زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 OCT 2026 2:31PM by PIB Delhi
زرعی تحقیق اور تعلیم کے محکمے(ڈی اے آر ای) کے تحت انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کے مہاتما گاندھی انٹیگریٹڈ فارمنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی سی اے آر۔ایم جی آئی ایف آر آئی)، موتیہاری، بہار نے 27 اکتوبر 2026 کو مشرقی چمپارن کے مہسی بلاک کے گاؤں کوٹھیا ہری رام میں ’کھیت بچاؤ ابھیان 2026‘ کے تحت کسانوں میں بیداری اور کھیت میں تبادلۂ خیال کا پروگرام منعقد کیا۔ اس پروگرام کا مقصد کھادوں کے متوازن استعمال، مٹی کی زخیزی کے بندوبست ، غذائی اجزا کی دوبارہ فراہمی، فصلوں کے تنوع اور آم و لیچی کے باغات کے پائیدار انتظام کو فروغ دینا تھا۔ پروگرام میں مجموعی طور پر 29 کسانوں اور دیگر شرکاء نے شرکت کی اور باغات کی پیداوار میں اضافے اور وسائل کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانے کے عملی طریقوں پر سائنس دانوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔
اس پروگرام کی قیادت آئی سی اے آر-ایم جی آئی ایف آر آئی کے سائنس دان ڈاکٹر امول کے ۔جادھو نے کی۔ انہوں نے باغات کی پیداوار برقرار رکھنے اور طویل مدت تک مٹی کی زرخیزی کو محفوظ رکھنے کے لیے مٹی کی جانچ کی بنیاد پر غذائی اجزا کے انتظام اور کھادوں کے متوازن استعمال کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کھادوں کا بے دریغ استعمال کاشت کی لاگت میں اضافے اور غذائی اجزا کے عدم توازن کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ مٹی کی جانچ کے نتائج، فصلوں کی ضروریات اور باغات کی حالت کے مطابق کھادوں کا استعمال غذائی اجزا کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانے اور پائیدار پیداوار میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
بات چیت کے دوران کسانوں کو غذائی اجزا کی دوبارہ فراہمی اور مقامی طور پر دستیاب نامیاتی وسائل، بشمول فصلوں کی باقیات، گرے ہوئے پتوں، گوبر کی کھاد اور کمپوسٹ کے مؤثر استعمال کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ ڈاکٹر جادھو نے بتایا کہ ان مواد کو دوبارہ استعمال کرنے سے مٹی میں نامیاتی مادے کی مقدار بڑھائی جا سکتی ہے، مٹی کی ساخت اور غذائی اجزا کی دستیابی بہتر بنائی جا سکتی ہے اور بیرونی وسائل پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے آم اور لیچی کی پائیدار کاشت کے لیے نامیاتی وسائل کو معدنی کھادوں کے متوازن استعمال کے ساتھ اپنانے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
پروگرام میں پھلوں کے باغات میں کاشت کاری اور فصلوں کے تنوع کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، جن سے زمین کے بہتر استعمال اور اضافی آمدنی کے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ کسانوں کو ترغیب دی گئی کہ وہ باغات کی عمر، درختوں کے تنوں کےپھیلاؤ، موسم کے لحاظ سے نمی کی دستیابی اور فصلوں کی باہمی مطابقت کو مدنظر رکھتے ہوئے موزوں درمیانی فصلوں، خصوصاً دالوں اور علاقے کے لحاظ سے مناسب دیگر فصلوں کی کاشت پر غور کریں۔ ان طریقوں سے دستیاب وسائل کا زیادہ مؤثر استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ زرعی آمدنی کے ذرائع میں تنوع پیدا کیا جا سکتا ہے۔
پروگرام میں شریک کسانوں نے کھادوں کے استعمال، باغات میں مٹی کی زرخیزی ، نامیاتی وسائل کے انتظام اور کئی فصلوں کی ایک ساتھ کاشت کاری سے متعلق اپنے تجربات اور مسائل بیان کیے۔ اس تبادلۂ خیال سے پھلوں پر مبنی زرعی نظام کی پیداوار اور منافع میں اضافے کے لیے عملی، اقتصادی طور پر قابلِ عمل اور ماحول دوست طریقوں کے بارے میں بیداری پیدا کرنے میں مدد ملی۔
کھیت بچاؤ ابھیان 2026 کے ذریعے آئی سی اے آر-ایم جی آئی ایف آر آئی سائنس دانوں اور کسان برادریوں کے درمیان براہِ راست رابطے کے ذریعے کھادوں کے متوازن استعمال، مٹی کی زرخیزی میں بہتری، باغبانی کے پائیدار طریقوں اور قدرتی وسائل کے مؤثر انتظام کو مسلسل فروغ دے رہا ہے۔ یہ پہل بہار کے مشرقی چمپارن کے آم اور لیچی پیدا کرنے والے علاقوں میں کسانوں کو خود کفیل بنانے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے قابل پائیدار ذریعہ ٔمعاش کو فروغ دینے کی کوششوں کو مزید تقویت دیتی ہے۔
***
ش ح۔م ع۔ م ذ
U N-6756