ارضیاتی سائنس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے دہلی۔این سی آر کے لیے اپنی نوعیت کی دنیا کی پہلی فضائی آلودگی تجزیاتی سہولت کا افتتاح کیا


انٹیگریٹڈ ایٹموسفیرک کیمسٹری اینڈ ایروسول ٹاکسیکٹی اینالیسس لیبارٹری  (اے اے ٹی اے ایل) فضائی آلودگی کے ذرائع کی حقیقی وقت میں شناخت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے

دہلی کی ہوا کو آلودہ کرنے والے عوامل، ان کے ذرائع اور صحت پر ان کے ممکنہ اثرات کی نشاندہی کے لیے اے کیو آئی کے اعداد و شمار سے آگے بڑھنے والی نئی سہولت: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حقیقی وقت میں آلودگی کے مختلف ذرائع کے حصے کا تعین، ہوا کے معیار کی پیش گوئی اور سائنسی فیصلہ سازی کو مستحکم کرنے کے لیے یہ سہولت (اے آئی آر ڈبلیو آئی ایس ای)  کے ساتھ مربوط ہے

یہ سہولت سی اے کیو ایم اور آلودگی پر قابو پانے والی ایجنسیوں کو ہدف پر مبنی اقدامات کرنے اور ان کی افادیت کا جائزہ لینے میں مدد دے گی: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سائنسی شواہد پر مبنی فضائی آلودگی کے انتظام کے لیے تمام سرکاری محکموں کے درمیان مربوط کارروائی ضروری ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 OCT 2026 3:34PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) نیز وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن، محکمۂ جوہری توانائی اور محکمۂ خلا کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج دہلی۔این سی آر کے لیے اپنی نوعیت کی دنیا کی پہلی فضائی آلودگی تجزیاتی سہولت کا افتتاح کیا۔ ’انٹیگریٹڈ ایٹموسفیرک کیمسٹری اینڈ ایروسول ٹاکسیکٹی اینالیسس لیبارٹری‘ (اے اے ٹی اے ایل) کے نام سے موسوم یہ سہولت فضائی آلودگی کے ذرائع کی حقیقی وقت میں شناخت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔

اس سہولت کو اپنی نوعیت کی دنیا کی پہلی مربوط سہولت قرار دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ دہلی-این سی آر کا انتخاب فضائی آلودگی کے حوالے سے عوام کی شدید تشویش کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سہولت محض آلودگی کی سطح کی پیمائش تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ ہوا کے معیار کا تجزیہ کرکے آلودگی کی نوعیت، اس کے ذرائع، آلودگی میں مختلف ذرائع کے نسبتی حصےاور صحت پر اس کے ممکنہ اثرات کی نشاندہی بھی کرے گی۔ اس کے علاوہ، بروقت اقدامات میں مدد کے لیے حقیقی وقت کے اعداد و شمار اور پیشگی پیش گوئیاں بھی فراہم کرے گی۔

اس سہولت کا افتتاح آئی آئی ٹی ایم کی دہلی شاخ میں کیا گیا۔ اس موقع پر وزارتِ ارضیاتی علوم کے سکریٹری ڈاکٹر ٹی سرینواس کمار، آئی آئی ٹی ایم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اے سوریا چندر راؤ اور آئی ایم ڈی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مہاپاترا بھی موجود تھے۔ یہ سہولت ’مشن موسم‘ کے تحت قائم کی گئی ہے، جس کا اعلان وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ماحولیاتی آلودگی کے سائنسی مطالعے کو مستحکم کرنے اور دہلی-این سی آر میں ہوا کے معیار کے انتظام کے لیے قابلِ عمل سائنسی شواہد فراہم کرنے کے مقصد سے کیا تھا۔ یہ لیبارٹری ایک مربوط نظام کے تحت جدید ماحولیاتی پیمائشی آلات، تفصیلی کیمیائی تجزیے، آلودگی کے ذرائع کی شناخت اور فیصلہ سازی میں معاون صلاحیتوں کو یکجا کرتی ہے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ 10 سے 12 برسوں کے دوران ہوا کے معیار کی پیش گوئی اور تجزیے کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نئی سہولت ایک اہم قدم ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف فضا میں موجود آلودگی کی مقدار معلوم کرنے میں مدد ملے گی، بلکہ یہ بھی پتا چل سکے گا کہ آلودگی کن اجزا پر مشتمل ہے اور اس کے ذرائع کیا ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’اس سے پہلے، بحث زیادہ تر اس بات تک محدود رہتی تھی کہ آلودگی کی سطح 100 ہے یا 200۔ یہ سہولت ہمیں آلودگی کی ساخت اور اس میں مختلف ذرائع کے حصے کو سمجھنے میں مدد دے گی۔ دہلی کے لوگوں کی تشویش دور کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے یہ نہایت اہم ہے کہ اقدامات سائنسی شواہد کی بنیاد پر کیے جائیں۔‘‘

اے اے ٹی اے ایل سائنس دانوں کو فضائی آلودگی کے مختلف ذرائع کے درمیان فرق کرنے میں مدد دے گی۔ ان میں گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، صنعتی سرگرمیاں، بایوماس اور فصلوں کی باقیات جلانا، تعمیراتی سرگرمیاں، سڑکوں کی دھول اور آس پاس کے علاقوں سے منتقل ہوکر آنے والے آلودہ مادے شامل ہیں۔ آلودگی میں ان ذرائع کے نسبتی حصے کا اندازہ لگانے سے حکام کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کسی خاص وقت میں کون سی سرگرمیاں ہوا کے معیار کو خراب کر رہی ہیں اور کن ذرائع پر قابو پانے سے سب سے زیادہ مؤثر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

آلودگی کے ذرائع کی حقیقی وقت میں نشاندہی کی اہمیت واضح کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے نامہ نگاروں کو ایک مثال پیش کی۔ اسکرین پر دکھایا گیا کہ اس وقت دہلی کی فضائی آلودگی میں نقل و حمل کا حصہ تقریباً 25 فیصد تھا، جبکہ فضائی آلودگی کی مجموعی سطح تقریباً 180 ریکارڈ کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی معلومات فضائی آلودگی سے نمٹنے کی حکمت عملی کو عمومی جائزوں سے آگے بڑھا کر ان مخصوص ذرائع پر مرکوز کرنے میں مدد دے سکتی ہیں جو آلودگی میں حقیقی طور پر حصہ ڈال رہے ہیں۔

یہ لیبارٹری فضا میں موجود گیسوں اور ایروسول کی کیمیائی ساخت کا تجزیہ کرنے کے لیے جدید آلات سے لیس ہے۔ ان میں باریک ذراتی مادے (پی ایم 2.5)، دھاتوں، زہریلے عناصر اور دیگر اجزا کا تجزیہ بھی شامل ہے۔ اس کی مدد سے سائنس دان یہ تحقیق کر سکیں گے کہ آلودگی پھیلانے والے مادے فضا میں کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کرتے ہیں، ان میں کس طرح تبدیلیاں آتی ہیں اور مختلف اجزا آلودگی کے مجموعی بوجھ میں کس قدر حصہ ڈالتے ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ سہولت فضائی آلودگی کے باریک اجزا، بشمول دھاتی عناصر اور دیگر ممکنہ طور پر مضر اجزا، کے بارے میں معلومات فراہم کرے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مختلف آلودہ اجزا صحت پر مختلف اثرات مرتب کر سکتے ہیں، اس لیے ان کی مقدار کے ساتھ ساتھ ان کی کیمیائی ساخت اور ممکنہ زہریلے پن کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔

اس طرح حاصل ہونے والے سائنسی شواہد سے صحت کے حکام کو ذراتی آلودگی کی مختلف اقسام سے وابستہ ممکنہ خطرات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ فضائی آلودگی کے صحتِ عامہ پر اثرات کا جائزہ لینے کے لیے سائنسی اداروں، صحت کے اداروں اور ماحولیاتی حکام کے درمیان قریبی تال میل کو فروغ دینے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ لیبارٹری آئی آئی ٹی ایم کے ’اے آئی آر ڈبلیو آئی ایس ای‘ (AIRWISE) یعنی ہوا کے معیار سے متعلق انتباہ اور اخراج کے لیے مربوط فیصلہ معاون نظام کے ساتھ منسلک ہے۔ یہ نظام آلودگی کے مؤثر انتظام میں مدد کے لیے ہوا کے معیار کی پیش گوئیوں، مشاہدات اور آلودگی کے ذرائع سے متعلق معلومات کو یکجا کرتا ہے۔

