صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

صدرِ جمہوریہ ہند نے لیختن اشتاین کے موروثی شہزادے عالی جاہ الویس اور شہزادی صوفی کی میزبانی کی


لیختن اشتاین کی جدید مینوفیکچرنگ، اختراع اور مالیاتی خدمات کے شعبوں میں مہارت کو بھارت کی ہنرمند افرادی قوت، مینوفیکچرنگ کی صلاحیت اور تیزی سے ترقی کرتی منڈی کے ساتھ ملا کر ہم باہمی طور پر مفید شراکت داری قائم کر سکتے ہیں: صدر دروپدی مرمو

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 OCT 2026 9:57PM by PIB Delhi

صدرِ جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے آج (27 اکتوبر 2026) راشٹرپتی بھون میں لیختن اشتاین کے موروثی شہزادے عالی جاہ الویس اور موروثی شہزادی عالیہ صوفی کا استقبال کیا۔ انہوں نے ان کے اعزاز میں ضیافت کا بھی اہتمام کیا۔

موروثی شہزادے عالی جاہ الویس اور ان کے وفد کا بھارت میں خیرمقدم کرتے ہوئے صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ شہزادے کا بھارت کے ساتھ مسلسل رابطہ اور باقاعدہ تبادلے بھارت اور لیختن اشتاین کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تئیں ان کے دیرینہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

صدرِ جمہوریہ نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ بھارت اور لیختن اشتاین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، سائنس و ٹیکنالوجی، اختراع، ثقافت اور عوام کے درمیان روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر یقینی جغرافیائی سیاسی اور جغرافیائی اقتصادی صورتِ حال میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔

صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ بھارت اور یورپی آزاد تجارتی ایسوسی ایشن (ای ایف ٹی اے) کے درمیان 2024 میں طے پانے والے تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدے نے تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ آئندہ 15 برسوں کے دوران بھارت میں 100 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کو ممکن بنانے اور 10 لاکھ براہِ راست روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا عزم، مشترکہ ترجیحی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔

صدرِ جمہوریہ نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ لیختن اشتاین کی مختلف کمپنیاں جدید مینوفیکچرنگ، مالیاتی ٹیکنالوجی (فن ٹیک)، زرعی تحقیق، پائیدار بنیادی ڈھانچے، صحت کی دیکھ بھال اور مادی علوم جیسے شعبوں میں بھارت کے ساتھ تعاون کو وسعت دینے میں گہری دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہنرمندی کے فروغ اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں بھی نمایاں امکانات موجود ہیں، خصوصاً صنعتوں اور تعلیمی اداروں کے درمیان شراکت داریوں کو فروغ دے کر۔

انہوں نے کہا کہ لیختن اشتاین کی جدید مینوفیکچرنگ، اختراع اور مالیاتی خدمات کے شعبوں میں مہارت کو بھارت کی ہنرمند افرادی قوت، مینوفیکچرنگ کی صلاحیت اور تیزی سے ترقی کرتی منڈی کے ساتھ ملا کر ہم باہمی طور پر مفید شراکت داری قائم کر سکتے ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ بھارت اور لیختن اشتاین کے درمیان قریبی تعاون سے دونوں ممالک کے عوام کو بے پناہ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

صدرِ جمہوریہ کی تقریر دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں-

*****

 (ش ح ۔رک)

U. No.6801


(ریلیز آئی ڈی: 2329308) وزیٹر کاؤنٹر : 7