پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 AUG 2026 11:27AM by PIB Delhi
|
ہاتھیوں کا عالمی دن ہاتھیوں کی ماحولاییو اور ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ دنیا میں ایشیائی جنگلی ہاتھیوں کی تقریبا 60فصد آبادی بھارت میں پائی جاتی ہے۔ملک میں پروجیکٹ ایلیفینٹ‘‘ہاتھیوں کے محفوظ علاقوں اور ان کی نقل حرکت کے لیے محفوظ گزرگاہوں کے ذریعے ان کے تحفظ کے لیے مزید مستحکم بنایا گیا ہے۔ سائنسی نگرانی، ٹکنا لوجی پر مبنی تحفظ کے اقدامات اور مقامی برادریوں کی شمولیت بھی انسانوں اور ہاتھیوں کے درمیان بقائے باہمی کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔ یہ مسلسل کوششیں ہاتھیوں ، ماحولیاتی نظام اور بھارت کے قدرتی ورثے کے تحفظ کے لے حکومت ہند کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔
|
بھارت کے جنگلات کا نرم خو دیوقامت جانور
بھارت میں دنیا کے جنگلی ایشیائی ہاتھیوں کی تقریباً 60 فیصد آبادی پائی جاتی ہے، جو عالمی سطح پر ہاتھیوں کے تحفظ میں ملک کے اہم کردار کو اجاگر کرتی ہے۔ ہاتھیوں کو گہری ثقافتی اہمیت حاصل ہے اور وہ صحت مند ماحولیاتی نظام کے لیے بھی نہایت اہم ہیں۔ ایک کلیدی نوع کی حیثیت سے وہ جنگلات کی بقا، حیاتیاتی تنوع کے فروغ اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہاتھیوں کی ہم آہنگ ملک گیر تخمینہ کاری (ایس اے آئی ای ای) 2021–25 کے مطابق، بھارت میں جنگلی ہاتھیوں کی آبادی 22,446 ہے۔ ان ہاتھیوں کو 33 محفوظ علاقوں اور 150 نشان زدہ راہداریوں میں تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔

ہاتھیوں کا یہ بیش قیمت ورثہ ان کے تحفظ سے متعلق بڑھتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کی ذمہ داری بھی عائد کرتا ہے۔ ہر سال 12 اگست کو منایا جانے والا ہاتھیوں کا عالمی دن ان کے تحفظ کے لیے مسلسل عالمی کوششوں کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ بھارت میں تحفظ کی کوششوں کے تحت مسکن کی تباہی، قدرتی مسکن کے ٹکڑوں میں تقسیم ہونے، غیر قانونی شکار، جنگلاتی حیات کی غیر قانونی تجارت اور انسانوں و ہاتھیوں کے درمیان ٹکراؤ جیسے مسائل سے نمٹا جا رہا ہے۔ ملک میں تحفظ کی ان کوششوں کے تحت قانونی تحفظ، قدرتی مسکن کا تحفظ، سائنسی نگرانی اور مقامی برادریوں کی شمولیت کو یکجا کیا گیا ہے۔ ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات ان کوششوں کو مزید مؤثر بناتے ہیں اور جنگلاتی ماحول میں ہاتھیوں کی طویل مدتی بقا کو یقینی بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
بھارت میں ہاتھیوں کی دیرپا اہمیت
ہاتھی بھارت کے قدرتی اور ثقافتی ورثے کا لازمی حصہ ہیں۔ ماحولیاتی نظام کی صحت، ثقافتی روایات اور مقامی برادریوں کی شناخت میں بھی ہاتھیوں کی نمایاں اہمیت ہے۔
