پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 OCT 2026 4:11PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج گجرات کے بناس کانٹھا میں 14,000 کروڑ روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا، افتتاح کیا اور انہیں ملک کے نام وقف کیا۔ نوراتری کے فوراً بعد ماتا امبا کی مقدس سرزمین پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خواتین، بچوں، کسانوں اور مویشی پالنے والوں کے لئے متعدد اقدامات کا آغاز کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ملک بھر کے کروڑوں چھوٹے کسانوں کے کھاتوں میں پی ایم کسان سمان ندھی کی نئی قسط بھی منتقل کی۔
کسانوں اور اناج پیدا کرنے والوں کو ترقی یافتہ بھارت کے مضبوط ترین ستونوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ ان کی فلاح و بہبود اور انہیں بااختیار بنانے کو ترجیح دی ہے۔ اس مقصد کے تحت قومی زرعی بجٹ میں 2013-14 کے مقابلے میں پانچ گنا سے زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔ پی ایم کسان سمان ندھی چھوٹے کسانوں کی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گجرات میں 50 لاکھ سے زیادہ کسانوں کے کھاتوں میں ایک ہزار کروڑ روپے سے زائد کی رقم جمع کرائی گئی ہے، جس میں بناس کانٹھا کے لاکھوں کاشت کار کنبوں کے لیے تقریباً 50 کروڑ روپے شامل ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’آج تقریباً 10 کروڑ کسانوں کے کھاتوں میں 18 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم بھیجی گئی ہے۔‘‘
گزشتہ چند برسوں کے دوران حکومتی پالیسیوں کے ذریعے کسانوں کو 50 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم فراہم کیے جانے یا ان کی بچت ہونے کا ذکر کرتے ہوئےوزیر اعظم نے ان پانچ اقدامات میں سے پہلی مثال کے طور پر پی ایم کسان سمان ندھی کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پی ایم کسان سمان ندھی کے تحت تقریباً 4.5 لاکھ کروڑ روپے براہ راست چھوٹے کسانوں کے بینک کھاتوں میں منتقل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے کسان ملک کی مجموعی کسان برادری کا 85 فیصد سے زیادہ ہیں اور ہماری حکومت نے ان چھوٹے کسانوں کی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے پی ایم کسان سمان ندھی کے ذریعے ان کی مدد کی ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران عالمی سطح پر غیر یقینی صورت حال کے باعث کھادوں کی قیمتوں میں ہونے والے تیز اضافے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کسانوں کی فلاح کو ترجیح دینے والی ان کی حکومت نے کاشت کاروں کو قیمتوں میں اضافے کے بوجھ سے محفوظ رکھا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’اس کے لیے حکومت نے تقریباً 16 لاکھ کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت نے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) سے متعلق اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’گزشتہ 12 برس میں گیہوں اور دھان کے کسانوں کو ایم ایس پی کے طور پر 24 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم ملی ہے۔‘‘
پی ایم فصل بیمہ یوجنا کے ذریعے کسانوں کو فراہم کیے گئے مضبوط حفاظتی نظام کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 10 سے 12 برسوں کے دوران کسانوں کو فصلوں کے نقصان کے معاوضے کے طور پر دو لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم ملی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پی ایم کُسم یوجنا کے بڑھتے ہوئے دائرے کے ذریعے آبپاشی کے اخراجات کم کرنے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس یوجنا کے تحت تقریباً 12 لاکھ شمسی پمپ تقسیم کیے گئے ہیں، جن سے اضافی بجلی پیدا ہوئی ہے اور لاکھوں کسانوں کو 80 کروڑ لیٹر سے زیادہ ڈیزل خریدنے کے اخراجات سے بچت ہوئی ہے۔ اس طرح ان پانچ اہم اسکیموں اور فیصلوں سے حاصل ہونے والے مالی فوائد اور بچت کی مجموعی رقم 50 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’ان 50 لاکھ کروڑ روپے سے ملک کے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے اور بھارت کی زراعت کی صلاحیت بھی بڑھی ہے۔‘‘
