پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 OCT 2026 4:51PM by PIB Delhi
دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم (ڈی آر ڈی او) نے 27 سے 29 اکتوبر 2026 تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقدہ ’ابھرتی ہوئی سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کانکلیو (ایمرجنگ سائنس ، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن کانکلیو-ایس ٹی آئی سی) 2026‘ میں شرکت کی۔ ’تخلیقی ذہن، سائنس کو مہمیز دینے اور سماج کو بااختیار بنانے‘ (کرئیٹو مائنڈس، کیٹیلائزنگ سائنس ، امپاورنگ سوسائٹی) کے موضوع پر منعقدہ اس کانکلیو کا افتتاح وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے کیا۔ اس کا مشترکہ انعقاد حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کی رہنمائی میں 12 وزارتوں اور محکموں نے کیا۔ اس تقریب میں جدید ترین تحقیق، گہری ٹیکنالوجی کے شعبے میں اہم پیش رفت اور نوبیل انعام یافتگان، عالمی ماہرین، پالیسی سازوں اور ابھرتے ہوئے رہنماؤں کے ساتھ فکر انگیز مباحث پیش کیے گئے، جن سے سائنسی قیادت کے ایک نئے دور کی راہ ہموار ہوئی۔
ڈی آر ڈی او نے اہم منتظمین میں سے ایک کی حیثیت سے ’سیمی کنڈکٹرز اور اگلی نسل کے چِپس‘ کے موضوع پر خصوصی اجلاس کی قیادت کی۔ ممتاز سائنس داں اور الیکٹرانکس و مواصلاتی نظام کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر بی کے داس کی صدارت میں منعقدہ اس اجلاس میں صنعت، تعلیمی شعبے، دیسی چِپ سازی کے نظام اور دفاعی الیکٹرانکس کے ممتاز رہنماؤں نے شرکت کی۔

اس اجلاس کے ایک حصے کے طور پر ڈاکٹر بی کے داس کی نظامت میں ایک پینل مباحثے کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں ممتاز سائنس داں اور مائیکرو الیکٹرانک آلات، کمپیوٹیشنل سسٹمز اور سائبر سسٹمز کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر شینا رانی بھی شامل تھیں۔ اس مباحثے میں سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز میں ابھرتی ہوئی پیش رفت، مخصوص مقاصد کے لیے تیار کردہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نظامی چِپس، سلیکون کی سطح پر ذہانت اور مائیکرو پروسیسرز کے بدلتے ہوئے منظرنامے کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صنعتوں اور نئی کمپنیوں کو انقلابی حل تیار کرنے، اگلی نسل کے چِپس کے ڈیزائن کے عمل کو تیز کرنے اور بنیادی دیسی ٹیکنالوجیز کو مضبوط بنانے میں ڈی آر ڈی او کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا۔
ای ایس ٹی آئی سی 2026 میں ڈی آر ڈی او کے تعارفی(آوٹ ریچ) اسٹال پر وزارت دفاع کے اہم اقدامات، کامیابیوں، تحقیقی پروگراموں اور سائنس، ٹیکنالوجی و اختراع کے شعبوں میں اس کی خدمات کو پیش کیا گیا۔ اس اسٹال پر ڈی آر ڈی او کی تجربہ گاہوں میں تیار کی گئی مختلف النوع دیسی ٹیکنالوجیز کی نمائش کی گئی، جن میں جدید مواصلاتی نظام، کوانٹم ٹیکنالوجی کے نمونے، شدید سرد موسم میں استعمال کے لیے لباس، ’پرابلا‘ خواتین کے لیے مکمل جسمانی حفاظتی لباس، غیر فعال اور برقی توانائی سے چلنے والے ایکسو اسکیلیٹن، قابل نقل وحمل ہائبرڈ توانائی کے انتظامی نظام، زیادہ طاقت والے پلس لیزر ڈائیوڈز اور اسکریم جیٹ انجن ٹیکنالوجی شامل ہیں۔
ڈی آر ڈی او نے اس کانکلیو میں موضوعاتی اور محکمہ جاتی نمائشوں میں بھی شرکت کی۔ ’سیمی کنڈکٹرز اور اگلی نسل کے چِپس‘ کے موضوع پر منعقدہ نمائش میں ڈی آر ڈی او نے سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کے دو اہم شعبوں میں اپنی کامیابیوں کو پیش کیا۔ ان میں مونولیتھک مائیکرو ویو انٹیگریٹڈ سرکٹس (ایم ایم آئی سیز) اور انفراریڈ فوکل پلین اَرے (آئی آر ایف پی ایز) شامل ہیں، جنہیں دہلی کی سالڈ اسٹیٹ فزکس لیبارٹری (ایس ایس پی ایل) نے تیار کیا ہے۔