پروجیکٹ ٹیم نے وضاحت کی کہ اے آئی آر ڈبلیو آئی ایس ای اگلے 72 گھنٹوں کے لیے 400 میٹر کے مقامی ریزولوشن پر ہوا کے معیار کی پیش گوئی کرتا ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے کہ دہلی کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی سطح کس طرح مختلف ہو سکتی ہے۔ یہ نظام ان ذرائع کی نشاندہی کرنے میں بھی معاون ہے جن سے مخصوص مقامات پر ہوا کا معیار خراب ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس مربوط نظام کے ذریعے حقیقی وقت کی معلومات کے ساتھ اگلے چار دنوں کے لیے پیش گوئیاں بھی فراہم کی جائیں گی، جس سے حکام کو آلودگی کی بدلتی ہوئی صورتِ حال سے نمٹنے کی تیاری میں مدد ملے گی۔

ایم اے کیو ڈبلیو ایس کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈاکٹر سچن گھُڈےنے کہا کہ یہ مربوط سہولت دہلی-این سی آر میں ہوا کے معیار کے انتظام کو مستحکم کرے گی۔ اس کے تحت پرالی جلانے، گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں، تعمیراتی سرگرمیوں اور سڑکوں کی دھول سمیت آلودگی کے مختلف ذرائع کے بارے میں پیشگی انتباہات اور تفصیلی معلومات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ان معلومات سے کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ (سی اے کیو ایم) اور دیگر متعلقہ نفاذی ایجنسیوں کو آلودگی کے بڑے ذرائع کی نشاندہی کرنے، ہدف پر مبنی اقدامات کی منصوبہ بندی کرنے اور ان کی افادیت کا جائزہ لینے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہوا کے معیار کی پیش گوئی کا متعلقہ نظام اگلے 72 گھنٹوں کے لیے 400 میٹر کی مقامی ریزولوشن پر پیش گوئیاں فراہم کرتا ہے، جس سے دہلی کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی سطح اور اس کے ممکنہ ذرائع کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ پیش گوئی کی اس صلاحیت کو ایک اہم تکنیکی پیش رفت قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر گھوڑے نے کہا کہ بھارت نے عالمی پیش گوئی کے نظاموں کے ہم پلہ اعلیٰ مقامی ریزولوشن والا نظام تیار کیا ہے۔ اس صلاحیت کو دوسرے شہروں تک بھی وسعت دی جا سکتی ہے۔

سرکاری ایجنسیوں کے درمیان تال میل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ فضائی آلودگی کے مسئلے کو کسی ایک محکمے کی انفرادی کوششوں سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس پہل کو وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے تجویز کردہ ’مکمل حکومتی نقطۂ نظر‘ کی ایک مثال قرار دیا، جس کے تحت سائنسی اداروں، ماحولیاتی حکام، آلودگی پر قابو پانے والی ایجنسیوں اور آفات کے انتظام سے متعلق اداروں کو ایک ساتھ لایا گیا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ سائنسی معلومات کو مؤثر عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے وزارتِ ارضیاتی علوم، وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی، آلودگی پر قابو پانے والے حکام اور آفات سے نمٹنے والی ایجنسیوں کے درمیان قریبی تال میل اور تعاون ضروری ہوگا۔

کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ (سی اے کیو ایم) اور دیگر متعلقہ نفاذی ایجنسیوں کے لیے یہ سہولت پیمائش پر مبنی سائنسی شواہد فراہم کرے گی، جن کی مدد سے ہوا کے معیار میں بگاڑ کے ذمہ دار ذرائع کی نشاندہی، فوری اقدامات کے لیے ترجیحی شعبوں اور مقامات کا تعین اور دہلی-این سی آر میں مربوط کارروائیوں میں مدد مل سکے گی۔ اے آئی آر ڈبلیو آئی ایس ای کی پیش گوئیوں کے ساتھ ان معلومات کو بروئے کار لانے سے گریڈیڈ رسپانس ایکشن پلان (جی آر اے پی) کے تحت احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور ردعمل سے متعلق فیصلوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

اے اے ٹی اے ایل کا افتتاح جدید ماحولیاتی سائنس کو عوامی پالیسی اور عملی اقدامات سے مربوط کرنے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ حقیقی وقت کی پیمائش، کیمیائی ساخت کے تجزیے، آلودگی میں مختلف ذرائع کے نسبتی حصے کا تعین اور پیش گوئی کی صلاحیتوں کو یکجا کرکے یہ سہولت حکام کو فضائی آلودگی کو زیادہ درست طور پر سمجھنے اور دہلی-این سی آر کو درپیش اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے زیادہ مربوط اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے میں مدد دے گی۔

***

UR-6636

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2328003) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil