پوسٹ کرنے کی تاریخ:
23 OCT 2026 1:08PM by PIB Delhi
نہایت قابل احترام پوجیہ سوامی تیجومیانند جی، پوجیہ سوامی سوروپانند جی، پوجیہ سوامی مترانند جی، پوجیہ سوامی وی ویکتانند جی، تمام قابل احترام سنت حضرات، آچاریہ حضرات، چِنمَے مشن کے تمام مخلص خادمین، ملک و بیرونِ ملک سے تشریف لائے عقیدت مندوں اور سادھک حضرات، خواتین و حضرات!
آپ سب کی بدولت آج مجھے چِنمَے مشن کے امرت مہوتسو میں شرکت کا موقع ملا ہے۔ یہ ایک بالکل منفرد روحانی تجربہ ہے۔ یہ ہمارے سنتوں کی میرے تئیں خصوصی محبت اور آشیرواد کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ چِنمَے مشن محض ایک ادارہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک چِنمَے فکر ہے، جس کی بنیاد ایک چِنمَے رِشی نے رکھی تھی۔ کئی دہائیوں پر مشتمل اس کا سفر بھی چِنمَے عزائم سے لبریز رہا ہے اور جو چِنمَے ہے، وہ فطری طور پر ابدی اور امرت سے معمور ہے۔ اسی لیے آج بھارت منڈپم میں اس تقریب کا نام ’چِنمَے امرت مہوتسو‘ بھی اتنا ہی بامعنی ہے۔
میں دنیا بھر میں چِنمَے مشن سے وابستہ سنتوں اور آچاریوں، لاکھوں سادھکوں اور پیروکاروں کو چِنمَے امرت مہوتسو کی دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
ساتھیو!
آج یہاں آکر میرے دل میں جو احساس پیدا ہو رہا تھا، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اس تقریب نے اسے مزید جاندار بنا دیا۔ پوجیہ گرو دیو سوامی چِنمَیانند جی کو اس روپ میں دیکھنا اور ان کے ہولو بوٹ سے گفتگو کرنے کا موقع ملنا، ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میں 33 سال پیچھے ماضی میں چلا گیا ہوں۔
بڑودہ میں 1993 میں گرو دیو سے ہونے والی میری ملاقات، ان کے ساتھ ہوئی گفتگو، ان کی محبت اور ان کا آشیرواد، آج سب کچھ دوبارہ میری آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ ایک لمحے کے لئے ایسا محسوس ہوا جیسے میں پھر سے گرو دیو کی براہِ راست قربت میں آ گیا ہوں۔ میرے لیے یہ ایک انتہائی جذباتی تجربہ ہے۔
اس حیرت انگیز تجربے کے لئے میں چِنمَے مشن کے تمام ساتھیوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور ان کے تئیں اپنی ممنونیت کا اظہار کرتا ہوں۔
ساتھیو!
فروری اور مارچ کے آس پاس 1993 میں میری پوجیہ گرو دیو سے ملاقات ہوئی تھی۔ میں انہیں امریکہ کے شہر شکاگو میں منعقد ہونے والی عالمی مذہبی کانفرنس کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کی دعوت دینے گیا تھا۔ اسی وقت سوامی وویکانند جی کی تاریخی تقریر کے 100 سال مکمل ہو رہے تھے۔
پوجیہ گرو دیو نے دعوت قبول کر لی۔ وہ امریکہ گئے اور وہاں مختلف پروگراموں میں مسلسل لوگوں کو عالمی مذہبی کانفرنس کی صد سالہ تقریبات کے بارے میں بیدار کرتے رہے اور اس میں شرکت کے لیے لوگوں کو ترغیب دیتے رہے۔
لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ مذہبی کانفرنس سے چند ہفتے پہلے ہی، 3 اگست کو امریکہ کے شہر سین ڈی ایگو میں گرو دیو جی ہم سب کو چھوڑ کر چلے گئے۔
گیارہ ستمبر کو جب شکاگو میں مذہبی کانفرنس منعقد ہوئی تو خوش قسمتی سے میں وہاں موجود تھا۔ ہم سب کو پوجیہ گرو دیو کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔ میرے ذہن میں گرو دیو کی کہی ہوئی بہت سی باتیں آ رہی تھیں۔ ان سے آخری ملاقات میں جو سنجیدہ گفتگو ہوئی تھی، وہ مجھے آج بھی یاد ہے۔
اس گفتگو کا بنیادی موضوع تھا — نوجوانوں کی طاقت کی تعمیر! اور نوجوانوں کی طاقت کے ذریعے ایک مضبوط، خود کفیل اور باصلاحیت بھارت کی تعمیر۔
ساتھیو!
