پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 OCT 2026 5:45PM by PIB Delhi
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے ’’سہکار سے سمردھی‘‘ کے تصور کو حقیقت میں بدلنے اور تعاون پر مبنی ترقی کو تیز رفتار بنانے کی سمت ایک اہم قدم کے طور پر، قومی کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این سی ڈی سی) کی جنرل کونسل کی جنرل کونسل کی 93ویں میٹنگ آج نئی دہلی میں واقع کارپوریشن کے صدر دفتر میں امور داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر جناب امت شاہ کی صدارت میں منعقد ہوئی۔اس میٹنگ میں این سی ڈی سی کی مالی اور ادارہ جاتی کامیابیوں، کوآپریٹو شعبے میں مالی اعانت کے دائرے کو وسعت دینے، نئی کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیوں کے قیام، دیہی ذرائع معاش کو مضبوط بنانے اور کارپوریشن کے مستقبل کے لائحۂ عمل کے مختلف پہلوؤں پر غور و خوض کیا گیا۔
جنرل کونسل کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ این سی ڈی سی نے گزشتہ تقریباً پانچ برسوں کے دوران غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کارپوریشن نے نہ صرف مالی کارکردگی اور مقررہ اہداف کے حصول میں نمایاں پیش رفت کی ہے، بلکہ فی ملازم زیادہ منافع، قرضوں کی منظوری اور تقسیم میں توسیع اور خالص غیر فعال اثاثوں کو صفر پر برقرار رکھنے جیسی اہم کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر خصوصی اطمینان کا اظہار کیا کہ این سی ڈی سی نے اب ملک کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اپنی موجودگی قائم کر لی ہے۔ لداخ اور شمال مشرق کی چھوٹی ریاستوں جیسے دور دراز علاقوں میں دفاتر کا دائرہ وسیع کرنا، کوآپریٹو تحریک کو ملک کے دور افتادہ علاقوں تک پہنچانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ جناب امت شاہ نے ان کامیابیوں پر کارپوریشن کے افسران اور ملازمین کو مبارک باد دی۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے امداد باہمی کے لیے ایک علیحدہ وزارت قائم کرکے امداد باہمی کے شعبے کے کئی دہائیوں پرانے مطالبے کو پورا کیا ہے۔ اس کا مقصد محض کوآپریٹو سوسائٹیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا نہیں، بلکہ ملک کے ہر شہری کو ترقی کے عمل سے جوڑنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت جیسے وسیع ملک کی ترقی کو صرف مجموعی گھریلو پیداوار، فی کس آمدنی یا صنعتی سرمایہ کاری کی بنیاد پر نہیں پرکھا جا سکتا۔ حقیقی ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ معاشرے کے ہر طبقے کو مواقع میسر آئیں، ہر شہری عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار سکے اور ہر شخص قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے فائدہ سب تک پہنچنے کا مطلب ہے کہ ان سے ہر شہری مستفید ہو، جبکہ شمولیتی ترقی کا مطلب یہ ہے کہ لداخ سے لکشدیپ تک تمام خطوں کو ترقی کے سفر میں یکساں طور پر حصہ لینے کا موقع ملے۔
امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ تعاون، چھوٹے کسانوں، مویشی پالنے والوں، دیہی خواتین، ماہی گیروں اور معاشی طور پر کمزور طبقات کی اجتماعی طاقت کو قومی ترقی سے جوڑنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، کیونکہ ان کے پاس سرمایہ محدود ہوتا ہے۔ کوآپریٹو سوسائٹیاں معمولی سرمائے کے ساتھ بڑی تعداد میں لوگوں کو یکجا کرکے پیداوار، پروسیسنگ، مارکیٹنگ اور آمدنی میں اضافے کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امول، اِفکو، لِجّت پاپڑ اور ملک بھر میں کامیابی سے کام کرنے والی متعدد دیگر کوآپریٹو سوسائٹیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ تعاون کی اقدار کو پیشہ ورانہ انتظام کے ساتھ جوڑ کر عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھنے والے ادارے قائم کیے جا سکتے ہیں۔ بین الاقوامی کوآپریٹو درجہ بندیوں میں بھارتی کوآپریٹو اداروں کی نمایاں کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ملک کے پورے کوآپریٹو شعبے کے لیے باعثِ فخر ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ این سی ڈی سی نے اپنی سرگرمیوں کو پیداوار، پروسیسنگ، مارکیٹنگ، دیہی صنعتی سرگرمیوں، آبی تحفظ، زرعی بیمہ، کوآپریٹو بینکاری اورمدور معیشت تک وسعت دی ہے۔ کارپوریشن نے قومی سطح کی کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیوں کے قیام، سرمایہ کاری اور عملی سرگرمیوں میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران این سی ڈی سی کی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے اس عرصے کو کارپوریشن کا ایک طرح کا سنہرا دور قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اسے ان کامیابیوں پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ بدلتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے، مالی وسائل جمع کرنے کی صلاحیت، پیشہ ورانہ طریقۂ کار اور کوآپریٹو سوسائٹیوں کے ساتھ شراکت داری کے ماڈلوں میں وسیع پیمانے پر اصلاحات درکار ہوں گی۔
امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے ہدایت دی کہ این سی ڈی سی کے لیے آئندہ 25 برس کا ایک جامع لائحۂ عمل تیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کوآپریٹو شعبے کے تجربہ کار نمائندوں اور پیشہ ور ماہرین پر مشتمل ایک گروپ تشکیل دیا جانا چاہیے، جو کارپوریشن کے موجودہ ڈھانچے، سرمایہ حاصل کرنے کے متبادل ذرائع، کوآپریٹو سوسائٹیوں کی شمولیت، مالی خود مختاری، تنظیمی اصلاحات اور مستقبل میں کاروبار کے مواقع کا جائزہ لے۔ انہوں نے ان امور پر ایک ورکشاپ منعقد کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ جناب امت شاہ نے کہا کہ 31 مارچ 2027 کے بعد ایک خصوصی میٹنگ بلائی جانی چاہیے، جس میں تفصیلی پیش کش اور تبادلۂ خیال ہو، تاکہ دسمبر 2027 تک ضروری فیصلوں کی سمت پیش رفت کی جا سکے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ کوآپریٹو اداروں کا انتظام پیشہ ورانہ انداز میں ہونا چاہیے، جبکہ ان کا بنیادی نقطۂ نظر تعاون کے اصولوں پر مبنی رہنا چاہیے۔ سرکاری امداد اور سرکاری بینکوں پر حد سے زیادہ انحصار ادارہ جاتی ترقی کے لیے بعض پابندیاں پیدا کرتا ہے۔ اس لیے این سی ڈی سی کو ایسے مالی اور تنظیمی ماڈل تیار کرنے چاہییں، جن کے ذریعے وہ اپنی بڑھتی ہوئی ضروریات کے مطابق وسائل جمع کر سکے اور کوآپریٹو شعبے کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کوآپریٹو شعبے کی ترقی این سی ڈی سی کی ذمہ داری ہے، جبکہ خود این سی ڈی سی کی ترقی کو یقینی بنانا جنرل کونسل کے تمام اراکین کا مشترکہ عزم ہونا چاہیے۔
امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے نیشنل کوآپریٹو ایکسپورٹس لمیٹڈ (این سی ای ایل)، بھارتیہ بیج سہکاری سمیتی لمیٹڈ (بی بی ایس ایس ایل)، نیشنل کوآپریٹو آرگینکس لمیٹڈ (این سی او ایل)، بھارت ٹیکسی، سہکار سارتھی اور شہری کوآپریٹو بینکوں کی مرکزی تنظیم این یو سی ایف ڈی سی جیسے اداروں کے قیام اور ترقی میں این سی ڈی سی کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ آنے والے برسوں میں یہ ادارے قومی سطح کی بڑی اور مؤثر کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیوں کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑے کوآپریٹو اداروں کو مالی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ چھوٹے کسانوں، مویشی پالنے والوں اور ماہی گیروں کے ذرائع معاش میں براہِ راست بہتری لانا بھی این سی ڈی سی کی اتنی ہی اہم ذمہ داری ہے۔

ماہی گیری کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے جناب امت شاہ نے کہا کہ گہرے سمندر میں ماہی گیری کے لیے این سی ڈی سی کے ذریعے تقریباً 100 ٹرالرز کی خریداری کے لیے مالی امداد فراہم کی گئی ہے۔ اس اقدام کے سماجی اور معاشی اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مالی اعانت سے ماہی گیری سے وابستہ بڑی تعداد میں خاندانوں کی ماہانہ آمدنی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ کسی بڑے مالیاتی ادارے کے لیے اس پیمانے کا منصوبہ معمولی دکھائی دے سکتا ہے، لیکن ان خاندانوں کی زندگیوں، ان کے بچوں کی تعلیم اور مستقبل کے مواقع میں آنے والی تبدیلی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کارپوریشن کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ نچلی سطح پر اس طرح کے اقدامات کو مزید وسعت دے۔
جناب امت شاہ نے کوآپریٹو چینی ملوں کے لیے مدور معیشت پر مبنی نئے کاروباری ماڈل تیار کرنے پر بھی زور دیا۔ مہاراشٹر کے کولہاپور اور پونے میں مجوزہ نئی کثیر ریاستی کوآپریٹو پہل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چینی ملوں سے متعلق قدر افزودہ مصنوعات کی تیاری کے لیے مشترکہ پروسیسنگ اور صنعتی سہولتیں تیار کی جا سکتی ہیں۔ اس سے خاص طور پر ان کوآپریٹو چینی ملوں کو فائدہ پہنچے گا جو بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے یا خود جدید پروسیسنگ پلانٹ قائم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ اس انتظام کے تحت حاصل ہونے والا منافع متعلقہ کوآپریٹو چینی ملوں تک پہنچنا یقینی بنایا جائے۔
نوجوانوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت پر زور دیتے ہوئے امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ ’’سہکار متر‘‘ پروگرام کے تحت تربیت اور انٹرن شپ مکمل کرنے والے اہل نوجوانوں کو نئی کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیوں سے وابستہ کیا جانا چاہیے۔ اس سے کوآپریٹو اداروں میں جدید انتظامی طریقوں، کاروباری کارکردگی اور پیشہ ورانہ قیادت کو فروغ ملے گا۔ بناس ڈیری کے کامیاب انتظامی ماڈل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے تجویز پیش کی کہ این سی ڈی سی کے مستقبل کے کام کاج اور ادارہ جاتی ترقی کے لیے اس کے تجربات کا مطالعہ کیا جائے اور ان سے استفادہ کیا جائے۔
جناب امت شاہ نے آنے والے برسوں میں این سی ڈی سی کی جانب سے مالی امداد کی تقسیم میں تیزی سے اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔ مالی سال 27-2026 کے لیے 1.70 لاکھ کروڑ روپے، مالی سال 28-2027 کے لیے 2.10 لاکھ کروڑ روپے اور مالی سال 29-2028 کے لیے 2.50 لاکھ کروڑ روپے کے اہداف کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے آئندہ برسوں کے لیے اس سے بھی زیادہ بلند اہداف مقرر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مالی سال 30-2029 میں تقریباً 3.50 لاکھ کروڑ روپے اور مالی سال 31-20230 میں 3.5 لاکھ کروڑ روپے کی مالی امداد تقسیم کرنے کا ہدف حاصل کرنے کی سمت کام کرنے پر زور دیا۔ جناب امت شاہ نے کہا کہ ڈیری، ماہی گیری، کوآپریٹو بینکاری اور دیگر شعبوں میں بڑھتے ہوئے مواقع کے پیش نظر این سی ڈی سی کو اپنی مالی صلاحیت میں بھی اسی تناسب سے اضافہ کرنا ہوگا، تاکہ کوآپریٹو شعبے کی مالی ضروریات کو تعاون پر مبنی ادارہ جاتی انتظامات کے ذریعے پورا کیا جا سکے۔
امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے این سی ڈی سی کی ترقی کے لیے بھارتی ریزرو بینک اور وزارتِ خزانہ کی جانب سے فراہم کردہ تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریشن کو درپیش مالی اور ضابطہ جاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مختلف سطحوں پر مثبت تعاون حاصل ہوا ہے اور باقی رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوششیں بھی جاری رہیں گی۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ این سی ڈی سی، نابارڈ، ریاستی کوآپریٹو بینکوں اور تجارتی بینکوں کے ساتھ مشترکہ کنسورشیم اور مشترکہ مالی اعانت کے ماڈل تیار کرنے کے امکانات تلاش کرے۔ انہوں نے ڈیری کے کوآپریٹو شعبے کی تمام مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے نئے مالیاتی ماڈل تیار کرنے پر بھی زور دیا۔
شمال مشرقی خطے کی ترقی کو خصوصی ترجیح دیتے ہوئے جناب امت شاہ نے کہا کہ 2030 تک شمال مشرق کو مویشی پروری، ڈیری اور ماہی گیری کے شعبوں میں خود کفیل بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ فی الحال ان شعبوں کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ خطے سے باہر سے پورا کیا جاتا ہے، حالانکہ شمال مشرق میں ڈیری، ماہی گیری اور مویشی پروری کے شعبوں میں بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ ان شعبوں میں خود کفالت حاصل کرنے سے شمال مشرق کی آمدنی میں تقریباً 32,800 کروڑ روپے کا اضافہ ہو سکتا ہے اور تقریباً آٹھ لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے این سی ڈی سی کے شمال مشرقی دفاتر کو ہدایت دی کہ وہ ان شعبوں پر مرکوز قابلِ عمل منصوبے تیار کریں، ضروری مالی اعانت کا انتظام کریں اور ریاستی حکومتوں کے تعاون سے ان منصوبوں کو نافذ کریں۔
میٹنگ میں پیش کی گئی مالی تفصیلات کے مطابق، امداد باہمی کی وزارت کے قیام سے لے کر 25 اکتوبر 2026 تک این سی ڈی سی نے ملک بھر کے کوآپریٹو اداروں کو مجموعی طور پر 4,14,586 کروڑ روپے کی مالی امداد تقسیم کی۔ مالی سال 26-2025 کے دوران کارپوریشن نے 1,55,408 کروڑ روپے کے منصوبوں کی منظوری دی اور 1,27,596 کروڑ روپے کی مالی امداد تقسیم کی۔ اسی مدت میں اس نے 1,475 کروڑ روپے کا خالص منافع حاصل کیا، جبکہ قرضوں کی وصولی کی شرح 99.84 فیصد رہی اور خالص غیر فعال اثاثے صفر رہے۔ کارپوریشن کی سالانہ مالی امداد کی تقسیم مالی سال 2020-21 میں 24,733 کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 1,27,596 کروڑ روپے ہو گئی، جو پانچ برسوں میں تقریباً پانچ گنا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران این سی ڈی سی کی جانب سے منظور کردہ 3,339 یونٹوں اور منصوبوں سے 14,881 کوآپریٹو سوسائٹیوں کو فائدہ پہنچانے کا انتظام کیا گیا۔

میٹنگ میں قومی کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ترمیمی) ایکٹ، 2026 کی اہمیت پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور ہونے اور صدرِ جمہوریہ کی منظوری حاصل کرنے کے بعد یہ ایکٹ 14 اگست 2026 کو گزٹ آف انڈیا میں شائع کیا گیا۔ اس ترمیم کے ذریعے کوآپریٹو ترقی، ادارہ جاتی شراکت داری اور ایکویٹی و حصص کے سرمائے کے ذریعے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے مالی امداد فراہم کرنے کے امکانات کو وسعت دی گئی۔ کوآپریٹو سوسائٹیوں کے لیے مالی امداد کو زیادہ قابلِ رسائی اور مسابقتی بنانے کے مقصد سے مرکزی حکومت نے این سی ڈی سی کے لیے 2,000 کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کی، جس سے کارپوریشن چار برسوں کے دوران بازار سے 20,000 کروڑ روپے جمع کر سکے گی۔ اس اقدام کے تحت مالی سال 26-2025 میں 9,380 کروڑ روپے اور مالی سال 27-2026 میں 25 اکتوبر تک 6,172 کروڑ روپے کے قرض تقسیم کیے گئے۔
