پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 AUG 2026 3:14PM by PIB Delhi
|
یو ایس ڈی آئی ای + رپورٹ 2025-26 ہندوستان میں اسکولی تعلیم کا ایک جامع جائزہ پیش کرتی ہے، جس میں 14.67 لاکھ اسکول، 1.03 کروڑ اساتذہ اور 24.72 کروڑ طلبہ شامل ہیں۔ رپورٹ میں طلبہ کے داخلوں، مجموعی شرحِ داخلہ (جی ای آر)، اساتذہ کی دستیابی، طلبہ اور اساتذہ کے تناسب، طلبہ کو تعلیم سے وابستہ رکھنے اور تعلیمی مراحل کے درمیان منتقلی کی شرح میں بہتری کے ساتھ ساتھ اسکول چھوڑنے کی شرح میں کمی کو اجاگر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں ڈیجیٹل اور طبعی بنیادی ڈھانچے میں پیش رفت، خواتین اساتذہ کی بڑھتی ہوئی شرکت، صنفی مساوات، سماجی شمولیت اور قابل رسائی تعلیم کے شعبوں میں مسلسل بہتری کو بھی درج کیا گیا ہے۔ یہ تمام پیش رفت قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے تحت شواہد پر مبنی منصوبہ بندی کو مزید مستحکم کرتی ہے۔
|
تعلیم میں ڈیٹا پر مبنی حکمرانی: یو ایس ڈی آئی ای + سے حاصل ہونے والے اہم نکات
یونیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن پلس (یو ایس ڈی آئی ای +) ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جسے محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی (ڈی او ایس ای اینڈایل) نے ہندوستان بھر میں اسکولی تعلیم سے متعلق جامع اعداد و شمار جمع کرنے اور ان کا انتظام کرنے کے لیے تیار کیا ہے۔ سال 2018-19 میں اس کے آغاز کے بعد سے، یو ایس ڈی آئی ای + نے شواہد پر مبنی منصوبہ بندی، پالیسی سازی اور تعلیمی پیش رفت کی نگرانی کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔یہ پلیٹ فارم قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے نفاذ کی پیش رفت پر نظر رکھنے کے لیے اعداد و شمار کے ایک اہم ذخیرے کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد تعلیم تک سب کی رسائی کو یقینی بنانا، مساوات اور معیاری تعلیم کو فروغ دینا اور طلبہ کو تعلیم سے وابستہ رکھنے کے عمل کو بہتر بنانا ہے۔
اسکولی تعلیم کا منظرنامہ
یو ایس ڈی آئی ای+ 2025-26 کی رپورٹ ہندوستان کے ایک مضبوط ہوتے ہوئے اسکولی تعلیمی نظام کی عکاسی کرتی ہے، جس میں تقریباً 14.67 لاکھ اسکول، 1.03 کروڑ اساتذہ اور 24.72 کروڑ سے زائد داخل شدہ طلبہ شامل ہیں۔ طلبہ کے داخلوں میں اس تسلسل اور اساتذہ کی دستیابی میں بہتری کے نتیجے میں ہر اسکول میں اوسطاً سات اساتذہ اور 169 طلبہ موجود ہیں۔اس کے نتیجے میں، تعلیمی نظام میں مجموعی طور پر طلبہ اور اساتذہ کا تناسب (پی ٹی آر) 24:1 برقرار ہے، جو انتہائی سازگار ہے اور قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے تجویز کردہ 30:1 کے معیار سے بہتر ہے۔

مجموعی شرحِ داخلہ (جی ای آر): اسکولی تعلیم تک رسائی میں توسیع

ثانوی مرحلے میں مجموعی شرحِ داخلہ (گروس انرولمنٹ ریشو- جی ای آر) بہتر ہو کر 71.7 فیصد ہو گئی، جبکہ درمیانی مرحلے میں یہ شرح مسلسل بلند رہتے ہوئے 89.6 فیصد رہی۔ اسکولی تعلیم کے تمام مراحل میں طلبہ کے داخلوں کی تقسیم بھی متوازن رہی، جس میں ثانوی مرحلے کے طلبہ مجموعی داخلوں کا 27.16 فیصد، تیاری کے مرحلے کے طلبہ 25.60 فیصد، درمیانی مرحلے کے طلبہ 25.58 فیصد اور بنیادی مرحلے کے طلبہ 21.66 فیصد رہا۔مجموعی طور پر، داخلوں کی یہ متوازن تقسیم اور ثانوی مرحلے میں مجموعی شرحِ داخلہ میں اضافہ ہندوستان میں تعلیمی مواقع کو وسعت دینے اور اسکولی تعلیم کے تمام مراحل میں طلبہ کی مسلسل شرکت کو برقرار رکھنے کے لیے جاری کوششوں میں پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
طلبہ اور اساتذہ کا سازگار تناسب: تعلیمی نتائج میں بہتری