ان سے ملاقات کے چند برس بعد عوامی خدمت کے لئے مجھے گجرات کے وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے کام کرنے کا عوامی آشیرواد ملا۔ اس وقت سے لے کر آج تک، گزشتہ 25 برسوں سے، میں حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے مسلسل اپنی استطاعت کے مطابق ملک کی خدمت کر رہا ہوں۔ گرو جی کا آشیرواد میرے ساتھ ہے۔
اس سفر میں میری کوششوں اور پالیسیوں کے مرکز میں ملک کے نوجوان ہی رہے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ چِنمَے امرت مہوتسو میں بھی نوجوانوں نے بڑی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
ہمارے کئی نوجوان ساتھیوں نے تقریباً 300 دنوں تک 40 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کیا ہے۔ اس دوران ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں سے رابطہ قائم کیا گیا ہے۔
اس شاندار کوشش کے لئے بھی میں پوری ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
ساتھیو!
اُپنشدوں میں کہا گیا ہے — ”وَیَم اَمْرِتَسْیَ پُترَاہ“۔ یعنی ہم امرت کی اولاد ہیں۔ یہ تصور، یہ محض ایک روحانی فلسفہ ہی نہیں ہے، بلکہ ہمارا ثقافتی یقین بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم جسمانی طور پر امر ہیں، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ ہماری شعور کی قوت ابدی ہے۔ ہمارا علم اور ہماری معرفت ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ اسی معرفت کی بدولت بھارت بھی ہزاروں برس سے ابدی حیثیت میں قائم ہے، کیونکہ لفظ ’بھارت‘ کا مفہوم ہی یہ ہے کہ جو علم اور روشنی کی تلاش میں مصروف ہو۔
اسی لئے ساتھیو!
جب ملک کی آزادی کے 75 سال مکمل ہونے کا موقع آیا تو میرے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ہمیں اس موقع کو ترقی یافتہ بھارت کے لیے ایک تحریک کا مرکز تو بنانا ہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہمیں بھارت کی اس حقیقی تصویر کو بھی زندہ کرنا ہے جو امرت جیسے افکار کو اپنی زندگی میں اپنانا جانتا ہے اور جو ہزاروں صدیوں کے اپنے تجربات کی بنیاد پر آنے والے زمانوں تک انسانیت کی فکر کر سکتا ہے۔
اسی لئے میں نے اس جشن کو ’امرت مہوتسو‘ کے طور پر منانے کی اپیل کی تھی۔ اور دیکھیے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، ایک کے بعد ایک شاندار مہمات اس عزم سے جڑتی چلی جا رہی ہیں۔ اس دوران کئی روحانی، ثقافتی اور سماجی تنظیموں نے اپنے سفر کے اہم مراحل پر امرت جیسے عہد کیے اور اب چِنمَے مشن بھی امرت مہوتسو کے ذریعے بھارت کے امرت کال کی مہم سے وابستہ ہو رہا ہے۔
اور یہی تو بھارت کے عزائم کی حقیقی طاقت ہے، یہی تو ہمارے ”اَمْرِتَسْیَ پُترَاہ“ یعنی امرت کی اولاد ہونے کا اصل ثبوت ہے۔
ساتھیو!
ہمارے ویدوں کا پیغام ہے ”وَیَم راشٹرے جاگریام پُروہتَارَہ“، یعنی ہم، جو قوم کی بھلائی چاہتے ہیں، قوم کو بیدار اور ترقی یافتہ بنائیں۔
سوامی چِنمَیانند جی نے اپنی پوری زندگی اسی منتر کو سامنے رکھ کر گزاری۔ وہ جس عقیدت کے ساتھ روحانی موضوعات پر گفتگو کرتے تھے، اسی مستعدی کے ساتھ قومی موضوعات پر بھی کھل کر اظہارِ خیال کرتے تھے، کیونکہ ہمارا ملک ہی ہماری تہذیب کی جائے پیدائش ہے۔ یہی قوم ہماری شناخت اور ہمارے وجود کی بنیاد ہے۔
سوامی جی نے ہمیشہ یہ تعلیم دی کہ ہم اپنی روحانی ترقی کو ذاتی ترقی سے جوڑیں اور ذاتی ترقی کو قوم کی پیش رفت کا ذریعہ بنائیں۔
بھارت کے لوگوں کو اپنے ملک کے تئیں خود اعتمادی اور فخر کے جذبے سے سرشار کرنا، یہی سوامی جی کا مشن تھا۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے ’گیتا گیان یگیہ‘ کا آغاز کیا۔ اُپنشدوں، ویدانت اور ہمارے مذہبی و فلسفیانہ صحیفوں کے علم کو عام لوگوں تک پہنچانے کی مہم شروع کی۔
اور آج ہم ان کے اسی عزم کے نتائج کو بڑے پیمانے پر دیکھ سکتے ہیں۔ چِنمَے مشن کی کوششوں کے نتیجے میں آج لاکھوں نوجوان ایسے ہیں جو بھارت کے ثقافتی سفیر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ نوجوان بھارتی اقدار کو نئی نسل تک پہنچا رہے ہیں۔
پوجیہ گرو دیو کی یہ خدمات بھارت کی ثقافتی اور روحانی نشاۃِ ثانیہ کا ایک اہم باب ہیں۔
ساتھیو!