کوآپریٹو شعبے میں جدت اور صنعت کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے این سی ڈی سی نے ’’سہکار نووچار یوجنا‘‘ شروع کی ہے۔ اس اسکیم کے تحت اہل کوآپریٹو سوسائٹیوں کو 25 لاکھ روپے تک کی 100 فیصد گرانٹ فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے لیے ابتدائی طور پر 10 کروڑ روپے کا فنڈ قائم کیا گیا ہے، جس میں سے 20 فیصد رقم شمال مشرقی خطے، پہاڑی علاقوں اور محروم طبقات کی کوآپریٹو سوسائٹیوں کے لیے مختص کی گئی ہے۔ اب تک پانچ کوآپریٹو سوسائٹیوں کے لیے مجموعی طور پر 85 لاکھ روپے کی گرانٹ منظور کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ کوآپریٹو سوسائٹیوں کو کاروباری ترقی، ڈیجیٹل حساب کتاب، مالیاتی انتظام، برانڈ سازی اور بازار روابط قائم کرنے کے سلسلے میں رہنمائی اور تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔
این سی ڈی سی زراعت اور دیہی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے کسانوں کی پیداواری تنظیموں (ایف پی اوز) کے قیام اور فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ کارپوریشن نے کوآپریٹو شعبے میں 1,863 ایف پی اوز رجسٹر کیے ہیں، جن میں سے 1,117 ایف پی اوز بنیادی زرعی قرض سوسائٹیوں (پیکس) کے ذریعے قائم کیے گئے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت اکتوبر 2026 تک ایف پی اوز اور متعلقہ اداروں کو 356.90 کروڑ روپے تقسیم کیے جا چکے تھے۔ اس کے علاوہ ماہی گیری سے وابستہ کوآپریٹو سوسائٹیوں، خواتین کی کوآپریٹو سوسائٹیوں، ڈیری، مویشی پروری، غذائی اجناس کی پروسیسنگ اور دیہی ذرائع معاش سے متعلق دیگر سرگرمیوں کے لیے مالی اور ادارہ جاتی امداد فراہم کرنے کے مختلف اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
کوآپریٹو اداروں میں انسانی وسائل کی ترقی اور صلاحیت سازی کے لیے این سی ڈی سی کی لکشمن راؤ انامدار قومی اکیڈمی برائے کوآپریٹو تحقیق و ترقی (لیناک) اور اس کے علاقائی تربیتی مراکز کے ذریعے بڑے پیمانے پر تربیتی پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔ مالی سال 2025-26 کے دوران 227 تربیتی پروگراموں میں 21,688 شرکا نے حصہ لیا۔ کوآپریٹو اداروں میں جدید انتظامی طریقوں، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مالیاتی نظم و ضبط، برانڈ سازی اور پیشہ ورانہ کارکردگی کو مضبوط بنانے کے لیے این سی ڈی سی اور ارما (ٹی ایس یو) کے درمیان معاہدہ ایک قابلِ ستائش قدم ہے۔
جنرل کونسل کی میٹنگ میں مالی سال 2025-26 کے آڈٹ شدہ سالانہ حسابات، سالانہ رپورٹ اور مالی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ آنے والے برسوں کے مالیاتی پروگراموں، وسائل جمع کرنے کے امکانات اور کوآپریٹو شعبے کی بڑھتی ہوئی مالی ضروریات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ میٹنگ کے ایجنڈے میں شامل مالی تجاویز اور امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ کی جانب سے اپنے خطاب میں پیش کردہ مالی امداد کی تقسیم کے بلند اہداف کے تناظر میں کارپوریشن کی طویل مدتی حکمت عملی پر خصوصی زور دیا گیا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے این سی ڈی سی کی مالی کارکردگی، خالص غیر فعال اثاثوں کو صفر پر برقرار رکھنے اور ادارہ جاتی توسیع کے لیے کارپوریشن کے افسران، جنرل کونسل کے اراکین اور ملازمین کو مبارک باد دی۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ این سی ڈی سی اپنے دائرۂ کار، مالی صلاحیت اور پیشہ ورانہ طرزِ کار کو مسلسل وسعت دیتے ہوئے وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے ’’سہکار سے سمردھی‘‘ کے تصور کو حقیقت میں بدلنے اور تعاون کو دیہی خوش حالی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، معاشی خود کفالت اور ملک کی شمولیاتی ترقی کا ایک مؤثر ذریعہ بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
***
ش ح۔ک ح۔خ م
U. No. 6914