بندرگاہوں، جہازرانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 ہندوستان نے بوسان میں بحری شعبہ میں اپنی شراکت داریوں کو وسعت  اورجہاز سازی کی سپلائی چین سے لے کر جہازوں کی ری سائیکلنگ تک تعاون پر توجہ دی


سربانند سونووال کی مرینہ  ہیڈی مانولیس کے ساتھ دوطرفہ ملاقات، قبرص نے جہازوں کی ری سائیکلنگ کے لیےیوروپی یونین کی جانب سے  ہندوستان کو تسلیم کیے جانے کی حمایت کی

سبز جہاز رانی کو فروغ دینے کے لیے  ہندوستان میں ایل این جی/ایل پی جی کارگو ٹینکوں اور کرایوجینک ڈھانچوں کی تیاری کے سلسلہ میں کوریائی مہارت سے فائدہ اٹھانے پر سونووال کی قیادت میں مذاکرات

سربانند سونووال نے کہا کہ  ہندوستان کے بحری شعبہ میں جاری تبدیلیاں سرمایہ کاری، اختراع اور بھارت-جنوبی کوریا کے دیرپا تعاون کے فروغ کے لیے بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہیں

کوریائی بحری کمپنیوں نے  ہندوستان کے بڑھتے ہوئے جہاز سازی، بندرگاہی بنیادی ڈھانچے اور جہاز رانی کے شعبوں میں دلچسپی ظاہر کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 OCT 2026 8:23PM by PIB Delhi

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں جنوبی کوریا کے بحری اداروں، جہاز ساز کمپنیوں اور جہاز رانی کی کمپنیوں کے نمائندوں کے علاوہ قبرص کی نائب وزیر برائے جہاز رانی کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کیں۔ یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئیں جب  ہندوستان اپنی جہاز سازی کی حکمت عملی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سپلائی چین، مالی وسائل، ٹیکنالوجی اور منڈیوں سے متعلق بنیادی نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

 

ان مذاکرات میں جہاز سازی میں سرمایہ کاری، بحری آلات کی تیاری، بحری شعبے کے لیے مالی معاونت، بندرگاہوں کی ترقی، جہاز رانی، ماحول دوست ٹیکنالوجی اور جہازوں کی پائیدار ری وسائیکلنگ جیسے موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ حکومت کا مقصد 2047 تک  ہندوستان کو جہاز سازی، جہاز رانی اور بحری خدمات کا عالمی سطح پر مسابقتی مرکز بنانا ہے۔

جناب سربانند سونووال نے کہا- ‘‘وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں  ہندوستانی حکومت کے ویژن اور پالیسی اقدامات کی بدولت  ہندوستان میں جہاز سازی کا شعبہ تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔’’

دن کی اہم پیش رفت

  1. جہازوں کی ری سائیکلنگ: قبرص نے یوروپی یونین(ای یو) کی جانب سے اہل  ہندوستانی جہاز ری سائیکلنگ مراکز کو تسلیم کیے جانے کی  ہندوستان کی کوششوں کی حمایت کی۔
  2. سبز جہاز رانی: کوریائی مینوفیکچررز اور  ہندوستانی شپ یارڈز نے ایل پی جی اور ایل این جی کارگو ٹینکوں، کرایوجینک ڈھانچوں اور جہازوں کے بڑے ساختی حصوں کی تیاری میں شراکت داری کے امکانات تلاش کیے۔
  3. مالی معاونت: جناب سونووال نے کوریائی بحری شعبہ کے مالیاتی اداروں کے سامنے میری ٹائم ڈیولپمنٹ فنڈ(ایم ڈی ایف) اور ساگرمالا فنانس کارپوریشن (ایس ایم ایف سی) کے ذریعے دستیاب مواقع پیش کیے۔
  4. جہازوں کا بیڑا اور منڈیاں: جنوبی کوریا کی ایک معروف جہاز رانی کمپنی نے  ہندوستانی پرچم کے تحت جہاز چلانے،  ہندوستان میں تیار کردہ کنٹینرز اور زیر تعمیر وادھوان بندرگاہ میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی۔ اس سلسلہ میں ممکنہ تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