آج مجھے پوجیہ گرو دیو کی صد سالہ یومِ پیدائش کا موقع بھی یاد آ رہا ہے۔ 2015 میں مجھے ان کی یاد میں ایک خصوصی سکہ جاری کرنے کا شرف حاصل ہوا تھا۔ اس وقت بھی میں نے کہا تھا کہ سوامی جی کی زندگی علم، عمل اور عقیدت کا ایک حیرت انگیز امتزاج تھی۔
ان کے گرو، سوامی شِوانند جی نے انہیں آشیرواد دیتے ہوئے کہا تھا: ”جاؤ، شیر کی طرح گرجو۔ “
انہوں نے اپنی پوری زندگی اسی جذبے کے ساتھ گزاری۔ ان کی گفتگو میں جو خود اعتمادی اور جو اندرونی قوت تھی، وہ ہر شخص کے دل پر ان کے خیالات کی گہری چھاپ چھوڑ جاتی تھی۔
ان کے ریڈیو پروگرام ’آرٹ آف مین میکنگ نے بے شمار لوگوں کو زندگی میں صحیح سمت دکھائی۔
ساتھیو!
عظیم شخصیات کا مشن ان کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔ اسی لئے آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ چِنمَے مشن کے 100 سے زیادہ تعلیمی ادارے لاکھوں بچوں اور نوجوانوں کا مستقبل سنوار رہے ہیں۔ ان اداروں میں انہیں جدید تعلیم بھی حاصل ہو رہی ہے اور وہ بھارتی تہذیبی اقدار اور ثقافت کو بھی اپنی زندگی میں اپنا رہے ہیں۔
ساتھیو!
آزادی کے وقت سوامی چِنمَیانند جی جیسی دور اندیش شخصیات نے جس انداز میں غور و فکر کیا تھا، آج ملک بھی اسی سمت میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام نئے بھارت کی ضروریات کے مطابق ہو، اس مقصد کے لیے ہم نئی قومی تعلیمی پالیسی لے کر آئے ہیں۔
اس نئی تعلیمی پالیسی میں بھارتی علمی روایت، مادری زبان میں تعلیم، جدید سائنس اور نئی ٹیکنالوجی، ان تمام چیزوں کو اہمیت دی گئی ہے۔
ساتھیو!
سوامی جی کی زندگی کا ایک اور مشن تھا — بھارتی ورثے پر فخر کرنا اور اس کا تحفظ کرنا!
آپ سب کنیا کماری میں واقع وویکانند راک میموریل سے واقف ہیں۔ سمندر کے درمیان واقع اس عظیم چٹان پر ایک یادگار تعمیر کی جائے، یہ عزم شری ایکناتھ جی راناڈے نے کیا تھا۔ اس وقت پوجیہ گرو دیو ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہوئے۔ اس عظیم کام کے لیے پہلا مالی تعاون بھی پوجیہ سوامی جی نے ہی فراہم کیا تھا۔
آج وویکانند راک میموریل ملک اور دنیا سے آنے والے لاکھوں لوگوں کے لیے تحریک اور ترغیب کا مرکز ہے۔
ساتھیو!
