وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

بھارت نے اندرونِ ملک چھوٹے پیمانے پر ماہی گیری کے لیے قومی لائحہ عمل کی تیاری کے اگلے مرحلے میں قدم رکھ دیا ہے


بھارت نے آئندہ 5 برسوں میں مچھلی کی پیداوار 3 کروڑ ٹن تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے:  ماہی پروری  کے مرکزی سکریٹری

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 OCT 2026 3:58PM by PIB Delhi

بھارت نے اندرونِ ملک چھوٹے پیمانے پر ماہی گیری کے لیے ایک علیحدہ قومی لائحہ  عمل کی تیاری کے مرحلے میں قدم رکھ دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ماہی گیری سے وابستہ افراد کے ذریعہ معاش کو بہتر بنانا، باہمی تال میل کو فروغ دینا اور میٹھے پانی کے وسائل کا بہتر انتظام یقینی بنانا ہے۔حکومتِ ہند کے محکمۂ ماہی پروری کے سکریٹری ڈاکٹر ابھیلکش لیکھی نے جمعہ کے روز چھوٹے پیمانے پر اندرونِ ملک ماہی گیری کے لیے قومی لائحۂ عمل (این پی او اے) کی تیاری کے مرحلے کا باضابطہ آغاز کیا۔ یہ لائحۂ عمل اقوامِ متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے وضع کردہ فریم ورک کے تحت تیار کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کی قیادت مرکزی محکمۂ ماہی پروری کر رہا ہے، جس میں خلیجِ بنگال پروگرام بین  حکومتی ادارہ  (بی او بی پی-آئی جی او) بھی تعاون کر رہا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261023155856_cdd3e4.jpg

بھوپال میں منعقدہ دو روزہ قومی ورکشاپ میں لائحہ عمل کی تیاری کے لیے اہم ترجیحات کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں ماہی گیری سے وابستہ برادریوں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے لیے مجوزہ پروگرام بھی شامل ہے۔ ماہی پروری کے اداروں کے ماہرین اور متعلقہ فریقوں نے لائحۂ عمل کی تیاری کے مرحلے میں انجام دی جانے والی سرگرمیوں کے لیے ایک خاکہ بھی تیار کیا۔مجمع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ابھیلکش لیکھی نے اندرونِ ملک چھوٹے پیمانے کی پائیدار  ماہی گیری کے لیے بھارت کے مجوزہ قومی لائحہ عمل کو ملک بھر کی ماہی گیر برادریوں تک پہنچانے کی غرض سے مشن کے طور پر ایک وسیع رابطہ مہم چلانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ’’اس دستاویز کو سرکاری دفاتر تک محدود رہنے کے بجائے لوگوں کے ذریعۂ معاش میں عملی بہتری لانے کا ذریعہ بننا چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ لائحۂ عمل میں موسمیاتی بحران کے پیش نظر پائیداری کو ترجیح دی جانی چاہیے اور ماہی گیروں کی آمدنی بڑھانے کے لیے پیداوار سے لے کر فروخت تک کی پوری ویلیو چین  کو مضبوط بنایا جانا چاہیے۔

*اگلے 5 برسوں میں مچھلی کی پیداوار 3 کروڑ ٹن تک پہنچانے کا ہدف*

ڈاکٹر لیکھی نے مزید کہا، ’’بھارت نے اگلے پانچ برسوں میں مچھلی کی پیداوار 3 کروڑ ٹن تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات بڑھ کر 1.25 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔‘‘ اس شعبے کی موجودہ صورتِ حال کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بھارت میں مچھلی کی سالانہ پیداوار 1.97 کروڑ ٹن تک پہنچ گئی ہے، جس میں اندرونِ ملک ماہی گیری کا حصہ تقریباً تین چوتھائی ہے، جبکہ سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات 70,000 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہیں۔ تاہم، ماہی پروری کے سکریٹری نے اس بات پر زور دیا کہ پیداوار اور برآمدات میں اضافے کے ساتھ چھوٹے پیمانے پر ماہی گیری کرنے والوں کے ذریعۂ معاش کا تحفظ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔پائیداری کے حوالے سے ڈاکٹر لیکھی نے موسمیاتی تبدیلی اور پانی کے معیار میں گرتی ہوئی سطح کو اندرونِ ملک ماہی گیری کے لیے اہم تشویش ناک مسائل قرار دیا۔ انہوں نے آبی ذخائر میں آکسیجن کی مقدار میں کمی جیسے چیلنجوں کی جانب بھی توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ لائحہ عمل میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے اقدامات شامل ہونے چاہییں اور اس سلسلے میں ماہی گیر برادریوں کے تجربات سے استفادہ کیا جانا چاہیے، کیونکہ وہ ان چیلنجوں کا براہِ راست سامنا کرتی ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261023155919_3e095c.jpg

تنوع

سکریٹری ڈاکٹر لیکھی نے مزید کہا، ’’بھارت میں اندرونِ ملک ماہی گیری کا شعبہ اپنے متنوع ماحولیاتی نظام، ماہی گیر برادریوں اور ہر خطے کے مخصوص چیلنجوں کے باعث اقوامِ متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے لیے ایک نمونہ بن سکتا ہے۔ اس کے ذریعے ایف اے او کے ساتھ مل کر کام کرنے، مختلف خطوں کی ضروریات کے مطابق طریقۂ کار کو آزمانے اور ان سے حاصل ہونے والے تجربات کو دوسرے علاقوں تک پہنچانے کے مواقع فراہم ہو سکتے ہیں۔ ملک بھر کی ماہی گیر برادریوں کے تجربات پائیدار ماہی گیری کے انتظام اور ذریعہ معاش کی ترقی کے لیے مقامی حالات کے مطابق حکمتِ عملی وضع کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، جن سے دوسرے علاقوں میں بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔‘‘مجوزہ لائحہ عمل میں دریاؤں، نہروں، آبی ذخائر، جھیلوں، سیلابی میدانوں میں واقع آبی علاقوں، تالابوں اور سرد پانی کے نظاموں میں کی جانے والی ماہی گیری کا احاطہ کیا گیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261023155926_635305.jpg

خلیجِ بنگال پروگرام بین  حکومتی تنظیم (بی او بی پی-آئی جی او) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پی کرشنن نے کہا، ’’لائحہ عمل کی تیاری کے مرحلے میں ماہی گیری کے حقوق اور آبی وسائل کے انتظام، روزگار اور باعزت کام کے مواقع، صنفی مساوات، پیداوار سے لے کر فروخت تک کی ویلیو چین، ماہی گیری کے بعد پیداوار کی دیکھ بھال اور تجارت کے علاوہ آفات کے خطرات اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مسائل پر توجہ دیے جانے کی توقع ہے۔‘‘لائحہ عمل کو آئندہ ماہ عوامی سطح پر جاری کرنے اور اس کے بعد نفاذ سے قبل متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ذریعے حتمی شکل دی جائے گی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261023155935_a76295.jpg

اس موقع پر مدھیہ پردیش کے ماہی پروری کے سکریٹری جناب سوَتنتر کمار سنگھ، جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر گنجن کرشنا اور  ایف اے او کی  پروجیکٹ آفیسر جولیا گوریلی نے بھی خطاب کیا۔

 ****

ش ح ۔ع ح۔   ر ب

U: 6577


(ریلیز آئی ڈی: 2327422) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil