صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر صحت جناب جے پی نڈا نے منشیات کی لت سے نجات کی خدمات سے وابستہ طبی اور متعلقہ شعبوں کے صحت کے پیشہ ور افراد کے لیے صلاحیت سازی پروگرام کا آغاز کیا


2029 تک نشہ مُکت بھارت کے مقصد کے حصول کے لیے نشہ آور اشیا کے استعمال سے متعلق عوارض سے نمٹنے کے لیے حکومت کی تمام سطحوں پر مربوط کوششیں ضروری ہیں: مرکزی وزیر صحت

نشہ آور اشیا کے استعمال کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے صحت کی دیکھ بھال، سماجی بہبود اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے: جناب نڈا

نارکوٹک کنٹرول سے متعلق وژن دستاویز 2026-2029 کے تحت 2028-29 تک 10,000 خدمات فراہم کرنے والے افراد کو تربیت فراہم کرنے کا ہدف ہے

جناب نڈا نے طبی اور متعلقہ شعبوں کے صحت کے پیشہ ور افراد کے لیے آن لائن تربیتی پروگراموں کا آغاز کیا اور ”نشہ آور عوارض کا انتظام: معالجین کے لیے رہنما کتاب“ کا دوسرا ایڈیشن جاری کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 OCT 2026 6:26PM by PIB Delhi

صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر جناب جے پی نڈا نے آج نئی دہلی کے کرتویہ بھون-1 میں منشیات کی لت سے نجات کی خدمات سے وابستہ طبی اور متعلقہ شعبوں کے صحت کے پیشہ ور افراد کے لیے صلاحیت سازی کے تربیتی پروگرام کا آغاز کیا۔ اس پروگرام کا آغاز ہائبرڈ طریقے سے کیا گیا۔ اس موقع پر وزارت صحت و خاندانی بہبود کے سکریٹری اور وزارت صحت و خاندانی بہبود، وزارت سماجی انصاف اور تفویض اختیارات اور وزارت داخلہ کے سینیئر افسران موجود تھے۔

اس پروگرام کا مقصد ملک بھر میں نشہ آور اشیا کے استعمال سے متعلق عوارض کی روک تھام، شناخت، تشخیص، علاج اور انتظام میں مصروف صحت کے پیشہ ور افراد کی صلاحیتوں کو مستحکم بنانا ہے۔

 

 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جناب جے پی نڈا نے ڈاکٹروں، میڈیکل افسران، نرسوں، مشیروں اور صحت کی دیکھ بھال سے وابستہ دیگر پیشہ ور افراد کے لیے آن لائن اور آف لائن تربیت کو شامل کرتے ہوئے، ایک منظم نفاذی منصوبے کے ساتھ جامع صلاحیت سازی پروگرام تیار کرنے پر ٹیم کو مبارک باد دی۔ انہوں نے تربیت کے مرحلہ وار طریقۂ کار کی تعریف کی، جس کے تحت علاقائی اور قومی اداروں کے درمیان تعاون کے بعد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں صلاحیت سازی کی سرگرمیوں کو وسعت دی جائے گی۔

مرکزی وزیر صحت نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں 2029 تک نشہ مُکت بھارت کے ہدف کو حاصل کرنے کے تئیں حکومت ہند کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نشہ آور اشیا کے غلط استعمال سے متعلق عوارض سے نمٹنے کے لیے حکومت کی تمام سطحوں پر مربوط کوششیں ضروری ہیں، جن کے تحت مختلف وزارتوں اور محکموں کو واضح طور پر متعین مقاصد کے حصول کے لیے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔

 

 

جناب نڈا نے کہا کہ منتشر کوششوں اور مختلف محکموں کے الگ الگ کام کرنے کے طریقۂ کار کی وجہ سے تال میل اور خدمات کی فراہمی میں خلا پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ اور وزیر تعاون جناب امت شاہ کے ذریعے جاری کردہ منشیات پر قابو پانے سے متعلق وژن دستاویز 2026–2029 ان خامیوں کو دور کرنے کی ایک مربوط کوشش کی عکاسی کرتی ہے، جس میں مختلف وزارتوں اور محکموں کی ذمہ داریوں اور اہداف کا تعین کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس دستاویز پر مؤثر عمل درآمد کے لیے وزارتوں کے درمیان مسلسل تال میل اور اجتماعی جواب دہی ضروری ہوگی۔