آج شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک، بھارت کے ثقافتی مراکز کی نشاۃِ ثانیہ ہو رہی ہے۔ چاہے کاشی وشوناتھ دھام کی نئی شکل ہو، ایودھیا میں بھگوان شری رام کا عظیم الشان مندر ہو، اُجین کا مہاکال مہالوک ہو، یا کیدارناتھ اور بدری ناتھ جیسے ہمارے مقدس دھام ہوں۔
اگر آپ گزشتہ دنوں کیدارناتھ جی گئے ہوں، تو آپ نے وہاں آدی شنکر، یعنی آدی شنکراچاریہ جی کا ایک شاندار اور روحانی مجسمہ دیکھا ہوگا، جسے وہاں نصب کیا گیا ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں آدی شنکراچاریہ جی نے اپنی جسمانی زندگی کا اختتام کیا تھا۔ آج یہ مقامات اپنی عظمت کے ساتھ دوبارہ نمایاں ہو رہے ہیں۔
آپ سب جانتے ہیں کہ ایک زمانے میں بھارت سے کتنے ہی قدیم مجسمے چوری کرکے بیرونِ ملک لے جائے گئے اور وہاں فروخت کر دیے گئے۔ انہیں روکنے والا کوئی نہیں تھا، ان کے بارے میں پوچھنے والا کوئی نہیں تھا۔ پوجا کرنے والوں کی تو بات ہی چھوڑ دیجیے، ان کے بارے میں دریافت کرنے والا بھی کوئی نہیں تھا۔
گزشتہ 12 برسوں میں ہم چوری کیے گئے ساڑھے چھ سو سے زیادہ قدیم مجسمے بھی واپس بھارت لائے ہیں۔
ہمارے ثقافتی مراکز یونیسکو کے عالمی ورثے کے مقامات کا حصہ بن رہے ہیں۔
ساتھیو!
جس طرح سوامی جی نے ہمارے مذہب اور فلسفے کو دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچایا تھا، اسی طرح آج بین الاقوامی یومِ یوگا پوری دنیا کے لوگوں کو بھارت سے جوڑ رہا ہے اور ہماری قدیم عظیم روایت سے وابستہ کر رہا ہے۔
اپنے ورثے پر فخر کرنے کا یہ اعتماد، غلامی کی ذہنیت سے آزادی حاصل کرنے کا یہ یقین، اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک اب اس راستے پر آگے بڑھ رہا ہے جس کا خواب ہمارے رِشیوں اور محبِ وطن لوگوں نے صدیوں سے دیکھا تھا۔ ان کی قوتِ فکر اس راستے میں ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔
ساتھیو!
مختلف اداروں اور تنظیموں کے اپنے اپنے مقاصد ہوتے ہیں، لیکن ایک مقصد ایسا ہے جو سب کو آپس میں جوڑتا ہے۔ وہ منزل جہاں تمام راستے آکر مل جاتے ہیں، وہ ہدف ملک کی ترقی اور ملک کا وقار ہے۔
سوامی چِنمَیانند جی کے دور میں ملک کے سامنے جو چیلنجز تھے، انہوں نے ان حالات کے مطابق اپنے عزائم تشکیل دیے ہیں۔ گزشتہ دہائیوں میں وقت بدلا ہے، ملک کے سامنے نئے چیلنجز پیدا ہوئے ہیں اور معاشرے میں نئی خرابیاں بھی پیدا ہوئی ہیں۔ آج ان مسائل کو حل کرنے کی ذمہ داری ہم سب پر ہے۔
آج ہمیں معاشرے کو تقسیم کرنے والی قوتوں کے خلاف متحد کرنا ہے۔ ہمیں خود انحصاری کے لیے ملک کے شہریوں کو بیدار کرنا ہے۔ سال 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے عزم سے ہر شہری کو جوڑنا ہے۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے ہمیں مزید سرگرم ہونا ہوگا۔
ساتھیو!
سال 2047 میں جب بھارت اپنی آزادی کے 100 سال مکمل کرے گا، اسی دور میں چِنمَے مشن بھی اپنی صد سالہ تقریبات منائے گا۔ یعنی چِنمَے مشن کا صد سالہ سفر اور ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کا سفر ایک ساتھ آگے بڑھیں گے۔
اسی لیے ہمارے اہداف بھی ایک ہیں، مقاصد بھی ایک ہیں اور ہمیں اس سفر کو مل کر آگے بڑھانا ہے۔
آپ کے پاس گرو دیو کی عظیم وراثت ہے، کئی دہائیوں کا تجربہ ہے اور دنیا بھر میں مخلص آچاریوں، سادھکوں اور کارکنوں پر مشتمل ایک وسیع کنبہ ہے۔
مجھے یقین ہے کہ آپ سب مل کر ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر میں اپنا اہم کردار ادا کریں گے۔
اسی یقین کے ساتھ، میں ایک بار پھر پوجیہ گرو دیو کے قدموں میں سر جھکاتا ہوں۔ چِنمَے مشن کے تمام سنتوں، آچاریوں، سادھکوں اور خدمت کے جذبے سے سرشار ساتھیوں کو امرت مہوتسو کی دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
ہری اوم۔
ہری اوم۔
ہری اوم۔
آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔
***
ش ح۔ ک ا۔ ش ب ن
U.NO.6566