ہاتھی ماحولیاتی نظام کی بنیاد اور ساخت کو تشکیل دینے والی اہم انواع ہیں، جو جنگلات کی ساخت اور ماحولیاتی نظام کے افعال کو متاثر کرتی ہیں۔ یہ نقل مکانی کرنے والے جانور ہیں اور ان کے مسکن کا دائرہ 100 سے 3,000 مربع کلومیٹر تک پھیلا ہوتا ہے۔ طویل فاصلے طے کرتے ہوئے یہ راستے اور پانی کے گڑھے بناتے ہیں، جن سے دیگر جنگلی جانور بھی مستفید ہوتے ہیں۔ ان کی خوراک کی عادات غذائی اجزا کی گردش میں مدد دیتی ہیں، جبکہ بیجوں کے پھیلاؤ کے ذریعے جنگلات کی قدرتی افزائش کو فروغ ملتا ہے۔ اس طرح بکھرے ہوئے جنگلات کے درمیان رابطہ بحال کرنے اور جینیاتی تنوع کو فروغ دینے کے لیے سازگار حالات پیدا ہوتے ہیں۔ لہٰذا، ہاتھیوں کا تحفظ ماحولیاتی رابطے کو مضبوط بنانے، جنگلات کی صحت برقرار رکھنے اور وسیع تر حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ثقافتی اور سماجی اہمیت

ہاتھی صدیوں سے بھارت کی مذہبی روایات، ثقافتی رسوم و رواج اور مقامی برادریوں کی شناخت کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ شمالی بھارت کی روایات میں بھگوان گنیش دانائی اور رکاوٹوں کو دور کرنے کی علامت ہیں۔ تاریخی طور پر ہاتھی شاہی اقتدار اور وقار کی علامت، یعنی شاہی نشان کے طور پر بھی استعمال ہوتے رہے ہیں۔ جنوبی بھارت میں مندر کے ہاتھی آج بھی مذہبی رسومات اور تہواروں کا حصہ ہیں۔ شمال مشرقی بھارت کی مختلف برادریاں بھگوان گنیش کو اپنے دیوی دیوتاؤں کی ایک تجلی کے طور پر پوجتی ہیں اور ہاتھیوں کو گہرے عقیدت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ بعض برادریوں میں ہاتھیوں کو روایتی طور پر بزرگوں اور دانائی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ روایات بھارت کے ثقافتی ورثے اور اجتماعی زندگی میں ہاتھیوں کے دیرینہ مقام کو اجاگر کرتی ہیں۔

عظیم الجثہ ہاتھیوں کی گنتی: بھارت میں ہاتھیوں کی موجودہ صورتِ حال
بھارت میں ہاتھیوں کے تحفظ کی داستان اعداد و شمار کی روشنی میں بہتر طور پر بیان کی جا سکتی ہے۔ محفوظ علاقوں کے نیٹ ورک سے لے کر راہداریوں کی بحالی تک، ہر عدد کئی دہائیوں پر محیط مسلسل ادارہ جاتی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
پروجیکٹ ایلیفینٹ: تحفظ کا ایک جامع لائحۂ عمل
پروجیکٹ ایلیفینٹ حکومتِ ہند کا ہاتھیوں کے تحفظ کے لیے ایک اہم اور نمایاں اقدام ہے۔ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا میں تبدیلی کی وزارت (ایم او ای ایف سی سی) کے زیرِ انتظام اس پروگرام کے تحت ریاستوں کو ہاتھیوں کے مسکن کے تحفظ، قید میں رکھے جانے والے ہاتھیوں کی نگہداشت اور انسانوں و ہاتھیوں کے درمیان ٹکراؤ کو کم کرنے کے لیے مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نگرانی، ریڈیو کالر کے ذریعے ہاتھیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے، جینیاتی ڈیٹا بیس تیار کرنے اور پیشگی انتباہی نظام قائم کرنے کے ذریعے سائنسی بنیادوں پر تحفظ کے اقدامات کو بھی فروغ دیا جاتا ہے۔
|
ڈی این اے پر مبنی سیمپلنگ
پروجیکٹ ایلیفینٹ کے تحت سائنسی نگرانی کے اقدامات نے ہاتھیوں کی آبادی کے تخمینے کے عمل کو مزید مستحکم بنایا ہے۔ ہاتھیوں کی ہم آہنگ ملک گیر تخمینہ کاری (ایس اے آئی ای ای) 2021–25 میں بھارت کی پہلی ڈی این اے پر مبنی ہم آہنگ ہاتھی شماری کی گئی۔ سائنس دانوں نے ہاتھیوں کے گوبر کے نمونوں کا تجزیہ کرکے ان کے منفرد جینیاتی نشانات کی مدد سے انفرادی ہاتھیوں کی شناخت کی۔ اس طریقے سے مختلف علاقوں میں بار بار جمع کیے گئے ایک ہی ہاتھی کے نمونوں کی شناخت کرنے اور آبادی کے تخمینے کو مزید درست بنانے میں مدد ملی۔ ایس اے آئی ای ای میں ڈی این اے پروفائلنگ، بلاک کاؤنٹنگ اور لائن ٹرانسیکٹ سروے کو یکجا کیا گیا، جس سے ہاتھیوں کی آبادی کے تخمینے کے سائنسی معیار اور اعتبار کو مزید تقویت ملی۔
