وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی سکریٹری نے پتھورا گڑھ میں سردپانی میں  ماہی پروری کے کلسٹر سے متعلق اجلاس کی صدارت کی؛ پی ایم ایم ایس وائی کے نفاذ کا جائزہ لیا اور ہمالیائی ریاستوں کے لیے آئندہ کا لائحۂ عمل تیار کرنے پر غور کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 OCT 2026 2:01PM by PIB Delhi

ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کے تحت محکمہ ماہی پروری کے سکریٹری ڈاکٹر ابھی لکش لیکھی نے 19 اکتوبر 2026 کو اتراکھنڈ کے پتھورا گڑھ کلکٹریٹ میں پتھورا گڑھ کے سرد پانی میں ماہی پروری کلسٹر سے متعلق اجلاس کی صدارت کی۔ اس اجلاس میں ٹراؤٹ مچھلی پالنے والے کسانوں، حکومتِ اتراکھنڈ کے محکمہ ماہی پروری کے افسران، آئی سی اے آر-ڈی سی ایف آر بھیم تال، نابارڈ، این ایف ڈی بی، ایم پی ای ڈی اے کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقوں نے بالمشافہ اور ورچوئل وسیلے سے شرکت کی۔

اپنے افتتاحی خطاب میں سکریٹری نے پہاڑی ریاستوں میں سرد پانی میں آبی پروری کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ہمالیائی خطے میں رینبو ٹراؤٹ مچھلی پالنے کے لیے ماحولیات سے متعلق منفرد سازگار حالات موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ حکومتِ ہند نے ان وسائل سے منظم انداز میں استفادہ کرنے کے لیے پتھورا گڑھ (اتراکھنڈ)، کلو (ہماچل پردیش)، اننت ناگ (جموں و کشمیر) اور کرگل (لداخ) میں سرد پانی میں ماہی پروری کے کلسٹرز کو نوٹیفائی کیا ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261019140240_20074b.jpg

 

بھارت میں سرد پانی میں ماہی پروری کا شعبہ چھ پہاڑی ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں—اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، جموں و کشمیر، لداخ، سکم اور اروناچل پردیش—میں مرکوز ہے۔ ان خطوں میں گلیشیئرز سے نکلنے والے دریا، زیادہ بلندی پر واقع جھیلیں اور صاف و شفاف ندیاں موجود ہیں، جو رینبو ٹراؤٹ اور سرد پانی میں پائی جانے والی دیگر بیش قیمت مچھلیوں کو پالنےکے لیے مثالی قدرتی ماحول فراہم کرتی ہیں۔

 

پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت ان ریاستوں میں 5,600 سے زائد ریس ویز، 54 ہیچریوں، 293 کولڈ اسٹوریج یونٹس اور 260 فیڈ ملز کی منظوری دی گئی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ٹراؤٹ مچھلی کی پیداوار میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے اور یہ سالانہ تقریباً 5,000 میٹرک ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ اتراکھنڈ نے جون 2026 میں نیپال کو ٹراؤٹ مچھلی کی اپنی پہلی بین الاقوامی برآمد بھی کی۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261019140249_43a58d.jpg

 

  • سکریٹری نے پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت سرد آبی آبی پروری کے اقدامات کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ پہاڑی ریاستوں میں ریس ویز، ہیچریوں، خوراک کی فراہمی کے نظام، کولڈ اسٹوریج اور ماہی گیری کے بعد کی سرگرمیوں سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے 2,299 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔  اجلاس میں اتراکھنڈ میں پی ایم ایم ایس وائی کے تحت جاری منصوبوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جہاں گزشتہ چھ برسوں کے دوران 317 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ ریاست نے 1,638 ریس ویز، 10 ہیچریوں اور پروسیسنگ یونٹس کے قیام کے ساتھ نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس کے علاوہ، بھارت-تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ساتھ منڈی تک رسائی کے لیے یقینی روابط بھی قائم کیے گئے ہیں۔سکریٹری نے بتایا کہ اب تک آئی ٹی بی پی کی چوکیوں کو 45 میٹرک ٹن سے زیادہ ٹراؤٹ مچھلی فراہم کی جا چکی ہے، جس کی مالیت 2.10 کروڑ روپے ہے۔ اس سے ‘‘ووکل فار لوکل’’ (مقامی مصنوعات کو فروغ دینے) کے اقدام کو تقویت ملی ہے۔

 

  • اتراکھنڈ کے پتھورا گڑھ میں سرد آبی ماہی پروری کا جائزہ لیتے ہوئے، ماہی پروری کے مرکزی سکریٹری ڈاکٹر ابھی لکش لیکھی نے ماحول دوست سیاحت کو فروغ دینے، خوراک کی لاگت کم کرنے کے لیے خواتین کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنے اور برآمدات کے امکانات بڑھانے کے لیے کولڈ اسٹوریج کی سہولیات قائم کرنے کے امکان کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے خاص طور پر ہوائی اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں کے نزدیک ایسی سہولیات قائم کرنے کی اہمیت اجاگر کی۔انہوں نے محکمہ ماہی پروری اور ضلع انتظامیہ کو یہ ہدایت بھی دی کہ سرد آبی ماہی پروری کے کلسٹر میں اسٹارٹ اپس اور کاروباری افراد کی زیادہ سے زیادہ شرکت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

