پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 OCT 2026 3:33PM by PIB Delhi
ایک جامع، قابلِ رسائی اور عالمی معیار کا صحت کی دیکھ بھال کا نظام قائم کرنے کے لیے حکومتِ ہند کی مسلسل کوششوں اور غیر متزلزل عزم کے نتیجے میں آیوشمان وے وندنا نے آج کامیابی کے ساتھ دو سال مکمل کر لیے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے 29 اکتوبر 2024 کو اس تبدیلی لانے والے اقدام کا آغاز کیا تھا۔ اس کے تحت آیوشمان بھارت۔ پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) کے اہم فوائد سماجی و معاشی حیثیت سے قطع نظر، 70 سال اور اس سے زیادہ عمر کے ہر شہری تک پہنچائے جاتے ہیں۔
صحت و خاندانی بہبود کی وزارت کی سرپرستی میں قومی صحت اتھارٹی (این ایچ اے) کے ذریعے نافذ کیا جانے والا یہ اقدام ملک بھر میں تقریباً 4.5 کروڑ خاندانوں سے تعلق رکھنے والے 6 کروڑ بزرگ شہریوں تک صحت کی سہولتوں کی رسائی بڑھانے اور انہیں علاج کے اخراجات کے مالی بوجھ سے تحفظ فراہم کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
آیوشمان وے وندنا کے تحت 70 سال اور اس سے زیادہ عمر کے تمام بزرگ شہری ثانوی اور اعلیٰ درجے کے علاج کے لیے اسپتال میں داخلے کی صورت میں ہر خاندان کے لیے سالانہ 5 لاکھ روپے تک کی صحت بیمہ سہولت کے اہل ہیں۔
اے بی پی ایم-جے اے وائی کے تحت پہلے سے مستفید ہونے والے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے 70 سال اور اس سے زیادہ عمر کے بزرگ شہریوں کو سالانہ 5 لاکھ روپے تک کی اضافی بیمہ سہولت بھی دستیاب ہے، جو صرف ان کے لیے مختص ہے اور 70 سال سے کم عمر خاندان کے دیگر افراد کو حاصل بیمہ سہولت سے الگ ہے۔ اس انتظام کے ذریعے اہل بزرگ شہریوں کو علاج کے اخراجات کے لیے اضافی مالی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ خاندان کے دیگر افراد کے لیے پہلے سے دستیاب بیمہ سہولت بھی برقرار رہتی ہے۔

20 اکتوبر 2026 تک، اس اقدام کے تحت اسپتالوں میں داخلے کے 23.46 لاکھ منظور شدہ معاملات درج کیے گئے ہیں، جو اس اسکیم کے تحت 70 سال اور اس سے زیادہ عمر کے اہل بزرگ شہریوں کی جانب سے اسپتالوں کی خدمات سے استفادے کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان داخلوں کی مجموعی مالیت 5,668.80 کروڑ روپے ہے، جو اسکیم کے تحت منظور شدہ اسپتالوں میں علاج کی مجموعی لاگت کو ظاہر کرتی ہے۔
موتیا بند کا آپریشن سب سے زیادہ کرایا جانے والا علاج ہے۔ اس کے تحت 4.71 لاکھ مریضوں کا علاج کیا گیا ، جو تمام منظور شدہ علاج کا تقریباً 20.1 فیصد ہیں۔ ان آپریشنوں کی تعداد ظاہر کرتی ہے کہ یہ اقدام بزرگوں کے لیے آنکھوں کے علاج تک رسائی میں طویل عرصے سے موجود کمی کو دور کر رہا ہے۔
اس کے بعد دائمی ہیمو ڈائیلاسس کا نمبر آتا ہے، جس کے تحت تقریباً 2.90 لاکھ علاج کیے گئے۔ اس سے گردوں کے امراض میں مبتلا ایسے مستفیدین کو مسلسل مدد فراہم کی جا رہی ہے جنہیں باقاعدگی سے اسپتال میں علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔
منظور شدہ علاج کی مالیت کے لحاظ سے، جلد کے راستے غبارے کی مدد سے شریانِ قلب کو کھولنے کے طریقۂ علاج (پی ٹی سی اے) کا حصہ سب سے زیادہ، تقریباً 649 کروڑ روپے ہے۔ یہ اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ یہ اقدام مستفیدین کو دل کے خصوصی علاج کے بھاری اخراجات سے تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
علاج کی دیگر نمایاں اقسام میں گھٹنے کے پورے جوڑ کی تبدیلی، پھیپھڑوں کی دائمی رکاوٹی بیماری (سی او پی ڈی) کی شدت میں اچانک اضافے کا علاج، تیز بخار والی بیماریوں کا علاج، اور گردوں کی اچانک خرابی اور گردوں کی ناکامی کا علاج شامل ہیں۔ مجموعی طور پر، علاج کے ان طریقوں میں معمول کی جراحی کارروائیوں سے لے کر پیچیدہ اور تشویش ناک طبی حالتوں کے علاج تک، اسپتالوں میں فراہم کی جانے والی مختلف سطحوں کی نگہداشت شامل ہے۔
اس موقع پر قومی صحت اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو افسر ڈاکٹر سنیل کمار برنوال نے کہا، ’’آیوشمان وے وندنا اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ 70 سال اور اس سے زیادہ عمر کے بزرگ شہریوں کو وقار، تحفظ اور ذہنی اطمینان کے ساتھ صحت کی سہولتوں تک رسائی حاصل ہو۔ سماجی و معاشی حیثیت سے قطع نظر، 70 سال اور اس سے زیادہ عمر کے تمام اہل شہریوں تک اے بی پی ایم-جے اے وائی کی سہولت پہنچا کر یہ اقدام بزرگ شہریوں اور ان کے خاندانوں کو علاج کے اخراجات کے مالی بوجھ سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک زیادہ جامع نظامِ صحت کی تشکیل کی جانب اہم قدم ہے، جو بزرگ شہریوں کی ضروریات کو تسلیم کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مالی مشکلات ضروری اسپتال علاج کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔‘‘
سماجی و معاشی حیثیت سے قطع نظر، تمام اہل بزرگ شہریوں تک اے بی پی ایم-جے اے وائی کے فوائد پہنچا کر آیوشمان وے وندنا بڑھاپے میں جامع صحت خدمات اور مالی تحفظ فراہم کرنے کے حکومتِ ہند کے عزم کو مزید مستحکم کرتا ہے۔ اس اقدام کے تیسرے سال میں داخل ہونے کے ساتھ، سرکاری مالی اعانت سے فراہم کی جانے والی صحت سہولتوں کا دائرہ مزید وسیع کرنے اور بزرگ شہریوں اور ان کے خاندانوں پر اسپتال میں علاج کے اخراجات کا مالی بوجھ کم کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
***
ش ح۔ک ح۔خ م
U. No. 6903