پوسٹ کرنے کی تاریخ:
31 OCT 2026 11:33AM by PIB Delhi
پنچایتی راج اور ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے ’خود کفیل پنچایتوں‘ (آتم نربھر پنچایتوں) اور ’ترقی یافتہ پنچایتوں‘ (وکست پنچایتوں) کے قیام کی کوششوں میں تمام متعلقہ فریقوں کی شرکت پر زور دیا۔ وہ 30 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی میں پنچایتی راج کی وزارت کے زیر اہتمام پیپلز پلان کمپین (پی پی سی) 2026-27 کے موضوع پر منعقدہ قومی ورکشاپ سے خطاب کر رہے تھے، جس میں ملک بھر سے 400 سے زائد شرکاء نے شرکت کی۔ ورکشاپ کے دوران پی پی سی 2026-27 کا کتابچہ (انگریزی/ہندی) بھی جاری کیا گیا۔ اس کے علاوہ، وزارت نے ملک بھر میں پنچایتوں کی اراضی پرالیکٹرک وہیکل (ای وی) چارجنگ اور بیٹری سویپنگ اسٹیشن قائم کرنے کے لیے وزارتِ بجلی کے تحت کام کرنے والی انرجی ایفیشنسی سروسز لمیٹڈ (ای ای ایس ایل) کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی کنورجنس انرجی سروسز لمیٹڈ (سی ای ایس ایل) کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے۔
جناب راجیو رنجن سنگھ نے اجتماع کو پردھان منتری وکست گرام سوراج یوجنا (پی ایم وی جی ایس وائی) کی منظوری سے متعلق مرکزی کابینہ کے تاریخی فیصلے سے آگاہ کیا۔ یہ وکست بھارت کے قومی وژن کے مطابق حکمرانی میں تبدیلی لانے کی ایک نئی نسل کی پہل ہے۔ پی ایم وی جی ایس وائی کے اہم مقاصد کا ذکر کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے سرکاری اسکیموں کے بارے میں بیداری پیدا کرنے، نچلی سطح پر تبادلۂ خیال اور غور و خوض کو فروغ دینے، ایک مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے مرکزی اور ریاستی اسکیموں کو مختلف محکموں کے درمیان مربوط کرنے، گرام پنچایت ترقیاتی منصوبوں (جی پی ڈی پیز) کی بروقت تیاری یقینی بنانے اور مؤثر نچلی سطح کی حکمرانی کے لیے پنچایت نمائندوں اور متعلقہ فریقوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ پی ایم وی جی ایس وائی کی منظوری جمہوریت کی بنیاد کے طور پر پنچایتوں پر حکومت کے غیر متزلزل اعتماد کی عکاسی کرتی ہے اور اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ وکست بھارت کا وژن صرف ترقی یافتہ پنچایتوں کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنچایتیں حقیقی معنوں میں خود کفیل تب بنتی ہیں جب گرام سبھائیں اعتماد کے ساتھ منصوبہ بندی کرتی ہیں، اپنے ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی (او ایس آر) میں مسلسل اضافہ کرتی ہیں اور حکومت کی تمام سطحیں باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتی ہیں۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ گرام پنچایتوں کو کارکردگی کی بنیاد پر گرانٹ حاصل کرنے کا اہل بننے کے لیے اپنے ذرائع سے آمدنی میں اضافہ کرنا ہوگا، انہوں نے وکست بھارت 2047 کے ہدف کے حصول کے لیے ’آتم نربھرپنچایت‘ کے عہد کو عملی جامہ پہنانے پر زور دیا۔ مرکزی وزیر نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ پنچایتوں کو مضبوط بنانے اور انہیں آمدنی کے پائیدار ذرائع تلاش کرنے کے قابل بنانے کے لیے مل کر کام کریں، تاکہ مقامی ترقی مقامی ترجیحات کے مطابق ہو۔
2 اکتوبر 2026 کو شروع کی گئی پیپلز پلان کمپین (پی پی سی) 2026-27 کے ذریعے پیپلز پلان کمپین نے شہریوں کو منصوبہ بندی کے عمل کا مرکز بنایا ہے، اس بات کا ذکر کرتے ہوئےانہوں نے شرکت پر مبنی منصوبہ بندی، ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور عوامی شراکت (جن بھاگیداری) کی اہمیت پر زور دیا، جیسا کہ عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے تصور کیا ہے۔
پنچایتی راج کی وزارت کے سکریٹری ڈاکٹر ونیت جوشی نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ پی ایم وی جی ایس وائی سے متعلق کابینہ کا فیصلہ غیر مرکزی منصوبہ بندی یا اختیارات کی غیر مرکزیت اور شواہد پر مبنی منصوبہ بندی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ وزارت کی جانب سے 2018 سے ’سب کی یوجنا، سب کا وکاس‘ کے موضوع کے تحت چلائی جانے والی پیپلز پلان کمپین (پی پی سی) اب گرام، بلاک اور ضلع پنچایت ترقیاتی منصوبوں کی تیاری، پائیدار ترقیاتی اہداف کو مقامی سطح پر نافذ کرنے اور اسکیموں و وسائل کو یکجا کرنے کے لیے ایک مضبوط فریم ورک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
