وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

ڈی آر آئی نے ’آپریشن ڈیپ مینی فیسٹ‘ کے تحت پاکستانی اشیا کی درآمد پر عائد پابندی سے بچنے کی ایک اور کوشش  کوناکام بنایا؛ پاکستان سے تعلق رکھنے والے تقریباً 25000 کلوگرام تربوز کے بیج ضبط، دو افراد گرفتار


تحقیقات میں دبئی کے راستے سامان کی ترسیل اور ملکِ اصل کے بارے میں غلط بیانی کا انکشاف؛ ملک میں اسمگل کیے گئے پاکستان سے تعلق رکھنے والے تربوز اور خربوزے کے مجموعی طور پر 46920 کلوگرام بیجوں کا پتا لگایا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 OCT 2026 8:06PM by PIB Delhi

محکمۂ محصولات کی انٹیلی جنس (ڈی آر آئی) نے آپریشن ڈیپ مینی فیسٹ کے تحت پاکستان میں تیار ہونے والی یا پاکستان سے برآمد کی جانے والی اشیا کی درآمد پر ہندوستان کے ذریعے عائد کی گئی  پابندی سے بچنے کی ایک اور کوشش کا پردہ فاش کیا ہے۔

11 ستمبر سے 22 اکتوبر 2026 کے درمیان چلائی گئی اس کارروائی کے نتیجے میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے تقریباً 25000 کلوگرام تربوز کے بیجوں کی ایک کھیپ کو پکڑا گیا۔ یہ کھیپ دبئی کے راستے لائی گئی تھی اور درآمدی پابندی سے بچنے کے لیے اس کے اصل ملک کو غلط طور پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ظاہر کیا گیا تھا۔ 22 اکتوبر 2026 کو دو افراد کو گرفتار کیا گیا۔

مخصوص خفیہ اطلاع کی بنیاد پر، ڈی آر آئی کے افسران نے نہوا شیوا بندرگاہ کے ذریعے درآمد کیے گئے تقریباً 25000 کلوگرام بیجوں کی ایک کھیپ کی جانچ کی، جسے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے تعلق رکھنے والے خربوزے کے بیج ظاہر کیا گیا تھا۔ تاہم، جانچ کے دوران انکشاف ہوا کہ یہ تربوز کے بیج تھے، اور شواہد سے ان کے پاکستانی اصل کے ہونے کی نشاندہی ہوئی۔

ابتدائی تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ سامان کے حقیقی ملکِ اصل کو چھپانے کے لیے جان بوجھ کر سامان کی منتقلی کا ایک انتظام کیا گیا تھا۔ بیجوں کو پہلے ایک جہاز کے ذریعے کنٹینروں کے ایک مجموعے میں پاکستان کی کراچی بندرگاہ سے دبئی کی جبل علی بندرگاہ بھیجا گیا۔ جبل علی بندرگاہ پر سامان کی منتقلی کے بعد اسے دوسرے کنٹینروں میں منتقل کیا گیا اور ہندوستان بھیجنے کے لیے ایک دوسرے جہاز پر لادا گیا۔

کنٹینروں اور جہازوں کی تبدیلی، ملکِ اصل کے بارے میں غلط بیانی اور درآمد سے متعلق جعلی دستاویزات تیار کرنے کا مقصد کھیپ کے پاکستانی تعلق  کو چھپانا تھا۔

تحقیقات کے دوران اہم دستاویزی شواہد حاصل ہوئے، جن سے واضح طور پر ثابت ہوا کہ کھیپ پاکستان سے دبئی کے راستے ہندوستان پہنچی تھی، جو اس کے ملکِ اصل کے طور پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے اعلان کے برخلاف تھا۔

