زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
22 OCT 2026 1:26PM by PIB Delhi
زرعی تحقیق اور تعلیم کا محکمہ (ڈی اے آر ای) کے سکریٹری اور بھارتی کونسل برائے زرعی تحقیق(آئی سی اے آر) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم ایل جاٹ نے زرعی اعلیٰ تعلیم کو نئے انداز میں تشکیل دینے پر زور دیا ہے، تاکہ مستقبل کے ماہرین کو موسمیاتی تبدیلی، قدرتی وسائل کے انحطاط، حیاتیاتی تنوع میں کمی اور غذائیت سے بھرپور و صحت بخش خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب سمیت عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تیار کیا جا سکے۔

ڈاکٹر جاٹ نے امریکہ کے شہر ڈیس موئنس میں ورلڈ فوڈ پرائز فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام کے دوران ’2026 نارمن ای بورلاگ انٹرنیشنل ڈائیلاگ‘ کے موقع پر منعقدہ ایک گول میز کانفرنس سے ورچوئل طور پر خطاب کیا۔ انہوں نے ہندوستان کی نیشنل اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز (این ا ےاے ایس) کے صدر کی حیثیت سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس پروگرام میں اکیڈمی کی نمائندگی کرنے والے سکریٹری ڈاکٹر بی ایس دویدی، خارجہ سکریٹری ڈاکٹر کریم میریڈیا اور مغربی نصف کرہ کے لیے بین الاقوامی چیپٹر کے کنوینر ڈاکٹر پی وی ورا پرساد کی شرکت کا ذکر کیا۔
اپنے خطاب میں ڈاکٹر جاٹ نے زرعی خوراک کے نظام کی بدلتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زرعی تعلیم اور تحقیق میں تبدیلی لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے عالمی اداروں کے ساتھ ہندوستان کی دیرینہ شراکت داریوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تعاون باہمی سیکھنے کے عمل کو ممکن بناتا ہے اور سائنسی و تعلیمی میدان میں ہونے والی پیش رفت کو ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے زراعت کو محض پیداوار پر مرکوز رکھنے کے بجائے ایک مربوط زرعی خوراک کے نظام اور ویلیو چین پر مبنی نقطۂ نظر اپنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط تعاون کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے صنعت کی ضروریات کے مطابق تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کرنے اور زرعی خوراک کی پوری ویلیو چین میں صنعت کی شمولیت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی، جس میں کسانوں کی معاونت بھی شامل ہے۔
زرعی پالیسی اور تحقیق میں نیشنل اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز (این ا ےاے ایس) کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر جاٹ نے زرعی تحقیق اور ترقی سے متعلق اہم مسائل کے حل کے لیے پالیسی سے متعلق مکالموں، پالیسی سے متعلق پیپرز اور پالیسی سے متعلق بریفز کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے محققین، پالیسی سازوں، تعلیمی اداروں، صنعت اور دیگر متعلقہ فریقوں کو ایک ساتھ لانے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ باہمی تعاون سے حل تلاش کیے جا سکیں۔
ڈاکٹر جاٹ نے ہندوستانی زرعی تارکینِ وطن کو ملک کے اندر موجود تحقیقی اور تعلیمی اداروں سے جوڑنے کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان روابط کو مضبوط بنانے سے بین الاقوامی سطح پر علم کے تبادلے میں سہولت مل سکتی ہے اور عالمی مہارت و تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے زرعی اعلیٰ تعلیم کو نئے انداز میں استوار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
بین الاقوامی ادارہ جاتی شراکت داریوں کو وسعت دینے کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر جاٹ نے کونسل فار ایگریکلچرل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (سی اے ایس ٹی) کے ساتھ مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے جانے کو نمایاں کیا۔ توقع ہے کہ اس شراکت داری سے زرعی تحقیق، صلاحیت سازی اور علم کے تبادلے میں تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ڈاکٹر جاٹ نے اعتماد ظاہر کیا کہ بین الاقوامی شراکت داریوں کو مضبوط بنانے سے زرعی تحقیق، تعلیم اور توسیعی خدمات کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی، خصوصاً عالمی جنوب کے ممالک کے لیے اس کی اہمیت اور زیادہ ہوگی۔ انہوں نے دنیا بھر میں زرعی خوراک کے نظام کو تبدیل کرنے اور زراعت کے لیے زیادہ مستحکم اور پائیدار مستقبل کی تعمیر کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور دیا۔
************
ش ح۔ م م ع۔ت ا
UR. No.6473