 

  • مرکزی سکریٹری نے اس شعبے میں اسٹارٹ اپس اور کاروباری افراد کو شامل کرکے مچھلی کے فضلے کے مؤثر استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے مونسِیاری، پتھورا گڑھ میں اقوامِ متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے تعاون سے ایک پائلٹ پروجیکٹ شروع کرنے کی ضرورت اجاگر کی، جہاں خواتین مچھلی پالنے والے کسان کامیابی کے ساتھ ٹراؤٹ مچھلی کو پال  رہے ہیں۔ٹراؤٹ مچھلی پالنے والے کسانوں کے ساتھ بات چیت کے دوران تربیت اور صلاحیت سازی کے لیے معاونت فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ کسانوں نے خوراک کی زیادہ لاگت کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت-تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کو فراہم کی جانے والی ٹراؤٹ مچھلی کی قیمت پر نظرِ ثانی کا مطالبہ بھی کیا۔اس بات چیت کے دوران، مچھلی پالنے والی کسان محترمہ ریکھا جوشی نے بتایا کہ وہ مچھلی کی ایسی دکان چلاتی ہیں جہاں مچھلی سے تیار کردہ اضافی قدر کی حامل مصنوعات، مثلاً فش بالز اور فش فنگرز، فروخت کی جاتی ہیں۔ اس کاروبار سے انہیں روزانہ تقریباً 5,000 روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261019140330_633e1b.jpg

 

متعلقہ فریقوں نے اس شعبے کی پوری قدر حاصل کرنے کی راہ میں حائل اہم خامیوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ ان میں مچھلی کے بیج کی قلت (40 لاکھ کی مانگ  کے مقابلے میں صرف 15 لاکھ فنگرلنگز کی پیداوار)، خوراک کی فراہمی میں رکاوٹیں، پیداوار کی محدود سطح (ہر ریس وے سے ممکنہ 1,000 کلوگرام کے مقابلے میں صرف 250 کلوگرام پیداوار) اور کولڈ چین سے متعلق ناکافی نقل و حمل و رسد کی سہولیات شامل ہیں۔ سکریٹری نے زور دیا کہ منی ہیچریوں، فیڈ ملز، ریفریجریٹڈ وینز، کولڈ اسٹوریج اور بیماریوں کی نگرانی کے لیے تجربہ گاہیں قائم کرکے ان خامیوں کو دور کیا جائے۔

آئی سی اے آر-ڈی سی ایف آر، بھیم تال کے سائنسی تعاون، مچھلی کے بیج کی پیداوار سے متعلق ٹیکنالوجی اور کسانوں کی تربیت میں کردار کو اجاگر کیا گیا۔ سکریٹری نے مونسِیاری میں رینبو ٹراؤٹ متعارف کرانے اور جون 2026 میں نیپال کو 5 میٹرک ٹن ٹراؤٹ مچھلی کی تاریخی برآمد میں ریاست کی مدد کرنے پر ڈی سی ایف آر کی خدمات کو سراہا۔ آئی سی اے آر-ڈی سی ایف آر، بھیم تال نے سائنسی معاونت، مچھلی کے بیج کی پیداوار اور کسانوں کی تربیت کے سلسلے میں اپنے کردار کی تفصیلات پیش کیں۔سکریٹری نے پی ایم ایم ایس وائی، ایف آئی ڈی ایف اور ریاستی پروگراموں، مثلاً ٹراؤٹ پروتساہن یوجنا، کے درمیان تال میل کو سراہا۔ ان اسکیموں کے مشترکہ اقدامات سے سرد آبی ماہی پروری کو ایک منافع بخش، اعلیٰ قدر کے حامل تجارتی شعبے میں تبدیل کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

اجلاس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ ہمالیائی ریاستوں میں سرد پانی میں آبی پروری کی مکمل صلاحیت سے استفادہ کرنے کے لیے سرکاری اداروں، تحقیقی اداروں، امدادی و کوآپریٹو تنظیموں اور مالیاتی اداروں کے درمیان مربوط کارروائی کی جائے گی۔ سکریٹری نے زور دیا کہ پی ایم ایم ایس وائی، ایف آئی ڈی ایف اور ریاستی پروگراموں جیسی اسکیموں کے مؤثر تال میل سے سرد آبی ماہی پروری دیہی خوش حالی، روزگار اور ذریعۂ معاش کے تحفظ اور برآمدات میں مسابقت بڑھانے کا اہم محرک بن سکتی ہے۔

********

ش ح۔ع ح۔ج ا

U-6308


(ریلیز آئی ڈی: 2325132) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , Punjabi