وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

وزیر اعظم نریندر مودی کی کابینہ میں خزانہ اور کمپنی امور کی وزیر مملکت محترمہ نرملا سیتا رمن نے آج نئی دہلی میں کونسل برائے مالیاتی استحکام اور ترقی (ایف ایس ڈی سی) کے 30ویں اجلاس کی صدارت کی ہے


بڑھتی ہوئی ارضیاتی سیاسی غیر یقینی صورتحال، آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے عروج اور عالمی بانڈ کی آمدنی میں تیزی سے ہونے والے اضافے کے درمیان، ایف ایس ڈی سی نے میکرو فنانشل استحکام کا جائزہ لیا

ایف ایس ڈی سی نے بھارت کے مالیاتی استحکام کو لاحق ابھرتے ہوئے خطرات کو کم کرنے کے لیے انتہائی چوکسی اور پیشگی اقدامات پر زور دیا

مرکزی وزیرِ خزانہ نے عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر ایف ایس ڈی سی کے مزید متواتر  اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔

ایف ایس ڈی سی نے ملکی سرمایہ کاری کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے، سرمائے کی آمد کو بڑھانے اور مالیاتی شعبے کی اصلاحات کو مزید گہرا کرنے پر غور و خوض کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 OCT 2026 7:30PM by PIB Delhi

خزانہ اور کمپنی امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے آج نئی دہلی میں ایف ایس ڈی سی کے ارکان کے ساتھ کونسل برائے مالیاتی استحکام اور ترقی کے 30ویں اجلاس کی صدارت کی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261023193117_f29704.jpg

ایف ایس ڈی سی نے دیگر امور کے ساتھ ساتھ، میکرو فنانشل استحکام اور ان سے نمٹنے کے لیے بھارت کی تیاریوں سے متعلق مسائل پر غور و خوض کیا۔ مالیاتی شعبے میں ریگولیٹری اصلاحات اور ڈیجیٹل جدت کاری کی اہمیت کے پیشِ نظر، کونسل نے فن ٹیک کے شعبے میں اختراع کو فروغ دینے اور مالیاتی اثاثوں کے ساتھ ساتھ دیگر حقیقی دنیا کے اثاثوں کی ٹوکن سازی کے امکانات تلاش کرنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261023193130_a90159.jpg

کونسل نے بھارتی مالیاتی شعبے کے سائبر تحفظ کا جائزہ لیا اور فنانشل سیکٹر سائبر سیکیورٹی اسٹریٹجی (ایف ایس سی ایس ایس) کا نوٹس لیا، جسے اقتصادی امور کے محکمہ، مالیاتی خدمات کے محکمہ اور الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے اشتراک سے مالیاتی شعبے کے ریگولیٹرز اور سائبر سیکیورٹی ایجنسیوں پر مشتمل ایک بین الوزارتی گروپ (آئی ایم جی) نے تیار کیا ہے۔ توقع ہے کہ اس حکمتِ عملی (ایف ایس سی ایس ایس) کے نفاذ سے بھارتی مالیاتی شعبے کے مجموعی سائبر تحفظ کو تقویت ملے گی۔ اس کے علاوہ، بات چیت میں اہم معلوماتی بنیادی ڈھانچے کے تحفظ، حفاظتی نظاموں کی لچک اور علاقائی دیہی بینکوں (آر آر بی) کی سائبر سیکیورٹی کی تیاریوں کو بہتر بنانے کے لیے بھارت کی آمادگی پر بھی غور کیا گیا۔"

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261023193140_ec00f7.jpg

ایف ایس ڈی سی نے ماضی کے فیصلوں اور بجٹ کے اعلانات پر عمل درآمد کے لیے ایک حکمتِ عملی تیار کرنے سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا، جن میں درج ذیل شامل تھے:

  • ملکی سرمایہ کاری کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا اور سرمایہ کاری کے لیے وسائل کے بہاؤ کو بہتر بنانا، بشمول گفٹ – آئی ایف ایس سی میں؛
  • کے وائی سی کے عمل کو آسان اور ڈیجیٹل بنانا، اور غیر مقیم بھارتیوں اور غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کے لیے ڈیجیٹل آن بورڈنگ کی سہولت فراہم کرنا؛
  • بھارت میں ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (کو وسعت دینے کے لیے اصلاحات کرنا، بشمول اکاؤنٹ ایگریگیٹر اور یونائیٹڈ لینڈنگ انٹرفیس (یو ایل آئی) فریم ورک، جس میں خاص توجہ مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز ایم ایس ایم ایز پر مرکوز ہو؛
  • مالیاتی شعبے میں درمیانی اخراجات کو کم کرنا، ضابطوں اور قوانین کی ردعمل کی صلاحیت کو بہتر بنانا اور بھارت میں کریڈٹ گارنٹی اسکیموں کو منطقی بنانا۔

ایف ایس ڈی سی نے ملکی اور عالمی میکرو فنانشل صورتحال سے ابھرتے ہوئے رجحانات کا نوٹس لیا اور خاص طور پر جاری جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ابھار اور عالمی بانڈ کی آمدنی میں شدید اضافے کے پیشِ نظر چوکسی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ کونسل نے مالیاتی نظام کے تحفظ اور لچک کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات اپناتے ہوئے، مالیاتی استحکام کو لاحق ممکنہ خطرات کو کم کرنے کے لیے پیشگی کوششوں کی ضرورت کو تسلیم کیا۔ ارکان نے مالیاتی شعبے کی وسیع تر ترقی کے لیے ریگولیٹرز کے باہمی تال میل کو مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا۔

مرکزی وزیر خزانہ نے متعلقہ ریگولیٹرز اور شراکت داروں پر یہ زور بھی دیا کہ وہ دعویٰ نہ کیے گئے اثاثوں (جیسے بینک ڈپازٹس، ڈیویڈنڈز، شیئرز، پوسٹ آفس اکاؤنٹس، انشورنس اور پنشن فنڈز وغیرہ) کو ان کے حقیقی مالکان کو واپس کرنے کے عمل کو تیز کریں۔

ایف ایس ڈی سی نے دعویٰ نہ کیے گئے موجودہ مالیاتی اثاثوں کو ان کے اصل مالکان کو واپس کرنے کے لیے ضلع سطح پر شراکت داروں کی جانب سے چلائی جانے والی 'آپ کا پیسہ، آپ کا حق' مہم کی کامیابی کا نوٹس لیا، اور وزارتوں اور ریگولیٹرز کو ہدایت دی کہ وہ حقیقی مالکان کو بروقت رقم کی واپسی کے لیے مزید کوششیں کریں۔

بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی چنوتیوں اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر، محترمہ سیتا رمن نے کونسل پر زور دیا کہ وہ پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق مزید متواتر وقفوں سے ایف ایس ڈی سی کے اجلاس منعقد کرے۔

ایف ایس ڈی سی نے گورنر ریزرو بینک آف انڈیا کی صدارت میں کام کرنے والی ایف ایس ڈی سی کی ذیلی کمیٹی کی سرگرمیوں اور کونسل کے ماضی کے زیرِ التوا فیصلوں پر کی گئی کارروائی کا بھی جائزہ لیا۔

ایف ایس ڈی سی کے اجلاس میں جناب سنجے ملہوترا، گورنر ریزرو بینک آف انڈیا؛ محترمہ انورادھا ٹھاکر، سکیریٹری محکمہ اقتصادی امور، وزارتِ خزانہ؛ جناب سنجے لوہیا، سکیریٹری محکمہ مالیاتی خدمات، وزارتِ خزانہ؛ جناب اروند شریواستو، سکیریٹری محکمہ محصولات، وزارتِ خزانہ؛ جناب ایس کرشنن، سکیریٹری الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت؛ ڈاکٹر پلوّی جین گوول، سکیریٹری کمپنی امور کی وزارت؛ ڈاکٹر وی اننت ناگیشورن، چیف اکنامک ایڈوائزر، وزارتِ مالیات؛ جناب توہین کانتا پانڈے، چیئرپرسن سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (ایس ای بی آئی)؛ جناب اجے سیٹھ، چیئرپرسن انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف انڈیا (آئی آر ڈی اے آئی)؛ جناب کے راجارامن، چیئرپرسن انٹرنیشنل فنانشل سروسز سینٹرز اتھارٹی (آئی ایف ایس سی اے)؛ جناب ایس رمن، چیئرپرسن پنشن فنڈ ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ایف آر ڈی اے)؛ جناب جینتی پرساد، قائم مقام چیئرپرسن انسولوینسی اینڈ بینکرپسی بورڈ آف انڈیا (آئی بی بی آئی)؛ ڈاکٹر سنجے بہل، ڈائریکٹر جنرل انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (سی ای آر ٹی - اِن)؛ اور محترمہ اپرنا سنہا، سکیریٹری ایف ایس ڈی سی، محکمہ اقتصادی امور، وزارتِ مالیات نے بھی شرکت کی۔

******

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:6613


(ریلیز آئی ڈی: 2327750) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati