ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت کی جانب سے آرمینیا کے شہر یریوان میں حیاتیاتی تنوع کے کنونشن کی 17ویں کانفرنس میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، حیاتیاتی تحفظ اور وسائل تک رسائی و فوائد کی منصفانہ تقسیم پر چار اہم مطبوعات کا اجرا


بھوپیندر یادو نے عالمی حیاتیاتی تنوع سے متعلق وعدوں کو مؤثر عملی اقدامات، پائیدار مالی وسائل اور بین الاقوامی تعاون میں تبدیل کرنے پر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 OCT 2026 4:01PM by PIB Delhi

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیرجناب بھوپیندر یادو نے آج آرمینیا کے شہر یریوان میں حیاتیاتی تنوع کے کنونشن (سی بی ڈی) کی فریقین کی 17ویں کانفرنس (سی او پی۔17) کے ایک ضمنی اجلاس میں اس ضرورت پر زور دیا کہ حیاتیاتی تنوع سے متعلق عالمی وعدوں کو مؤثر عملی اقدامات، پائیدار مالی وسائل اور تحفظ کے دیرپا نتائج میں تبدیل کیا جائے۔ اس اجلاس کا اہتمام حکومتِ ہند کی وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی نے بھارت کی قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی (این بی اے) اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے اشتراک سے کیا تھا۔ اس موقع پر سی بی ڈی کی 17ویں کانفرنس کے صدر اور جمہوریہ آرمینیا کے وزیرِ ماحولیات جناب ہامبرزوم ماتے ووسیان کے علاوہ سی بی ڈی کے سکریٹریٹ کے شعبۂ رسائی و فوائد کی منصفانہ تقسیم (اے بی ایس) کے سربراہ ڈاکٹر توکونڈجو شیکونگو بھی موجود تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261028160228_1ce9ec.jpg

’’پالیسی سے عملی اقدامات تک: اختراعات، مالی وسائل، وسائل تک رسائی و فوائد کی منصفانہ تقسیم اور دیگر مؤثر اقدامات کے ذریعے بھارت کے حیاتیاتی تنوع سے متعلق اعلانات پر عمل آوری‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ضمنی اجلاس میں کلیدی خطاب کرتے ہوئے جناب یادو نے عملی اقدامات کی صلاحیت کو فروغ دینے، مالی وسائل کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے اور اس بات پر زور دیا کہ حیاتیاتی تنوع کا تحفظ اور اس کا پائیدار استعمال انسانی فلاح و بہبود اور نسل در نسل مساوات میں معاون ثابت ہو۔ کنمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع کے فریم ورک کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ممالک کی ذمہ داری محض اہداف طے کرنے تک محدود نہیں، بلکہ ان پر عمل درآمد کے لیے ضروری صلاحیت پیدا کرنا اور وسائل متحرک کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔

جناب یادو نے اس بات کو اجاگر کیا کہ بھارت میں حیاتیاتی تنوع لوگوں کی زندگیوں، علم اور روزگار سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ماحولیاتی تحفظ اور ترقی کو ایک دوسرے کا معاون ہونا چاہیے۔ وزیر موصوف نے ماحولیات کے لیے طرزِ زندگی کے اصول کو بھی اجاگر کیا اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے پائیدار طرزِ انتخاب اورقدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اس تقریب کے دوران معززین نے چار مطبوعات بھی جاری کیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

  1.  بھارت کے دیگر مؤثر علاقائی تحفظی اقدامات (آئی۔ او ای سی ایمز) 2026 کے تعین کے لیے رہنما اصول: یہ رہنما اصول مناسب معیار اور انتظامی نظام کے تحت روایتی محفوظ علاقوں سے باہر بھی تحفظ کے نتائج کو تسلیم کرنے میں مدد فراہم کریں گے۔ ان میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ مختلف نوعیت کے قدرتی خطوں اور انتظامی نظاموں کے تحت بھی مؤثر تحفظ ممکن ہے۔
  2.  حیاتیاتی تحفظ سے متعلق کارتاجینا پروٹوکول پر پانچویں قومی رپورٹ: یہ رپورٹ شفاف رپورٹنگ اور حیاتیاتی تحفظ کے ذمہ دارانہ انتظام کے تئیں بھارت کی اہمیت اور عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
  3.  حیاتیاتی تنوع کے کنونشن سے متعلق کتابچہ: حوالہ جاتی رہنما اور بھارتی نقطۂ نظر: اس کتابچے کا مقصد ایک ایسے بین الاقوامی عمل کے بارے میں آسانی سے قابلِ رسائی حوالہ جاتی مواد فراہم کرنا ہے جو مسلسل پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے، تاکہ اس عمل میں باخبر شرکت اور عمل درآمد کے تسلسل کو مضبوط بنایا جا سکے۔
  4.  وسائل تک رسائی اور فوائد کی منصفانہ تقسیم کے شعبے میں بھارت کی کامیابی کی داستان: اس کتاب میں وسائل تک رسائی اور فوائد کی منصفانہ تقسیم کے شعبے میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ قائد کی حیثیت سے بھارت کے مقام کو اجاگر کیا گیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261028160322_9a5a14.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261028160334_38f5da.jpg

