پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 OCT 2026 3:14PM by PIB Delhi
اے آر آئی ایس ای سٹیز فورم 2026 کا اختتام 28 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی میں عالمی ماحولیاتی اہداف کے حصول کے لیے مقامی اقدامات سے متعلق دہلی اعلامیہ کو اپنانے کے ساتھ ہوا۔ فورم کا دوسرا ایڈیشن 27 اور 28 اکتوبر 2026 کو انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر میں منعقد ہوا۔ اس کا اہتمام آئی سی ایل ای آئی ساؤتھ ایشیا نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اربن افیئرز(این آئی یو اے) کے اشتراک سے، حکومت ہند کی ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت کے تعاون سے کیا۔
اس فورم میں 18 سے زائد ممالک کے 50 سے زیادہ شہروں کے 200 سے زائد شرکاء نے شرکت کی، تاکہ عالمی جنوب کے شہری علاقوں کی آواز کو نمایاں طور پر سامنے لایا جا سکے۔ اس دوران ماحولیاتی اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے تعاون، پائیداری، لچک اور مساوات کی اہمیت پر زور دیا گیا، جس کا مقصد مقامی سطح پر شروع کیے گئے ایسے اقدامات کو فروغ دینا تھا جن کے نتائج قابلِ پیمائش ہوں۔ دو روزہ فورم میں تین تکنیکی مکمل اجلاس اور 14 تکنیکی سیشن منعقد ہوئے۔

’’بھارت سے انطالیہ تک -عہد کرنے ،عمل درآمد کرنے ، نتائج فراہم کرنے‘‘ کے موضوع کے تحت منعقدہ اس فورم میں عالمی جنوب کے شہروں اور مقامی حکومتوں نے متحدہ طور پر مطالبہ کیا کہ مختلف سطحوں پر باہمی تعاون کو مضبوط بنایا جائے اور عالمی ماحولیاتی حکمرانی میں انہیں ناگزیر شراکت داروں کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ دہلی اعلامیہ 2026 میں بیان کردہ اس اجتماعی عزم کو اب ترکیہ کے شہر انطالیہ میں منعقد ہونے والی کوپ 31 کانفرنس تک پہنچایا جائے گا۔
عزم سے عمل درآمد تک: اختتامی تقریب کی اہم جھلکیاں
فورم کا اختتام 28 اکتوبر 2026 کو ہوا۔ اختتامی تقریب سے جمہوریہ ترکیہ کے ہندوستان میں سفیر عزت مآب علی مرات ایرسوئے، دہلی کے معزز میئر پرویش واہی، جنوبی اور جنوب مغربی ایشیا کے لیے اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیا و بحرالکاہل (یونی اسکیپ) کے ذیلی علاقائی دفتر کی سربراہ میکیکو تاناکا، بھارتیہ جنتا پارٹی کے دہلی کے ریاستی انچارج اور ایشیاٹک سوسائٹی آف ممبئی کے صدر ڈاکٹر ونے پی ساہسربدھے، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اربن افیئرز کی ڈائریکٹر ڈاکٹر دیبولینا کنڈو اور آئی سی ایل ای آئی کے سکریٹری جنرل جینو وان بیگن نے خطاب کیا۔ کوپ 31کے کلائمیٹ چیمپئن اور زیرو ویسٹ فاؤنڈیشن کے صدر سامد آغیر باش نے بھی ورچوئل طور پر خصوصی خطاب کیا۔
ہندوستان میں جمہوریہ ترکیہ کے سفیر عزت مآب علی مرات ایرسوئے نے کہاکہ ’’جمہوریہ ترکیہ کی جانب سے، جب ہم انطالیہ میں کوپ 31کی میزبانی کی تیاری کر رہے ہیں، تو میں اے آر آئی ایس ای سٹیز فورم 2026 کے انعقاد کے لیے آئی سی ایل ای آئی ساؤتھ ایشیا،این آئی یو اے اور اقوام متحدہ کے انسانی آبادکاری پروگرام(یو این -ہیبی ٹیٹ )کی کوششوں کے لیے دلی ستائش کا اظہار کرتا ہوں۔ ’بھارت سے انطالیہ تک‘ کا سفر مسلسل عملی اقدامات کا سلسلہ ہونا چاہیے۔ ترکیہ کی میزبانی کی ترجیحات ماحولیاتی اقدامات کے حوالے سے ہندوستان کے نقطۂ نظر سے پوری طرح ہم آہنگ ہیں، جو ’وسودھیو کٹمبکم‘ یعنی ’پوری دنیا ایک کبنہ ہے ‘ کے لازوال فلسفے پر مبنی ہے۔‘‘
دہلی کے معزز میئر پرویش واہی نے کہاکہ’’آئی سی ایل ای آئی ‘‘ساؤتھ ایشیا نے عوامی نقل و حمل کو فروغ دینے، الیکٹرک بسوں کے بیڑے میں توسیع کرنے اور سفر کے آخری مرحلے تک رابطے کو بہتر بنانے میں دہلی کی مدد کی ہے۔ اس نے دہلی اور قومی راجدھانی خطے میں میونسپل کارپوریشنوں کے ساتھ مل کر شہری قیادت کو فروغ دینے، بیداری پیدا کرنے اور فضائی معیار کو بہتر بنانے کے لیے تجرباتی اقدامات نافذ کرنے میں تعاون کیا ہے۔ میں اس کام کے لیے آئی سی ایل ای آئی ساؤتھ ایشیا کی ستائش کرتا ہوں اور اس کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘
جنوبی اور جنوب مغربی ایشیا کے لیے یونی اسکیپ کے ذیلی علاقائی دفتر کی سربراہ میکیکو تاناکا نے کہاکہ ’’میں حالیہ علاقائی تبادلۂ خیال کے لیے اسکیپ کی ایک دستاویز میں پیش کیے گئے پیغامات کے ذریعے دہلی اعلامیہ کی حمایت کرنا چاہتی ہوں۔ اس دستاویز میں قومی سطح پر طے شدہ موسمیاتی اہداف (این ڈی سیز) کو شہروں کی سطح پر نافذ کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ شہروں کو قومی ماحولیاتی اقدامات کے مرکز میں لانا ضروری ہے۔ انہیں قومی وعدوں اور ان پر عمل درآمد کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنا چاہیے۔ قومی ماحولیاتی وعدے طے کرنے کے عمل میں میئرز کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ ماحولیاتی مالی وسائل شہروں تک پہنچنے چاہئیں اور شہروں کو ان کے استعمال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ماحولیاتی اقدامات کو مختلف شعبوں تک محدود الگ الگ سرگرمیوں کے طور پر نہیں ہونا چاہیے۔ قومی ماحولیاتی وعدوں کو مقامی ماحولیاتی عملی منصوبوں میں تبدیل ہونا چاہیے۔ جنوب-جنوب تعاون شہروں کو ماحولیاتی اقدامات تیز کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔‘‘
بھارتیہ جنتا پارٹی کے دہلی کے ریاستی انچارج اور ایشیاٹک سوسائٹی آف ممبئی کے صدر ڈاکٹر ونے پی ساہسربدھے نے کہاکہ ’’شہری انتظامیہ سے متعلق مباحثہ میں اب ’ڈارمیٹری سٹی‘یعنی ایسا شہر جہاں لوگ صرف کام کرنے یا رات گزارنے کے لیے آتے ہیں کا تصور غالب ہوتا جا رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں لوگ اس شہر سے وابستگی محسوس نہیں کرتے جہاں وہ کام کرتے ہیں، حالانکہ وہ ان کا جائے کار ہوتا ہے۔ اس لیے پائیدار شہری انتظام کے لیے احساسِ وابستگی ضروری ہے۔ شہر محض عمارتوں، محفوظ رہائشی علاقوں اور فلک بوس عمارتوں کے مجموعے نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شہر زندہ وجود کی مانند ہوتے ہیں۔ شہروں کو باہمی اشتراک اور ایک دوسرے کی دیکھ بھال کے متحرک مراکز بنانے کے لیے کسی نہ کسی نوعیت کا جذباتی تعلق ضروری ہے۔ اسی لیے میں قانون سازوں اور شہری منتظمین سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس پہلو پر توجہ دیں۔‘‘
