریوار کا روحانی مرکز لوگوں کو ذہنی سکون، خود اعتمادی، عزم و حوصلہ اور زندگی میں ایک واضح سمت فراہم کرتا ہے۔ جناب برلا نے گایتری پریوار سے اپیل کی کہ وہ اکھنڈ جیوتی کا نور ہر گاؤں اور معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مشن اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک معاشرے کے آخری فرد کی زندگی بھی مثبت تبدیلی سے متاثر نہ ہوجائے۔ ان کے مطابق روحانیت، مذہب، ثقافت، کردار سازی اور قومی تعمیر کے اصول اس کوشش کا مرکزی حصہ رہنے چاہئیں۔
گایتری پریوار کی مسلسل خدمات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جناب برلا نے کہا کہ آچاریہ شری رام شرما جی اور ماتا بھگوتی دیوی جی سے تحریک پانے والی روحانی توانائی اور شعور زندگیوں کو منور کرتے رہیں گے اور ایک ہم آہنگ، بیدار اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیادوں کو مضبوط بناتے رہیں گے۔
*****
ش ح۔ ف ش ع
U: 6999