وزارت صحت و خاندانی بہبود کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب نڈا نے کہا کہ علاج کی خدمات کو مستحکم بنانا اور صحت کے پیشہ ور افراد نیز نشے کی لت سے نجات کے مراکز کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا اس قومی کوشش میں وزارت کے تعاون کے بنیادی پہلو ہیں۔ انہوں نے وزارت سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے تحت کام کرنے والے نشے کی لت سے نجات کے مراکز کی مناسب تربیت، ادارہ جاتی استحکام اور خاطر خواہ مالی وسائل کے ذریعے معاونت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

وزیر موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ نشہ آور اشیا کے استعمال سے متعلق عوارض سے نمٹنے کی کوششیں صرف علاج تک محدود نہیں ہونی چاہئیں، بلکہ ان میں روک تھام، قانون کا نفاذ اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مربوط کارروائی بھی شامل ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس چیلنج سے جامع طور پر نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں، سرحدی انتظام کے حکام اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے صحت کے پیشہ ور افراد اور شرکت کرنے والے اداروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ عمل درآمد کو مستحکم بنانے اور ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے عملی تجاویز پیش کریں، جن میں بین محکمہ جاتی تال میل کی متقاضی تجاویز بھی شامل ہوں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر جناب نڈا نے اس پہل کے لیے وزارت صحت و خاندانی بہبود، وزارت سماجی انصاف اور تفویض اختیارات اور شرکت کرنے والے اداروں کو مبارک باد دی۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ صلاحیت سازی کا یہ پروگرام شواہد پر مبنی علاج کی خدمات کی دستیابی اور معیار کو بہتر بنائے گا اور نشہ مُکت بھارت کے حصول کے لیے ملک کے اجتماعی عزم کو تقویت بخشے گا۔

اس موقع پر وزارت صحت و خاندانی بہبود کی سکریٹری محترمہ پونیا سلیلا سریواستو نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ وکست بھارت کے ہدف کی جانب پیش رفت کے لیے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ ملک کے نوجوان جسمانی طور پر صحت مند، ذہنی طور پر تندرست، پراعتماد اور نشہ آور اشیا کے مضر اثرات سے محفوظ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو منشیات کے خطرات سے محفوظ رکھنا ایک صحت مند، بااختیار اور پیداواری نسل کی پرورش کے لیے نہایت اہم ہے، جو ملک کی ترقی میں بامعنی کردار ادا کر سکے۔

انہوں نے نشہ آور اشیا کے استعمال کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے حکومت کی تمام سطحوں پر مربوط طریقۂ کار اپنانے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے روک تھام، بیداری، علاج اور بحالی کی خدمات کو مستحکم بنانے کے لیے وزارتوں، محکموں اور اداروں کے درمیان مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کے نیشنل ڈرگ ڈیپنڈنس ٹریٹمنٹ سینٹر (این ڈی ڈی ٹی سی) کی پروفیسر اور سربراہ ڈاکٹر انجُو دھون نے نشہ آور اشیا کے استعمال سے متعلق عوارض کے علاج میں مصروف صحت کے پیشہ ور افراد کے لیے صلاحیت سازی پروگرام کے نفاذ کی تفصیلات پر مبنی ایک پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے منشیات پر قابو پانے سے متعلق وژن دستاویز (2026–2029) کے تحت وزارت صحت و خاندانی بہبود کی ذمہ داریوں کو اجاگر کیا، بالخصوص علاج کی خدمات کو مستحکم بنانے اور طبی و نیم طبی عملے کی صلاحیتوں میں اضافے پر توجہ دی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ پروگرام ڈرگ ڈی ایڈکشن پروگرام (ڈی ڈی اے پی) کے تحت چھ اداروں کے ذریعے چلایا جائے گا، جبکہ این ڈی ڈی ٹی سی، ایمس اس کے رابطہ مرکز کے طور پر کام کرے گا۔

ڈاکٹر دھون نے تربیتی نظام کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں ڈاکٹروں کے لیے براہ راست آن لائن اجلاس، ڈاکٹروں، نرسوں اور مشیروں کے لیے اپنی رفتار سے مکمل کیے جانے والے آن لائن تربیتی ماڈیول اور نامزد عملے کے لیے بالمشافہ تربیت شامل ہے۔ نصاب میں شراب، بھنگ، اوپیئڈ، نیند کی گولیاں اور سانس کے ذریعے استعمال کیے جانے والے نشہ آور مادوں سمیت مختلف اقسام کے مادوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین اور نوعمروں سمیت مخصوص گروہوں میں نشہ آور اشیا کے استعمال سے متعلق عوارض کے انتظام کو بھی نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔

 

 

تقریب کے دوران جناب جے پی نڈا نے ڈرگ ڈی ایڈکشن پروگرام (ڈی ڈی اے پی) کے تحت تمام چھ اداروں کے ذریعے ڈاکٹروں اور میڈیکل افسران کے لیے منعقد کیے جانے والے براہ راست آن لائن تربیتی پروگرام کا افتتاح کیا۔ انہوں نے نرسوں، کمیونٹی ہیلتھ افسران (سی ایچ او) اور معاون نرس دائیوں (اے این ایم) کے لیے اپنی رفتار سے مکمل کیے جانے والے آن لائن تربیتی پروگرام کا بھی افتتاح کیا۔ مرکزی وزیر صحت نے وزارت صحت و خاندانی بہبود کے سکریٹری اور دیگر معزز شخصیات کے ساتھ مل کر کتاب ”نشہ آور اشیا کے استعمال سے متعلق عارضہ: معالجین کے لیے رہنما کتاب (نشے کی لت سے متعلق عوارض کا انتظام)“ کا دوسرا ایڈیشن بھی جاری کیا۔

 

ڈرگ ڈی ایڈکشن پروگرام (ڈی ڈی اے پی) کے بارے میں

 

یہ تربیتی پروگرام ڈرگ ڈی ایڈکشن پروگرام (ڈی ڈی اے پی) کے تحت مرکزی حکومت کے چھ اداروں کے ذریعے منعقد کیا جائے گا۔ ان میں نیشنل ڈرگ ڈیپنڈنس ٹریٹمنٹ سینٹر (این ڈی ڈی ٹی سی)، ایمس، نئی دہلی، واقع غازی آباد؛ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز (نم ہانس)، بنگلورو؛ پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پی جی آئی ایم ای آر)، چندی گڑھ؛ سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف سائیکاٹری (سی آئی پی)، رانچی؛ ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اسپتال، نئی دہلی؛ اور ایمس بھونیشور شامل ہیں۔ این ڈی ڈی ٹی سی، ایمس صلاحیت سازی کی اس پہل کے مجموعی نفاذ میں تال میل کا کام انجام دے گا۔

اس پروگرام میں مخلوط طریقۂ تعلیم اپنایا جائے گا، جس میں براہ راست آن لائن تربیت، بالمشافہ تربیت اور اپنی رفتار سے مکمل کیے جانے والے آن لائن کورسز شامل ہوں گے۔ ڈاکٹروں اور میڈیکل افسران کے لیے براہ راست آن لائن تربیت میں 12 ہفتوں کے دوران ہر ہفتے اجلاس منعقد کیے جائیں گے، جن میں نظریاتی لیکچر کے ساتھ طبی معاملوں پر تبادلۂ خیال بھی شامل ہوگا۔ نامزد چھوں ادارے بیک وقت یہ اجلاس منعقد کریں گے، جن میں ہر ہفتے مجموعی طور پر 300 شرکاء کی تربیت کی گنجائش ہوگی۔ بالمشافہ تربیت پانچ روزہ پروگراموں کے ذریعے دی جائے گی، جن میں شرکت کرنے والے اداروں کے تیار کردہ مشترکہ نصاب کا استعمال کیا جائے گا۔