سال 2025-26 میں اسکولی تعلیم کے تمام مراحل میں طلبہ اور اساتذہ کے تناسب (پی ٹی آر) میں اساتذہ کی دستیابی کے حوالے سے مسلسل بہتری دیکھنے میں آئی۔ مختلف تعلیمی مراحل میں طلبہ اور اساتذہ کا تناسب بنیادی مرحلے میں 10:1، تیاری کے مرحلےمیں 12:1، درمیانی مرحلے میں 17:1 اور ثانوی مرحلے میں 21:1 رہا۔
طلبہ اور اساتذہ کے یہ سازگار تناسب ہر طالب علم پر انفرادی توجہ دینے، کلاس روم میں مؤثر تدریسی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور بہتر تعلیمی نتائج کے حصول کے لیے ایک موزوں ماحول فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
طلبہ اور اساتذہ کا تناسب
طلبہ اور اساتذہ کا تناسب (پی ٹی آر) ایک مخصوص تعلیمی سطح پر فی استاد طلبہ کی تعداد کو ظاہر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، 10:1 کے تناسب کا مطلب ہے کہ متعلقہ تعلیمی مرحلے میں اوسطاً ہر 10 طلبہ کے لیے ایک استاد دستیاب ہے۔ طلبہ اور اساتذہ کا کم تناسب اساتذہ کو ہر طالب علم پر زیادہ انفرادی توجہ دینے، استاد اور طالب علم کے درمیان بہتر روابط قائم کرنے اور تدریس و تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے قابل بناتا ہے۔
طلبہ کو تعلیم سے وابستہ رکھنے میں بہتری اور اسکول چھوڑنے کی شرح میں کمی

یو ایس ڈی آئی ای + 2025-26 کی رپورٹ ہندوستان کے اسکولی تعلیمی نظام میں بچوں کو تعلیم سے وابستہ رکھنے کے حوالے سے مسلسل پیش رفت کو اجاگر کرتی ہے۔ اسکول چھوڑنے کی شرح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جو تیاری کے مرحلےمیں کم ہو کر 1.8 فیصد اور ثانوی مرحلے میں 7.0 فیصد رہ گئی۔ اگرچہ درمیانی(مڈل ) مرحلے میں یہ شرح معمولی اضافے کے ساتھ 3.6 فیصد تک پہنچ گئی، تاہم 2022-23 کے مقابلے میں تینوں مراحل میں اسکول چھوڑنے کی شرح نمایاں طور پر کم رہی۔
اس مثبت رجحان کی عکاسی طلبہ کو تعلیم سے وابستہ رکھنے کی بلند شرح سے بھی ہوتی ہے، جو بنیادی مرحلے میں 98.5 فیصد، تیاری کے مرحلے میں 91.1 فیصد، درمیانی مرحلے میں 83.7 فیصد اور ثانوی مرحلے میں 51.9 فیصد رہی۔مزید برآں، تعلیمی مراحل کے درمیان منتقلی کی شرح بھی مستحکم رہی۔ بنیادی مرحلے سے تیاری کے مرحلے میں 99.2 فیصد طلبہ نے پیش رفت کی، جبکہ 93.8 فیصد طلبہ درمیانی مرحلے اور 88.3 فیصد طلبہ ثانوی مرحلے میں پہنچے۔مجموعی طور پر، یہ اعداد و شمار تعلیمی مواقع تک رسائی میں بہتری، طلبہ کو تعلیم سے وابستہ رکھنے اور ان کی تعلیمی ترقی کے تسلسل کو یقینی بنانے کی جانب واضح پیش رفت کو اجاگر کرتے ہیں۔
صرف ایک استاد اور صفر طلبہ کے اندراج والے اسکولوں میں کمی
سال 2025-26 میں صرف ایک استاد کے ساتھ چلنے والے اسکولوں کی تعداد میں تقریباً 3 فیصد کمی آئی اور یہ گھٹ کر 1,00,843 رہ گئی، جبکہ صفر طلبہ کے اندراج والے اسکولوں کی تعداد میں گزشتہ سال (2024-25) کے مقابلے میں نمایاں طور پر 29 فیصد کمی درج کی گئی اور یہ گھٹ کر 5,663 رہ گئی۔ یہ بہتریاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ملک بھر میں اساتذہ کی تعیناتی کو معقول بنانے، ان کی تعیناتی کے نظام کو بہتر بنانے اور تعلیمی وسائل کو طلبہ کی ضروریات کے مطابق زیادہ مؤثر انداز میں بروئے کار لانے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔

صنفی مساوات اور سماجی شمولیت
یو ایس ڈی آئی ای + 2025-26 کی رپورٹ ایک زیادہ جامع اسکولی تعلیمی نظام کی جانب مسلسل پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔ اسکولوں میں طلبہ کے مجموعی داخلوں میں طالبات کا تناسب 48.4 فیصد رہا، جو اسکولوں میں صنفی تقسیم کے متوازن ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ تدریسی عملے میں بھی خواتین نے نمایاں کردار ادا کرنا جاری رکھا، اور تمام اساتذہ میں خواتین کا تناسب 54.9 فیصد رہا۔