نمائش میں پیش کیے گئے گیلیم آرسینائیڈ (جی اے ایس) اور گیلیم نائٹرائیڈ (جی اے این) پر مبنی مونولیتھک مائیکرو ویو انٹیگریٹڈ سرکٹس (ایم ایم آئی سیز) کے ساتھ ملٹی چِپ ماڈیولز (ایم سی ایمز) کو کئی اہم تزویراتی مشنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجیز جدید ریڈار نظاموں اور الیکٹرانک جنگ (ای ڈبلیو) سے متعلق ایپلی کیشنز کے لیے بنیادی اہمیت کے حامل اجزا ہیں۔ دوسری جانب، انفراریڈ فوکل پلین اَرے (آئی آر ایف پی ایز) حربی (ٹیکٹیکل ) میزائلوں کے حسّاس عناصر یا ’آنکھوں‘ کا کام کرتے ہیں۔ یہ امیجنگ انفراریڈ (آئی آئی آر) سیکرز کے ذریعے ہدف کا پتہ لگانے اور آخری مرحلے میں اس کا تعاقب کرنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ نمائش میں شارٹ -ویو انفراریڈ (ایس ڈبلیو آئی آر)، مڈ-ویو انفراریڈ (ایم ڈبلیو آئی آر) اور لانگ- ویو انفراریڈ (ایل ڈبلیو آئی آر) سمیت انفراریڈ ٹیکنالوجیز کی وسیع اقسام پیش کی گئیں، جو جدید سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز کے شعبے میں ڈی آر ڈی او کی وسیع دیسی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہیں۔
ڈی آر ڈی او کی دیگر نمایاں نمائشوں میں اسکریم جیٹ انجن ٹیکنالوجی اور نیورومورفک ایکسیلیریٹرز شامل تھے، جو پیچیدہ اور ابھرتے ہوئے تکنیکی شعبوں میں اہم پیش رفت کو اجاگر کرتے ہیں۔ نمائش میں جدید مواصلاتی نظام، کوانٹم رینڈم نمبر جنریٹرز (کیو آر این جیز)، حفاظتی آلات، ایکسو اسکیلیٹنز، قابل نقل و حمل (پورٹیبل) ہائبرڈ توانائی کے انتظامی نظام، فوٹونک انٹیگریٹڈ سرکٹس (پی آئی سیز) اور لیزر پروکزیمیٹی سینسرز بھی پیش کیے گئے۔
سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی قومی خودمختاری، معاشی استحکام اور ڈیجیٹل سیکورٹی کے لیے ایک اہم بنیادی ضرورت ہے۔ دیسی تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط بنا کر یہ 2047 تک ’وکست بھارت‘ اور ’آتم نربھر بھارت‘ کے تصور کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ مواصلاتی آلات اور جدید حسّاس نظاموں سے لے کر جدید ترین دفاعی پلیٹ فارموں تک، سیمی کنڈکٹر چِپس جدید ٹیکنالوجیز کی کارکردگی، مؤثریت اور قابل اعتماد ہونے کا تعین کرتی ہیں۔ چِپس کی تیاری کے علاوہ، تکنیکی خود کفالت کے لیے چِپس کے ڈیزائن، تیاری، جانچ، صنعتی پیمانے پر پیداوار اور مستحکم سپلائی چین کے شعبوں میں جامع صلاحیتوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔
بھارت کا مقصد ہے کہ وہ 2047 تک عالمی سطح پر مسابقت کے قابل، قابلِ اعتماد اور تکنیکی اعتبار سے خود کفیل سیمی کنڈکٹر پاور ہاؤس کے طور پر ابھرے اور اگلی نسل کی منتخب چِپ ٹیکنالوجیز میں قائدانہ مقام حاصل کرے۔ اس تصور میں ایک متحرک اور پائیدار سیمی کنڈکٹر نظام کی ترقی، اعلیٰ قدر کے روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور سماج کے تمام طبقات تک فوائد پہنچانا شامل ہے۔
گزشتہ برسوں کے دوران، بھارت کی دفاعی شعبے کی اہم تجربہ گاہوں اور سیمی کنڈکٹر کی خصوصی فاؤنڈریوں، جن میں سالڈ اسٹیٹ فزکس لیبارٹری (ایس ایس پی ایل)، گیلیم آرسینائیڈ انیبلنگ ٹیکنالوجی سینٹر (جی اے ای ٹی ای سی)، سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی اینڈ اپلائیڈ ریسرچ سینٹر (ایس ٹی اے آر سی) اور سیمی کنڈکٹر لیبارٹری (ایس سی ایل) شامل ہیں، نے گیلیم آرسینائیڈ (جی اے ایس)، گیلیم نائٹرائیڈ (جی اے این)، مائیکرو الیکٹرو مکینیکل سسٹمز (میمز) اور سلیکون کی جدید و مستحکم تیاری کی ٹیکنالوجیز میں خصوصی مہارتیں حاصل کی ہیں۔
***
ش ح۔م م ۔ ن ع
U. No- 6960