ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

این سی آر اور ملحقہ علاقوں میں فضائی معیار کے انتظامی کمیشن کا پنجاب اور ہریانہ میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات کا جائزہ، زمینی سطح پر فوری کارروائی کی ہدایت


دھان کی پرالی جلانے کی روک تھام، فصلوں کی باقیات کے انتظام کی مشینری کے مؤثر استعمال، سخت نفاذ اور آلودگی کے دیگر اہم ذرائع پر قابو پانے پر توجہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 OCT 2026 7:22PM by PIB Delhi

این سی آر اور ملحقہ علاقوں میں فضائی معیار کے انتظامی کمیشن (سی اے کیو ایم) نے کمیشن کے چیئرمین جناب راجیش ورما کی صدارت میں آج چندی گڑھ میں پنجاب اور ہریانہ کی حکومتوں کے ساتھ الگ الگ جائزہ اجلاس منعقد کیے۔ ان اجلاسوں میں دھان کی پرالی جلانے کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور فضائی آلودگی کے دیگر اہم ذرائع کو کم کرنے کی کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔ کمیشن نے زمینی سطح پر فوری کارروائی کرنے پر زور دیا۔

پنجاب حکومت کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں سی اے کیو ایم کی 15.05.2026 کی ہدایت نمبر 99 کے مطابق دھان کی پرالی جلانے کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کے لیے ریاستی عملی منصوبے پر عمل درآمد پر توجہ مرکوز کی گئی۔ کمیشن نے دھان کی پرالی کے مؤثر انتظام کے لیے زمینی سطح پر نفاذ کے اقدامات، ضلع سطح کی تیاریوں اور نگرانی کے نظام کا جائزہ لیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261022192334_7be31c.jpg

ضلع اور کسانوں کی سطح پر فصلوں کی باقیات کے انتظام (سی آر ایم) کی مشینری کی دستیابی، تعیناتی اور مؤثر استعمال کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ مشینری کے استعمال میں موجود خامیوں کی نشاندہی اور کھیتوں کے اندر اور کھیتوں سے باہر کے طریقوں کے ذریعے دھان کے بھوسے کو جمع کرنے، اس کی نقل و حمل اور استعمال کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیشن نے فصلوں کی باقیات کی رسدی زنجیر کو مضبوط بنانے اور کٹائی کے عروج کے موسم میں دستیاب مشینری کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261022192339_eb6131.jpg

اجلاس میں سیٹلائٹ کے ذریعے آگ لگنے کی اطلاعات کی مدد سے جلائے گئے علاقوں کے تخمینے کی میدانی سطح پر تصدیق، نیز پرالی جلانے کے واقعات کی نگرانی کے لیے ضلع وار ڈرونز اور کم لاگت والے سینسرز کی تعیناتی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اینٹوں کے بھٹوں میں دھان کے بھوسے سے تیار کردہ بایوماس پیلٹس اور بریکیٹس کے استعمال کو لازمی قرار دینے والی سی اے کیو ایم کی ہدایت نمبر 92 کی تعمیل اور حرارتی بجلی گھروں میں بایوماس کوئلے کے ساتھ جلانے کے لیے مقررہ اہداف کی جانب پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

ہریانہ حکومت کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں فضائی آلودگی کے وسیع تر ذرائع کا احاطہ کیا گیا۔ ان میں دھان کی پرالی جلانا، گاڑیوں سے ہونے والی آلودگی میں کمی، سڑکوں اور کھلی جگہوں سے اٹھنے والی دھول، تعمیراتی اور انہدامی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی دھول، صنعتی آلودگی اور دیگر شناخت شدہ شعبوں میں کیے جانے والے اقدامات شامل تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261022192345_24f1a3.jpg

دھان کی پرالی جلانے کے سلسلے میں کمیشن نے ریاستی عملی منصوبے پر عمل درآمد کا جائزہ لیا۔ اس میں زمینی سطح پر نفاذ، فصلوں کی باقیات کے انتظام کی مشینری کی تعیناتی اور استعمال، فصلوں کی باقیات کی رسدی زنجیر کا انتظام، جلائے گئے علاقوں کے تخمینے کی میدانی سطح پر تصدیق اور پرالی جلانے کے واقعات کی نگرانی کے لیے ڈرونز اور کم لاگت والے سینسرز کا استعمال شامل تھا۔ اینٹوں کے بھٹوں میں بایوماس پیلٹس اور بریکیٹس کے استعمال سے متعلق ہدایت نمبر 92 کی تعمیل اور حرارتی بجلی گھروں میں کوئلے کے ساتھ بایوماس جلانے کے سلسلے میں پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261022192351_55b0af.jpg

