قانون اور انصاف کی وزارت
بھارت کا لاء کمیشن ’’ امدادِ باہمی پر مبنی وفاقیت اور قانونی اصلاحات: قومی اور ریاستی نقطۂ نظر‘‘ کے موضوع پر قومی کانفرنس کا انعقاد کرے گا
نائب صدر جمہوریہ ہند جناب سی پی رادھا کرشنن کانفرنس کا افتتاح کریں گے
قانون و انصاف کے مرکزی وزیر مملکت ( آزادانہ چارج ) جناب ارجن رام میگھوال بھی اس موقع پر موجود رہیں گے
دو تکنیکی اجلاسوں میں ریاستی لاء کمیشنوں، ماہرینِ قانون، قانون سے وابستہ اسکالرز اور پالیسی سازوں کو ایک ساتھ لا کر باہمی تعاون سے قانونی اصلاحات کے موضوع پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 OCT 2026 1:56PM by PIB Delhi
بھارت کا 23واں لاء کمیشن 22 اکتوبر ، 2026 ء کو نئی دلّی کے وگیان بھون میں ’’ امدادِ باہمی پر مبنی وفاقیت اور قانونی اصلاحات: قومی اور ریاستی نقطۂ نظر‘‘ کے موضوع پر ایک قومی کانفرنس کا انعقاد کر رہا ہے۔ اس کانفرنس میں ، ملک بھر کے ریاستی لاء کمیشنوں اور دیگر مساوی اداروں کے نمائندے، ممتاز ماہرینِ قانون، سابق جج صاحبان، قانون سے وابستہ اسکالرز، پالیسی ساز، وکلاء اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ شخصیات شرکت کریں گی۔
نائب صدر جمہوریہ ہند جناب سی پی رادھا کرشنن کانفرنس کا افتتاح کریں گے۔ اس موقع پر قانون و انصاف کے مرکزی وزیر مملکت ( آزادانہ چارج ) جناب ارجن رام میگھوال بھی موجود ہوں گے۔
بھارت کے 23ویں لاء کمیشن کی اعلیٰ قیادت بھی ، اس موقع پر موجود ہوگی، جس میں چیئرپرسن ( ریٹائرڈ ) جسٹس دنیش مہیشوری، رکن پروفیسر ڈی پی ورما اور ممبر سکریٹری ڈاکٹر انجو راٹھی رانا شامل ہیں۔
کانفرنس میں قانونی اصلاحات، امدادِ باہمی پر مبنی وفاقیت، آئینی حکمرانی اور انصاف کی مؤثر فراہمی کے لیے ادارہ جاتی ڈھانچوں سے متعلق عصر حاصر کے امور پر غور و خوض کیا جائے گا۔ اس کا مقصد ، ریاستوں کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے ، قانونی اصلاحات سے وابستہ ریاستوں اور اداروں کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اصلاحات قومی اور علاقائی دونوں ضروریات کے عین مطابق ہوں۔
اس کانفرنس کا موضوع ساتویں شیڈول میں شامل مرکزی ، ریاستی اور دونوں کی مشترکہ فہرست کے تحت قانون سازی کے اختیارات کی آئینی تقسیم سے ماخوذ ہے۔ کانفرنس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ اس آئینی ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے ، مرکز اور ریاستیں قانونی اصلاحات کے لیے کس طرح مل کر کام کر سکتی ہیں اور بھارت کے لاء کمیشن، ریاستی لاء کمیشنوں اور ان کے مساوی اداروں کے درمیان تال میل کو کس طرح مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
پہلے تکنیکی اجلاس ’’ قانون میں اصلاحات: ضرورت اور طریقۂ کار‘‘ میں سماجی، اقتصادی اور تکنیکی تبدیلیوں کے تناظر میں قوانین کے مسلسل جائزے اور اصلاحات کی ضرورت کے ساتھ ساتھ ، ان اصلاحات کو انجام دینے کے طور طریقوں اور ادارہ جاتی عمل کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس اجلاس میں انصاف پر مبنی اور قابلِ رسائی قانونی اصلاحات، بدلتے حالات سے ہم آہنگ قانون سازی اور قوانین کا وقتاً فوقتاً جائزہ، حالات کے مطابق اصلاحات وضع کرنے کے لیے بھارت کی نیائے، کرتوَیہ اور لوک کلیان کی روایات کا کردار، تحقیق پر مبنی قانونی اصلاحات، نیز قانونی اصلاحات، سماجی ہم آہنگی اور وکست بھارت کے درمیان تعلق جیسے موضوعات پر بھی غور کیا جائے گا۔
دوسرے تکنیکی اجلاس ’’ تفویض کردہ اختیارات، مشترکہ اہداف : تعاون پر مبنی قانون کے علم کے ذریعے مستقبل کی تشکیل ‘‘ میں قانون سازی کے اختیارات کی تقسیم کے نظام کے تحت قانونی اصلاحات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس میں ریاستی قوانین کو مقامی ضروریات کے مطابق برقرار رکھتے ہوئے قومی اور ریاستی اداروں کے درمیان مشاورت اور تال میل کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر بھی غور و خوض کیا جائے گا۔
اس کانفرنس کا مقصد ، ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے ، جہاں قومی اور ریاستی سطح کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے ، قانونی اصلاحات کے لیے زیادہ مربوط طریقۂ کار وضع کیا جا سکے اور شریک ادارے ، ان شعبوں کی نشاندہی کر سکیں ، جہاں مسلسل مشاورت اور تعاون کے ذریعے قانونی اصلاحات کے عمل اور ان کے نفاذ کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
.....
) ش ح – م ع - ع ا )
U.No. 6401
(ریلیز آئی ڈی: 2325930)
وزیٹر کاؤنٹر : 12