 ہندوستان اور قبرص کے درمیان بحری تعاون

قبرص کی نائب وزیر برائے جہاز رانی محترمہ مرینہ  ہیڈی مانولیس کے ساتھ دوطرفہ ملاقات میں انہوں نے اہل  ہندوستانی جہاز ری سائیکلنگ مراکز کو یوروپی یونین سے منظوری دلانے کی  ہندوستان کی کوشش کے لیے اپنے ملک کی حمایت کا اعادہ کیا۔

دونوں وزراء نے جہاز رانی، جہاز سازی، بحری شعبہ میں سرمایہ کاری، سمندری عملے کی فلاح و بہبود اور بحری خدمات سے متعلق امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ محترمہ  ہیڈی مانولیس نے بتایا کہ قبرص کی تقریباً 25 معروف کمپنیوں کے نومبر میں  ہندوستان  کا دورہ کرنے کی توقع ہے، جہاں وہ جہاز رانی، جہازوں کے انتظام، بحری ٹیکنالوجی اور متعلقہ شعبوں میں شراکت داری کے امکانات تلاش کریں گی۔

دونوں فریقوں نے  ہندوستان اور قبرص کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اسے ٹھوس تجارتی نتائج میں تبدیل کیا جائے۔

جناب سربانند سونووال نے کہا-‘‘میں اس اسٹریٹجک شراکت داری کو ٹھوس اور باہمی طور پر فائدہ مند بحری تعاون کے نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے آپ کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں۔’’

جنوبی کوریا کے ساتھ جہاز سازی میں تعاون

سیجن ہیوی انڈسٹریز(ایس ایچ آئی) کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جناب کم جن جونگ کے ساتھ ملاقات میں جہاز سازی کے بڑے ساختی حصوں، ایل پی جی اور ایل این جی کارگو ٹینکوں، کرایوجینک ڈھانچوں اور دیگر خصوصی بحری آلات کی تیاری میں ممکنہ شراکت داری پر توجہ مرکوز کی گئی۔

کرایوجینک ڈھانچے ایسے مخصوص نظام ہوتے ہیں جو گیسوں کو انتہائی کم درجۂ حرارت پر مائع حالت میں برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

 ہندوستانی وفد نے جہاز سازی کے نئے صنعتی مراکز کے قیام اور موجودہ شپ یارڈز کی توسیع سے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کیا۔ کوچین شپ یارڈ لمیٹڈ (سی ایس ایل) نے بھی سیجن ہیوی انڈسٹریز کے ساتھ جہازوں کے ساختی حصوں کی تیاری کے امکانات پر غور کیا۔ سیجن نے اس امکان کا جائزہ لینے کے لیے آمادگی ظاہر کی۔  ہندوستان میں ٹینکوں اور کرایوجینک ٹیکنالوجی کی تیاری کی صلاحیت پیدا کرنے سے ملک کے جہاز سازی کے شعبے کو مزید وسعت اور مضبوطی ملے گی۔

جناب سربانند سونووال نے کہا:‘‘ ہندوستان کا بڑھتا ہوا بحری نظام کوریائی مہارت اور  ہندوستانی مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کو یکجا کرنے کے لیے بے پناہ مواقع فراہم کرتا ہے۔ جدید اور ماحول دوست جہازوں کے بیڑے کے لیے کرایوجینک ٹینکوں سے لے کر جہازوں کے ساختی حصوں تک خصوصی صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے ویژن کے تحت ہم دنیا کے بہترین شراکت داروں کے ساتھ مل کر یہ صلاحیتیں ملک کے اندر ہی فروغ دے رہے ہیں، جس سے  ہندوستان میں سبز جہاز رانی کو مزید تقویت ملے گی۔’’

مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے کوریا میرین ایکوئپمنٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(کے او ایم ای آر آئی) کے صدر جناب یانگ وون چانگ کے ساتھ ملاقات کے دوران بحری آلات کی تیاری، تحقیق و ترقی، جانچ، سرٹیفکیشن، ماحول دوست نظام محرک اور اسمارٹ بحری ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون پر تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں فریقوں نے کے او ایم ای آر آئی اور مجوزہ انڈیا شپ ٹیکنالوجی سینٹر۰آئی ایس ٹی سی) کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کے امکانات کے ساتھ ساتھ کوریائی بحری آلات تیار کرنے والی کمپنیوں اور  ہندوستانی اداروں کے درمیان شراکت داری کے مواقع کا بھی جائزہ لیا۔ جناب سونووال نے کے او ایم ای آر آئی اور دلچسپی رکھنے والی کوریائی کمپنیوں کو ہندوستان کا دورہ کرنے اور تکنیکی و صنعتی تعاون کے ٹھوس امکانات تلاش کرنے کی دعوت دی۔

جناب سربانند سونووال نے کہا- ‘‘ہم جہازوں کے ڈیزائن، تحقیق، جانچ اور تربیت کے لیے ایک قومی پلیٹ فارم کے طور پر انڈیا شپ ٹیکنالوجی سینٹر قائم کر رہے ہیں۔ کوریائی تکنیکی مہارت کے تعاون سے ملک کے اندر ہی جانچ اور سرٹیفکیشن کی سہولت فراہم کرنے سے  ہندوستان میں تیار ہونے والے بحری آلات کو بین الاقوامی معیارات پر پورا اترنے میں مدد ملے گی اور ہمارے شپ یارڈز ماحول دوست نظام محرک اور اسمارٹ جہازوں کی ٹیکنالوجیز اپنانے کے لیے تیار ہو سکیں گے’’۔

مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال کی قیادت میں ہندوستانی وفد نے ایچ ایم ایم(ایچ ایم ایم) کی سینئر ایگزیکٹیو نائب صدر جناب جے وائی لی کی قیادت میں وفد کے ساتھ بھی مفید بات چیت کی۔ اس دوران ایچ ایم ایم کے جہازوں کو  ہندوستانی پرچم کے تحت رجسٹر کرانے،  ہندوستانی سمندری عملے کی بھرتی، ہانگ کانگ کنونشن(ایچ کے سی) کے مطابق  ہندوستانی جہاز ری سائیکلنگ سہولیات کے استعمال اور ان  ہندوستانی بندرگاہوں تک جہاز رانی کی خدمات کو وسعت دینے پر تبادلۂ خیال کیا گیا، جو فی الحال ایچ ایم ایم کے نیٹ ورک میں شامل نہیں ہیں۔

کوریا اوشین بزنس کارپوریشن(کے او بی سی) کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جناب آہن بیونگ گل کے ساتھ ملاقات میں  ہندوستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے بحری شعبے، بالخصوص بندرگاہی بنیادی ڈھانچے اور جہاز رانی میں سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع کا جائزہ لیا گیا۔

جناب سونووال نے کوریائی بحری مالیاتی اداروں اور  ہندوستانی متعلقہ فریقوں کے درمیان مزید تعاون کی دعوت دی۔  ہندوستان نے جہاز سازی کے شعبے کی معاونت کے لیے تقریباً 7.8 ارب امریکی ڈالر کے پیکیج کی منظوری دی ہے۔ اس کے علاوہ بڑے جہاز سازی کے صنعتی مراکز تیار کیے جا رہے ہیں، جبکہ 400 سے زائد جہازوں کی تیاری کے منصوبوں پر مشتمل ایک بڑا پروجیکٹ موجود ہے، جن کی تخمینی مالیت 23 ارب امریکی ڈالر ہے۔

ان ملاقاتوں سے عالمی بحری شعبے کے اہم اداروں کے ساتھ تعاون کے نئے راستے کھلے ہیں، جو 2047 تک  ہندوستان کو جہاز سازی، جہاز رانی اور بحری خدمات کا عالمی مرکز بنانے کے ہدف کی تکمیل میں معاون ثابت ہوں گے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261027202552_dca526.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261027202604_ca9871.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261027202614_576bb5.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261027202624_c85443.jpg

****

ش ح-ظ الف- ع ن

UR No. 6814


(ریلیز آئی ڈی: 2329402) وزیٹر کاؤنٹر : 9