گاڑیوں سے ہونے والی آلودگی کے جائزے میں ایندھن اور سی این جی اسٹیشنوں پر خودکار نمبر پلیٹ شناختی نظام (اے این پی آر) کی تنصیب شامل تھی، تاکہ آلودگی پر قابو پانے کے درست سرٹیفکیٹ (پی یو سی سی) سے متعلق ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ اپنی میعاد پوری کر چکی گاڑیوں کے خلاف کارروائی، صاف ستھری نقل و حرکت کے اقدامات اپنانے اور این سی آر کے اضلاع میں ڈیزل سے چلنے والے آٹو رکشوں کو مرحلہ وار ختم کرنے کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

سڑکوں اور کھلی جگہوں سے اٹھنے والی دھول کو کم کرنے کے اقدامات، جن میں سڑکوں کی دھول پر قابو پانا اور مشینی طریقے سے سڑکوں کی صفائی شامل ہیں، کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیشن نے تعمیراتی اور انہدامی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی دھول کے اخراج پر قابو پانے کے اقدامات اور دھول میں کمی کے مقررہ ضوابط پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا۔ صنعتی آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات بھی زیرِ جائزہ آئے، جن میں متعلقہ معیارات کی تعمیل اور صنعتی اکائیوں سمیت آلودگی کے دیگر شناخت شدہ ذرائع کی نگرانی اور ضوابط کے نفاذ سے متعلق اقدامات شامل تھے۔

کمیشن نے ریاستی عملی منصوبوں پر مقررہ مدت میں عمل درآمد، ان کے مؤثر نفاذ اور زمینی سطح پر مسلسل نگرانی کی ضرورت پر زور دیا۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ ریاستی محکموں، ضلعی انتظامیہ اور نفاذ سے وابستہ اداروں کے درمیان قریبی تال میل پر بھی زور دیا گیا۔ ریاستوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ عمل درآمد میں موجود خامیوں کو ترجیحی بنیاد پر دور کریں اور متعلقہ شعبوں میں بروقت اصلاحی کارروائی یقینی بنائیں۔

کمیشن نے کسانوں کو کھیتوں کے اندر فصلوں کی باقیات کے انتظام کی مشینری کی فراہمی میں مزید سہولت دینے اور کھیتوں سے باہر فصلوں کی باقیات کے انتظام کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ ہریانہ اور پنجاب کی ریاستی حکومتوں کو زمینی سطح پر اطلاعات، تعلیم اور ابلاغ (آئی ای سی) کے عملی منصوبوں پر زیادہ مؤثر انداز میں عمل درآمد کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا۔

کمیشن نے زور دیا کہ دھان کی پرالی کے انتظام کو محض اسے جلانے کی روک تھام کے اقدام کے طور پر نہیں، بلکہ شہریوں کی فلاح و بہبود بہتر بنانے اور گردشی معیشت پر مبنی مضبوط صنعتی نظام کو فروغ دینے کے ایک موقع کے طور پر بھی اختیار کیا جانا چاہیے، جس میں دھان کے بھوسے کا بطور وسیلہ زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے۔ کمیشن نے زمینی سطح پر فوری کارروائی کرنے کی ہدایت دی اور ضلعی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ پرالی جلانے کے واقعات میں اضافے کا سبب بننے والی کسی بھی قسم کی غفلت کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔

سی اے کیو ایم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دھان کی پرالی جلانے کی مؤثر روک تھام اور فضائی آلودگی میں جامع کمی کے لیے ریاستی حکومتوں اور تمام متعلقہ اداروں کی مسلسل اور مربوط کوششیں ناگزیر ہیں، بالخصوص سردیوں کے اہم موسم میں۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-6535

 


(ریلیز آئی ڈی: 2326950) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , Punjabi , हिन्दी