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ زراعت محض ایک روایت نہیں بلکہ ہندوستانی ثقافت کا ایک اہم حصہ بھی ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران حکومت نے زراعت اور مویشی پروری کے شعبوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر شامل کیا ہے۔ انہوں نے سوائل ہیلتھ کارڈ کو اس کی ایک اہم مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کسانوں کی یہ پریشانی دور ہوگئی کہ وہ اپنی زمین کے لیے کھاد کی صحیح قسم اور مناسب مقدار کا تعین نہیں کر پاتے تھے۔ اس طرح ملک بھر میں زرعی طریقوں کو جدید بنایا گیا ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’آج ملک کے کسانوں کے پاس 26 کروڑ سے زیادہ سوائل ہیلتھ کارڈ موجود ہیں۔‘‘
موسمی حالات میں تبدیلی کو کسانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی بیجوں کی نئی اقسام فراہم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’حالیہ برسوں میں کسانوں کو بیجوں کی تقریباً تین ہزار نئی اقسام دستیاب کرائی گئی ہیں۔‘‘
دیہی معیشت کے ایک اہم جزو اور دیہی خواتین کی بڑی تعداد کی شمولیت والے شعبے کے طور پر مویشی پروری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ڈیری اور مویشی پروری کے شعبے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو شامل کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بہتر نسل کے مویشی دودھ کی پیداوار میں اضافہ کرتے ہیں، جبکہ بروقت ٹیکہ کاری اور طبی علاج سے بیماریوں کے باعث ہونے والے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مویشی صحت مند ہوں گے تو میرے مویشی پالنے والے بھائیوں اور بہنوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔‘‘
مقامی مویشی نسلوں کے تحفظ اور ان کی سائنسی بنیادوں پر افزائش کو فروغ دینے میں راشٹریہ گوکل مشن کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ بناس کانٹھا میں قائم کیا گیا نیا تحقیقی مرکز اس مشن کو مزید تقویت دے گا۔ یہ مرکز گِر، ساہیوال اور کانکریج جیسی دیسی گائے کی نسلوں کے تحفظ اور ان کے معیار کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مہسانہ، مرہ اور جعفرآبادی جیسی بھینسوں کی نسلوں کی بہتری کے لیے بھی کام کرے گا۔ یہ کانکریج نسل کے لیے ملک کا اپنی نوعیت کا پہلا مرکز ہوگا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جب کوئی کسان زیادہ دودھ دینے والی، کم دیکھ بھال کی ضرورت رکھنے والی اور صحت مند گائے کی خصوصیات کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا چاہتا ہے تو آئی وی ایف جیسی جدید ٹیکنالوجیز ان بہتر خصوصیات کی منتقلی کے امکانات بڑھا دیتی ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’اس کا براہ راست فائدہ مویشی پالنے والے کسان کو ملے گا۔‘‘
منہ اور کھر جیسی بیماریوں سے مویشیوں کا تحفظ ایک اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ایسی بیماریاں نہ صرف جانوروں کی صحت بلکہ دودھ کی پیداوار کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ انہوں نے ملک گیر مفت ٹیکہ کاری مہم کے آغاز کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک تقریباً 150 کروڑ ویکسین کی خوراکیں دی جا چکی ہیں اور آٹھ کروڑ سے زیادہ کسانوں کے مویشیوں کو مفت ٹیکے لگائے گئے ہیں۔ جناب مودی نے کہا، ’’اس سے مویشی پالنے والے کسانوں پر مالی بوجھ بھی کم ہوا ہے۔‘‘
ڈیری شعبے کی پیداوار پر ان اقدامات کے نمایاں اثرات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ 2013-14 میں ایک گائے یا بھینس سے روزانہ اوسطاً پانچ لیٹر سے بھی کم دودھ حاصل ہوتا تھا، جو آج بڑھ کر تقریباً آٹھ لیٹر ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں بھارت دنیا میں دودھ کی پیداوار میں اضافے کی سب سے تیز رفتار شرح والا ملک بن گیا ہے، جس سے دیہی کسان خاندانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’دودھ کی پیداوار میں بھارت دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔‘‘
مویشی پالنے والوں کو دودھ کے ساتھ گوبر سے بھی آمدنی حاصل کرنے کے قابل بنانے کے حکومت کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بایو گیس، بایو سی این جی اور نامیاتی کھاد کی تیاری کے لیے بنیادی ڈھانچہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس کام میں بانس ڈیری جیسے اداروں کا اہم تعاون حاصل کیا جا رہا ہے۔ آج دو بایو سی این جی پلانٹس کا سنگ بنیاد رکھنا بھی اسی کوشش کا حصہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس کا واضح مقصد مویشیوں کو صحت مند رکھنا، دودھ کی پیداوار بڑھانا اور گوبر کا مکمل استعمال یقینی بنانا ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’ہم مویشی پروری کو محض ایک روایت نہیں بلکہ کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور گاؤں کو خوش حال بنانے کا ایک مؤثر ذریعہ بنا رہے ہیں۔‘‘
دیہی علاقوں میں خوش حالی یقینی بنانے کے لیے گزشتہ چند برسوں کے دوران حکومت کی جانب سے اختیار کیے گئے جامع نقطہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ماہی گیری کے شعبے میں بڑے پیمانے پر توسیع اور اس میں امدادی و اشتراکی اداروں کو فروغ دینے کی کوششوں کا ذکر کیا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ بھارت کی سمندری غذائی اشیا کی برآمدات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئی ہیں۔‘‘
کسانوں کے لیے اضافی آمدنی کے ایک اور اہم ذریعے کے طور پر شہد کی مکھیوں کی پرورش کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ گزشتہ 12 برسوں میں شہد کی پیداوار دوگنی ہو گئی ہے۔ انہوں نے اس ’مدھو کرانتی‘ کو آگے بڑھانے میں خواتین کے خود امدادی گروپوں کے بڑھتے ہوئے تعاون کی بھی ستائش کی۔ جناب مودی نے کہا، ’’آپ کو یہ جان کر فخر ہوگا کہ ہمارا ملک قدرتی شہد برآمد کرنے والا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔‘‘
سات اکتوبر 2001 کو پہلی بار حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد سات اکتوبر کو عوامی خدمت کے 25 سال مکمل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ان بے پناہ محبتوں اور رہنمائی کو یاد کیا جو انہیں ہر گجراتی سے اس وقت حاصل ہوئیں، جب انہیں سرکاری دفاتر اور سرکاری فائلوں کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔ انہوں نے عوام کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ایک غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے ایسے شخص کو، جس کے آباؤ اجداد نے کبھی گاؤں کا سرپنچ بننے کا خواب بھی نہیں دیکھا تھا، پہلے گجرات اور پھر ملک کی خدمت کی ذمہ داری سونپی۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’محبت سے بھی بڑھ کر ہر ایک گجراتی نے مجھے کچھ نہ کچھ سکھایا ہے اور صحیح راستہ دکھایا ہے۔‘‘
یہ بتاتے ہوئے کہ وہ صرف دو اصولوں سے واقف تھے، یعنی عوامی خدمت کے ذریعے ملک کی خدمت کرنا اور گجرات کی ترقی کے ذریعے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا، جبکہ باقی سب کچھ انہوں نے عوام سے سیکھا، وزیر اعظم نے ملک کے لیے اپنی تمام کامیابیوں کا سہرا شہریوں کو دیا۔ جناب مودی نے کہا، ’’اس کے لئے میں زندگی بھر آپ کا مقروض رہوں گا اور زندگی کے آخری لمحے تک آپ کی خدمت میں مصروف رہوں گا۔‘‘
علاقے کے بزرگ شہریوں کو 25 سال پہلے پانی اور بجلی کی شدید قلت کی یاد دلاتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ کس طرح لوگوں نے ان کی اپیل پر دونوں وسائل کو بچانے کی کوشش کی اور اپنے حالات اس قدر بدل دیے کہ آج وہ پرانی مشکلات محض یادوں کا حصہ بن کر رہ گئی ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے اپیل کی، ’’آج میں آپ سے پھر وہی بات کہوں گا کہ ہمیں پانی بچانا ہے، بجلی بچانی ہے۔‘‘
یہ بتاتے ہوئے کہ نرمدا کے پانی اور ڈرپ آبپاشی جیسی جدید ٹیکنالوجیز نے بناس کانٹھا کی صورت حال بدل دی ہے اور یہاں کے آلو کو دنیا بھر میں شہرت دلائی ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ بانس ڈیری نے بھی امدادی و اشتراکی تحریک کو کاشی اور اس سے آگے تک وسعت دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فرنچ فرائز بنانے والے آلو کے کارخانے کی پیداواری صلاحیت بھی بڑھا دی گئی ہے تاکہ کسانوں سے زیادہ مقدار میں آلو خریدا جا سکے۔ جناب مودی نے کہا، ’’یہ آلو کے کسانوں کے لئے ایک بہت بڑی سہولت ہے۔‘‘
پھل اور سبزیاں اگانے والے کسانوں کے لئے جاری کلسٹر ترقیاتی پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج ٹماٹر، آلو، مرچ، انگور، کیلا، پیاز، سنترہ، انار اور کوکو کی پیداوار کے لئے 12 کلسٹروں کی منظوری دی گئی ہے۔ اس پروگرام کے تحت کسانوں کو نئے باغات لگانے اور پرانے باغات کی بحالی کے لیے مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’شمالی گجرات کو ملنے والے دو کلسٹروں سے بناس کانٹھا اور سابَر کانٹھا کے آلو کے کسانوں کو بہت فائدہ ہوگا۔‘‘
گجرات کی ترقی کے لئے آج افتتاح کئے گئے یا شروع کیے گئے کئی بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے دو نئی ریل خدمات، احمد آباد-وارانسی سابرمتی ایکسپریس اور مہسانہ-بیچ راجی-سابرمتی میمو ٹرین کو ہری جھنڈی دکھانے کی بات کہی۔ اس کے ساتھ ہی احمد آباد میٹرو کی توسیع کے تحت گفٹ سٹی اور ہوائی اڈے کو میٹرو سے جوڑنے والے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’احمد آباد-مہسانہ شاہراہ اب چار لین سے بڑھا کر آٹھ لین کی بنائی جائے گی۔‘‘
ریاست کے بچوں کے لیے آج شروع کیے گئے نئے سماجی بہبود کے بنیادی ڈھانچے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ گجرات بھر میں چار ہزار سے زیادہ جدید آنگن واڑی مراکز کا افتتاح کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’اس سے تقریباً چار لاکھ بچوں اور حاملہ ماؤں کو فائدہ پہنچے گا۔‘‘
یہ بتاتے ہوئے کہ ترقی کی ان تمام کوششوں کا مقصد ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر ہے، جہاں ہر کسان، نوجوان، بہن اور بیٹی ترقی یافتہ بھارت کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ عناصر کو یہ ترقی پسند نہیں ہے اور وہ ملک کو مشکلات میں گھرا دیکھنا چاہتے ہیں۔ جناب مودی نے کہا، ’’جب ملک پر بحران آتا ہے تو انہیں خوشی ہوتی ہے۔‘‘
ایران اور خلیجی ممالک کے اطراف جاری جنگ کو حالیہ مثال قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت نے متحد ہو کر اس صورت حال کا سامنا کیا، لیکن بعض عناصر نے افواہیں پھیلا کر کسانوں کو کھاد کی قلت اور خواتین کو گیس کی فراہمی متاثر ہونے کا خوف دلانے کی کوشش کی۔ ان کا مقصد ملک میں افراتفری پیدا کرنا اور انہیں بدنام کرنا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’جب بھارت متحد ہو کر اس صورت حال کا سامنا کر رہا تھا، اس وقت یہ لوگ افواہیں پھیلانے میں مصروف تھے۔‘‘
کسان برادری کو ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہنے کے اپنے پختہ عزم کی یاد دلاتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جاری محاذ آرائی کے باوجود حکومت نے زرعی ضروریات کی کسی بھی قسم کی قلت پیدا نہیں ہونے دی۔
جنگ کے باعث عالمی منڈی میں کھادوں اور خام کیمیائی مادوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے بھارتی کسانوں کو اس بوجھ سے محفوظ رکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یوریا کی جو بوری عالمی منڈی میں 3,000 روپے میں ملتی ہے، وہ بھارت میں کسانوں کو 300 روپے سے بھی کم میں فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ ڈی اے پی کی جو بوری عالمی سطح پر 5,000 روپے سے زیادہ کی ہے، وہ بھارت میں صرف 1,350 روپے میں دستیاب ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’ملک یہ مدد اس لیے فراہم کر رہا ہے تاکہ ہمارا کسان بااختیار بنے اور اس کی زندگی بہتر ہو۔‘‘
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ بھارت کی تیز رفتار ترقی غیر یقینی صورت حال سے دوچار دنیا کے لیے نئی امید پیدا کر رہی ہے اور اس کے لیے ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کے راستے پر مسلسل آگے بڑھنا ضروری ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ 31 اکتوبر کو قومی یومِ اتحاد منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر رَن فار یونٹی کے انعقاد کی تیاریاں بڑے پیمانے پر جاری ہیں، جس میں پورا ملک اتحاد کے جذبے سے شرکت کرتا ہے۔ جناب مودی نے اپیل کی، ’’میں تمام اہل وطن، خصوصاً اپنے نوجوان ساتھیوں سے درخواست کروں گا کہ وہ کل صبح رَن فار یونٹی میں پورے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیں۔‘‘
31 اکتوبر کو ایکتا نگر میں ہونے والے سالانہ یومِ اتحاد کی تقریبات کے وقت میں تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ اس سال یہ تقریبات کل شام 5:30 بجےبڑے تزک و احتشام کے ساتھ منائی جائیں گی۔ ان میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کی پریڈ اور جھانکیاں شامل ہوں گی۔ انہوں نے کشمیر سے کنیا کماری اور کچھ سے کامکھیا تک تمام شہریوں سے اس تقریب میں شرکت کرنے، سردار پٹیل کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کے عزم کو دہرانے کی اپیل کی۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’اس درخواست کے ساتھ، ترقیاتی کاموں کےلئے آپ سب کو ایک بار پھر بہت بہت مبارکباد۔‘‘
*****
ش ح۔ ک ا۔م ذ
U.NO.6955