پوسٹ کرنے کی تاریخ:
26 OCT 2026 5:32PM by PIB Delhi
رکشا منتری جناب راج ناتھ سنگھ نے دفاعی شعبے میں ’آتم نربھر تا2.0 ‘کے اگلے مرحلے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ درآمدات پر انحصار کم کرنے اور تکنیکی برتری حاصل کرنے کے لیے اعلیٰ درجے کی جدید ترین ٹیکنالوجی تیار کرنے، تحقیق و ترقی کو مضبوط بنانے اور مستحکم رسدی سلسلے قائم کرنے پر توجہ دینا ضروری ہے۔ اس سے 2047 تک وکست بھارت کے تصور کو حقیقت میں بدلنے میں مدد ملے گی۔ وہ 26 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی میں منعقدہ سوَاولمبن کے پانچویں ایڈیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ ہندوستانی بحریہ کا اختراعات اور مقامی سطح پر دفاعی سازوسامان کی تیاری سے متعلق سمینار ہے۔انہوں نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں خود انحصاری کے پہلے مرحلے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل شناس سوچ اور سائنسی نظم و ضبط کے حامل دفاعی شعبے کے اختراع کار مزید مشکل تکنیکی اہداف کے حصول میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔

گزشتہ دہائی کے دوران دفاع میں آتم نربھرتا کی طرف قوم کی طرف سے کی گئی اہم پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے زور دے کر کہا کہ اب تک حاصل کی گئی پیش رفت نے اگلے مرحلے کے لیے ایک مضبوط بنیادڈالی ہے ۔ جس میں جدید ٹیکنالوجیز اور مقاصد پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے جنہیں حاصل کرنا مشکل سمجھا جاتا ہے ۔ انہوں نے مقامی طور پر ایسی مصنوعات تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو لاگت سے موثر ، عملی طور پر اعلی اور عالمی سطح پر مسابقتی ہوں ۔
رکشا منتری نے سپلائی چین مینجمنٹ کو نہ صرف ایک تکنیکی مسئلہ بلکہ قومی سلامتی سے براہ راست منسلک ایک اسٹریٹیجک لازمی قرار دیا ۔ انہوں نے ایک متحرک روڈ میپ پر زور دیا جو ہر آئٹم میں خود انحصاری کے حصول کے لیے واضح ٹائم لائن طے کرے ، تیار کی جانے والی ٹیکنالوجیز اور ان صنعتوں کی نشاندہی کرے جو ان کی اختراع کو آگے بڑھائیں گی اور ان مقاصد کے حصول کے لیے درکار وسائل کا خاکہ پیش کرے ۔ سپلائی چین پر انحصار بعض خام مال کی محدود گھریلو دستیابی ، جیسے نایاب زمینی عناصر اور ملک کے اندر مخصوص ٹیکنالوجی کی عدم موجودگی سے پیدا ہوتا ہے ۔ اگرچہ کچھ بیرونی انحصار اس وقت تک برقرار رہ سکتے ہیں جب تک کہ قابل عمل متبادل تیار نہ ہو جائیں یا گھریلو وسائل دستیاب نہ ہو جائیں ، لیکن مقامی کاری کے لیے اہم شعبوں کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے ۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے سپلائی کے راستوں میں ممکنہ رکاوٹوں کے خلاف تیار رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بفر اسٹاک اور گھریلو پیداواری صلاحیتوں کا جائزہ بحران کا انتظار کرنے کے بجائے پہلے سے لیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تحقیق و ترقی کو مرکزی حیثیت دی ۔ انہوں نے مستقل توجہ اور سرمایہ کاری کے ساتھ مقامی طور پر جدید ترین ٹیکنالوجیز تیار کرنے کے لیے ملک کے ٹیلنٹ پول کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا ۔

رکشا منتری نے تحقیق کے عمل میں شامل فطری خطرات کا ذکر کرتے ہوئے ناکامی کے تئیں رویے میں تبدیلی لانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق و ترقی کے جدید نظام رکھنے والے ممالک میں بھی ناکامی کی شرح زیادہ ہوتی ہے، جو اختراع کے عمل کا ایک فطری حصہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگرچہ خطرات مول لینے سے گریز کرنا ایک لحاظ سے فطری ہے، لیکن اس میں ایک موقع بھی پوشیدہ ہے۔ کیا ہم ایسے مالیاتی طریقۂ کار وضع کر سکتے ہیں جو زیادہ خطرے اور زیادہ فائدے والے منصوبوں کی مدد کرنے کے اہل ہوں؟ کیا ہم تحقیق و ترقی میں نجی شعبے کی زیادہ شمولیت کو یقینی بنا سکتے ہیں، کیونکہ وہ خطرات مول لینے کے لیے زیادہ آمادہ ہوتا ہے؟ ہمیں دو اہم شعبوں میں پیش رفت کے طریقوں پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا: نجی شعبے کو شامل کرنا اور کم لاگت والی ٹیکنالوجی کو فروغ دینا۔ نجی شعبے میں خطرات مول لینے کی زیادہ صلاحیت ہے، جبکہ کم لاگت والی ٹیکنالوجی کے ذریعے چھوٹے پیمانے پر تجربات کرکے بھی نمایاں نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔‘‘