کوپ 31 کے کلائمیٹ چیمپئن اور زیرو ویسٹ فاؤنڈیشن کے صدر سامد آغیر باش نے کہاکہ ’’مقامی رہنما جانتے ہیں کہ ان کی برادریوں کو کن چیزوں کی ضرورت ہے۔ انہیں اقدامات کرنے کے لیے مالی وسائل اور شراکت داری فراہم کی جانی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی اعلامیہ اس قدر اہم ہے۔ میں خاص طور پر دہلی اعلامیہ میں زیرو ویسٹ (صفر فضلہ) کے عزم کا خیرمقدم کرتا ہوں، کیونکہ ہمارے سیارے کا مستقبل ہمارے اپنے گھر سے شروع ہوتا ہے۔ تو آئیے، اس اعلامیے کو دیرپا شراکت داری اور عملی اقدامات میں تبدیل کریں۔‘‘

ڈاکٹر دیبولینا کنڈو، ڈائریکٹر، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اربن افیئرز، ہندوستان نے کہاکہ ’’اے آر آئی ایس ای دہلی اعلامیہ 2026: عالمی ماحولیاتی اہداف کے لیے مقامی اقدامات، فورم کے نتائج کو آگے بڑھاتے ہوئے ترکیہ کے شہر انطالیہ میں کوپ 31 تک پہنچانے کے لیے ایک مشترکہ سمت متعین کرتا ہے۔ مقامی سطح پر مربوط اقدامات، صاف ستھری توانائی کی جانب منصفانہ منتقلی، قابلِ رسائی مالی وسائل اور برادریوں کی بامعنی شمولیت پر اس کا زور ان ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے جنہوں نے ہمیں یکجا کیا ہے۔‘‘
جینو وان بیگن، سکریٹری جنرل، آئی سی ایل ای آئی لوکل گورنمنٹس فار سسٹین ایبلٹی نے کہاکہ ’’اے آر آئی ایس ای سٹیز فورم 2026 میں کثیر سطحی حکمرانی کے کردار اور پیرس معاہدے میں شامل ممالک میں حکومت کی تمام سطحوں کے درمیان ضروری تعاون کا جائزہ لیا گیاہے تاکہ قومی اور مقامی دونوں سطحوں پر معاہدے کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ ہم نے مختلف شعبوں میں ذیلی قومی منصوبہ بندی کے لیے مقرر کی جانے والی ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا، جن میں شہری علاقوں میں شدید گرمی، پانی کی قلت، بنیادی ڈھانچہ اور نقل و حرکت شامل ہیں۔ ہم نے سرمایہ کاری اور تیز رفتار عمل درآمد کی ضرورت پر بھی گفتگو کی۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے مقابلے میں لچکدار ترقی کے لیے شراکت داریوں کو تیز کرنے اور انہیں جامع بنانے کی ضرورت پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ اس کے علاوہ، اے آر آئی ایس ای سٹیز فورم 2026 کے دہلی اعلامیہ کو اپناتے ہوئے ہم نے شہری ماحولیاتی اقدامات کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ بھی کیا۔‘‘
اختتامی تقریب کے موقع پر آئی سی ایل ای آئی ساؤتھ ایشیا کے تیار کردہ دہلی بایو ڈائیورسٹی میپ (حیاتیاتی تنوع کا نقشہ)کا بھی اجرا کیا گیا۔ اے آر آئی ایس ای سٹیز فورم 2026 کا اختتام دہلی اعلامیہ کو اپنانے اور اسے باضابطہ طور پر جینو وان بیگن کے حوالے کرنے کے ساتھ ہوا۔ یہ فورم کے اجتماعی وعدوں اور شہری ترجیحات کو آگے بڑھاتے ہوئے انطالیہ میں کوپ 31 تک پہنچانے کی سمت ایک اہم سنگِ میل ہے۔
دہلی اعلامیہ 2026: عالمی جنوب کے شہری عزائم کو کوپ 31 تک پہنچانا