منظم، شراکت دارانہ اور جامع منصوبہ بندی پر زور دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سولہویں مالیاتی کمیشن نے 2026-31 کی مدت کے لیے تمام 28 ریاستوں میں باضابطہ طور پر تشکیل شدہ پنچایتی راج اداروں/دیہی مقامی اداروں کے لیے مجموعی طور پر 4,35,236 کروڑ روپے کی گرانٹ کی سفارش کی ہے۔ اس کے تحت فنڈز کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے گرام پنچایتوں پر زیادہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔
ڈاکٹر جوشی نے زور دیا کہ گرام پنچایت ترقیاتی منصوبے (جی پی ڈی پیز) دستیاب اسکیموں یا مالی وسائل تک محدود ہونے کے بجائے عوام کی ضروریات اور امنگوں پر مبنی جامع ترقیاتی منصوبے ہونے چاہئیں۔ انہوں نے جی پی ڈی پیز میں اپنے ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی (او ایس آر) کے جزو کو شامل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، کیونکہ کارکردگی پر مبنی گرانٹس پنچایتوں کی آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت سے منسلک ہیں۔
انہوں نے ای گرام سوراج اور سمرتھ پنچایت پورٹل سمیت مرکزی اور ریاستی پورٹلز کے درمیان ٹیکنالوجی کے ذریعے انضمام اور ہم آہنگی پر زور دیا، تاکہ مربوط ڈیٹا نچلی سطح پر بہتر نتائج پر مبنی منصوبہ بندی میں معاون ثابت ہو۔
ڈاکٹر جوشی نے کہا کہ پی ایم وی جی ایس وائی گرام پنچایت کی سطح پر جامع منصوبہ بندی کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے گرام سبھاؤں میں فعال شرکت، مقامی ڈیٹا کے استعمال، بین محکمہ جاتی ہم آہنگی، مالی سال 2027-28 کے لیے جی پی ڈی پیز کے معیار کو بہتر بنانے اور ریاستوں کے درمیان تجربات کے تبادلے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمے کے سکریٹری جناب اشوک کے کے مینا نے کہا کہ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کی خدمات کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے میں پنچایتوں کا کلیدی کردار ہے، کیونکہ ان خدمات کا براہ راست تعلق صحت اور انسانی وقار سے ہے۔ انہوں نے پانی اور فضلے کے انتظام میں گرام پنچایتوں کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے پی ایم وی جی ایس وائی کے ذریعے ان کی تربیت اور صلاحیت سازی پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ گرام پنچایت ترقیاتی منصوبوں (جی پی ڈی پیز) میں پانی اور صفائی ستھرائی سے متعلق مسائل، بشمول پانی کے ذرائع، معیار، دیکھ بھال، تربیت یافتہ افرادی قوت کی دستیابی اور کچرے کے انتظام، کو مناسب طور پر حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے سولہویں مالیاتی کمیشن کے تحت مختص مخصوص مقاصد کے لیے مشروط گرانٹس کے مؤثر استعمال پر بھی زور دیا۔ اس سلسلے میں جل سیوا اور سوچھ سیوا انکلان کے ذریعے خامیوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے اور ان نتائج کو جی پی ڈی پیز میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
پنچایتوں کے اپنے ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی (او ایس آر) میں اضافے کے وسیع تر وژن پر زور دیتے ہوئے جناب مینا نے پانی اور صفائی ستھرائی کی خدمات کو برقرار رکھنے کے لیے صارفین سے وصول کیے جانے والے چارجز کی اہمیت کو اجاگر کیا، تاکہ پنچایتیں مالی خود انحصاری کی جانب پیش رفت کر سکیں۔ انہوں نے بہتر منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور باخبر فیصلہ سازی میں مدد کے لیے اعداد و شمار کے استعمال اور گرام سبھاؤں کے ذریعے گرام پنچایتوں کی جواب دہی کو مزید مستحکم کرنے پر بھی زور دیا۔
پنچایتی راج کی وزارت کی جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر پالکا ساہنی نے موضوعاتی پنچایت ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے حاصل ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے ان منصوبوں کے معیار، جامعیت اور مقامی ترقیاتی ترجیحات کے تئیں ان کی جواب دہی کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