تحقیقات سے مزید انکشاف ہوا کہ یہ درآمد قابلِ اطلاق درآمدی پالیسی کی دو شرائط کی خلاف ورزی تھی۔ پہلی، ڈی جی ایف ٹی کے 2 مئی 2025 کے نوٹیفکیشن نمبر 06/2025-26 کے تحت پاکستان میں پیدا ہونے والی یا پاکستان سے برآمد کی جانے والی تمام اشیا کی براہِ راست یا بالواسطہ درآمد یا ان کی ترسیل پر پابندی عائد ہے۔ دوسری، ڈی جی ایف ٹی کے 5 اپریل 2024 کے نوٹیفکیشن نمبر 02/2023 کے ذریعے یکم جولائی 2024 سے ہندوستان میں تربوز کے بیجوں کی درآمد کو محدود کر دیا گیا ہے۔ چنانچہ تقریباً 2.02 کروڑ روپے کی بازاری مالیت والی اس کھیپ کو کسٹمز ایکٹ، 1962 کی متعلقہ دفعات کے تحت 14 اکتوبر 2026 کو ضبط کر لیا گیا۔

مزید تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ درآمد کنندہ نے فروری 2026 میں اسی دبئی میں مقیم سپلائر سے 22000 کلوگرام خربوزے کے بیجوں کی ایک کھیپ پہلے بھی منگوائی تھی اور ان اشیا کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے تعلق رکھنے والا ظاہر کیا تھا۔ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کھیپ کو بھی ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کیا گیا تھا، جس سے ملکِ اصل کے بارے میں کیے گئے دعوے پر سنگین شکوک پیدا ہوتے ہیں۔

تحقیقات سے دو ایسے رشتہ داروں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے جو درآمد و برآمد کوڈ (آئی ای سی) کے حامل شخص کے بیٹے اور بھتیجے ہیں۔ مبینہ طور پر یہ دونوں کارروائی کے مختلف مراحل کو سنبھال رہے تھے۔ بیٹا دبئی میں قائم سپلائر کمپنی کا مالک اور ڈائریکٹر ہے، جبکہ اس کا کزن ہندوستان میں درآمد سے متعلق رسمی کارروائیوں اور مقامی فروخت کا انتظام کر رہا تھا۔ دونوں افراد کو 22 اکتوبر 2026 کو گرفتار کیا گیا۔

یہ کارروائی تیسرے ممالک کے راستے لائی جانے والی پاکستان سے تعلق رکھنے والی اشیا پر ہندوستان کی درآمدی پابندی سے بچنے کی کوششوں کے خلاف ڈی آر آئی کی حالیہ بڑی نفاذی کارروائیوں کے تسلسل میں کی گئی ہے۔

ستمبر 2026 میں ڈی آر آئی نے ناسک کے سی ایف ایس امباڈ میں 13 کنٹینروں میں پیک پاکستانی اصل کی 362 میٹرک ٹن سے زائد خشک کھجوریں ضبط کی تھیں۔ یہ کارروائی جبل علی، دبئی کے راستے ان کی منتقلی اور ملکِ اصل کے بارے میں غلط بیانی کا انکشاف ہونے کے بعد کی گئی تھی۔

اس سے حال ہی میں، اکتوبر 2026 میں، ڈی آر آئی نے سری لنکا کے کولمبو کے راستے لائے جانے والے پاکستانی اصل کے صنعتی نمک/ہمالیائی سنگِ نمک کی 7,311 میٹرک ٹن مقدار پر مشتمل 295 کنٹینروں کی غیر قانونی درآمد کا پتا لگایا تھا۔ اس کارروائی میں ملکِ اصل کے جعلی سرٹیفکیٹ اور انوائس استعمال کیے گئے تھے۔

اپریل 2025 میں پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد، حکومتِ ہند نے قومی سلامتی اور عوامی پالیسی کے مفاد میں، ڈی جی ایف ٹی کے 2 مئی 2025 کے نوٹیفکیشن نمبر 06/2025-26 کے ذریعے پاکستان میں پیدا ہونے والی یا پاکستان سے برآمد کی جانے والی تمام اشیا کی براہِ راست یا بالواسطہ درآمد یا ان کی ترسیل پر پابندی عائد کر دی تھی۔

ڈی آر آئی کسٹمز دھوکہ دہی اور درآمدی پابندیوں سے بچنے میں ملوث نیٹ ورکس کی نشاندہی کرنے اور انہیں ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، تاکہ ہندوستان کے تجارتی ضوابط کی سالمیت اور معاشی سلامتی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ش ت۔ن م۔

U- 6677


(ریلیز آئی ڈی: 2328347) وزیٹر کاؤنٹر : 6