 

 

صحت کے عملے کی مختلف اقسام کے لیے اپنی رفتار سے مکمل کیے جانے والے آن لائن تربیتی ماڈیول بھی دستیاب کرائے جائیں گے۔ ڈاکٹروں کو این ڈی ڈی ٹی سی کے تیار کردہ این اے اے ٹی آن لائن کورس تک رسائی حاصل ہوگی، جبکہ نم ہانس کی تیار کردہ ایپلی کیشن ’ایڈکشن آر ایکس‘ علاج کے سلسلے میں ادویات تجویز کرنے کے لیے اضافی معاونت فراہم کرے گی۔ مشیروں اور ماہرین نفسیات کی تربیت کے لیے نم ہانس کے ای لرننگ ماڈیولز استعمال کیے جائیں گے، جبکہ این ڈی ڈی ٹی سی کا آن لائن کورس نرسوں، کمیونٹی ہیلتھ افسران (سی ایچ او) اور معاون نرس دائیوں (اے این ایم) کی تربیت میں معاون ہوگا۔ تربیتی پروگراموں کی تکمیل پر متعلقہ ڈی ڈی اے پی اداروں کی جانب سے سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں گے۔

اس پہل کے تحت ڈاکٹروں، نرسوں، مشیروں، ماہرین نفسیات، سماجی کارکنوں اور صحت کے دیگر طبی و متعلقہ شعبوں کے ان پیشہ ور افراد کو شامل کیا جائے گا، جو نشہ آور اشیا کے استعمال سے متعلق عوارض کے علاج کی خدمات فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔ شرکاء کو قومی صحت مشن (این ایچ ایم) کے ذریعے ریاستی حکومتیں نامزد کریں گی۔ اس کے علاوہ مسلح افواج، مرکزی مسلح پولیس فورسز اور ریلوے سمیت مرکزی حکومت کی خدمات سے وابستہ افراد کو بھی نامزد کیا جائے گا۔ وزارت سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی مالی معاونت سے چلنے والے نشے کی لت کے علاج کے مراکز میں کام کرنے والے عملے کو بھی اس پہل میں شامل کیا جائے گا۔

وزارت صحت و خاندانی بہبود اور ڈی ڈی اے پی اداروں کو قومی صحت مشن کے ذریعے مختلف ریاستوں سے آن لائن اور آف لائن تربیت کے لیے اب تک 800 سے زیادہ نامزدگیاں موصول ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ وزارت سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی معاونت سے چلنے والے نشے کی لت سے نجات کے مراکز کے تقریباً 150 اہلکاروں کے آئندہ دو ماہ کے دوران بالمشافہ تربیت میں شرکت کرنے کی توقع ہے۔ اس تربیتی پروگرام میں نامزد چھ اداروں کی موجودہ طبی مہارت، مختلف شعبوں کے ماہر تدریسی عملے، تعلیمی بنیادی ڈھانچے اور ای لرننگ کے وسائل سے استفادہ کیا جائے گا۔

 

 

تقریب کے دوران جاری کی گئی کتاب ”نشہ آور اشیا کے استعمال سے متعلق عارضہ: معالجین کے لیے رہنما کتاب (نشے کی لت سے متعلق عوارض کا انتظام)“ کا دوسرا ایڈیشن ڈاکٹروں کو نشہ آور اشیا کے استعمال سے متعلق عوارض کی تشخیص اور انتظام کے سلسلے میں عملی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ کتاب پہلی بار 2005 میں شائع ہوئی تھی۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران نشے کی لت کے بارے میں سائنسی فہم، علاج کے طریقوں اور خدمات کی فراہمی کے شعبوں میں ہونے والی اہم پیش رفت کو شامل کرنے کے لیے اس کتاب میں وسیع پیمانے پر نظرثانی کی گئی ہے، جبکہ عملی اور شواہد پر مبنی طبی نگہداشت پر اس کی توجہ برقرار رکھی گئی ہے۔