|
بھارت میں ہاتھیوں کی راہداریوں کا تحفظ
بھارت میں ہاتھیوں کے تحفظ کے لیے ان کی راہداریاں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ راہداریاں ان قدرتی مساکن کو آپس میں ملاتی ہیں جو انسانی ترقیاتی سرگرمیوں یا دیگر وجوہات کی بنا پر منقسم ہو چکے ہیں۔ ہاتھیوں کی راہداریاں ایسے مساکن پر مشتمل ہوتی ہیں جو ان بکھرے ہوئے مساکن کو باہم مربوط کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ یہ راہداریاں ہاتھیوں کی صحت مند اور جینیاتی طور پر متنوع آبادی برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں، کیونکہ یہ انہیں منقسم مساکن کے درمیان محفوظ نقل و حرکت کا موقع فراہم کرتی ہیں اور انسانوں و ہاتھیوں کے درمیان ٹکراؤ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ، ماحولیاتی رابطے کو برقرار رکھ کر یہ ہاتھیوں کی آبادی کی طویل مدتی بقا کو یقینی بنانے میں بھی معاون ہیں۔ پروجیکٹ ایلیفینٹ کے تحت حکومتِ ہند نے ہاتھیوں کی حدودِ پھیلاؤ والی 14 ریاستوں میں ہاتھیوں کی راہداریوں کی نشاندہی کرکے ان کی توثیق کی ہے۔
وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کی تکنیکی معاونت سے تیار کردہ رپورٹ ’بھارت میں ہاتھیوں کی راہداریاں، 2023‘ کے مطابق، یہ راہداریاں چار خطوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ مشرقی وسطی خطے میں 52 راہداریاں ہیں، اس کے بعد شمال مشرقی خطے میں 48، جنوبی خطے میں 32 اور شمالی خطے میں 18 راہداریاں ہیں۔ مغربی بنگال میں سب سے زیادہ 26 راہداریاں ہیں، جو ملک کی مجموعی راہداریوں کا 17 فیصد سے زیادہ ہیں۔ اس نیٹ ورک میں 19 بین ریاستی راہداریاں اور بھارت و نیپال کو ملانے والی چھ سرحد پار راہداریاں شامل ہیں۔ نگرانی کے نتائج کے مطابق، 59 راہ داریوں (40 فیصد) میں ہاتھیوں کی آمد و رفت میں اضافہ ہوا ہے، 29 راہ داریوں (19 فیصد) میں یہ سرگرمی مستحکم رہی، جبکہ 29 راہ داریوں (19 فیصد) میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ، 15 راہ داریوں کی حالت متاثرہ پائی گئی۔

ان راہداریوں کا تحفظ قدرتی مساکن کے باہمی رابطے کو مضبوط بنانے، انسانوں اور ہاتھیوں کے درمیان ٹکراؤ کو کم کرنے اور بھارت میں ہاتھیوں کی آبادی کے طویل مدتی تحفظ کو یقینی بنانے میں معاون ہے۔
|
ہاتھیوں کی راہداریوں کا مسلسل تحفظ
حکومت سائنسی نگرانی، حدود کے تعین اور ریاستی جنگلاتی انتظامی و عملی منصوبوں میں ان راہداریوں کو شامل کرکے ان اہم ماحولیاتی گزرگاہوں کو مسلسل مستحکم بنا رہی ہے۔ فی الحال، 150 راہداریاں ہاتھیوں کی نقل و حرکت میں معاون ہیں۔ یہ مسلسل کوششیں قدرتی مساکن کے باہمی رابطے کو مضبوط بنانے اور بھارت کے جنگلاتی علاقوں میں ہاتھیوں کی محفوظ تر نقل و حرکت کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
|
محفوظ علاقوں کے نیٹ ورک میں توسیع