وزیر موصوف نے کہا کہ یہ مطبوعات ایک دوسرے سے مربوط ترجیحات کا احاطہ کرتی ہیں، جن میں تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کی نشاندہی، ادارہ جاتی فہم کو مستحکم کرنا اور عمل درآمد سے متعلق رپورٹنگ شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حیاتیاتی تنوع کے بلند حوصلہ اہداف کے حصول کے لیے مستند رہنمائی، قابلِ اعتماد معلومات اور عوام کے تئیں جواب دہی ضروری ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ پیش رفت کا اندازہ محض اعلانات، متحرک کیے گئے وسائل اور نشان زدہ علاقوں کی بنیاد پر نہیں، بلکہ عملی نفاذ، فراہم کیے گئے فوائد اور تحفظ کے دیرپا نتائج کی بنیاد پر لگایا جانا چاہیے۔

وسائل تک رسائی اور فوائد کی تقسیم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب یادو نے کہا کہ ناگویا پروٹوکول جینیاتی وسائل کے استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد کی منصفانہ اور مساوی تقسیم کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اس اصول کو قابلِ عمل، شفاف اور منصفانہ طریقۂ کار میں ڈھالنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ پالیسی اصلاحات کے ساتھ ساتھ باصلاحیت اداروں، ڈیجیٹل جدت طرازی اور مقامی برادریوں نیز ذمہ دار کاروباری اداروں کی شمولیت بھی ضروری ہے۔

جناب یادو نے زور دے کر کہا کہ کوئی بھی ملک تنہا عالمی حیاتیاتی تنوع کے لائحۂ عمل کے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے ایسی بین الاقوامی تعاون کا خیرمقدم کیا جو قومی ترجیحات کا احترام کرے، عملی معلومات کے تبادلے کو فروغ دے اور مناسب مالی وسائل و ٹیکنالوجی تک رسائی کو وسعت دے۔ وزیر موصوف نے تعمیری مذاکرات، بشمول جنوب-جنوب تعاون کے ذریعے باہمی سیکھنے، اور ایسے طریقوں کے تئیں بھارت کے عزم کا اعادہ کیا جو ممالک کو کامیاب تصورات کو اپنے اپنے حالات کے مطابق ڈھالنے کے قابل بنائیں۔ انہوں نے کنمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع کے لائحۂ عمل پر عمل درآمد کو آگے بڑھانے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے مشترکہ اہداف کو دیرپا نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے تمام فریقوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے بھارت کے عزم کا اظہار کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261028160349_c66461.jpg

تقریب کے دوران آرمینیا کے وزیر ماحولیات جناب ہمبردزوم ماتیووسیان اور حیاتیاتی تنوع کے کنونشن کے سیکریٹریٹ (ایس سی بی ڈی) کے وسائل تک رسائی اور فوائد کی تقسیم کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر تاؤکونڈجو شیکونگو نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور وسائل تک رسائی و فوائد کی تقسیم کو عملی جامہ پہنانے کے ضمن میں بھارت کی کوششوں کو سراہا۔ ان کے اظہارِ خیال سے عالمی سطح پر حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے وعدوں کو مؤثر طور پر عملی جامہ پہنانے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور مسلسل شراکت داری کی اہمیت اجاگر ہوئی۔

*****

ش ح ۔ ع و ۔ م ا

UR No-6839


(ریلیز آئی ڈی: 2329629) وزیٹر کاؤنٹر : 14
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil