پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 OCT 2026 4:32PM by PIB Delhi
قبائلی امور کی وزارت یکم سے 15 نومبر 2026 تک ملک بھر میں ’’جن جاتیہ گورو پکھواڑا‘‘ منائے گی، جس کا اختتام 15 نومبر کو دھرتی آبا بھگوان برسا منڈا کے یومِ پیدائش کے موقع پر ’’جن جاتیہ گورو دیوس‘‘ کی تقریبات کے ساتھ ہوگا۔ یہ پندرہ روزہ مہم محض ایک یادگاری تقریب نہیں، بلکہ وزارت کے اہم پروگراموں کو تیز رفتاری سے نافذ کرنے، ان کے فوائد قبائلی خاندانوں تک آخری سرے پر پہنچانے اور قبائلی برادریوں، طلبہ اور شہریوں میں سرکاری اسکیموں اور ان کے تحت حاصل ہونے والے حقوق کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ایک مرکوز اور مقررہ مدت کی مہم ہے۔
حکومتِ ہند نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں 2021 میں دھرتی آبا بھگوان برسا منڈا کے یومِ پیدائش کی یاد میں 15 نومبر کو ’’جن جاتیہ گورو دیوس‘‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ دن بھارت کی جدوجہدِ آزادی میں قبائلی ہیروز کی خدمات اور ملک کی ثقافتی، روحانی اور سماجی زندگی میں قبائلی برادریوں کے دیرینہ مقام کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ اس کے بعد سے جن جاتیہ گورو دیوس ایک ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے، جو بھارت کے قبائلی عوام کی ثابت قدمی اور ثقافتی تنوع کا جشن مناتی ہے۔ اس نے پی ایم-جن من اور دھرتی آبا جن جاتیہ گرام اُتکرش ابھیان جیسے تبدیلی لانے والے پروگراموں کو بھی رفتار دی ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران جن جاتیہ گورو دیوس کی تقریبات 2021 میں رانچی، 2022 اور 2023 میں کھونٹی، 2024 میں جموئی اور 2025 میں ڈیدیاآپاڑا میں منعقد کی گئیں۔
بھگوان برسا منڈا کا 150واں یومِ پیدائش 25-2024 میں ’’جن جاتیہ گورو ورش‘‘ کے طور پر منایا گیا۔ اس دوران قومی سطح پر 28 سے زیادہ تقریبات اور 2 لاکھ سے زائد سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا، جن میں 3.8 کروڑ سے زیادہ افراد نے شرکت کی۔ قبائلی برادریوں کے لیے جن جاتیہ گورو دیوس جدوجہدِ آزادی میں ان کے کردار، ان کے علم و ہنر، فنون اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی پر مبنی طرزِ زندگی کے اعتراف کی علامت ہے۔
رواں سال (2026) جن جاتیہ گورو دیوس کی تقریبات کے سلسلے میں وزارت نے پندرہ روزہ مہم کے دوران قومی سطح پر متعدد تقریبات کا منصوبہ بنایا ہے۔ ان کی فہرست درج ذیل ہے:
- 12 نومبر کو ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں کے تقریباً 200 طلبہ راشٹرپتی بھون میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات اور تبادلۂ خیال کریں گے۔
- 2۔ قومی قبائلی ادبی میلے کا انعقاد 12 اور 13 نومبر کو نئی دہلی کے انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر میں کیا جائے گا، جس میں ملک بھر کے قبائلی ادیب شرکت کریں گے۔
- آئی آئی ٹی دہلی میں ’’آدی وانی کو قبائلی زندہ ورثے اور قومی قبائلی زبانوں کے ذخیرے کے طور پر مستحکم کرنا‘‘ کے موضوع پر ایک قومی ورکشاپ منعقد کی جائے گی۔
- 14 نومبر کو منعقد ہونے والی رانی درگاوتی آدیواسی خواتین کانفرنس میں 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے تعلق رکھنے والی 500 قبائلی خواتین کاروباری شخصیات شرکت کریں گی۔ اس کا مقصد بازار تک رسائی کے روابط کو مضبوط بنانا اور خواتین کی قیادت میں چلنے والے کاروباری اداروں کو فروغ دینا ہے۔
- ’’سواستھیہ-پوشن سیوا سنگم‘‘ کے تحت 15 اکتوبر سے 15 نومبر تک پی ایم-جن من کے کثیرجہتی مراکز میں خاص طور پر کمزور قبائلی گروہوں کے لیے صحت، غذائیت اور سرکاری اسکیموں سے متعلق کیمپ منعقد کیے جا رہے ہیں۔