ہاتھیوں کے محفوظ علاقوں میں مسلسل توسیع 2014 سے ہاتھیوں کے محفوظ علاقوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور اب یہ 14 اہم ہاتھیوں کے مسکن والی ریاستوں میں 80,777 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اس توسیع کے نتیجے میں مزید 8,610 مربع کلومیٹر رقبہ تحفظ کے دائرے میں آیا ہے، جس سے اہم مساکن کو تحفظ حاصل ہوا ہے اور ماحولیاتی رابطے کو مضبوط بنانے میں مدد ملی ہے۔ اس کے علاوہ، سائنسی بنیادوں پر انتظام و انصرام میں بہتری آئی ہے اور بھارت میں جنگلی ہاتھیوں کی آبادی کی طویل مدتی بقا کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم ہوئی ہے۔
مجموعی طور پر، پروجیکٹ ایلیفینٹ، سائنسی بنیادوں پر آبادی کا تخمینہ، محفوظ علاقے اور باہم مربوط راہداریاں ہاتھیوں کے تحفظ کو ایک مربوط اور وسیع تر ماحولیاتی منظرنامے پر مبنی پروگرام میں تبدیل کر چکے ہیں۔ یہ اقدامات ایشیائی ہاتھیوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے روایتی اقدارِ تحفظ کو جدید سائنسی طریقوں کے ساتھ یکجا کرنے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
اعداد و شمار سے آگے: ہر ہاتھی کا تحفظ
ہاتھیوں کی آبادی کا تخمینہ لگانا تحفظ کی کوششوں کا صرف ایک حصہ ہے۔ طویل مدتی کامیابی کا انحصار زیادہ محفوظ مساکن، مضبوط قانونی تحفظ اور مقامی برادریوں کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی پر ہے۔ حکومتِ ہند نے تحفظ کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی اختیار کی ہے، جس میں سائنس، ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے اور عوامی فلاح و بہبود کو یکجا کیا گیا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے جنگلات کے اندر اور مشترکہ ماحولیاتی علاقوں میں ہاتھیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
بھارت نے ہاتھیوں کے مساکن کے انتظام و انصرام کے طریقوں کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ ہاتھیوں کے محفوظ علاقوں کے لیے انتظامی مؤثریت کی جانچ کا فریم ورک 2023 میں متعارف کرایا گیا اور اسے چار نمائندہ محفوظ علاقوں، یعنی شیوالک، قاضی رنگا–کربی آنگلونگ، میور بھنج اور نیلگیری میں آزمایا گیا۔ ابتدائی تجربے کی بنیاد پر حکومت، کیمپا کے مالی تعاون سے اس فریم ورک کو ملک بھر کے ہاتھیوں کے محفوظ علاقوں تک وسعت دے رہی ہے۔ اس اقدام سے تحفظ کے قابلِ پیمائش نتائج کی بنیاد پر شفاف جائزے اور حالات کے مطابق انتظامی حکمتِ عملی اختیار کرنے کے عمل کو ادارہ جاتی شکل ملتی ہے۔
حالیہ عرصے میں وزارت نے اس وسیع تر ماحولیاتی منظرنامے پر مبنی حکمتِ عملی کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ملک کے ان تمام خطوں کے لیے علاقائی عملی منصوبے تیار کیے ہیں جہاں ہاتھی پائے جاتے ہیں۔ ان منصوبوں میں اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے کہ ہاتھی ریاستی سرحدوں سے آگے تک نقل و حرکت کرتے ہیں اور قدرتی مساکن کے باہمی رابطے، انسانوں اور ہاتھیوں کے درمیان ٹکراؤ اور وسیع تر علاقوں کے انتظام سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مختلف ریاستوں اور دائرۂ اختیار رکھنے والے اداروں کے درمیان مربوط کارروائی ضروری ہے۔ علاقائی عملی منصوبے ریاستوں کو وسیع تر ماحولیاتی خطوں کی سطح پر تحفظ کی ترجیحی سرگرمیاں انجام دینے اور انسانوں و ہاتھیوں کے درمیان ٹکراؤ کو کم کرنے کے اقدامات کے لیے ایک مشترکہ لائحۂ عمل فراہم کرتے ہیں۔
ہاتھیوں کے لیے ریلوے کو مزید محفوظ بنانا

حکومت نے ریلوے کی پٹریوں کے ساتھ ہاتھیوں کی ہلاکتوں کو کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ اس سلسلے میں مشترکہ سروے کے تحت 3,452.4 کلومیٹر طویل ریلوے کے 127 حساس حصوں کا جائزہ لیا گیا۔ مزید برآں، 14 ریاستوں میں 1,965.2 کلومیٹر پر محیط ریلوے کے 77 حصوں میں ہاتھیوں کی حفاظت کے لیے تخفیفی اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔ ان اقدامات کے تحت انڈر پاس، اوور پاس، ریمپ، ریلوے پھاٹکوں اور پلوں میں تبدیلیوں سمیت 705 تعمیراتی ڈھانچے شامل ہیں۔ ان بنیادی ڈھانچوں پر مبنی اقدامات کے ساتھ آپٹیکل فائبر پر مبنی دراندازی کا پتا لگانے والے نظام، زلزلہ پیما سینسرز اور تھرمل کیمروں جیسی ٹیکنالوجیز بھی استعمال کی جا رہی ہیں۔
اس کے علاوہ، مصنوعی ذہانت سے لیس تقسیم شدہ صوتی حسّی نظام اب انجن ڈرائیوروں، اسٹیشن ماسٹروں اور کنٹرول رومز کو حقیقی وقت میں انتباہات فراہم کرتے ہیں۔ ہاتھیوں کے ساتھ ٹرین کے ہر تصادم کی متعلقہ ریاست کے محکمۂ جنگلات کے ساتھ مشترکہ تحقیقات کی جاتی ہیں۔ ان مسلسل اقدامات کے نتیجے میں ٹرینوں کی زد میں آکر ہلاک ہونے والے ہاتھیوں کی تعداد 2013 میں 26 سے کم ہو کر 2024 میں 12 رہ گئی، جو 50 فیصد سے زیادہ کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
جینیاتی طریقوں سے زیرِ نگہداشت ہاتھیوں کا تحفظ
حکومت نے سائنسی بنیادوں پر نگرانی کے ذریعے زیرِ نگہداشت ہاتھیوں کی غیر قانونی تجارت اور نقل و حرکت کے خلاف حفاظتی اقدامات کو مزید مستحکم کیا ہے۔ جنگلاتی حیات (تحفظ) ایکٹ، 1972 کے تحت ہاتھیوں کی فروخت، نقل و حمل اور خریداری سے متعلق معاملات کارروائی کے لیے ریاستی چیف وائلڈ لائف وارڈنز کو بھیجے جاتے ہیں۔ گج سُچنا موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے ایک قومی جینیاتی ڈیٹا بیس تیار کیا گیا ہے، جس میں ہر رجسٹرڈ زیرِ نگہداشت ہاتھی کے ڈی این اے پروفائل، جسمانی خصوصیات اور ملکیت سے متعلق تفصیلات درج ہیں۔ یہ ڈیٹا بیس ہاتھیوں کی نقل و حرکت سے قبل ان کی شناخت کی تصدیق کرتا ہے اور قانونی کارروائی کے دوران قابلِ اعتماد فارنسک شواہد فراہم کرتا ہے۔
|
زیرِ نگہداشت ہاتھیوں کی منتقلی یا نقل و حمل کے قواعد، 2024
زیرِ نگہداشت ہاتھیوں کی نقل و حرکت کو منضبط کرنے کے لیے حکومت نے زیرِ نگہداشت ہاتھیوں کی منتقلی یا نقل و حمل کے ضوابط، 2024 نوٹیفائی کیے۔ زیرِ نگہداشت ہاتھیوں کی بین ریاستی منتقلی کا جائزہ ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی لیتی ہے۔ یہ کمیٹی سپریم کورٹ کے 3 مارچ 2023 کے حکم کے تحت تشکیل دی گئی تھی۔ موبائل ایپلی کیشن، ان ضوابط اور کمیٹی کے مجموعی نظام سے شفافیت کو فروغ ملتا ہے اور زیرِ نگہداشت ہاتھیوں کی غیر قانونی منتقلی پر روک لگانے میں مدد ملتی ہے۔
|
پُرامن بقائے باہمی کے لیے مقامی برادریوں کی معاونت
جنگلاتی حیات کے تحفظ میں کامیابی اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب مقامی برادریاں اس کے تحفظ میں برابر کی شریک بنیں۔ حکومت مرکزی معاونت سے چلنے والی اسکیموں ’پروجیکٹ ٹائیگر اینڈ ایلیفینٹ‘ اور ’جنگلاتی حیات کے مساکن کی ترقی‘ کے تحت بطور امداد مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ اس امداد میں موت یا مستقل معذوری کی صورت میں 10 لاکھ روپے، شدید چوٹ لگنے پر 2 لاکھ روپے، معمولی چوٹوں کے علاج کے لیے 25,000 روپے تک اور فصلوں و املاک کو پہنچنے والے نقصان کے لیے متعلقہ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے مقررہ ضوابط کے مطابق معاوضہ شامل ہے۔
حکومت نے انسانوں اور جنگلاتی حیات کے درمیان ٹکراؤ سے متعلق مشاورتی ہدایات کے ذریعے تصادم سے نمٹنےکے انتظام کو مزید مستحکم کیا ہے۔ ان ہدایات میں تصادم کے زیادہ خطرے والے علاقوں کی نشاندہی اور نقشہ سازی، فوری ردِعمل دینے والی ٹیموں کی تشکیل، ریاستی اور ضلع سطح پر جائزہ کمیٹیوں کے قیام اور معاوضے کی ادائیگی میں تیزی لانے کی سفارش کی گئی ہے۔ 2023 میں جاری کردہ ہاتھیوں سے متعلق تصادم کو کم کرنے کی مخصوص رہنما ہدایات بھی متعلقہ فریقوں کے درمیان بہتر تال میل کو فروغ دیتی ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ اقدامات ہاتھیوں اور انسانوں، دونوں کے تحفظ اور بھارت کے ان علاقوں میں جہاں ہاتھی پائے جاتے ہیں، محفوظ اور پائیدار بقائے باہمی کو مضبوط بنانے میں معاون ہیں۔
عقیدت سے ذمہ داری تک
ہاتھیوں کے ساتھ بھارت کا تعلق تہذیبی اقدار اور جدید تحفظِ فطرت کے درمیان ایک منفرد ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔ صدیوں سے قابلِ احترام سمجھے جانے والے ہاتھی آج بھی فطرت کے تحفظ اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے بھارت کے عزم کو تقویت دیتے ہیں۔ اس ورثے کو اب سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی، مضبوط ادارہ جاتی نظام اور مقامی برادریوں کی شمولیت کے ذریعے مزید مستحکم بنایا جا رہا ہے۔
حکومتِ ہند نے ہاتھیوں کے تحفظ کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل تیار کیا ہے۔ ان کوششوں میں قدرتی مساکن کا تحفظ، ہاتھیوں کے محفوظ علاقوں میں توسیع، راہداریوں کا تحفظ، ریلوے میں ہاتھیوں کی حفاظت کو بہتر بنانا اور زیرِ نگہداشت ہاتھیوں کی نقل و حرکت کو منضبط کرنا شامل ہے۔ انسانوں اور ہاتھیوں کے درمیان ٹکراؤ سے متاثرہ مقامی برادریوں کی معاونت بھی انسانوں اور جنگلاتی حیات کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کو مزید مستحکم کرتی ہے۔
ہاتھیوں کے عالمی دن 2026 کے موقع پر بھارت ہاتھیوں کے تحفظ کے تئیں اپنے عزم پر قائم ہے۔ ہر محفوظ قدرتی مسکن، بحال شدہ راہداری اور مقامی برادریوں کے ساتھ شراکت داری ایشیائی ہاتھیوں کے روشن مستقبل کو یقینی بنانے میں معاون ہے۔ وکست بھارت کے تصور کے تحت، ملک آنے والی نسلوں کے لیے اپنے قدرتی ورثے اور تہذیبی میراث دونوں کے تحفظ کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
حوالے
ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا میں تبدیلی کی وزارت، حکومتِ ہند
دیگر
https://appforest.jharkhand.gov.in/wildlife/singhbhum.aspx
ہاتھیوں کا عالمی دن
*****
(ش ح۔ ک ح۔ خ م )
UN.6481