دیہی ترقی کی وزارت کی جوائنٹ سکریٹری محترمہ روہنی آر بھجی بھکرے نے مجموعی دیہی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے جامع اور مربوط گرام پنچایت ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت پر زور دیا۔
ورکشاپ کے بعد مالی سال 2027-28 کے لیے معیاری، شراکت دارانہ اور مربوط ترقیاتی منصوبے تیار کرنے میں پنچایتوں کی رہنمائی کے لیے ریاستی، ضلعی اور بلاک سطح پر رہنمائی و تربیتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
پنچایتوں کی زمین پر الیکٹرک وہیکل (ای وی) چارجنگ اور بیٹری سویپنگ اسٹیشن قائم کرنے کے لیے مفاہمت نامہ
پنچایتوں کے مالی استحکام کو مضبوط بنانے اور ہندوستان کے صاف توانائی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے، پنچایتی راج کی وزارت نے پنچایتوں کی زمین پر الیکٹرک وہیکل (ای وی) چارجنگ اور بیٹری سویپنگ اسٹیشن قائم کرنے کے لیے وزارتِ بجلی کے تحت انرجی ایفیشنسی سروسز لمیٹڈ (ای ای ایس ایل) کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی کنورجنس انرجی سروسز لمیٹڈ (سی ای ایس ایل) کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے۔
اس مفاہمت نامے پر پنچایتی راج کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ اور پنچایتی راج کی وزارت کے سکریٹری ڈاکٹر ونیت جوشی کی موجودگی میں دستخط کیے گئے، جبکہ پنچایتی راج کی وزارت کی جوائنٹ سکریٹری محترمہ مکتا شیکھر اور سی ای ایس ایل کے ڈائریکٹر جناب اکھلیش کمار دکشت کے درمیان مفاہمت نامے کا تبادلہ ہوا۔
یہ مفاہمت نامہ دیہی مقامی حکمرانی، سبز نقل و حرکت اور آمدنی کے پائیدار ذرائع پیدا کرنے کے درمیان ایک اختراعی ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس شراکت داری کے ذریعے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں گرام، بلاک اور ضلعی پنچایتوں کے لیے اپنے ذرائع سے آمدنی (او ایس آر) کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی صاف نقل و حرکت کے بنیادی ڈھانچے کو شہری مراکز سے آگے دیہی علاقوں تک وسعت دی جائے گی۔
اس پہل کے تحت دو پہیہ، تین پہیہ اور چار پہیہ گاڑیوں کے علاوہ درمیانی اور بھاری گاڑیوں کے لیے بھی چارجنگ اور بیٹری سویپنگ کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ ان سہولتوں کے لیے ریاستی اور قومی شاہراہوں کے ساتھ ساتھ پنچایتوں کے احاطوں میں بھی مناسب مقامات کی نشاندہی کی جائے گی۔
وزارت مناسب مقامات کی شناخت اور نگرانی کے لیے ریاستی پنچایتی راج محکموں کے ساتھ ہم آہنگی کو یقینی بنائے گی، جبکہ سی ای ایس ایل مقامات کا جائزہ، طلب کو یکجا کرنے، آلات کی فراہمی، تنصیب، جانچ، باضابطہ آغاز، آپریشن اور دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالے گی۔
یہ پہل اپنے ذرائع سے آمدنی میں اضافہ کرکے پنچایتوں کو بااختیار بنانے کی وزارت کی کوششوں سے ہم آہنگ ہے۔ ان کوششوں میں حال ہی میں جاری کیے گئے ماڈل پنچایت ٹیکس، نرخ اور فیس کے قواعد (ماڈل او ایس آر رولز) بھی شامل ہیں، جو شفاف، جواب دہ اور مقامی سطح پر آمدنی پیدا کرنے کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔
اس پہل کے ذریعے پنچایتوں کی زمین ایک پیداواری اجتماعی اثاثے میں تبدیل ہو جائے گی، جو شہری خدمات، بنیادی ڈھانچے اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے باقاعدہ آمدنی فراہم کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی دیہی علاقوں میں ای وی خدمات تک رسائی بہتر ہوگی اور کاربن کے اخراج میں کمی آئے گی۔
اس تعاون کے ذریعے پنچایتی راج کی وزارت اور سی ای ایس ایل اس بات کا جائزہ لیں گے کہ پنچایتوں کی سطح پر موجود عوامی اثاثے کس طرح برقی نقل و حرکت کے بنیادی ڈھانچے تک رسائی کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، اور اس طرح صاف و سرسبز دیہات، پائیدار مقامی ترقی اور مالی طور پر مستحکم پنچایتوں کے وسیع تر مقاصد کے حصول میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
***
UR-6995
(ش ح۔اس ک )