2025 کے اعلامیے کی بنیاد پر تیار کردہ عالمی ماحولیاتی اہداف کے لیے مقامی اقدامات سے متعلق دہلی اعلامیہ 2026، یکجہتی، شراکت داری اور پوری معیشت و معاشرے کو شامل کرنے کے نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے، جو کوپ 31 کے بعد بھی ماحولیاتی اقدامات کی بنیاد ہونا چاہیے۔ یہ تمام لوگوں کے لیے ماحولیاتی اعتبار سے محفوظ، منصفانہ اور پائیدار مستقبل کی مشترکہ تشکیل کے لیے گلوبل ساؤتھ کے شہروں کے عزم کا اظہار کرتا ہے۔
یہ اعلامیہ بین الاقوامی ماحولیاتی مذاکرات میں شہروں کو اہم شراکت داروں کے طور پر پیش کرتا ہے اور اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے ماحولیاتی تبدیلی (یو این ایف سی سی سی )کے عمل میں عالمی جنوب کے تجربات اور ترجیحات کو شامل کرتا ہے۔ یہ لوکل گورنمنٹ اینڈ میونسپل ایڈمنسٹریشن (ایل جی ایم اے )حلقے کی اس کوشش کی تائید کرتا ہے جس کا مقصد شہری ترقی اور ماحولیاتی اقدامات کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے اعلامیے میں دس مشترکہ وعدے پیش کیے گئے ہیں:
1. پری کوپ 31 سے کوپ 31 تک عالمی ماحولیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانا۔
2. ماحولیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کے اقدامات اور مختلف کنونشنوں کے درمیان ہم آہنگی کو تیز کرنا۔
3. تعاون اور اجتماعی اقدامات کے ذریعے وسائل کے گردشی استعمال کو فروغ دینا۔
4. توانائی کی منتقلی کے ایسے نتائج حاصل کرنا جو ذیلی قومی سطح پر عمل درآمد کو تسلیم کریں اور اسے تیز کریں، تاکہ درجۂ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیس کی راہ پر واپس لایا جا سکے۔
5. پُرعزم اور منصفانہ منتقلی کو ترجیح دینا۔
6. کثیر سطحی ماحولیاتی مالی اعانت کو ادارہ جاتی شکل دینا۔
7. آزاد سائنسی تحقیق اور ڈیٹا کے نظام کو برقرار رکھنا۔
8. کثیر سطحی اقدامات کے لیے ایک منظم مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دینا۔
9. ماحولیاتی اقدامات میں عالمی جنوب کی شہری قیادت کو فروغ دینا۔
10. ماحولیاتی اقدامات میں نوجوانوں اور برادریوں کی قیادت کو مضبوط بنانا۔
سال 2026 کو ایک اہم ’’ٹرپل کوپ‘‘ سال قرار دیے جانے کے پیش نظر، دہلی اعلامیہ 2026 کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہ ماحولیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع اور زمین سے متعلق ایجنڈوں پر مربوط اقدامات کی اپیل کرتا ہے اور اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ شہروں کو باہم مربوط چیلنجوں کا سامنا ہے۔
عالمی ماحولیاتی برادری کوپ 31 کی تیاری کر رہی ہے، ایسے میں اے آر آئی ایس ای سٹیز فورم 2026 میں منظور کیا گیا دہلی اعلامیہ اس پیغام کو تقویت دیتا ہے کہ عالمی ماحولیاتی اہداف اسی وقت حاصل کیے جا سکتے ہیں جب مقامی ترجیحات، وسائل اور عمل درآمد کی صلاحیتوں کو ماحولیاتی فیصلوں کے عمل میں یکجا کیا جائے۔
اے آر آئی ایس ای سٹیز فورم 2026 اور اس کے ایجنڈے کے بارے میں مزید معلومات کے لیے درج ذیل لنک کا استعمال کریں۔
https://arisecitiesforum.org/
***
) ش ح – م م ع -ت ا)
U.No.6902