یہ نظرثانی شدہ کتاب خصوصی مراکز برائے علاجِ نشہ اور عام طبی نگہداشت کے مراکز، دونوں جگہوں پر کام کرنے والے ڈاکٹروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس کا مقصد نشہ آور اشیا کے استعمال سے متعلق عوارض کی شناخت، تشخیص اور انتظام کے سلسلے میں ڈاکٹروں کی صلاحیتوں کو مستحکم بنانا ہے، تاکہ وہ زیادہ اعتماد اور مہارت کے ساتھ ان عوارض سے نمٹ سکیں۔ توقع ہے کہ یہ کتاب شواہد پر مبنی علاجِ نشہ کی خدمات کو مستحکم بنانے اور ملک بھر میں معیاری نگہداشت تک رسائی بہتر کرنے کے لیے ایک اہم وسیلہ ثابت ہوگی۔

پس منظر

جون 2026 میں مرکزی وزیر داخلہ اور وزیر تعاون جناب امت شاہ نے منشیات پر قابو پانے سے متعلق وژن دستاویز 2026-2029 جاری کی تھی، جس میں آئندہ تین برسوں کے دوران منشیات کی تجارت کے پورے نظام سے نمٹنے کے لیے حکومت ہند کی حکمت عملی کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ اس وژن دستاویز کے مطابق وزارت صحت و خاندانی بہبود کو مارچ 2029 تک 10,000 خدمات فراہم کرنے والے افراد کی صلاحیت سازی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جن میں نشے کی لت سے نجات کی خدمات سے وابستہ طبی اور متعلقہ شعبوں کے صحت کے پیشہ ور افراد بھی شامل ہیں۔ وزارت کا ہدف موجودہ مالی سال کے دوران 2,000 خدمات فراہم کرنے والے افراد کو تربیت دینا ہے، جس کے بعد 2027-28 میں 3,000 اور 2028-29 میں 5,000 افراد کو تربیت دی جائے گی۔

اس پہل کے ذریعے وزارت صحت و خاندانی بہبود کا مقصد نشے کی لت کے علاج کی ایسی خدمات تک رسائی کو وسعت دینا ہے جو اہل، شواہد پر مبنی اور مریضوں کی ضروریات پر مرکوز ہوں۔ اس کے ساتھ صحت کی دیکھ بھال کے نظام کی مختلف سطحوں کے درمیان روابط کو مستحکم بنانا اور نشہ مُکت بھارت کے قومی عزم کی تکمیل میں تعاون کرنا بھی اس پہل کے مقاصد میں شامل ہے۔

اس پروگرام میں وزارت صحت و خاندانی بہبود کی سکریٹری محترمہ پونیا سلیلا سریواستو، ایڈیشنل سکریٹری اور نیشنل ہیلتھ مشن کی منیجنگ ڈائریکٹر محترمہ آرادھنا پٹنائک، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر لوونیش جی کرشنا، وزارت صحت و خاندانی بہبود کی ایڈیشنل سکریٹری ڈاکٹر (محترمہ) ونود کوٹوال اور وزارت کے دیگر سینیئر افسران نے شرکت کی۔

وزارت سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے سکریٹری جناب سدھانش پنت نے ورچوئل طور پر شرکت کی۔ ان کے ساتھ وزارت سماجی انصاف اور تفویض اختیارات اور وزارت داخلہ کے سینیئر افسران، ڈی ڈی اے پی کے چھ نامزد اداروں کے سربراہان اور تدریسی عملے، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے صحت کے افسران، وزارت تعلیم اور مرکزی حکومت کی صحت سے متعلق تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ تربیتی پروگرام میں شرکت کرنے والے نامزد ڈاکٹروں اور صحت کے متعلقہ شعبوں کے پیشہ ور افراد نے بھی شرکت کی۔

***********

ش ح۔ ف ش ع

U: 6722


(ریلیز آئی ڈی: 2328704) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Marathi , Tamil