اسکولوں میں طلبہ کے داخلے میں سماجی گروہوں کی نمائندگی وسیع اور متوازن رہی۔ دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے طلبہ مجموعی داخلوں میں سب سے زیادہ 44.9 فیصد رہا، اس کے بعد جنرل زمرہ (27.5 فیصد)، درج فہرست ذاتیں (17.7 فیصد) اور درج فہرست قبائل (10 فیصد) شامل ہیں۔ مجموعی طور پر درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والے طلبہ مجموعی داخلوں کا 27.7 فیصد ہیں، جو اسکولی تعلیم تک مساوی رسائی کو فروغ دینے کے لیے جاری کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔شمولیت کے اس عزم میں خصوصی ضروریات کے حامل بچے (سی ڈبلیو ایس این) بھی شامل ہیں، جن میں 57.16 فیصد لڑکے اور 42.84 فیصد لڑکیاں ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ اعداد و شمار قابلِ رسائی بنیادی ڈھانچے، خصوصی معاونتی خدمات اور تمام طلبہ کے لیے مساوی تعلیمی مواقع کے ذریعے جامع تعلیم کو فروغ دینے کے لیے ہندوستان کے عزم کو اجاگر کرتے ہیں۔
بنیادی ڈھانچے کی ترقی
یو ایس ڈی آئی ای+ 2025-26 کی رپورٹ میں تدریس اور سیکھنے کے لیے زیادہ سازگار ماحول فراہم کرنے کی غرض سے اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کے سلسلے میں نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ڈیجیٹل سہولیات کے شعبے میں کمپیوٹر سے لیس اسکولوں کا تناسب بڑھ کر 69.9 فیصد ہو گیا، جبکہ انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کی شرح بڑھ کر 67.4 فیصد تک پہنچ گئی، جس سے ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم کے مواقع میں توسیع ہوئی۔

اسکولوں میں بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں بھی مسلسل بہتری ریکارڈ کی گئی، جہاں درج ذیل سہولیات کی دستیابی میں پیش رفت ہوئی:
- 95 فیصد اسکولوں میں بجلی کی سہولت
- 99.5 فیصد اسکولوں میں پینے کے صاف پانی کی سہولت
- 98.5 فیصد اسکولوں میں طالبات کے لیے بیت الخلا
- 97.2 فیصد اسکولوں میں طلبہ کے لیے بیت الخلا
- 96.9 فیصد اسکولوں میں ہاتھ دھونے کی سہولت
- 90.5 فیصد اسکولوں میں کتب خانے
- 29.9 فیصد اسکولوں میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا انتظام
- 58.2 فیصد اسکولوں میں ہینڈ ریلنگ کے ساتھ ریمپ کی سہولت
مجموعی طور پر، ڈیجیٹل اور طبعی سہولیات کی توسیع ہندوستان کے تعلیمی نظام میں رسائی کو بہتر بنانے، شمولیت کو فروغ دینے اور تعلیم کے مجموعی معیار کو بلند کرنے کے لیے مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
پیش رفت کا جائزہ: یو ڈی آئی ایس ای + 2025-26 کے اہم نکات
یو ایس ڈی آئی ای+ 2025-26 کی رپورٹ ہندوستان کے اسکولی تعلیمی نظام کو بہتر رسائی، مساوات، معیار اور بنیادی ڈھانچے کے ذریعے مضبوط بنانے میں مسلسل پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔ نئی رپورٹ میں اساتذہ کی دستیابی، طلبہ اور اساتذہ کے درمیان سازگار تناسب، طلبہ کو تعلیم سے وابستہ رکھنے اور اگلی جماعت یا تعلیمی سطح پر منتقلی کی شرح، صنفی مساوات، سماجی شمولیت، ڈیجیٹل تیاری اور اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے میں اہم بہتری کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ملک بھر میں تعلیمی نتائج کو بہتر بنانے کے لیے جاری کوششوں کو نمایاں کرتی ہے۔
ایک جامع قومی ڈیٹا بیس کے طور پر، یو ایس ڈی آئی ای + اسکولی تعلیم کے شعبے میں شواہد پر مبنی منصوبہ بندی، باخبر پالیسی سازی اور مؤثر نگرانی کو مسلسل ممکن بنا رہا ہے۔ اس کے نتائج قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی)2020 کے اس وژن کی جانب مستحکم پیش رفت کی تصدیق کرتے ہیں، جس کا مقصد ایک مساوی، جامع، ٹیکنالوجی سے لیس اور طلبہ پر مرکوز تعلیمی نظام تشکیل دینا ہے۔
حوالہ جات
وزارتِ تعلیم
https://udiseplus.gov.in/#/en/page/publications
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2282141®=48&lang=1
https://dashboard.udiseplus.gov.in/
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
***
ش ح۔ش آ۔ن م۔
U-6391