لوک سبھا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

 جمہوریت میں اختلافِ رائے کے باوجود باہمی احترام ضروری ہے: لوک سبھا اسپیکر


سنت کبیر کی ہمدردی، مساوات اور سماجی ہم آہنگی کی تعلیمات چھ صدیوں بعد بھی متعلقہ ہیں: لوک سبھا اسپیکر

لوک سبھا اسپیکر نے تقریر میں خود احتسابی، ضبط اور اخلاقی طرز عمل پر زور دیا

لوگ عہدوں سے نہیں بلکہ اپنے اعمال اور معاشرے میں خدمات سے یاد رکھے جاتے ہیں: لوک سبھا اسپیکر

لوک سبھا اسپیکر نے سماجی برائیوں کو چیلنج کرنے اور ذات و مذہب کی رکاوٹیں توڑنے میں سنت کبیر کے کردار کو سراہا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 OCT 2026 7:33PM by PIB Delhi

لوک سبھا اسپیکر جناب اوم برلا نے آج کہا کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے اور نقطہ نظر کا مختلف ہونا فطری ہے، لیکن اختلافات کا اظہار ہمیشہ باہمی احترام اور وقار کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سنت کبیر کی تعلیمات اختلافِ رائے کے باوجود گفتگو میں ضبط، اخلاقی طرز عمل اور دوسروں کے احترام کی اہمیت اجاگر کرتی ہیں۔

اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میں کبیر دھام آشرم میں منعقد سنت کبیر مہوتسو اور کبیر اسمرتی بھون کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب برلا نے کہا کہ سنت کبیر کا ہمدردی، مساوات اور سماجی ہم آہنگی کا لازوال پیغام چھ صدیوں بعد بھی معاشرے کی رہنمائی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنت کبیر کی تعلیمات کو وسیع پیمانے پر عام کرنے سے حساسیت، باہمی سمجھ بوجھ اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔

سماجی اصلاحات میں سنت کبیر کی نمایاں خدمات کا ذکر کرتے ہوئے جناب برلا نے کہا کہ ایک ایسے دور میں جب معاشرہ ذات پات کے امتیاز، مذہبی اختلافات اور سماجی تعصبات میں منقسم تھا، سنت کبیر نے مروجہ قدامت پسند نظریات کو چیلنج کیا اور تقسیم کرنے والی رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے کام کیا۔ عام لوگوں کی زبان میں لکھے گئے اپنے سادہ لیکن گہرے دوہوں کے ذریعے انہوں نے سچائی، اخلاق، مساوات اور نیک طرز عمل کے عالمگیر پیغامات پہنچائے۔ انہوں نے کہا کہ ان تعلیمات کی آج بھی برقرار رہنے والی اہمیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان میں نسل در نسل مثبت سماجی تبدیلی کی تحریک دینے کی غیر معمولی قوت موجود ہے۔

خود احتسابی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے جناب برلا نے سنت کبیر کے معروف دوہے کا حوالہ دیا: ’’برا جو دیکھن میں چلا، برا نہ ملیا کوئی؛ جو دل کھوجا آپنا، مجھ سے برا نہ کوئی۔‘‘ ("बुरा जो देखन मैं चला, बुरा न मिलिया कोय; जो दिल खोजा आपना, मुझसे बुरा न कोय।")

انہوں نے کہا کہ دوسروں میں خامیاں تلاش کرنے کے بجائے ہر شخص کو اپنے طرز عمل اور اپنی کوتاہیوں پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی خود احتسابی دانش مندی اور انکساری کو فروغ دیتی ہے اور انسانوں کے ساتھ زیادہ ہمدردانہ رویہ اختیار کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

جناب برلا نے مزید کہا کہ کسی شخص کی حقیقی میراث کا تعین اس کے عہدے یا حیثیت سے نہیں بلکہ اس کے اعمال اور معاشرے کے لیے اس کی خدمات سے ہوتا ہے۔ سنت کبیر کی سادہ زندگی اور دیرپا اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے نیک اعمال، بے لوث خدمت اور دوسروں کی فلاح و بہبود کے عزم نے معاشرے پر دیرپا اثرات مرتب کیے۔

کبیر اسمرتی بھون کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے جناب برلا نے امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ سنت کبیر کے پیغام کو لوگوں تک پہنچائے گا اور آنے والی نسلوں کو ان کے نظریات اپنانے کی ترغیب دے گا۔ انہوں نے سنت کبیر کی روحانی بصیرت، عوام مرکوز نقطہ نظر اور منطقی اظہار کو معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر جناب برلا نے سنت اسنگ دیو جی مہاراج کو خراج عقیدت پیش کیا اور ملک و بیرون ملک سنت کبیر کی تعلیمات کی تشہیر اور سماجی خدمت کے لیے ان کی زندگی بھر کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سنتوں کی قربانی، نظم و ضبط اور بے لوث لگن سے عبارت زندگیاں معاشرے کو روحانی قوت اور تحریک فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے ان سنتوں اور پیروکاروں کی خدمات کو بھی تسلیم کیا جنہوں نے سنت کبیر کے پیغام کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دی ہیں۔

جناب برلا نے سبھی سے اپیل کی کہ وہ سنت کبیر کی تعلیمات سے تحریک حاصل کریں، گفتگو میں ضبط اختیار کریں، خود احتسابی کی عادت اپنائیں اور دوسروں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے کام کریں۔

اس موقع پر اترپردیش کے نائب وزیراعلیٰ جناب کیشو پرساد موریہ، سنت اسنگ دیو جی مہاراج، کئی عوامی نمائندے، سنت اور سنت کبیر کے بڑی تعداد میں پیروکار موجود تھے۔

********

 

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :6864  )


(ریلیز آئی ڈی: 2329755) وزیٹر کاؤنٹر : 15