جناب راج ناتھ سنگھ نے اسرائیل، جنوبی کوریا اور امریکہ جیسے ممالک میں تحقیق و ترقی کی ثقافت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں اختراع کو طرزِ زندگی کا حصہ سمجھا جاتا ہے اور ناکامی کو سیکھنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے ہندوستان میں تحقیق و اختراع کی مضبوط اور پائیدار ثقافت کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس مقصد کے لیے صنعتوں اور تعلیمی اداروں کے درمیان زیادہ مضبوط اشتراک، تعلیمی اداروں میں مزید حوصلہ افزائی اور نوجوانوں کو تحقیق و ترقی کے شعبے میں اپنا پیشہ ورانہ مستقبل بنانے کے زیادہ مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔آئی ڈی ای ایکس کے ذریعے نئی کمپنیوں اور چھوٹی و درمیانی درجے کی صنعتوں کو ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنے کے قابل بنانے میں حاصل ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے، جنہیں ہندوستان پہلے درآمد کرتا تھا، وزیر دفاع نے بتایا کہ بھارتی بحریہ کی جانب سے پیش کیے گئے 229 چیلنجز کے جواب میں 4,000 سے زیادہ تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ یہ بھارتی صلاحیتوں کی گہرائی اور کاروباری افراد کے جوش و جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔ آئی ڈی ای ایکس کے تحت ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستانی نئی کمپنیوں اور چھوٹی و درمیانی درجے کی صنعتوں نے عملی ضروریات سے متعلق چیلنجوں کو اختراع کے مواقع میں بدل کر بحری نظام، حسّاس آلات، مواصلات اور دیگر اہم شعبوں میں حل تیار کیے ہیں۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بحرِ ہند کے خطے میں بدلتی ہوئی صورتِ حال کے پیش نظر بحری جہازوں کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ چونکہ ان کی تعمیر پر بہت زیادہ سرمایہ خرچ ہوتا ہے، اس لیے مقامی پیداوار کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ لاگت کم کرنے کے طریقے بھی تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود انحصاری کے اگلے مرحلے میں توجہ صرف مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات کی تعداد بڑھانے پر نہیں، بلکہ ان کے معیار، کارکردگی اور قابلِ استطاعت ہونے پر بھی مرکوز ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خود انحصاری سے قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ معیشت کی لچک اور استحکام کو بھی تقویت ملنی چاہیے۔

رکشا منتری نے کہا، ’’ہماری حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ مالی وسائل کی کمی ہمارے باصلاحیت نوجوانوں کی امنگوں کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ 1,900 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے بحری معاہدے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہماری کوششیں ٹھوس نتائج دے رہی ہیں۔ ہماری بحریہ کی مسلسل پیش رفت اس عزم کی گواہ ہے۔۔۔ ہندوستانی بحریہ کو خود انحصاری کی راہ پر مزید آگے بڑھانے کے لیے درآمدات پر انحصار کے باقی ماندہ شعبوں، بالخصوص خریدار کی جانب سے نامزد کردہ سازوسامان، سے متعلق مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘
مقامی سطح پر تیاری کو فروغ دینے کے لیے ایک وسیع تر حکمتِ عملی پر زور دیتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے ’دوہری ٹیکنالوجی کا لائحۂ عمل‘تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ ایسی ٹیکنالوجی کی نشاندہی کرکے اسے ترجیح دی جا سکے جو شہری اور فوجی، دونوں طرح کی ضروریات پوری کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر تیاری کے لیے پہلے سے موجود مثبت فہرستوں سے آگے بڑھتے ہوئے، شہری اور فوجی جہاز رانی کے لیے درکار ٹیکنالوجی اور مصنوعات کی ترجیحی فہرستیں تیار کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے ایسی ٹیکنالوجی کی نشاندہی کرنے کی تجویز بھی پیش کی جسے تینوں مسلح افواج اور ہندوستانی ساحلی محافظ دستہ استعمال کر سکیں۔ انہوں نے اسے مسلح افواج کی مختلف شاخوں کے درمیان مشترکہ استعمال کے تصور کا تکنیکی اطلاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خود انحصاری کے دوسرے مرحلے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
رکشامنتری نے ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے دفاعی افواج، صنعتوں اور تعلیمی و تحقیقی اداروں کے درمیان اشتراک کو سراہا۔ ان چیلنجوں میں کوانٹم ٹیکنالوجی، جنگی کارروائیوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال اور بغیر پائلٹ کے نظام شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسی جدید صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے مستقل مزاجی، مسلسل اشتراک اور مستقبل کی عملی ضروریات پر واضح توجہ ضروری ہے۔اس موقع پر بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرشنا سوامی ناتھن نے 2022 سے سوَاولمبن کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ بحریہ سے متعلق اختراعات اور مقامی سطح پر تیاری کے چیلنجوں کی تعداد 20 سے بڑھ کر 229 ہو گئی ہے، جو دفاعی شعبے میں اس پروگرام کے تحت پیش کیے گئے تمام چیلنجوں کا تقریباً 35 فیصد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 3,500 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے 41 معاملات میں ضرورت کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ1,900کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے 25 معاہدوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں۔

مصنوعی ذہانت، خودکار نظاموں، روبوٹکس اور کوانٹم سینسنگ میں ہونے والی پیش رفت سے پیدا ہونے والے مواقع پر زور دیتے ہوئے، بحریہ کے سربراہ نے اس بات کو اجاگر کیا کہ امید افزا اختراعات کو عملی صلاحیتوں میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے صلاحیتوں کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے پانچ اہم شعبوں کی نشاندہی کی: نئے خیالات پیش کرنا، ابتدائی نمونے تیار کرنا، آزمائش کرنا، معاہدے کرنا اور نظاموں کو خدمات میں شامل کرنا، نیز ان کی پوری مدتِ استعمال کے دوران معاونت فراہم کرنا۔ انہوں نے مقامی ٹیکنالوجی کی تیاری اور اسے خدمات میں شامل کرنے کے عمل کو تیز کرنے اور خود انحصار، مستقبل کی ضروریات کے لیے تیار دفاعی نظام قائم کرنے کے لیے ہندوستانی بحریہ، صنعتوں، نئی کاروباری کمپنیوں اور چھوٹی و درمیانی درجے کی صنعتوں کے درمیان مزید مضبوط اشتراک پر زور دیا۔
سکریٹری (دفاعی پیداوار)جناب سنجیو کمار نے کہا کہ سوَاولمبن 5.0 ملک میں دفاعی اختراعات اور مقامی سطح پر تیاری کے سفر میں ایک اور اہم سنگِ میل ہے۔ اس کے ذریعے دفاعی نظام سے وابستہ تمام متعلقہ فریقوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کیا جا رہا ہے، تاکہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے، بدلتی ہوئی عملی ضروریات کو پورا کرنے کے طریقوں پر غور کیا جا سکے اور مقامی صلاحیتوں کی ترقی کے نئے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سال کا موضوع، ’اختراع اور مقامی تیاری کے ذریعے طاقت و قوت‘، ایک مضبوط اور خود انحصار دفاعی نظام کی تشکیل کے لیے اشتراک اور تکنیکی ترقی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ مسابقت کے بجائے باہمی اشتراک کا راستہ اختیار کریں، تاکہ قومی سلامتی کو مزید مستحکم کرنے اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
سکریٹری(دفاعی پیداوار)نے اختراعات اور مقامی سطح پر تیاری کے فروغ کے اقدام آئی ڈی ای ایکس کی کامیابی میں ہندوستانی بحریہ کے اہم تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ڈی ای ایکس مقامی اختراعات کو خریداری کے ٹھوس نتائج میں تبدیل کر رہا ہے اور بحریہ کی عملی صلاحیتوں کو مضبوط بنا رہا ہے۔
اس موقع پر چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنی، بری فوج کے سربراہ جنرل دھیراج سیٹھ، فضائیہ کے نائب سربراہ ایئر مارشل آشوتوش دکشت، چیف آف انٹیگریٹڈ ڈیفنس اسٹاف سے وابستہ ایئر مارشل تیجندر سنگھ، بحریہ کے نائب سربراہ وائس ایڈمرل اجے کوچھر، سوسائٹی آف انڈین ڈیفنس مینوفیکچررز کے نائب صدر جناب نیرج گپتا، حاضر سروس اور سبکدوش افسران، صنعتوں اور تعلیمی اداروں کے نمائندے نیز آئی ڈی ای ایکس کے تحت کامیاب ہونے والے افراد موجود تھے۔
ٹیکنالوجی کی نمائش
رکشا منتری نے ٹیکنالوجی کی نمائش کا دورہ کیا، جہاں نئی کاروباری کمپنیوں اور چھوٹی و درمیانی درجے کی صنعتوں کے 100 سے زیادہ اسٹال لگائے گئے تھے۔ انہوں نے بحریہ کے چیلنجوں اور مسائل کے حل کے لیے کام کرنے والے اختراع کاروں سے بات چیت کی۔ بحریہ کے اہلکاروں کے ساتھ کام کرنے والی نئی کاروباری کمپنیوں اور چھوٹی و درمیانی درجے کی صنعتوں نے ایسی مخصوص ٹیکنالوجیز پیش کیں جنہیں عملی صلاحیتوں کی ترقی کے لیے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ نمائش میں کامیابیوں سے متعلق حصے میں ایسی تیار شدہ مصنوعات بھی پیش کی گئیں جنہیں ہندوستانی بحریہ میں شامل کرنے کا عمل جاری ہے۔


خودکار بحری پلیٹ فارموں، جنگی کارروائیوں میں کوانٹم ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال، مسلسل نگرانی، قابلِ اعتماد بحری رہ نمائی، جدید مواصلاتی نظام اور ڈرون مخالف ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پیش کیے گئے حل مقامی سطح پر ٹیکنالوجی کی تیاری کے وسیع دائرے کی عکاسی کرتے ہیں۔2022میں سوَاولمبن کے آغاز کے بعد سے ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم ہندوستانی بحریہ کی عملی ضروریات پوری کرنے میں مسلسل معاون ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے ہندوستانی صنعتوں کی اس صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا کہ وہ قابلِ اعتماد اور اعلیٰ درجے کی ٹیکنالوجی ملک ہی میں تیار کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تقریب میں پیش کی گئی اختراعات ملک کی بڑھتی ہوئی تکنیکی قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔
اشاعتوں کا اجرا اور اختراع کاروں کی پذیرائی
جناب راج ناتھ سنگھ نے ’ٹیکنالوجی کی ناگزیر ضروریات، مسائل اور مستقبل کے تصورات کا مجموعہ‘اور ’سوَاولمبن 5.0‘ دستاویز جاری کی۔ ان دستاویزات کے ذریعے صنعتوں کو بحریہ کی ترجیحات اور ترقی کے مواقع سے آگاہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے سیمینار کے ممتاز مقررین اور آئی ڈی ای ایکس کے اختراع کاروں کو بھی اعزاز سے نوازا اور ہندوستان کی دفاعی صلاحیتوں میں ان کے تعاون کا اعتراف کیا۔


یہ تقریب ہندوستانی بحریہ نے دفاعی اختراعات کی تنظیم اور سوسائٹی آف انڈین ڈیفنس مینوفیکچررز کے اشتراک سے منعقد کی ہے۔ یہ 26 سے 27 اکتوبر 2026 تک مانیکشا سینٹر میں ’اختراع اور مقامی تیاری کے ذریعے طاقت و قوت‘ کے موضوع پر جاری ہے۔ اس سیمینار میں مستقبل کی ضروریات اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی، بشمول کوانٹم ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، خودکار نظاموں اور انتہائی تیز رفتار ٹیکنالوجی پر تبادلۂ خیال کیا جا رہا ہے۔ اس دوران مستقبل کی جنگوں اور بحری کارروائیوں میں ان ٹیکنالوجیز کے ممکنہ استعمال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
خود انحصاری اور اختراعات و مقامی تیاری کے فروغ سے متعلق نظام کو مضبوط بنانے، ملک کے اندر مستحکم رسدی سلسلے قائم کرنے، تعلیمی اداروں میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے اور نئی کاروباری کمپنیوں کو امید افزا مقامی ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر تیار کرنے کے قابل بنانے کے لیے خصوصی اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں اور خطرہ مول لے کر سرمایہ فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ تبادلۂ خیال کے ذریعے امید افزا دفاعی کاروباری اداروں کے لیے مالی وسائل حاصل کرنے، کاروبار کو وسعت دینے اور ٹیکنالوجی کو تجارتی سطح پر متعارف کرانے کے امکانات تلاش کرنے کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔
**********
) ش ح –م ح-ج ا)
U.No. 6720