پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 OCT 2026 12:11PM by PIB Delhi
قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی)، بھارت نے نو مرکزی وزارتوں، تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سکریٹریوں/منتظمین اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرلوں کو ’خواتین قیدیوں اور ان کے بچوں کے انسانی حقوق کے تحفظ‘ سے متعلق ایڈوائزری جاری کی ہے۔
قومی انسانی حقوق کمیشن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قیدیوں، بالخصوص خواتین قیدیوں اور ان کے بچوں کے حقوق اور ضروریات پر خصوصی توجہ دینے کے ساتھ ان کے تئیں حساسیت پر مبنی صنفی نقطۂ نظر اپنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ قیدیوں میں زیادہ کمزور طبقہ ہیں۔ کمیشن نے حراست کے دوران تحفظ کے اقدامات کے علاوہ جیلوں میں انسانی وقار کے مطابق حالات، ماؤں اور بچوں کے لیے مناسب صحت کی سہولتیں، انصاف تک رسائی، خاندانی رشتوں کا تحفظ، بچوں کے بہترین مفادات کا خیال رکھنے، بحالی اور سماج میں دوبارہ انضمام کے لیے بامعنی مواقع فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔
ایڈوائزری میں کارروائی کے لیے دس وسیع شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ ان میں جیل میں داخلے سے قبل کے اقدامات، گرفتاری اور جیل کے نظام میں داخلہ، داخلے سے متعلق ریکارڈ، بچوں کا کوائف نامہ اور دستاویزات، صحت، طبی نگہداشت اور ذہنی صحت کی خدمات، خواتین قیدیوں کے لیے رہائشی حالات، صفائی ستھرائی، فلاح و بہبود اور حساسیت پیدا کرنے کے اقدامات، قیدیوں کے ساتھ رہنے والے یا ان سے الگ کیے گئے بچوں کی دیکھ بھال، رابطے، ملاقات اور اہل خانہ سے تعلقات، جیل انتظامیہ، قانونی امداد اور انصاف تک رسائی، خواتین قیدیوں کو عدالت میں پیش کرنے کے دوران صنفی حساسیت کے تقاضوں کے مطابق سہولتوں اور فلاحی اقدامات کی فراہمی، بحالی، رہائی کے بعد سماج میں دوبارہ انضمام اور غیر ملکی قیدی شامل ہیں۔ تفصیلی ایڈوائزری اس لنک پر دیکھی جا سکتی ہے: https://nhrc.nic.in/flipbook/other_advisories/46
قومی انسانی حقوق کمیشن نے تمام متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ایڈوائزری میں دی گئی سفارشات پر عمل درآمد کریں اور اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت سے کمیشن کو آگاہ رکھنے کے لیے دو ماہ کے اندر کارروائی کی رپورٹ پیش کریں۔
*****
(ش ح ۔رک)
U. No.6818