وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
ماہی پروری کے محکمے کے مرکزی سکریٹری ڈاکٹر ابھیلاش لکھی کا منسیاری سرد آبی ماہی پروری کلسٹر کا دورہ؛ ٹراؤٹ مچھلی کے کاشت کاروں سے ملاقات اور کلسٹر کی ترقیاتی سرگرمیوں کا جائزہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 OCT 2026 2:31PM by PIB Delhi
حکومت ہند کی ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کے ماہی پروری کے محکمے کے سکریٹری ڈاکٹر ابھیلاش لکھی نے ہمالیائی خطے میں سرد آبی جل زراعت کی ترقی کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے 18 اکتوبر 2026 کو اتراکھنڈ کے ضلع پتھوراگڑھ کے منسیاری کا سرکاری دورہ کیا۔
دورے کے دوران سکریٹری نے منسیاری کے نمجالا ٹراؤٹ فارم میں جوہار متسیا سوایَت سہکاری تنظیم سے وابستہ ٹراؤٹ مچھلی کے کاشت کاروں سے بات چیت کی اور پائیدار ذریعۂ معاش کے طور پر رینبو ٹراؤٹ کی پرورش اختیار کرنے میں مقامی امدادی تنظیموں کے قائدانہ کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ گوری گنگا کے برفانی چشموں اور پانی کے موزوں درجۂ حرارت کی بدولت منسیاری رینبو ٹراؤٹ کی پرورش کا ایک اہم مرکز بن کر ابھرا ہے، جہاں روایتی گزر بسر کے لیے کی جانے والی مچھلی پروری نیم تجارتی کاروبار میں تبدیل ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر لکھی نے ٹراؤٹ مچھلی کے کاشت کاروں سے بھی بات چیت کی، جنہوں نے خطے میں ٹراؤٹ کی پرورش کے اپنے تجربات اور معلومات کا تبادلہ کیا۔
ہندوستانی حکومت نے ملک بھر میں ماہی پروری کے 34 کلسٹروں کو منظوری دی ہے۔ پی ایم ایم ایس وائی کے تحت پتھوراگڑھ کو سرد آبی ماہی پروری کلسٹر کے طور پر نوٹیفائی کیا گیا ہے۔ اس کلسٹر میں ماہی پروری سے وابستہ امدادی تنظیموں کو مستحکم کرنے، ذریعۂ معاش کے مواقع بڑھانے اور ہمالیائی خطے میں پائیدار ماہی پروری کو فروغ دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ماہی پروری کے محکمے کے سکریٹری کا یہ دورہ اتراکھنڈ اور دیگر ہمالیائی خطوں میں ٹراؤٹ مچھلی کی پرورش کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ حکومتِ اتراکھنڈ کا محکمۂ ماہی پروری نیپال کو ٹراؤٹ مچھلی برآمد کر رہا ہے اور حکومتِ اتراکھنڈ اور ہند-تبتی سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے تحت آئی ٹی بی پی کو بھی ٹراؤٹ مچھلی فراہم کر رہا ہے۔
سکریٹری نے اس بات پر زور دیا کہ اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، جموں و کشمیر، لداخ، سکم اور اروناچل پردیش جیسی پہاڑی ریاستوں میں سرد آبی ماہی پروری، ذریعۂ معاش میں تنوع پیدا کرنے، غذائی تحفظ اور برآمدات کے امکانات کے لحاظ سے تزویراتی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ ہند نے پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت سرد آبی خطوں میں 2,299 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے، جس سے ریس ویز، مچھلیوں کی افزائش کے مراکز، چارہ تیار کرنے کی ملوں، سرد خانوں اور ماہی گیری کے بعد کی بنیادی سہولتوں کو تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔
ہندوستان میں سرد آبی ماہی پروری چھ پہاڑی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں—اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، جموں و کشمیر، لداخ، سکم اور اروناچل پردیش—میں مرکوز ہے۔ ان خطوں میں برفانی دریاؤں، بلند مقامات پر واقع جھیلوں اور صاف و شفاف ندی نالوں کی موجودگی رینبو ٹراؤٹ اور سرد پانی میں پائی جانے والی دیگر بیش قیمت مچھلیوں کی افزائش کے لیے موزوں قدرتی حالات فراہم کرتی ہے۔ پی ایم ایم ایس وائی کے تحت ان ریاستوں میں 5,600 سے زیادہ ریس ویز، 54 مچھلیوں کی افزائش کے مراکز، 293 سرد خانے اور 260 چارہ تیار کرنے کی ملوں کی منظوری دی گئی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں ٹراؤٹ کی پیداوار میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے اور یہ سالانہ تقریباً 5,000 میٹرک ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ جون 2026 میں اتراکھنڈ نے نیپال کو اپنی پہلی بین الاقوامی برآمد بھی کی۔
اتراکھنڈ میں 317 کروڑ روپے کے منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے، جن میں جدید مچھلی منڈیاں، مچھلی اتارنے کے مراکز اور سیتار گنج میں ایک مربوط آبی زراعت پارک شامل ہیں۔ ریاست نے 170 کروڑ روپے کے مالی تخمینے کے ساتھ ٹراؤٹ پروتساہن یوجنا بھی شروع کی ہے، جس کا مقصد 2028-29 تک 1,500 ریس ویز، مچھلیوں کی افزائش کے 100 چھوٹے مراکز اور 600 سرد خانوں کا قیام ہے۔
سکریٹری نے منسیاری میں رینبو ٹراؤٹ متعارف کرانے اور مچھلی کے بیج کی پیداوار، بیماریوں کے انتظام اور کاشت کاروں کی تربیت میں سائنسی معاونت فراہم کرنے کے لیے آئی سی اے آر۔ مرکزی سرد آبی ماہی پروری تحقیقاتی ادارے (ڈی سی ایف آر)، بھیم تال کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے جون 2026 میں اتراکھنڈ سے نیپال کو ٹراؤٹ کی پہلی برآمد کی تاریخی کامیابی کی بھی ستائش کی، جس سے بین الاقوامی تجارت کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
اس دورے میں سرحدی دیہات میں ٹراؤٹ مچھلی کی پرورش کے سماجی و اقتصادی اثرات کو بھی اجاگر کیا گیا۔ اس سے لوگوں کو ذریعۂ معاش کے متنوع مواقع، ماحول دوست سیاحت کے امکانات اور ہند-تبتی سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ساتھ ادارہ جاتی سطح پر یقینی منڈیوں تک رسائی حاصل ہو رہی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرد جل آبی زراعت نہ صرف کاشت کاروں کی آمدنی میں اضافہ کر رہی ہے، بلکہ ماحول دوست سیاحت کے فروغ، مچھلی کی معدومیت کے خطرے سے دوچار اقسام، مثلاً مہاشیر، کے تحفظ اور سرحدی دیہات کی معیشت کو مستحکم بنانے میں بھی معاون ثابت ہو رہی ہے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-6278
(ریلیز آئی ڈی: 2324910)
وزیٹر کاؤنٹر : 7