- روایتی معالجین کی صلاحیت سازی کے لیے ایک کانکلیو کے تحت یکم اور 2 نومبر کو حیدرآباد میں 9 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 1,500 روایتی معالجین کو تربیت دی جا رہی ہے۔ یہ پروگرام ایک لاکھ معالجین کو تربیت دینے اور سند فراہم کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔
- دھرتی آبا جن بھاگیداری ابھیان کے تحت ’’آدی سیوا سمیہ‘‘ اور ’’آدی سیوا دن‘‘ کے ذریعے قبائلی دیہات میں عوامی شرکت کو فروغ دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، ریاستی انتظامی تربیتی اداروں کے ذریعے 76,963 دیہات میں تقریباً 1.54 لاکھ آدی کرم یوگی رضاکاروں کو تربیت دی جا رہی ہے۔
- 73 اضلاع میں وظائف تک رسائی کے لیے خصوصی کیمپ طلبہ کو درخواستیں جمع کرانے اور آدھار کو متعلقہ کھاتوں اور ریکارڈ سے منسلک کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
- اڈیشہ کے کوراپٹ میں سائنسی و صنعتی تحقیق کی کونسل کے قومی نباتاتی تحقیقی ادارے (سی ایس آئی آر-این بی آر آئی) کے اشتراک سے 200 سے 300 اقسام کے دواؤں میں استعمال ہونے والے پودوں کے تحفظ کا پروگرام شروع کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ، جن جاتیہ گورو دیوس کے موقع پر مختلف ریاستوں میں قبائلی برادریوں کے لیے 300 سے زائد منصوبے شروع کیے جائیں گے، جن میں سے 228 منصوبوں کا افتتاح اور 74 منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا جائے گا۔ ان میں اروناچل پردیش کے اٹانگر میں قبائلی تحقیقی ادارے کی نئی عمارت اور میزورم کے کیلسیہ میں روپویلیانی قبائلی مجاہدِ آزادی میوزیم شامل ہیں۔
اس موقع پر دو قومی ڈیجیٹل اقدامات کا بھی آغاز کیا جائے گا۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے اشتراک سے تیار کردہ ’’جن ہِت (جن جاتیہ ہیلتھ انٹیلی جنس اینڈ ٹیکنالوجی) پورٹل‘‘ بھارت کا پہلا ایسا پلیٹ فارم ہے، جس پر قبائلی برادریوں کے لحاظ سے الگ الگ صحت سے متعلق اعداد و شمار دستیاب ہوں گے۔ اس میں 20 ریاستوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ قومی ڈیجیٹل پلیٹ فارم برائے جنگلاتی حقوق کے ذریعے جنگلاتی حقوق قانون، 2006 کے تحت حقوق کے دعوے جمع کرانے سے لے کر ڈیجیٹل طور پر دستخط شدہ اسناد کے اجرا تک کا پورا عمل ایک ہی نظام کے تحت انجام دیا جائے گا۔
اس کے علاوہ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے اپنے قبائلی تحقیقی اداروں کے ذریعے اس پندرہ روزہ مہم کی تقریبات منا رہے ہیں۔ ان اداروں نے 19 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 160 سے زیادہ سرگرمیوں کا منصوبہ بنایا ہے، جن میں ایک لاکھ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔ ان سرگرمیوں میں ثقافتی میلے، نمائشیں، خراجِ عقیدت پیش کرنے کی تقریبات، اسکولوں، ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں اور طلبہ کے ہاسٹلوں میں مقابلے، نیز فلاحی اور روزگار سے متعلق کیمپ شامل ہیں۔ ان میں آندھرا پردیش میں ریاست گیر قبائلی میلہ، گوا میں آدیواسی فنون اور کھیلوں کا اجتماع، اڈیشہ میں بھگوان برسا منڈا پویلین، شیلانگ میں قبائلی موسیقی کا میلہ اور گجرات کے احمد آباد ہاٹ میں قبائلی فنون اور دست کاری کا میلہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ریاستوں میں آدھار اور وظائف سے متعلق کیمپ، سِکل سیل کی جانچ، خاص طور پر کمزور قبائلی گروہوں کے لیے آیوشمان کارڈ کیمپ اور جنگلاتی حقوق سے متعلق قانونی بیداری کے کیمپ بھی منعقد کیے جائیں گے۔
وزارت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں منعقد ہونے والی تقریبات میں شرکت کرکے، مائی گورنمنٹ جن جاتیہ گورو دیوس سے متعلق سوال و جواب کے مقابلے اور اجتماعی عہد کی سرگرمی میں حصہ لے کر، قبائلی دست کاروں کی حوصلہ افزائی کرکے اور اپنی کارگزاریاں #JanjatiyaGauravDivas اور #JJGD2026 کے ساتھ شیئر کرکے اس جشن میں شریک ہوں۔
******
) ش ح ۔ ع و ۔ م ا)
UR.No. 6767